اعلان طلاق اور سماج کی ضرورت۔۔حافظ محمد صفوان

اعلانِ طلاق اور سماج کی ضرورت…

.
نکاح ایک سماجی معاہدہ ہے جو مرد عورت کے درمیان ہوتا ہے۔ اچھا نکاح وہ ہے جس کا سماج میں اعلانِ عام ہو یعنی دور نزدیک کے لوگوں کو عام طور سے معلوم ہوجائے کہ فلاں مرد اور عورت آج سے میاں بیوی ہیں۔ کسی خوف یا ضرورت کی وجہ سے کچھ وقت کے لیے یا ساری زندگی کے لیے نکاح کو خفیہ رکھنے کی گنجائش بھی شریعتِ مطہرہ میں موجود ہے نیز اپنا نکاح خود پڑھنے کی اجازت بھی موجود ہے۔

نکاح کے معاہدے کو لکھنے کی باقاعدہ دفتری صورت یعنی رجسٹرڈ نکاح نامہ اور نکاح رجسٹریشن کا مجاز دفتر تو ضرورتِ حادثہ کی پیداوار ہے اور بہت بعد کی بات ہے۔ اس کی ضرورت تب پیش آئی جب مسلمانوں میں دینی اضمحلال کی وجہ سے نکاح کے معاہدے کی پابندی نہ کرنے کی شکایات عام ہونے لگیں۔ نکاح نجی اور خاندانی معاملہ تھا، اسے قانونی بنانے اور عدالت کچہری لے جانے کی وجہ یہ بھی تھی۔

نیز یاد رہے کہ مختلف فقہا کے نزدیک معاہدۂ نکاح کے گواہوں کی کم سے کم تعداد مختلف ہے حتیٰ کہ بعض کے نزدیک موقع پر ایک بھی گواہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ چنانچہ نکاح کے معاہدے کے گواہوں کی شرعی تعداد مقرر نہیں ہے۔ قانونی ضرورت پوری کرنے کے لیے معاہدۂ نکاح کے گواہوں کی کم سے کم تعداد بھی کچھ ہی عرصہ پہلے ہی مقرر ہوئی ہے جب سے نکاح نامہ بھرنے کو ضروری قرار دیا جانے لگا ہے۔

دورِ حاضر میں نکاح کے اعلانِ عام کی ایک صورت رجسٹرڈ نکاح نامہ ہے جس کا مشینی اندراج تمام متعلقہ جگہوں پر ازخود ہوجاتا ہے۔

اسلام کی اصولی روایتی تعلیمات کے مطابق جس طرح نکاح نامہ بھرنا سنت اور صدرِ اول سے ضروریاتِ دین میں شامل نہیں ہے اسی طرح طلاق نامہ بھرنا بھی ضروری نہیں ہے اور نہ یہ سنت یا ضروریاتِ دین میں سے ہے۔ نکاح نامہ بھرے بغیر نکاح ہو جاتا ہے اور طلاق نامہ بھرے بغیر طلاق ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابھی تک کئی جگہ پر نکاح نامہ نہیں بھرا جاتا۔

دورِ حاضر میں جس طرح سماجی اور قانونی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے مجاز حکام اور گواہان کے سامنے نکاح نامہ بھرنا ضروری ہے اور جہاں ضرورت ہو یہ نکاح نامہ ساتھ رکھنا اور عند الطلب دکھانا ضروری ہے اسی طرح طلاق نامہ بھی بھرنا ضروری ہے اور جہاں جہاں اس کی ضرورت ہے وہاں اس کا پیش کرنا لازمی ہے۔ اس قانونی دستاویز کے بغیر کئی ضروری کام انجام نہیں پاتے۔ چاہیے کہ طلاق کی وجہ سے پیدا ہونے والے اختلافات اور مستقل فسادات سے نکلنے اور بچنے کے لیے علما متفقہ طور پر زبانی طلاق کا راستہ بند کریں اور نکاح کی طرح طلاق کے معاملے کو بھی مجاز مجلس کے سپرد کرنے کی راہ نکالیں تاکہ جانبین کے مفادات کا تحفظ ہوسکے جن میں سب کی بہو بیٹیوں کا فائدہ ہے بلکہ ان ازاوج کے بچوں کا بھی۔

دورِ حاضر میں جس طرح اکیلے میں یا خفیہ طور پر کیے گئے نکاح کو قانون اور سماج قبول نہیں کرتے بلکہ اس کے لیے گواہوں کی اور لکھا پڑھی کی باقاعدہ ضرورت مان لی گئی ہے بالکل اسی طرح اکیلے میں یا خفیہ طور پر دی گئی طلاق کو قانون اورسماج قبول نہیں کرتے (اگرچہ شرعًا ان نکاح اور طلاق کا زبانی کا انعقاد مانا بھی جاتا ہو)، لہٰذا جو معاہدہ جائز گواہوں کی موجودگی میں قانونی طور پر اور دستاویزات مکمل کرکے کیا گیا ہے اس کو ختم بھی اسی حیثیت کے لوگوں کی مجلس میں اور قانونی تقاضے پورے کرکے کیا جانا عین ضروری ہے۔ اس کے بغیر طلاق کے کسی دعوے کی کوئی حیثیت نہیں ہے، نہ شرعی نہ قانونی نہ سماجی۔ یہ بات عقلًا بھی منکوحان کے مفاد کے زیادہ قریب معلوم ہوتی ہے کہ نکاح کا مقصد یہی تو ہے کہ سماج اور قانون ایک مرد اور عورت کے درمیان جنسی تعلقات کے قائم ہونے کی منظوری دیتے ہوں اور یہ جب ہی ممکن ہے کہ سماج کو یہ بات معلوم ہو اور قانون کو بھی۔ واضح ہوا کہ اعلانِ نکاح اور اسی طرح اعلانِ طلاق دونوں یکساں اہم ہیں، اور اسی میں سب کی حفاظت ہے۔ چنانچہ تاریخِ نفاذِ طلاق، عدت، اور رجوع کا امکان اور اسی طرح بعد از تکمیلِ عدت عورت کے حق میں فوری طور پر نئے نکاح کے امکانات کا درست تعین وغیرہ اسی عمل کے درست، قانونی طریق سے اعلان پر بنیاد کرے گا۔

نیز جس طرح انعقادِ نکاح کے لیے لازمی شرط مرد و عورت کا بغیر کسی دباؤ اور خوف کے اور اپنی آزاد مرضی سے، تحریر کردہ شرائط کو تسلیم کرکے، میاں بیوی بننا ہے اور کسی دباؤ یا خوف یا دھوکے سے دستخط لے کر کیا گیا نکاح باطل و فاسد ہے بالکل اسی طرح دباؤ، خوف یا دھوکے سے دی گئی طلاق بھی باطل و فاسد ہے یعنی واقع نہیں ہوتی۔ دباؤ یا خوف یا دھوکے سے کیا گیا نکاح بھی واقع نہیں ہوتا خواہ اس کے کتنے ہی گواہ ہوں اور دستخط وغیرہ لیے گئے ہوں اور نہ ایسی طلاق واقع ہوتی ہے جو دباؤ یا خوف یا دھوکے سے لی گئی ہو، خواہ زبانی ہو یا تحریری۔ یہی دلیل ہے کہ فلموں ڈراموں میں میاں بیوی کا رول ادا کرنے سے یا نکاح طلاق وغیرہ کے منظر میں اداکاری کرنے سے یہ افعال واقع نہیں ہوتے خواہ ان فلموں ڈراموں کے ناظرین (یعنی گواہ) لاکھوں کروڑوں کیوں نہ ہوجائیں۔

القصہ نکاح ہو یا طلاق، ان افعال میں اور یہ معاہدے انجام پاتے وقت مرد و عورت کی نیت کا اعتبار ہوگا نہ کہ ان کی زبان کے بول یا دستخط شدہ کاغذات کا۔ چنانچہ مرد یا عورت میں سے کوئی اگر بعد از معاہدہ نکاح یا طلاق کسی بھی وقت یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے یا اس کی نیت نکاح/طلاق کی نہیں تھی، تو اس کی زبان کا اعتبار کرنا چاہیے نہ کہ کاغذ کا یا موقع پر موجود لوگوں کی بات کا۔

نیز علما کے ایک طبقے کی رائے ہے کہ مرد نے زبان سے سے طلاق کا لفظ کہہ دیا اور طلاق ہوگئی اور جتنی بار کہا اتنی بار ہوگئی۔ یاد رہے کہ علما کے کچھ طبقے اس رائے کو قبول نہیں کرتے اور مختلف دلائل رکھتے ہیں۔

اب ایک نظر اختلافِ فقہ پر ڈال لیجیے۔ حنفیہ کے نزدیک زبانی طلاق جبر میں بھی ہوجاتی ہے جب کہ دوسرے ائمہ کے نزدیک نہیں ہوتی لہٰذا اگر قانون طلاق نہ ہونے کا فیصلہ کرتا ہے تو عمل اسی پر ہوگا۔ اختلافی مسئلے میں قانونی فیصلہ فتوے پر بالا تر ہوتا ہے۔ اس پر چاروں فقہیں متفق ہیں۔

آخری بات یہ ہے کہ فتویٰ ایک شخص کی ذاتی رائے ہوتا ہے جو صرف پوچھنے والے کو دیا جاتا ہے چنانچہ کسی بھی فتوے پر سب کا عمل کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ ایک ہی سوال پر مختلف جگہ سے فتویٰ مختلف آنے کا مطلب دین میں اختلاف نہیں ہوتا بلکہ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ سوال کا جواب بتانے والا شخص مختلف دلائل رکھتا ہے۔ کسی کے نزدیک ایک دلیل قابلِ ترجیح ہوتی ہے تو کسی کے نزدیک دوسری۔ ہر مفتی کو اپنی دلیل پر اس وقت تک قائم رہنا چاہیے جب تک بہتر دلیل نہ مل جائے۔

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *