تحریک انصاف کی وقتی پسپائی اور ووٹرز کی ذہنیت

تحریک انصاف کا ۲ نومبر کا دھرنا ملتوی کرنا پارٹی کے کارکنان کے لیے کوئی اچھا فیصلہ نہیں تھا۔ پارٹی کی اعلی قیادت سے لیکر ایک عام ورکر تک سب کو اس فیصلے پر تحفظات تھے۔ بغیر دلیل کے وہ عمران خان کے اس فیصلے کا دفاع کررہے تھے۔ اس ساری صورتحال کے دوران پاکستان کا وہ خاموش ووٹر جو حکومت وقت کو تو برا کہتا ہے لیکن ساتھ خاموش بھی رہتا ہے۔ اس ساری صورت حال میں اس خاموش ووٹر کو بھی عمران خان کا یہ فیصلہ غیر معقول اور غیر سیاسی لگا۔ جس سے ووٹرز ذہنی طور پر متنفر بھی ہوۓ۔ اس ساری سیاسی فضا میں جہاں تحریک انصاف بیک فٹ پر تھی اور حکومتی وزرا بڑی تیزی سے باؤنسر ماررہے تھے۔ اس سیاسی میچ کا بارہواں کھلاڑی میرا مطلب پیپلز پارٹی بڑی سرعت اور مزے سے صورت حال کو انجواۓ کررہی تھی۔

پیپلز پارٹی کے تھنک ٹینک کا خیال تھا کہ شائد تحریک انصاف کی سیاسی پسپائی کے بعد جو سیاسی خلاء اپوزیشن میں پیدا ہوا ہے شائد وہ اب پی پی پورا کرے گی۔ لیکن شائد یہ تھنک ٹینک زمینی حقائق کے سے واقف نہیں یا پھر ان موجودہ سیاست اور ووٹر کے مزاج کی سوجھ بوجھ سے لاعلم ہے۔ پیپلز پارٹی کے تھنک ٹینک کو یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ تحریک انصاف کا پاور ہاؤس پنجاب ہے اور پنجاب کا ووٹر کبھی بھی تیسرے آپشن کی طرف نہیں جاتا۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں پنجاب کا ووٹر اہل اقتدار کی طرف جاتا ہے یاپھر اسکے ہم پلہ اپوزیشن اتحاد کی طرف اپنی توانائیاں خرچ کرتا ہے۔ اس وقت پیپلز پارٹی کے اکثر امیدواران کی ضمنی الیکشنز میں ضمانتیں ضبط ہورہی ہیں ۔ اور دوسری طرف پانامہ سماعت اور حکومتی بوکھلاہٹ دن بدن تحریک انصاف کی پوزیشن بہتر کرنے میں کافی معاونت فراہم کررہی ہے۔ اس لئے فی الحال پیپلز پارٹی پنجاب کی سیاست میں نظر نہیں آتی۔

اسی طرح اگر دوسرے صوبوں میں دیکھا جاۓ تو سندھ کے ووٹرز کی ایک ہی چوائس ہے اور وہ ہے پیپلز پارٹی، جب تک سندھ کے عوام کو اچھی تعلیم میسر نہیں ہوگی اس وقت تک بھٹو زندہ رہے گا۔ اسی طرح کراچی کی سیاست اسٹیبلشمنٹ، اردو سپیکنگ اور نان اردو سپیکنگ حضرات کے گرد گھومتی ہے۔ اگر آپ پختون خواہ کا جائزہ لیں تو وہاں کی عوام ہوا کے رخ کے ساتھ چلتی ہے۔ ہوا کا رخ جس جماعت کی جانب ہو پختون ووٹر اسی رخ جاۓ گا۔ اور موجودہ حالات میں پیپلز پارٹی کی جانب سے کوئی ایسی موومنٹ نہیں کہ ہوا کا رخ انکی جانب موڑا جاسکے۔ بلوچستان کا ووٹر اپنے قبائل اور سرداروں کے گرد گھومتا ہے۔ موجودہ بلوچی ووٹر میں نظریات کم اور قبائل پرستی زیادہ ہے۔ قبائل اور سرداروں کا رخ جس جماعت کی جانب ہوگا ووٹر اسی جانب ووٹ دے گا۔ موجودہ منظر نامے میں کوئی بھی سردار ہارے ہوۓ گھوڑے پر اپنی سیاسی بازی نہیں لگاۓ گا۔ اس لئے پیپلز پارٹی یہاں بھی کوئی امید نہ رکھے۔

محمود شفیع بھٹی
محمود شفیع بھٹی
ایک معمولی دکاندار کا بیٹا ہوں۔ زندگی کے صرف دو مقاصد ہیں فوجداری کا اچھا وکیل بننا اور بطور کالم نگار لفظوں پر گرفت مضبوط کرنا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *