توپ،طیارے یا وینٹی لیٹر۔۔ قاضی شیراز احمد ایڈووکیٹ

گزشتہ اور موجودہ صدی کو اگر انسانوں کے قتل و غارت گری کی صدیاں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔پہلی جنگ عظیم اور پھر دوسری جنگ عظیم۔مختلف نئی ریاستوں کا قیام اور ان نئی ریاستوں کے قیام کی جدوجہد میں مرنے والے لاکھوں انسان۔۔اور بعد ازاں دیگر وسائل پر قبضہ،تیل کے کنوؤں پر قبضہ،پھر ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ اور اس حملے کے بعد کے حالات۔اور امریکہ بہادر کے سپر پاوری کے جلوے اور طاقت کے نشے میں بدمستی کے دوران چھوٹے چھوٹے ممالک کا استحصال۔ڈرون حملوں میں معصوم جانوں کا نقصان۔شام،عراق،فلسطین اور کشمیر میں امت مسلمہ کا قتل عام۔۔

غرض گزشتہ صدی اور موجودہ صدی کے آغاز اور تاحال زمین پر انسانیت باہم دست و گریباں نظر آئی۔کہیں وسائل پر قبضے کی غرض سے قتل عام،کہیں حکومت کے حصول کے لیے قتل عام،کہیں مذہبی بنیادوں پر دنگے فساد۔گلیوں میں چلتی معصوم بچیوں کا جنسی استحصال اور بعد ازاں قتل۔عوام کی خدمت کے نام پر سیاسی منافقت۔عریانی فحاشی اور بے راہروی۔ یہ اور ان جیسے کئی قبیح فعل عروج پر تھے کہ اچانک خالق کائنات اپنے اَمر کے ساتھ غالب آتے دکھائی دیے۔اور سابقہ فرعونوں اور نمردوں کی طرح موجوہ غاصبوں،ظالموں اور موجودہ فرعونوں کو بھی یاد دلایا کہ کائنات تو میری ہے اور اس پر حکم بھی میرا اور حکومت بھی میری ہی چلے گی۔وہ بنیادی اصول جو کائنات سے مٹتے جارہے تھے زندہ ہونے لگے۔صفائی نصف ایمان ہے کا اصول عملی طور پر نافذ ہوتا دکھائی دیا۔اور وہ بستیاں جو کئی ناخداؤں کی زد میں تھیں۔اپنے حقیقی خالق و مالک کی باج گزار ہونے لگیں۔
حیرت سے تک رہی ہیں عقیدت کی بستیاں،
اک کائنات کتنے خداؤں کی زد میں ہے!

ایک دم انسانیت کا قتل عام رکا۔معصوم بچیوں کی آبروئیں لٹنا بند ہوئیں۔ایک معمولی سا وائرس جو لیبارٹری میں بنا یا خالق نے جانوروں سے انسانوں میں منتقل کیا۔امریکہ،چین یا ایران نے پھیلایا یہ بعد کی باتیں ہیں۔دیر کی تحقیقات ہیں۔اگر یہ کہا جائے کہ یہ ہمارے گناہوں سے پھیلی ہوئی وہ باد سموم ہے جس کو باد نسیم بننے میں اب وقت لگے گا۔جس نے بڑے بڑے طاقت کے برج الٹ کر رکھ دیے۔تکبر خاک کیے،تحقیق پر پانی ڈالا،مشینوں اور لیباٹریوں کو بے بس کیا۔سائنس دانوں کے اوسان خطا کیے،دواؤں کو شفاء سے محروم کیا۔بڑی بڑی تہذیبوں اور معیشتوں کو کھوکھلا کر ڈالا۔انسانی ہمدردی کی فضا عام ہوئی۔انسان انسان کے حال سے واقف ہوئے۔اور سب سے بڑھ کر دنیا پر حکمرانی کے خواب کی تعبیر کے عوض لاکھوں انسانوں کا لہو بہانے والوں پر جب اپنی جان کی پڑی تو ان کو احساس ہوا کہ توپ،طیارے اور ٹینک ضروری نہیں۔ہسپتال اور وینٹی لیٹر ضروری ہیں۔

منظم فوج ہی ریاست کی بقاء کے لیے ضروری نہیں۔ڈاکٹرز اور پیرا میڈک سٹاف بھی ضروری ہے۔جب بات انسانی زندگی کی بقاء و سلامتی کی آئی تو دنیا پر دستانے اور ماسک کم پڑ گئے۔یہ بھی سمجھ آیا کہ انسان بیرونی حملوں سے نہیں مرتا بلکہ وباؤں سے بھی مرتا ہے۔ایک وائرس نے ہماری ٹیکنالوجی،ہماری لیباٹریاں،ہماری سائنسی تحقیقات،ہماری مضبوط معیشتوں کے پول کھول کر رکھ دیے۔ہم اس قدر بے بس ہوئے کہ دفنانے کے لیے زمین کم پڑنے لگی مسیحا کم پڑ گئے۔وینٹی لیٹر کم پڑ گئے۔اور کہنے کو ہم مضبوط ترین،ٹیکنالوجی سے لیس،معاشی اعتبار سے بلند ترین۔مگر جب انسانیت کی بقاء اور سلامتی کی جنگ لڑنے کا وقت آیا ہم بے بس نظر آئے۔اس سے ثابت ہوا ہم نے جو تحقیقات کیں، جو ٹیکنالوجی حاصل کی وہ انسانیت کے قتل عام کے لیے بنائی۔بقائے انسانیت کے لیے ہم نے ابھی تک کچھ نہیں کیا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *