جنگلی گلاب اور کنوارے گنجے۔۔مریم مجید

دو چار روز قبل مکالمہ پر مدیر اعلی جناب انعام رانا صاحب  کا ایک مضمون شائع ہوا جو “لڑکیاں املی کیوں کھاتی ہیں ” کے عنوان سے تھا ۔

یہ وہ ایام تھے جن میں وہ  سوشل میڈیا  سے بوجوہ دوری اختیار کیے ہوئے تھے۔
جب میں نے مضمون کا عنوان دیکھا تو میرے ہمیشہ چوتھی ڈائمینشن میں رہنے والے دماغ میں خیال آیا کہ شاید محترم مدیر اعلی کا ذہن رسا وکالت اور ایڈیٹری کے چکرا دینے والے شب و روز سے اکتا کر بایولوجیکل اور بی ہیوریل سائنس کی جانب راغب ہو گیا ہے اور انہوں نے لڑکیوں اور ان کے املی کھانے کے رحجان میں کوئی اہم ربط کھوج نکالا ہے۔
بے حد اشتیاق سے سائٹ پر مضمون کھولا اور پڑھا تو اندازہ ہوا کہ یہ تو معاشرے کے چہرے پر وہ طمانچہ ہے جسے تواتر سے پڑتے رہنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اس بے حسی کے انستھیزیا میں غرق معاشرے کو میٹھی بانسریاں ہوش نہیں دلا سکتیں۔
مضمون تو خیر اپنی جگہ بیمار معاشرتی رویوں کی نشاندہی کا عکاس تھا ہی مگر مجھے ان کے مضمون میں ایک جگہ عالمگیر سچائی سے آگاہی حاصل ہوئی کہ حصول رشتہ برائے جنس مذکر میں سب سے اہم رکاوٹ یا اعتراض “لڑکے کا گنجا ہونا ہے” ۔ ۔میرے ذہن میں دیر تک یہ جملہ گونجتا رہا اور اس ایک جملے نے مجھے یہ تحریر لکھنے کے لیے تحریک دی۔ دراصل اس کے پس پشت ایک سچا واقعہ ہے جس کی وجہ سے میرا ایک اچھا دوست مجھ سے خفا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :  لڑکیاں املی کیوں کھاتی ہیں؟ ۔۔۔ انعام رانا
ان سطور کو لکھنے کا مقصد اس کی دلجوئی بھی ہے اور اگر وہ خود پڑھے تو اس کو میری جانب سے معذرت بھی سمجھے۔
یہ واقعہ گزشتہ ماہ پیش آیا جب مجھے اپنے ایک دوست کی کال موصول ہوئی ۔ میرایہ دوست ایک بہترین ریڈیالوجسٹ ہے اور لاہور کے ایک اچھے علاقے میں ذاتی کلینک رکھتا  ہے۔
ان سے مراسم خاندانی دوستی کی بنیاد بھی ہیں اور ایف ایس سی پری میڈیکل میں ہم  کلاس فیلو بھی رہ چکے ہیں ۔
موصوف آخری اطلاعات تک کنوارے ہیں اور اُس کی واحد وجہ ان کا بے بال ہونا ہے یعنی ان کی شادی کی راہ میں ان کی چندیا حائل ہے۔ ناراضگی سے قبل کبھی کبھار فون پر ہونے والی گفتگو میں ان کا اہم ترین موضوع ان کی نہ ہو سکنے والی شادی ہوا کرتا تھا اور وہ اپنا دکھ مجھ سے کہہ سن کر کچھ دن سکون پذیر ہو جاتے تھے۔
گزشتہ ماہ جب میرے موبائل فون پر ان کا نام جلنے بجھنے لگا تو میں نے دل و دماغ کو ایک آدھ گھنٹے کا “کنوار نامہ” سننے پر آمادہ کرتے ہوئے کال ریسیو کی۔ ابتدائی سلام دعا کے بعد میں نے ان سے پوچھا “کہ کیا مصروفیات ہیں “؟؟ تو نقطہ انجماد کو پہنچی ہوئی اک سرد آہ سنائی دی اور راگ درباری شروع ہو گیا۔ ” کیا مصروفیات ہونی ہیں یار!؟؟ گھر سے کلینک اور کلینک سے گھر  بہن بھائیوں کے بچوں کے ڈائپر اور فارمولا ملک ڈھوتے ہوئے زندگی گزر رہی ہے۔۔۔اپنے تو نصیب میں ہونے ہی نہیں “۔۔اب میرے ذہن میں الارم بجنے لگاکہ گفتگو اس کے چندرے کنوار پن کی جانب مڑنے والی ہے۔ میں نے اس کی فریاد کو ان سنا کرتے ہوئے اس سے بہن بھائیوں کی خیریت اور انکل آنٹی کا احوال دریافت کیا مگر وہ حسب معمول کانوں کو بند کر کے صرف جلے دل کے پھپھولے پھوڑنے میں مصروف تھا۔ “ہاں ہاں سبھی ٹھیک ہیں، مجھے کچھ دن سے فلو تھا،خاصا مسلہ بنا رہا بیوی ہوتی تو خیال رکھتی ،جوشاندہ چائے اور یخنی بنا کر پلاتی۔۔۔۔” اف! وہ ہر موضوع کو اپنی نہ ہو سکنے والی شادی کی طرف کھینچ تان کر لئے جا رہا تھا ۔اب میرا دماغ بھی کچھ کچھ گرم ہونے لگا تھا کہ عجیب شخص ہے ہر بات کا سرا “شادی” سے جا جوڑتا ہے۔ آخر میں نے فیصلہ کیا کہ آج تو میں اس موضوع کو ہمیشہ کے لیے ختم کر کے ہی رہوں گی تاکہ مستقبل میں میرے کان اس جھنجھنے سے محفوظ رہیں ۔میں نے صبروتحمل سے اس کی گفتگو میں ایک وقفہ آنے کا انتظار کیا اور جب مجھے یہ نادر موقع  میسر آیا تو میں نے اس سے سوال کر ڈالا کہ آخر اس کے اب تک شادی شدہ نہ ہونے کی وجہ کیا ہے کہ وہ ایک کامیاب ڈاکٹر ہے،معاشی طور پر مضبوط ہے اور اخلاق و کردار بھی بھلا ہے تو اب تک سہرے کے پھول نہ کھلنے کا سبب کیا ہے ؟

یہ بھی پڑھیں :  ناول ’’ایک حصہ عورت‘‘ ،جس کے مصنف کو خود اپنی موت کا اعلان کرناپڑا۔۔طارق احمد مرزا

دو چار سیکنڈ کے وقفے کے بعد اس نے روہانسا ہوتے ہوئے بتایا کہ حصول زوجہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اس کا “گنجا ” ہونا ہے۔ کئی جگہ بات تقریبا ً طے ہو کر ختم ہوئی کہ لڑکی کو ڈاکٹری اور ذاتی کلینک وغیرہ سے زیادہ دلچسپی لڑکے کے بالوں سے ہوتی یا لڑکی کی والدہ ؛بھائیوں کو اعتراض ہوتا کہ لڑکا “انکل” لگتا ہے۔
میں نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ وہ بالوں کی پیوند کاری وغیرہ کروا لے تا کہ یہ اہم رکاوٹ عبور کی جا سکے مگر اس سلسلے میں تین اہم مسائل اپنی جگہ سینے پر مونگ دلنے کو موجود تھے۔
کہنے لگا کہ پہلی بات تو یہ کہ پیوند کاری کے لیے اس کی جلد کی حساسیت زیادہ ہے،دوسری اہم بات کہ مسلسل ایکسرے ریڈی ایشن میں کام کرنے والوں کو پیوند کاری کے بعد جلدی امراض لاحق ہونے کا اندیشہ رہتا ہے اور تیسری سب  سے بڑی وجہ ابا جی کا یہ ماننا ہے کہ پیوند کاری وغیرہ دھوکہ دہی کے زمرے میں آتی ہیں اور حرام ہیں ۔
میں اب بیزار ہو رہی تھی لہذا گنج پن کے حق میں دلائل ڈھونڈنے لگی اور اسے کہا کہ دیکھو گنجا ہونا کوئی بری بات ہرگز نہیں ہے ،سنا ہے اور مشاہدے سے ثابت شدہ بھی ہے کہ گنجے شخص پر لکشمی دل و جان سے فدا ہوتی ہے  اور یوں بھی گنجا لڑکا اگر دھوپ کی عینک لگا لے تو بہت بھلا لگتا ہے  ۔اس سلسلے میں، میں نے اسے مشہور سنگر پٹ بل کی مثال دی کہ چمکدار چندیا میں کتنا ہینڈسم لگتا ہے  ،انوپم کھیر کا حوالہ دیا مگر وہ الٹا مجھ سے بگڑنے لگا کہ میں اس کے دکھ اورمسائل کو غیر سنجیدگی سے لے رہی ہوں ۔
اب اس سے زیادہ برداشت کرنا میرے کشمیری خون ہونے کا امتحان تھا اس لیے بہت ہی دھیمے اور ہمدردی بھرے انداز میں اس ازلی کنوارے کو کہا کہ تمہارے اس مسئلے کے حل کے لیے میرے پاس دو عدد تیر بہدف نسخے ہیں ۔اس نے نہایت بے تاب ہوتے ہوئے مجھ سے دریافت کیا تو میں نے کہا کہ چند دن پہلے میری نظر سے ایک خبر گزری تھی کہ چین کے دور دراز گاؤں میں ایک کسان ہے جس کے پاس “جنگلی گلاب” نامی ایک معجزاتی گائے ہے ۔ وہ باکمال گائے جب گنجے سر کو اپنی زبان سے چاٹتی ہے تو کچھ ہی دنوں میں بالوں کی کھیتی لہلہانے لگتی ہے۔ اب تک کئی لوگ “گاو زبان ” کے فیض سے کامیاب ہو چکے ہیں اس لیے اگر وہ چاہے تو ایک بار کوشش کر کے دیکھ لے۔
اور کیونکہ ہنوز چین دور است ! تو دوسرا قابل عمل مشورہ یہ ہے کہ وہ کسی “گنجی دوشیزہ” سے بیاہ رچا لے اور اپنی گرہستی آباد کرے ۔یوں بھی گنجی لڑکی سے بیاہ میں بہت سے فوائد مضمر ہیں جیسے شیمپو، تیل،کنڈیشنر،  پارلر اور ہئیر کلر کے اخراجات سے بچا جا سکتا ہے۔ زلفوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے جووں کا خدشہ بھی نہیں رہتا اور شادی کے بعد جو مرد حضرات کو دال،روٹی یا چاولوں میں سے بال نکل آنے کی شکایت ہوتی ہے ،وہ بھی نہیں ہو گی ۔

اس کے بعد دو منٹ تک میرے فون پہ کوئی آواز سنائی نہیں دی اور تیسرے منٹ میں فون بند ہو گیا۔ میں اپنے گرم ہوئے کان سہلا ہی رہی تھی کہ اس کی جانب سے ایک پیغام موصول ہوا جس میں ڈیڑھ دو درجن مکے بنے ہوئے تھے اور پیغام کے آخر میں “اللہ تمہیں گنجے شوہر سے نوازے” کی بددعا یا دعا درج تھی۔
وہ دن اور آج کا دن، مجھے اس کی کال موصول نہیں ہوئی، شاید “جنگلی گلاب ” کی معجزاتی زبان سے فائدہ اٹھانے چین جا چکا ہے یا پھر اپنے ازلی کنوارے پن سے سمجھوتا کرتے ہوئے بہن بھائیوں کے بچوں کی خدمت بجا لا رہا ہے ،معلوم نہیں ۔مگر! جناب مدیر اعلی کے مضمون میں “گنجے لڑکے” کو حصول رشتہ میں مسائل اور دشواریوں کے بارے میں پڑھا تو بے اختیار اپنا گنجا اور کنوارہ دوست یاد آ گیا جس کی شاید دانستہ یا غیر دانستہ دل آزاری کرنے کی گنہگار میں بھی ہوں ۔
صاحبان!  میں محترم انعام رانا صاحب کا مضمون پڑھنے کے بعد تادیر سوچتی رہی کہ ہم معاشرتی طور پر کس قدر کھوکھلے پن کا شکار ہو چکے ہیں کہ فطرت کی اچھائی، ذہانت، دماغی کارکردگی، کردار اور اخلاقیات پر ظاہری شکل وصورت اور بے تکے معاشرتی ناپ تول کے پیمانے حاوی ہو چکے ہیں ۔
شادی جیسے آسان معاملے کو عمر،رنگ، شکل ،ساخت،لمبائی، چھوٹائی کے بے ڈھنگے، غیر اہم اور بوگس پیمانوں پر اس سختی سے کس دیا گیا ہے کہ حصول رشتہ ہمارے معاشرے میں مسئلہ کشمیر اور فلسطین کا روپ اختیار کرتا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :  تیرے آزار کا چارہ نہیں نشتر کے سوا۔۔رفعت علوی/قسط 3
لڑکیوں کو بچپن سے صرف “دلہن ” کے تصور کو ذہن میں رکھ کر بیوی کے سانچے میں ڈھالا جاتا ہے یعنی اس کی زندگی کا واحد مقصد صرف “ایک اچھے شوہر کی بیوی” بننا ہے  ۔ اسکا اٹھنا بیٹھنا، تعلیم و تربیت، پڑھائی لکھائی اور طور طریقے اس طرح کے ہونے چاہئیں کہ اچھے رشتے پروانوں کی طرح امنڈ امنڈ کر آنے لگیں اور وہ بیس بائیس برس کی عمر میں ذہنی بالیدگی کو پہنچے بغیر، معاشرے میں اپنا کارآمد ہونا ثابت کیے بغیر بیوی بن کر سکھ کا سانس لے  ۔ اب اگر اس مطلوبہ پیمانے پر پورا نہ اترنے والی لڑکیاں جو تیس سال کی عمر کو پہنچ  جاتی ہیں تو شادی بیاہ والا خانہ اپنے ہاتھوں بند کر کے ایک مستقل نفسیاتی کشمکش، ذہنی الجھاؤ اور بیکار احساس کمتری کا شکار ہو کر اپنی زندگیوں کو گھن لگانے لگتی ہیں ۔
دوسری طرف مرد حضرات کا دکھ بھی اس معاملے میں کچھ کم نہیں کہ اماں اور بہنیں پہلے تو لاڈلے بیٹے یا بھائی کی شادی کی نوبت تب تک آنے نہیں دیتیں جب تک وہ شروع کے پانچ چھ سالوں کی تنخواہ ان کے ہاتھ پر دھر نہیں دیتا اور پھر جو اپنی خوابوں کی بہو بھابھی کی تلاش کو نکلتی ہیں تو اس کنوارے کی “گنج” اس کی راہ کا پتھر ثابت ہوتی ہے۔

صاحبو!  خدارا ان بیمار پیمانوں پر انسانوں کی ناپ تول کو چھوڑ کر معاشرے میں صحت مند رحجانات کی طرف توجہ مبذول کیجئے ۔عمر،قد،وزن، ۔صرف اعداد ہیں، ان اعداد و شمار پر انسانوں کو مت پرکھیے،
بال ،ہونٹ، سینہ، کمر، آنکھیں اور ناک اعضائے بدنی ہیں مکمل انسان نہیں ہیں ۔ کسی انسان کو ان بنیادوں پر ٹھکراتے ہوئے فقط ایک بار سوچ لیجئے کہ آپ کی ان باتوں اور رویوں کا اثر ہونٹوں،بالوں، سینے یا آنکھوں پر نہیں بلکہ ایک زندہ اورمحسوسات رکھنے والے انسان اور اس کی عزت نفس پر ہوتا ہے ۔ جو بار بار کچلے جانے سے نفسیاتی مریض ہو کر بعض اوقات خودکشی  کے انتہائی مقام تک آن پہنچتا ہے۔

آئیے اس سوچ کو بدلنے کا عہد کرتے ہوئے عملی اقدامات کو فروغ دیں اور وہ لوگ جو تاحال غیر شادی شدہ ہیں وہ شادی کرنے کے لیے اعداد اور ظاہری شکل وصورت کو نظر انداز کرتے ہوئے کسی مرد اور عورت کو اس کے صحت مند روئیے اور مثبت شخصیت،ذہنی ہم آہنگ ساتھی کے طور پر چنیں  ورنہ لڑکیاں املی کھاتی رہیں گی اور لڑکے “جنگلی گلاب” کی تلاش میں کنوارے بھٹکتے رہیں گے
رہے نام اللہ کا!

مریم مجید
مریم مجید
احساس کے موتیوں میں تحریر کا دھاگہ پرو کر مالا بناتی ہوئی ایک معصوم لڑکی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *