انعام رانا اور اک فرضی  بھوت۔۔محمد احسن سمیع

ہمارے کئی قابل اور فاضل دانشوروں کی نظر میں قرارداد مقاصد ہمیشہ سے ایک ایسا کانٹا رہا ہے جو  وطن عزیز میں سکیولرازم کے نفاذ کی کسی بھی کوشش کے وقت حلق میں چبھنا شروع ہوکر ان کی جرات مند آوازوں کو دبا دیتا ہے۔ قرارداد مقاصد کو اگر دیکھا جائے تو بجز اس کی پہلی شق کے، شاید ہی کوئی بات اس میں ایسی ہو جو اس مفہوم کے خلاف ہو جو  سکیولرازم کے مبلغین کرام ہمیں اس کے “درست معنی” سمجھاتے وقت بیان  کرتے ہیں،  یعنی صرف وطن عزیز ہی نہیں بلکہ تمام کائنات پر حقیقی حاکمیت ذات باری تعالیٰ کی ہے! یہی وہ نکتہ ہے جو ہمارے لبرل اور سکیولر دوستوں کو تکلیف دیتا ہے کہ ان کی دانست میں تو خدائے بزرگ و برتر معاذاللہ کب کا اپنے اس حق حاکمیت سے اپنے روشن خیال اور انسانی ارتقاء کی معراج حاصل کئے بندوں کے اس تصور کے حق میں دستبردار ہوچکا جو انہوں نے سالہا سال کے مجاہدے  اور ریاضت کے بعد وضع کیا ہے۔ اسی حوالےسے برادرم انعام رانا کا تازہ مضمون مکالمہ پر پڑھا۔ ہمارے ممدوح نے مضمون کی ابتدا میں تھوڑی تمثیل نگاری کا سہارا لے کر برطانیہ کا ایک  تخیلاتی خاکہ بیان کرکے ہمیں احساس دلایا کہ واللہ اگر برطانیہ بھی کل کو ویسی ہی ایک قرارداد اپنے آئین کا دیباچہ بنا لے تو کیسی قیامت آجائے گی!

رانا صاحب اور دیگر ناقدین کی خدمت میں بصد احترام عرض ہے کہ برطانیہ یا دیگر مغربی جمہوریتوں کو سکیولرازم کا پاٹ ہم نے تو نہیں پڑھایا! یہ ان کا ا پنا دعویٰ ہے کہ وہ سکیولر ہیں اور ان کی ریاستوں میں مذہب کا ریاستی امور سے کوئی علاقہ نہیں ہوگا،  نہ ہی ریاست کسی ایک مذہب کو دوسرے پر فوقیت دے گی یا شہریوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت کرے گی۔ ایسے میں اگر برطانیہ یا کوئی دوسرمغربی ملک اس قسم کی قانون سازی کرتا ہے جیسی کہ راناصاحب نے تمثیلاً بیان کیا، یا جیسا کہ وہ گاہے بگاہے مسلمانوں کے خلاف امتیازی قوانین کی صورت کرتے رہتے ہیں،  تو یہ ان کے اپنے ہی وضع کردہ اصولوں کی خلاف ورزی  ہے اور ہمارا اس بابت ان پر تنقید کرنا بھی جائز ہے۔ ہمارا مطالبہ ان سے یہ کبھی نہیں رہا کہ وہ اپنی عددی اکثریت کے باوجود اپنے ممالک کو مذہبی ریاستیں نہیں بنا سکتے، یہ ان کی اپنی چوائس تھی جس پر انہوں نے باقائدہ قانون سازی کر رکھی ہے۔ اب اگر وہ اپنے ہی قائم کردہ اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے قومی کلچر کے نام پر کچھ شہریوں کی مذہبی آزادی سلب کرتے ہیں تو یہ ان کے قول و فعل کا تضاد ہی کہلائے گا جس پر نہ صرف تنقید کی جاسکتی ہے بلکہ متاثرہ شہریوں کو اس پر احتجاج کا حق بھی حاصل ہے (اور دیگر اقوام کو ان کی حمایت کا )۔

مجھے اندازہ ہے کہ اس کے جواب میں مجھے وطن عزیز کی سو برائیاں گنوائی جاسکتی ہیں اور اپنے گریبان میں جھانکنے کا مشورہ بھی دیا جاسکتا ہے ۔ اس کے جواب میں عرض ہے کہ بھائی ہم توہیں برے، ہم کون سا کسی کےرول ماڈل ہیں ، یہ سودا تو پرانا ہوا۔ ہماری نااہلی ان کے لئے اصولوں سے انحراف کا جواز کیسے بن سکتی ہے جو اپنی معاشرت کو دنیا کے لئے بطور رول ماڈل پیش کرتے ہیں۔  ہمارا   کسی ایک دور میں بھی دعویٰ رہا ہو کہ ہم سکیولر  ریاست کے حصول کی سعی کرتے رہے ہیں تو طعنہ بھی دیجیے  کہ مغرب پر تنقید اور خود امتیازی قوانین بنائے بیٹھے ہیں۔ یار لوگوں کے پاس لے دے کر قائد اعظم کی فقط ایک 11 اگست والی تقریر ہی موجود ہے، جب کہ اس کے علاوہ  وہ دیگر ان گنت  مواقع  ان کو نظر نہیں آتے جن میں قائد نے واضح طور پر اسلامی مملکت  کے قیام کی بات کی تھی۔ سمجھ نہیں آتا کہ اتنی سادہ سی بات کیسے ہمارے عالی دماغ دوستوں کی سمجھ نہیں آتی کہ اگر مسلمانان ہند کے مفادات کا تحفظ پیش نظر نہ ہوتا  تو قائدین حریت کے دلوں میں علیحدہ مملکت قائم کرنے کا داعیہ ہی کیونکر پیدا ہوتا؟ ۔۔  کیا  “پاکستان کا مطلب کیا، لاالہ الا للہ ”  کے نعرے قائد اعظم کی موجودگی میں مسلم لیگی جلسوں میں نہیں لگتے رہے؟کیا تاریخ سے کوئی ایک  بھی مستند حوالہ   پیش کیا جا  سکتا ہے کہ قائد نے اس پر ناگواری کا اظہار فرماتے ہوئے کارکنان اور ہمدردوں کو ایسی نعرے بازی سے روکا ہو؟

ایک شخص جو  ایک اعلانیہ سکیولر جماعت سے طویل وابستگی صرف اس لئے ختم کردے کہ اس کو ہزارہا کوششوں کے باوجود یہ یقین ہو چلا ہو کہ اب  ایک سکیولر ہندوستان میں اس کے ہم مذہبوں کے مفادات کا تحفظ ممکن نہیں رہا، اس کو صرف ایک تقریر کے محض ایک جملے کی من مانی تشریح  کی بنیاد پر سکیولر قرار دینا  کہاں کی دیانتداری ہے۔  گویا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ قائد کا فرمانا تھا کہ ہندو اچھے سکیولر نہیں بن سکتے، مسلمان اچھے سکیولر  بنیں گے اس لئے مسلمانوں کو ان علاقوں کی حکمرانی دے دی جائے جہاں وہ اکثریت میں ہیں ۔ سبحان اللہ!

بات واپس اصل مدعے کی جانب لے کر آتے ہیں، یعنی قرارداد مقاصد۔ رانا صاحب  نے ہماری قرارداد مقاصد کے مماثل کچھ نکات لکھے  اور پھر یہ فرمایا کہ برطانیہ میں ایسا ہوجائے   تو ہم اسے کتنا برا سمجھیں گے! بالکل سمجھیں گے اگر وہ سکیولر ازم کا لبادہ اوڑھے ایسی قانون سازی کریں تو۔ ہاں ان کا جمہوری حق ہے کہ وہ برطانیہ کو عیسائی ریاست قرار دے دیں، اس کے بعد اگر ایسی کوئی قانون سازی کرتے ہیں تو میں اس پر نکیر کرنے کو درست نہیں کہوں گا لیکن جب تک ایسا نہیں ہوتا  ان کا اس قسم کی قانون سازی کرنا خود ان کے اپنے ہی وضع کردہ اصولوں کی خلاف ورزی ہوگا۔ ہماری صورتحال اس کے برعکس ہے  کہ ہمارا شروع سے ہی دعویٰ ایک اسلامی مملکت کا قیام تھا اور عوام الناس میں تحریک پاکستان کے وقت سے ہی اس حوالے سے کوئی ابہام نہیں تھا۔ سازشی تھیوریاں کسی کے لئے قابل التفات ہوں تو ہوں ، مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر مذہب کو بیچ سے نکال دیا جائے تو اس علیحدہ مملکت کے قیام کا مطالبہ ہی بے بنیاد ہو جاتا ہے۔ جب ہم نے کبھی دعویٰ ہی نہیں کیا کہ ہم سکیولر ریاست بنانا چاہتے ہیں تو اس حوالے سے قانون سازی نہ ہونے پر نکیر کرنا چہ معنی دارد؟

ہمارے اسلاف کا واضح مقصد اسلامی مملکت کا قیام تھا ۔ اگر انہوں نے اپنے اس مقصد کو خود پر    ایک قانونی ذمہ داری بنانے کے لئے کوئی قرارداد منظور کی  تو کیا غلط کیا؟ قرارداد مقاصد کھولیں اور شق وار پڑھیں۔ آخر اس میں کون سی ایسی شق ہے جو اقلیتوں کی دلآزاری کا سبب ہے؟ ۔۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ہمارے  پہلے وزیر قانون  اس قرار داد کے بعد ملک چھوڑ گئے ۔ ٹھیک ہے جو انہوں نے مناسب سمجھا کیا، مگر خدارا یہ تاثر تو نہ بنائیں کہ جیسے قرارداد پاس ہونے کے اگلے دن ہی انہیں مسلمانوں نے ا س “نئی حاصل کردہ قوت” کے بل پر جبراً  بے دخل کردیا ہو۔ جوگندر ناتھ منڈل صاحب کا مبینہ استعفیٰ انٹرنیٹ آرکائیوز پر موجود ہے اور کافی مقبول بھی۔ اپنے استعفے میں انہوں  نے پاکستان چھوڑنے کی جو وجوہات بیان کی ہیں، ان کو اگر تعصب سے بالا تر ہو کر دیکھا جائے تو “ہندوؤں کے حقوق کا عدم تحفظ” ہی بنیادی سبب نظر آتا ہے، یعنی وہ مذہبی ریاست کے قیام کی مخالفت بھی مذہبی بنیادوں پر ہی کر تے نظر آتے ہیں۔انہوں نے جابجا ہندوؤں ، خصوصاً   شیڈول کاسٹس کے ہندوؤں سے بدسلوکی کا تو اپنے استفعے میں تذکرہ کیا تاہم پورے استفعے میں کہیں سکیولر یا سکیولرازم کا لفظ نہیں ملتا۔ ہمیں یہ بھی نہیں  بتایا جاتا ہے کہ ان کے استفعے میں بیان کی گئی شکایات کا سلسلہ قیام پاکستان سے قبل   بنگال میں حسین شہید سہروردی  کی حکومت سے ہی شروع ہوجاتا ہے۔ پھر یہ بھی کوئی بیان نہیں کرتا کہ اس قرارداد کی منظوری کے بعد بھی منڈل صاحب ڈیڑھ برس تک وزیر قانون کے عہدے پر فائز رہے! منڈل صاحب کی مایوسی اپنی جگہ درست ہوگی، تاہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان چھوڑنے کے بعد انہیں ہندوستان میں بھی کوئی خاص پذیرائی حاصل نہیں ہوئی نہ ہی وہ سکیولر ازم کی علمبردار ریاست میں کسی عوامی عہدے پر فائز ہوسکے۔   بقول بھارتی صحافی ابھیروپ دام کے، انہیں  وہاں ہمیشہ پاکستانی سمجھا گیا اور اچھوت  قرار دیا گیا، یہاں تک کہ کوئی سیاسی جماعت ان سے بات تک کرنے کی روادار نہیں تھی۔ بالآخر منڈل صاحب 1967 میں ایک انتخاب ہارنے کے بعد 1968 میں نسبتاً گمنامی کی زندگی گزارتے ہوئے چل بسے۔

خلاصہ یہ کہ قرارد مقاصد کے مخالفین سے گزارش ہے کہ آئیے شق وار بحث کرتے ہیں اور تجزیہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آخر اس کے وہ کون سے الفاظ ہیں جو اقلیتوں کے حقوق پر ڈاکہ زنی  کے کام آتے ہیں۔ قرارداد کہتی ہے کہ حاکمیت اعلیٰ خدائے بزرگ و برتر کی ہے،  اس میں کیا غلط ہے؟ قرارداد مقاصد کے تناظر میں جب بھی اقلیتوں کی بات کی جاتی ہے تو مذہبی اقلیتیں ہی مراد ہوتی ہیں۔ پاکستان میں موجود وہ کون سا مذہب ہے  جس میں خدا کا تصور نہ ہو اور وہ خدا قادر مطلق نہ ہو؟ سب کے تصور خدا  کی جزئیات میں فرق ہے، تاہم خدا کے “آل مائیٹی” ہونے پر تو سب متفق ہیں ،پھر کیا مسئلہ ہے؟  قرارداد کہتی ہے کہ آزادی اور برابری  کے وہ اصول جو اسلام وضع کرتا ہے ان کی پاسداری کی جائے گی، اس میں کیا غلط ہے؟    قرارداد  جہاں بھی قوم کی اجمالی بات کرتی ہے تو  ” پاکستان کے باشندوں” کا لفظ استعمال کرتی ہےنہ کہ صرف مسلمانوں کا۔کیا آپ کا کہنا یہ ہے کہ انسانی آزادی اور برابری کے جو اصول   اسلام نے وضع کئے ہیں و ہ نعوذباللہ ناقص ہیں! اگر ایسا ہے تو کھل کر کہنے کی ہمت کریں۔ اور اگر آپ کو بھی ان پر یقین ہے تو پھر شکایت کاہے کی؟  پھر تو آپ کو قرارداد پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنے کا مطالبہ کرنا چاہیئے نہ کہ اپنے فرضی بھوتوں کے ڈر سے ا س کی تنسیخ کا!

محمد احسن سمیع
محمد احسن سمیع
جانتے تو ہو تم احسنؔ کو، مگر۔۔۔۔یارو راحلؔ کی کہانی اور ہے! https://facebook.com/dayaarerahil

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *