ٹارگٹ ،ٹارگٹ ،ٹارگٹ۔۔کرنل ضیا شہزاد/قسط24

لنگر گپ
صاحبو! ہم تو لگی لپٹی رکھے بنا کہے دیتے ہیں کہ دنیا کا لذیذ ترین کھانابھی لنگر کے پکوان کے سامنے پانی بھرتا ہے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کوئی مرغ مسلم سے مزیّن کھانا ہو گا۔ نہیں حضور ایسا بالکل بھی نہیں بلکہ یہ تو بسا اوقات تندوری روٹی کے ساتھ تڑکے والی دال پر ہی مشتمل ہوتا ہے۔ لنگر کی اس دال کا مزہ فوجی کو ایسا اسیر کر کے چھوڑتا ہے کہ پھر اسے چاہتے ہوئے بھی رہائی کی طلب نہیں ہوتی۔لنگر کا یہ سادہ سا کھانا فوجی جوان کے لئے من و سلویٰ کی مانند ہے جس کا ذائقہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی نہیں بھول پاتا ۔ لیکن لنگر کے کھانے کا مزہ جس چیز سے دوبالا ہو تا ہے وہ ہے لنگر گپ،جس کا منبع عموماً کلرک، ڈرائیور، آپریٹرز، اردلی اور بیٹ مین حضرات ہوا کرتے ہیں۔ ذوق خدائی کے حامل یہ ‘پراسرار بندے’ جب غازی بن کر لنگر کا رُخ کرتے ہیں تو ایک بات کی چار بنا کر اڑاتے ہیں جو بے پر کی ہوتے ہوئے بھی چشم زدن میں پورے گیریژن میں گھوم جاتی ہے۔ اس لنگر گپ میں دیگر محمود و ایاز اپنی اپنی خواہشات، اندازوں اور پیشگوئیوں کا تڑکا لگا کر اسے مزید مسالے دار بنانے میں اپنا حصہ ڈالتے رہتے ہیں۔ کہنے کو تو ان خبروں میں سچائی برائے نام ہی ہوتی ہے لیکن دیکھا گیا ہے کہ ان میں سے اکثر بعد میں درست بھی ثابت ہو جایا کرتی ہیں۔ لنگر گپ زیادہ تر تنخواہ کی بڑھوتری، سی او کی پوسٹنگ، یونٹ کی فیلڈ ایریا میں روانگی اور اسی طرح کے دیگر معاملات سے متعلق ہوتی ہے۔ ابتدا میں تو ہم جب بھی کوئی ایسی لنگر گپ سنتے تھے جو کہ ہم تک ہمارے بیٹ مین کے توسط سے پہنچتی تھی تو اس پر یقین کرنے کے بجائے اس کا مذاق اڑاتے تھے لیکن جب ایک دو مرتبہ ہماری اپنی پوسٹنگ کی خبر ہمیں لنگر گپ کے ذریعے ملی تو اس کی افادیت تسلیم کرتے ہی بنی۔

ایک مرتبہ ہماری یونٹ کو پنوں عاقل کینٹ میں پانچ سال گزر گئے تو نئے سٹیشن کے بارے میں لنگر گپ پھیلنا شروع ہو گئی ۔اردلی خبر لایا، ”سر! سنا ہے یونٹ لاہور جا رہی ہے۔”یہ سن کر چشمِ تصور لاہور کی رنگینیوں سے جگمگانے ہی لگی تھی کہ اچانک ویٹرنے کان میں سرگوشی کی، ”سر!پکی بات ہے،یونٹ کا اگلا سٹیشن سیالکوٹ ہوگا۔” ابھی سیالکوٹ کی دلچسپیوں کے بارے میں سوچنا شروع ہی کیا تھا کہ ڈرائیور بولا ”سر!آپ کو پتہ ہے کہ یونٹ جہلم کے لئے سلیکٹ ہو گئی ہے، سوچا چلواچھا ہے جہلم پنڈی کے قریب ہے ،آنا جانا رہے گا۔”گھر پہنچے تو بیگم صاحبہ چھوٹتے ہی بولیں ”آپ کو تو کسی بات کی خبر تک نہیں ہوتی۔ مجھے پتہ چلا ہے کہ یونٹ بہاولپور جارہی ہے۔” ”ٹھیک ہے بھئی سسرال کے اور قریب ہو جائیں گے” ہم نے ہنستے ہوئے بات ٹال دی۔دن یونہی گزرتے رہے اورآخر کار جب جی ایچ کیو کی جانب سے لیٹر یونٹ میں موصول ہوا تو یہ دیکھ کر سب کے طوطے اڑ گئے کہ اگلے دو سال کے لئے یونٹ کا پڑاؤ  سیاچن میں ہو گا۔

مالٹے اور سالگرہ
maltyarsalgira.jpg?ver=1.0یہ ان دنوں کا قصہ ہے جب آتش صحیح معنوں میں جوان یعنی لفٹین ہوا کرتاتھا۔ ہماری یونٹ پشاور کینٹ میں تعینات تھی اورمال روڈ پر واقع عالیشان آرٹلری میس لفٹینوں کا مسکن تھا۔ میس میں یوں تو دنیا کی ہر نعمت مترقبہ و غیر مترقبہ میسر تھی تاہم کبھی کبھار منہ کا ذائقہ بدلنے کے لئے ہوٹلنگ کا سہارا بھی لیا جاتا تھا۔لگی بندھی روٹین سے تنگ آکر ان دنوں لفٹین پارٹی نے ایک اوروتیرہ اختیار کر لیا تھا۔ ہم لوگ صبح پی ٹی کے بعد ناشتے کے لئے شادی شدہ افسران کے ہاں جا دھمکتے اوربھابیوں کی ذرا سی خوشامد کر کے گھر کے پکے ہوئے گرما گرم کھانوں سے لطف اندوز ہوا کرتے۔ہمارے ٹو آئی سی میجر ارشد تواکثر اصرار کر کے ہمیں ساتھ لے جاتے اور انواع و اقسام کے کھانوں سے تواضع فرماتے۔

ایک دن ہم سب کو ایک روزہ ریکی کے لئے فیلڈ میں جانا تھا۔ علی الصبح تیار ہو کر میجر ارشد کے گھرپہنچے اور ناشتے سے لطف اندوز ہونے کے بعد جیپ میں فیلڈ ایریا کا رخ کیا۔ شہر سے باہر نکلے تو میجر ارشد فرمانے لگے کہ دور جو سفید بُتّی نظر آ رہی ہے وہاں پہنچنا ہے۔ہم نے بغور دیکھا تو وہ گائے معلوم ہوئی۔اختلاف رائے کا معاملہ تھا لہٰذا شرط لگائی گئی۔ قریب پہنچنے پر وہ گائے ہی نکلی اور ہم شرط جیت گئے۔چنانچہ فورا گاڑی روک کر ریڑھی سے پانچ درجن مالٹے خریدے گئے ۔ مالٹوں پر ہاتھ صاف کرتے کرتے جب ہم مطلوبہ جگہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ کمانڈر وہاں پہلے سے موجود ہیں۔سب نے مالٹے ہاتھ میں پکڑے ہوئے ہی سلیوٹ کیا۔ یہ دیکھ کر کمانڈرکا غصہ عود آیا۔ لیکن اس سے پہلے کہ کچھ فرماتے لفٹینوں کے سرخیل ماموں شوکت گویا ہوئے کہ سر! آج لیفٹیننٹ ضیا کی سالگرہ ہے اور ہم نے سوچا کہ فیلڈ ایریا میں اور کچھ نہیں تو مالٹے کھا کرہی منا لی جائے۔ یہ سن کر کمانڈر پسیج گئے اور بولے اچھا اگر یہ بات ہے تو چلو پھرکچھ ہلا گلا ہو ہی جائے ۔ ہم سے ایک بڑے سے مالٹے پر چھری پھروائی گئی اوراس کی قاشیں تمام حاضرین میں تقسیم کی گئیں۔کمانڈر سمیت سب لوگوں نے بڑے اہتمام سے ہمیں سالگرہ کی مبارکباد دی اور یوں یہ انوکھی سالگرہ کی تقریب اختتام کو پہنچی۔ اس کے بعد ہم جب بھی سالگرہ منانے کا سوچتے ہیں تو نہ جانے کیوں دھیان کیک کے بجائے مالٹوں کی طرف چلا جاتا ہے۔

یہ پڑھیں:   ٹارگٹ، ٹارگٹ،ٹارگٹ ۔۔کرنل ضیا شہزاد/قسط23

نیا لفٹین یونٹ میں
نئے لفٹین کی یونٹ میں پہلی بار آمد اس کے لئے زندگی کا ایک یادگار موقع ہوتا ہے۔ اس موقع کو مزید یادگار بنانے کے لئے یونٹ کی لفٹین پارٹی بہت پہلے سے کمر کس لیتی ہے۔مختلف اجلاس منعقد کئے جاتے ہیں کہ آنے والے لفٹین کا خیر مقدم کرنے کے لئے کس قسم کے طریقے اختیار کئے جائیں۔سبھی افسر اپنے کیرئیر کی شروعات میں ان مراحل سے گزرتے ہیں۔ان دنوں ہمارے سی او بیچلر ہوا کرتے تھے اور میس میں ہمارے ساتھ ہی مقیم تھے۔ ہر نئے آنے والے افسر کے بیٹ مین کا کردار بھی وہی نبھایا کرتے تھے اور اس سے ایک موٹی رقم اینٹھنے میں بھی کامیاب ہو جاتے تھے جس سے بعد میں یونٹ افسروں کی پارٹی کی جاتی تھی۔میجر ندیم موٹے چشمے اور سٹیتھوسکوپ لگا کر ڈاکٹر کا رول پلے کرتے تھے اور نئے آنے والے لفٹین کا اچھی طرح سے چیک اَپ کرنا ان کا کام ہوتا تھا۔ٹو آئی سی کو سیکنڈ لفٹین کا کردار دیا جاتا جو کہ اپنی حرکتوں کی وجہ سے ابھی تک پروموٹ نہیں ہو پایا جبکہ اس کے کورس میٹس بریگیڈئیر بن چکے ہیں ۔ڈرامے میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لئے باقی افسروں کو بھی مختلف ذمہ داریا ں تفویض کی جاتی تھیں۔یہ سب کچھ اتنے عمدہ اور نیچرل طریقے سے کیا جاتا تھا کہ کسی کو شک تک نہیں ہوتا تھا۔

یہ1996کے اواخر کا ذکر ہے ۔سیکنڈ لیفٹیننٹ امجد نے پی ایم اے سے پاس آئوٹ ہونے کے بعد ہماری یونٹ میں رپورٹ کرنا تھی۔ یونٹ پچھلے ایک ماہ سے ایکسرسائز ایریا میں موجودتھی۔ہماری سروس ان دنوں لگ بھگ ایک سال ہو چکی تھی ۔ لفٹین پارٹی کا فیلڈ میس میں اجلاس منعقد ہوا اور امجد کو ریسیو کرنے کا پلان ڈسکس کیا گیا۔ سب نے اپنی اپنی رائے دی ۔ ہم اپنی باری پر گویا ہوئے کہ پرانا طریقہ کار فیلڈ ایریا کے ماحول سے مناسبت نہیں رکھتا لہٰذا کچھ نیا پلان بنانا ہو گا۔ جو بولے وہی کنڈا کھولے کے مصداق ہمیں ہی سکیم بنانے کا ٹاسک دیا گیا۔ ہم نے ایک نہائت اچھوتا پلان تشکیل دیا اور ٹو آئی سی سے اس کی منظوری بھی حاصل کر لی۔ وقت مقررہ پر امجد نے پنوں عاقل کینٹ میں رپورٹ کی جہاں پہلے ہی سے ایک عدد جیپ اسے لینے کے لئے موجود تھی۔ نئے لفٹین صاحب کو اگلے دن کینٹ سے ایکسرسائز ایریا میں پہنچنا تھا۔کوئی بارہ بجے کے قریب وہ یونٹ میں پہنچے اور ہم نے انہیں ریسیو کرکے ٹینٹ کا راستہ دکھایا۔رات کا کھانا ہم دونوں نے ٹینٹ میں ہی تناول کیا۔ اس کے بعد ہم نے امجد کو بتایا سی او کے حکم کے مطابق اس کی تعیناتی پاپا بیٹری میں کر دی گئی ہے جو پانچ کلومیٹر دور ڈیپلائے ہے اور اسے میرے ہمراہ ابھی وہاں چلنا ہو گا۔امجد تو تیا ر ہی بیٹھا تھا، ہم نے جیپ تیار کروائی جس میں ہم سیکنڈ سیٹ پر بیٹھے تھے پچھلی سیٹوں پر امجد کو دو سپاہیوں اور سامان کے ہمراہ ایڈجسٹ کر لیا گیا۔

سردیوں کی راتیں اور گھٹاٹوپ اندھیرے میں ہماری جیپ آہستہ آہستہ سفر کرتی ہوئی اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی۔اچانک ایک جانب سے فائر کی آواز سنائی دی۔ ڈرائیور نے فوراً بریک لگائی۔ سپاہیوں نے پوزیشن لے کر جنگل کی طرف دوڑنا شروع کیا اورچشم زدن میں نگاہوں سے اوجھل ہو گئے۔یکایک ایک جانب سے سر پر بڑے بڑے پگڑ باندھے ہوئے پانچ ہٹے کٹے افراد نمودار ہوئے جنہوں نے ہاتھوں میں دونالی بندوقیں پکڑی ہوئی تھیں۔ ان میں سے ایک فرد نے پاٹ دار آواز میں اپنا نام سولنگی ڈاکو بتایا اور ہینڈز اپ کرنے کا حکم دیا۔ ہم نے تھوڑی بہت مزاحمت کرنے کی کوشش کی تاہم اتنے آدمیوں کے آگے بس چلنا ممکن نہ تھا۔ اس کے بعد ہمارے لئے ہینڈز اپ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ کچھ ہی دیر بعدڈاکو ہمیں محاصرے میں لے کر جنگل کی جانب رواں دواں تھے۔کافی دیر چلنے کے بعد ہم ایک کھنڈر نما گھر میں پہنچے۔ ایک کمرے میں لالٹین کی روشنی میں ہمیں بٹھا کر تفتیش کا آغاز کیا گیا۔ ڈاکوئوں کے سردار نے کچھ دیر ہم سے اردو میں سوال جواب کرنے کے بعد حکم دیا کہ ہمیں کمرے میں بند کردیا جائے اور باقی معاملہ صبح دیکھا جائے گا۔

ڈاکوئوں کے جاتے ہی ہم نے امجد کو ان کی سفاکی کے بارے میں بتایا کہ کچھ ہی عرصہ پہلے کچھ افسران اسی طرح ان کے ہاتھ لگے تھے جن کا آج تک سراغ نہیں مل سکا۔ کچھ دیر گزرنے کے بعد ہم نے امجد کی توجہ کھڑکی کی جانب دلائی جو کہ ڈاکو بند کرنا بھول گئے تھے۔ ہم دونوں نے باہمی مشورے کے بعد اس کھڑکی سے فرار کا فیصلہ کیا۔جیسے ہی تھوڑا وقت گزرا ہم کھڑکی کے راستے کمرے سے باہر نکل آئے۔باہر گھپ اندھیرا تھا۔ ہم نے قطبی ستارے سے سمت کا تعین کیا اور آہستہ آہستہ رینگنا شروع کر دیا۔تقریباً پندرہ منٹ رینگنے کے بعد ہم ڈاکوئوں کے ڈیرے سے کافی دُور نکل آئے اور اس کے بعد پیدل سفر کا آغاز ہوا۔ کچھ دیر چلنے کے بعد ہم اس جگہ پہنچ گئے جہاں جیپ کو چھوڑا تھا لیکن وہاں پر کوئی بندہ یا پرندہ موجود نہیں تھا۔ بہرحال راستے پر واپس چلنا شروع کیا اور لگ بھگ ایک گھنٹے کے بعد ہم واپس یونٹ ہیڈکوارٹر میں موجود تھے۔ ہمیں فوراً ایڈجوٹنٹ کیپٹن سلیم کے سامنے پیش ہونا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ فوجی گاڑی اور سپاہی بدستور لاپتہ ہیں۔ آپ دونوں کی اس بدترین لاپروائی کے نتیجے میں یونٹ کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔سی او سخت غصے میں ہیں اور انہوں نے اس بارے میں کمانڈر کو بھی آگاہ کر دیا ہے جنہوں نے فی الفور آپ لوگوں کے کورٹ مارشل کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔

ہم واپس ٹینٹ میں آئے ۔وہ رات امجد پر بہت بھاری تھی۔اس نے ہم سے روہانسی آواز میں اس مشکل سے نجات کا حل پوچھا۔ ہم نے اچھے سینیئر کی طرح اسے تسلی دی کہ جان بچنے پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔  نوکری تو آنی جانی چیز ہے۔اُمید ہے کہ ہمارے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے گا۔وہ رات امجد نے مصلے پر گزاری اور ہمیں بھی اس کا ساتھ دینا پڑا۔ صبح نو بجے ہمیں سی او کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ ایڈجوٹنٹ نے فردِ جرم پڑ ھ کر سنائی جس میں سرکاری امور کی انجام دہی میں سنگین غفلت برتنے جیسے جرائم درج تھے۔ سی او نے رعب دار آواز میں پوچھا ”آپ لوگ اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہتے ہیں؟۔” ہم تو چپ رہے لیکن امجد نے روہانسا ہو کرکہا ”سر! میرا تو یونٹ میں پہلا دن تھا اور مجھے تو کسی بات کا پتہ نہیں تھا لہٰذا میری سزا میں کمی کی جائے۔” سی او نے سزا سنانا شروع کی ۔ ”یہ عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ دونوں لفٹین یقینا ایک سنگین جرم کے مرتکب ہوئے ہیں جس کی سزا سات سال قید بامشقت اور نوکری سے برخواستگی ہے۔”یہ سن کر ہم نے امجد کی جانب دیکھا جوکہ چکرا کر گرنے ہی والا تھا کہ سی او کی آوازایک بار پھر سنائی دی ”لیکن ان کی سروس اور تجربہ کو دیکھتے ہوئے انہیں ایک موقع دیا جانا ضروری ہے لہٰذا میں اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ان کی سزا میں تخفیف کرتے ہوئے۔۔۔ انہیں تمام افسروں کو ایک اچھا سا ڈنرکروانے کا حکم دیتا ہوں اور سیکنڈ لیفٹیننٹ امجد کو یونٹ میں خوش آمدید کہتا ہوں۔” یہ سنتے ہی لفٹین پارٹی ٹینٹ کا پردہ اٹھا کر سی او کے آفس میں داخل ہوئی اور ساتھ ہی ویٹر نذیر بھی چائے اور مٹھائی کے ہمراہ وارد ہو گیا۔ سی او سمیت سب افسروں نے گلے مل کر امجد کو مبارکباد دی جو اس نے پرنم آنکھوں اورشدید حیرت کے ساتھ قبول کی کیونکہ مبارکباد دینے والوں میں ‘سولنگی ڈاکو’ اور اس کے ساتھی بھی شامل تھے۔

Save

Save

Save

Save

کرنل ضیا شہزاد
کہ آپ اپنا تعارف ہوا بہار کی ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *