گھروندا ریت کا(قسط9)۔۔۔سلمیٰ اعوان

یہ پابندیوں اور روک ٹوک سے آزاد ایک خودمختار سی زندگی تھی جو ماضی میں بہرحال اُسے حاصل نہ تھی۔ وہ خواہشیں اور آرزوئیں جو ہمیشہ سینے میں مچلتی رہتی تھیں۔ اُنہیں وہ اِس اجنبی سرزمین پر بُہت شان سے پُورا کر رہی تھی۔ شانوں پر لہراتے بل کھاتے بال جن کی چمک اور کھلار آنکھوں کو بھلا لگتا تھا، اُسے بُہت پسند تھے۔ اکثر وہ اپنی موٹی سی لمبی چوٹی کو اُنگلیوں کی پوروں سے مسَلتی اور اپنے آپ سے کہتی تھی۔
”اللہ میرا بس چلے تو بالوں کے اِس جنگل کو پلک جھپکتے میں کٹوادوں میرے گھنے بال میرے کندھوں پر بکھرے ہوئے کتنے خوبصورت لگیں گے۔“

جدید کپڑوں پر ڈوپٹہ گلے میں ڈالنا بُہت مرغُوب تھا۔ لیکن موٹاڈوپٹہ اوڑھے بغیر گھر سے قدم نکالنا دُشوا رتھا۔ یہ اور بات ہے کہ ایک چھوٹا سا ڈوپٹہ وہ کتابوں میں رکھ کر اپنے ساتھ کالج ضرور لے آتی۔ لباس سے اُٹھتی بھینی بھینی خوشبو اور ہلکے ہلکے میک اَپ کی اُسے شدید تمنا رہتی تھی۔ پر اِس تمنا کا اظہار اُس دقیانوسی اور روایات کی سٹر انڈ مارتے گھر میں ممکن نہ تھا۔ اکثر وبیشتر جب وہ لڑکیوں اور عورتوں کو چھوٹاسا ڈوپٹہ گلے میں ڈالے مکمل اعتماد اور وقار سے نپے تلے قدم اُٹھاتے دیکھتی تو اپنے آپ سے یہ ضرور کہتی۔
”کس قدر فضو ل اور احمقانہ بات ہے کہ عورتیں اگر اپنے سر کھُلے رکھیں تو فرشتے اُن پر لعنت بھیجتے ہیں لو بھلا اللہ کی یہ نیک مخلوق لعن طعن کرنے اور اچھے بھلے انسانوں پر پھٹکار ڈالنے کے لئے ہی تو رہ گئی ہے اور تو کوئی کام ہی نہیں ہے اِنہیں۔“
پھر لہجے میں تھوڑی سی ملامت کا عنصر عود آتا۔
“واہ لوگوں نے بھی اپنی مطلب برآری کے لئے کیسی کیسی تاویلیں گھڑ رکھی رہیں؟ ایک وہ ہماری ماں جی ہیں کیسی احمقانہ باتیں کرتی ہیں؟ ناقابل یقین۔پڑھے لکھے لوگوں کی ذ ہنی گرفت میں نہ آنے والی۔دوچوٹیوں والی عورت کی قبر میں سے قیامت کے روز دو سانپ اُس کے سرہانے سے نکلیں گے۔ کمال ہے گویا احتساب کا عمل اعمال پر نہیں چوٹیوں پر ہوگا۔“
کبھی کبھی ماں جی عورتوں کی بڑھتی ہوئی آزادی پر اپنا تقریری سلسلہ شروع کرتیں اور اپنے بیان میں یہ ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتیں کہ ننگے سر گھومنے پھرنے والی عورتوں کے چہروں سے نحوست ٹپکتی ہے۔
تب اُس کا جی چاہتا کہ وہ اُونچے اُونچے چلاّ کر کہے۔
”غلط بات! کہاں ٹپکتی ہے نحوست؟میں تو ہر وقت دیکھتی ہوں ایسے ملیح چہرے سمارٹ تازہ دم خوبصورت وجود اور حسین شکلیں۔ جن کے نقش ونگار کا مُول نہیں۔ جن کی ملاحت اوررعنائیوں کا جواب نہیں۔
پھر ایک خاموش آواز تلخی سے بھری ہوئی اندر سے اٹھتی۔ایک ہم جیسے بھی ہیں جو موٹے ڈوپٹے گیا ن دھیان سے اوڑھتے ہیں۔ اپنا آپ چھپا کر رکھتے ہیں پر چہرے ہیں کہ نہ اُن پر رونق ہے اور نہ تازگی۔“

اور جب وہ ڈھاکہ جانے کے لئے تیار ہوگئی۔ اُس کا اٹیچی نئے اور خوش رنگ کپڑوں سے بھرگیا۔ استعمال اور ضرورت کی ہر شے اُ س نے اچھی اور عمدہ خریدلی۔ جوتیوں کے کئی جوڑے بھی بیگ میں ٹھونس لئے۔ دن وقت اور تاریخ کا تعیّن بھی ہوگیا اور جہاز میں پرواز کا ٹکٹ بھی اُسے مل گیا۔
تب اُس نے ایک خوفناک فیصلہ کر ڈالا۔
وہ شانوں پر ہلکورے کھاتے بالوں کے ساتھ ڈھاکہ ایئر پورٹ پر اُترے گی۔
یہ خوفناک خیال جب پہلی مرتبہ اُ س کے دماغ میں آیا تو وہ ساری جان سے ایک پل کے لئے لرزی تھی۔ کسی نے دیکھ لیا۔ کسی کو پتہ چل گیا؟ تب باتوں کی توپوں کے منہ کھُل جائیں گے اور اُس کا تیاپانچہ ہو جائے گا۔
جب ذرا خوف وہراس کی فضا سے باہر نکل کر حالات کا جائزہ لیا۔ راز کو راز رہنے کے امکانات کو کسوٹی پر پَرکھا تب یہ کام اتنا کٹھن نظر نہ آیا۔
ہاں ڈھاکہ جا کر بالوں کو سیٹ کروانے کی بھی ایک تجویز ذہن میں پیدا ہوئی پر اِس تجویزسے وابستہ کچھ خدشات بھی اُبھر کر سامنے آئے جن پر غور کرتے ہوئے اُ س نے اپنے آپ سے کہا تھا۔

”نہیں یہ مناسب نہیں رہے گا۔“
اور پھر جس روز اُسے سفر کرنا تھا۔ اُس صبح وہ ایک دوست کی مدد سے اپنے اچھے خاصے لمبے بال تھوڑے سے کٹوا آئی۔ چوٹی موٹے جارجٹ کے ڈوپٹے میں چھپ گئی تھی۔
طیارے میں بیٹھ کر موٹی سی چوٹی کو اُس نے ہاتھوں سے چھُوا۔ شانتی او ر سُکھ سے لبالب بھرا سانس لیا۔ تین چار گھنٹوں نے اُسے ہلا کر رکھ دیاتھا۔ افشائے راز کا خوف اُس سے اُلٹی پلٹی حرکتیں کروانے لگاتھا۔ وہ اپنی سیدھی سادی اور بڑ بولی ماں سے تو ذرا بھی نہ ڈرتی تھی۔ خوف تھا تو رشتہ داروں کا جو بغیر بنیاد کے فضُول اور بے تکی باتوں کی عمارت آناً فاناً کھڑ ی کر دیتے تھے۔

جاری ہے۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *