میں اپنے قتل کی ایف آئی آر درج کرنے جارہا ہوں ۔۔ ۔ نادر زادہ

SHOPPING
SHOPPING
 شاید میرا یہ کیس اپنی نوعیت کا منفرد اور میں پہلا ہی شخص ہوں کہ حیات ہوں مگر اپنے قتل کی ایف آئی آر ( FIR ) درج کرنے جارہا ہوں ۔ اس کی  صرف ایک ہی وجہ ہے  کہ میں محفوظ نہیں، اپنے  ہی گھر اور اپنے  ہی شہر میں ۔ ا س کا یہ مطلب بھی نہیں کہ میری  کسی سے ذاتی رنجش ہو اور جس کی بنا پر میں خود کو محفوظ نہیں سمجھتا بالکل نہیں بلکہ یہ میرے شہر کی  حالت ہے جہاں روز لاشیں گرتی ہیں ۔۔۔۔مُجھ پر، مُجھ سے مُراد ہم پر ایک سے ایک خطرناک حملے بھی ہوئے ہیں چاہے بارود سے بھرا وہ ٹینکر ہو جو ملکی تاریخ میں ثبت ہوگیا   یا وہ سڑک جہاں دن دیہاڑے عوام قتل ہوتے آرہے ہیں۔
واضح رہے یہ علاقہ مقبوضہ بھی نہیں  ہے ،یہاں حکومت بھی ہے ریاست بھی ہے ، مگر انسان کی کوئی اہمیت نہیں ۔ حکومت بھی جمہوریت ہے مگر جمہور کو اولیت نہیں، اس شہر کو مُلک کا اہم ترین شہر کہا جاتا ہںے شہر کا نام کوئٹہ ہے  اور میں کوئٹہ شہر کا قومی اور نسلی ہزارہ بھی ہوں، کیونکہ میرے خاص نسلی خدوخال میرے مسلک کو بھی ظاہر کرتے  ہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ میں بعض کے لیے نا قابل برداشت   حد تک نا پسندیدہ بھی ہوں ،اس لیے مجھے جینے کا حق بھی نہیں ۔ محلے میں کام کی گنجائش نہیں اس لیے شہر کے مین بازار میں کام کرتا ہوں ،تاکہ میرے گھر کا چولہا  ٹھنڈا نہ ہو، بازار یعنی صوبے کے دارالحکومت جہاں امن و امان کے لیے ہر ایک کلو میڑ پر سکیورٹی اداروں کی  چیک پوسٹس بھی ہیں۔ جہاں ہر ایک معصوم شہری اپنی شناخت ظاہر کرتا ہے، اور تلاشی بھی دیتا ہے۔ اس لیے بظاہر تو سکیورٹی نہایت سخت دکھائی دیتی  ہے، لیکن عوام کے چہروں سے عیاں ہوتا  خوف شہر کا آئینہ تو بن گیا  مگر پھر بھی حقیقت تب عیاں ہوگی جب آپ کا شہر کے قبرستانوں میں گزر ہوگا ،یا  جب  ہر روز کے اخبار میں نا معلوم افراد کے کارنامے اخباروں کی  شہہ سرخیوں میں آپ کو نظر آئیں گے  کہ کس طرح نامعلوم افراد آسمان سے برستے ہیں اور پھر کس طرح زمین اُنہیں  نگل جاتی ہے۔
اس لیے میں نے یہ فیصلہ کرلیا ہے، جہاں جہاں سے میرا گزر ہوتا ہے وہاں کے پولیس تھانوں میں اپنے نام کو مقتول اور قاتل کو نامعلوم کے  عنوان سے ایف آئی آر ( FIR ) درج کروالوں ۔میں نے یہ فیصلہ تب کیا   جب میرے محافظ اور قانون کے رکھوالوں نے یہ فیصلہ کرلیا کہ نا معلوم کو معلوم کرنا یا نا معلوم کو پکڑنا سزا دینا  ان کی  ذمہ داری نہیں، میرے محافظ کے اس فیصلے کے بعد میں نے بھی فیصلہ کرلیا کہ ویسے بھی میں تو   مارا ہی جاؤں گا، تو کیوں نہ میرے بعد میرے گھر والوں ،والدین،بہن بھائیوں کو مجھے تلاش کرنے کی ،یا میری واپسی کے انتظار کی اذیت نہ جھیلنی پڑے۔ انہیں تھانوں کے چکر نہ لگانے پڑیں ، کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ انہی چکروں میں پھر نا معلوم اپنی کوئی مہارت نہ دکھا دے کیونکہ یہاں اکثر  یہ ہوا ہے کہ   کسی مقتول کی  تدفین یا پہلے واقعے کی لاشیں اٹھاتے اٹھاتے  مزید لاشوں کے   ڈھیر لگ  جاتے ہیں ۔۔  اسی لیے میں خود اپنے قتل کی ایف آئی آر درج کروانے   جارہا ہوں !!

Save

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *