پاکستان اور سائنس

آج اگر دنیا کی دوسری اقوام خاص طور پر مغربی اقوام سے اپنا موازنہ کیا جائے تو شاید کسی نابینا کو بھی یہ نظر آجائے کہ ترقی کی راہ میں کون کتنا آگے ہے اور کون کتنا پیچھے ۔تعلیم کا شعبہ ہو یا صحت کا، سائنسی ترقی ہو یا سماجی ترقی، ایک پاکستان کیا، سارا عالمِ اسلام دنیا کی دوسری اقوام سے میلوں پیچھے کھڑا نظر آئے گا۔ ہم زندگی کی بنیادی سہولیات کہ حصول کے لیے اپنے سے کم عمر ممالک کے محتاج ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں پاکستان کی حیثیت ایک بھکاری کی سی بن کر رہ گئی ہے۔ تمام تر وسائل کے ہوتے ہوئے بھی ہمیں دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانا پڑ رہے ہیں۔ وجہ؟ ہماری سائنس دشمنی۔
سائنس لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی جاننا کے ہیں۔ سائنس نظام فطرت کے علم کا نام ہے جو مشاہدہ، تجربہ اور عقل سے حاصل ہوتاہے۔ علم کے جس شعبے کو ہم سائنس کہتے ہیں اس کا دوسرا نام علمِ کائنات ہے جس میں انسان کا علم بھی شامل ہے۔سائنس دان کائنات کے مشاہدے سے کچھ نتائج اخذ کرتا ہے۔ ہر درست سائنسی نتیجے کو ہم مستقل علمی حقیقت یا قانون قدرت سمجھتے ہیں۔ مشاہدے اور تجربے سے دریافت ہونے والے علمی حقائق کو جب مرتب اور منظم کرلیا جاتا ہے تو اسے ہم سائنس کہتے ہیں۔
ہمارے ہاں سائنس کو صرف ایک مضمون کی سی حیثیت حاصل ہے۔ ہم سائنسی علوم حاصل تو کرتے ہیں لیکن ہمارا مقصد صرف اگلے درجے تک رسائی کا ہوتا ہے۔ ہم سوچ بچار کرنے میں اپنا وقت ضائع نہیں کرتے۔ جب کہ سائنس بنیادی طور پر ایک رویہ اور اندازِ فکر ہے نہ کہ معلومات حاصل کرنے کا ذریعہ۔ سائنٹفک رویہ بلاشبہ اب ایک گھریلو لفظ بنتا جا رہا ہے لیکن اس کی صحیح مفہوم سے بہت کم لوگ واقف ہیں اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ سائنٹفک رویہ کی صحیح تعریف سے کماحقہ واقفیت حاصل کی جائے۔
سائنس کا بنیادی مقصد کائنات کے اسرار و رموز سے واقفیت حاصل کرنا ہے۔سائنس کا مقصد یہ جاننے کی کوشش ہے کہ کائنات اور دنیا کیسے بنی ہے؟ زندگی کس طرح پیدا ہوئی؟ اور یہ کائنات کس طرح کام کرتی ہے؟ اس امر کی کوشش کی جاتی ہے کائنات کہ اندرونی رازوں کا انکشاف کیا جائے۔ اس کے علاوہ یہ مقصد بھی ہوتا ہے کہ حیاتیاتی انواع اور انسان کی معاشی اور معاشرتی تنظیم بلکہ بحیثیتِ مجموعی پوری کائنات کا جائزہ لیا جائے اور اس کی اصلیت دریافت کی جائے۔ سائنس جرات اور بے باکی سے پرانے عقیدوں اور رواجی روایتوں کو للکارتی اور چیلنج کرتی ہے جس کی وجہ سے اسے زیادہ تر مذہبی انتہا کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے اور اس کا فروغ ممکن نہیں رہتا۔
ذوق و شوقِ تجسس انسان کی فطرت میں داخل ہے۔ جو شخص جتنا ذہین ہوتا ہے اس میں کرید کا مادہ اور شوقِ تجسس اتنا ہی کثرت سے پایا جاتا ہے۔ہر تہذیب کے ہر دور میں لوگ ایسے سولات پوچھتے رہے ہیں کہ کائنات ایسی کیوں ہے جیسی کہ وہ ہے اور یہ کہ کائنات کیسے وجود میں آئی اور کہاں سے آئی ہے؟ خاص کر بچوں کی فطرت میں شوقِ تجسس بہت زیادہ ہوتا ہے۔ وہ قدرتی طور پر ہر طرح کے سوالات کرتے ہیں اور ہر چیز کی نوعیت اور ماہیت کو جاننا چاہتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں یہ عام قاعدہ ہے کہ بچے اگر اپنے والدین اور اساتذہ سے ایسے چبھتے ہوئے جرحی سوال کریں تو جواب معلوم نہ ہونے پر لاعلمی چھپانے کے لیے یا تو اپنے کاندھے اُچکا دیتے ہیں یا بعض لوگ گھبرا جاتے ہیں۔ بچوں کا اپنے والدین پر مکمل انحصار اور اعتماد ہوتا ہے لیکن جب بچے ان تمام سوالوں کا تسلی بخش جواب نہیں پاتے اور انھیں ڈانٹ کر خاموش کر دیا جاتا ہے یا پھر موہوم روایتی عقیدہ بیان کردیتے ہیں جس پر خود قانع اور مطمئن ہیں کہ یہ کائنات خالق نے بنائی ہے اور بس۔۔۔
اس پر مزید یہ بچوں پر اپنے اعتقادات کا غسلِ ذہنی یا برین واشنگ کا عمل مسلط کیا جاتا ہے تو رفتہ رفتہ ان کی تجسس کی حس اور انفرادی آزادانہ سوچ بچار کی قابلیت بالکل مفقود ہوجاتی ہے ۔ بالآخر بچے غیر شعوری طور پر والدین، خاندان، برادری اور قبیلے کا گھسا پٹا آسان راستہ اختیار کرلیتے ہیں۔ ان کا ذہن یک رُخی ہو جاتا ہے ۔ یوں سائنس دشمنی اور اس دوری بچپن ہی سے ہماری نفسیات میں شامل کر دی جاتی ہے۔
ایک مسلمان کی حیثیت سے ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ یہ دنیا ا ﷲ تعالیٰ کی ہی بنائی ہوئی ہے لیکن اسی رب نے اپنی کتاب قرانِ مجید میں انسانوں کو دعوت دی ہے کہ وہ آسمانوں، زمین، پہاڑوں، ستاروں، پودوں، جانوروں، رات اور دن کے ادل بدل، بارشوں،تخلیقِ انسانی اور بہت سی دیگر مخلوقات پر غور و فکر اور تحقیق کریں تاکہ وہ اپنے گرد و پیش میں پھیلے ہوئے کمال ہنرمندی کے نمونے دیکھ کر اپنے رب کو پہچان سکیں جو اس ساری کائنات اور اس کے اندر موجود اشیا کو عدم سے وجود میں لایا۔
ایک ارشادِ باری تعالیٰ کا ترجمہ ہے: آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر یہ لوگ گزرتے رہتے ہیں اور ان پر توجہ نہیں کرتے۔ دنیا کے مشہور ترین سائنس دان البرٹ آئن سٹائن کے بقول سائنس مذہب کے بغیر لنگڑی ہے اور مذہب سائنس کے بغیر اندھا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ سائنس کو اگر مذہب کی روشنی اور رہنمائی حاصل نہ ہو تو وہ صحیح طور پر آگے کی طرف قدم نہیں بڑھا سکتی۔ اس سے یہ بات واضح طور پر سمجھ لینی چاہیے کہ سائنس صرف اس صورت میں قابلِ اعتماد نتائج حاصل کرسکتی ہے جب اس کی تحقیق و تفتیش کا مدعا و مقصد کائنات کے رازوں اور اشاروں کو سمجھنا ہو۔ اگر اس نے اپنے وقت اور وسائل کو ضائع ہونے سے بچانا ہے تو اسے صحیح ہدایت کی روشنی میں صحیح راستے کا انتخاب کرنا ہوگا۔
ڈاروِن سے ڈیڑھ صدی پہلے آئزک نیوٹن کے لیے سائنس مذہب سے الگ نہیں تھی۔ بلکہ اس سے بالکل برعکس یہ مذہب کا ایک پہلو تھی اور بالآخر اس کے تابع تھی لیکن ڈاروِن کے زمانے کی سائنس نے خود کو مذہب سے نہ صرف الگ کرلیا بلکہ اس کی حریف بن گئی۔ اس طرح مذہب اور سائنس کے درمیان ہم آہنگی ختم ہوگئی اور وہ دو مخالف سمتوں میں چلنے لگے جس کی وجہ سے انسانیت مجبور ہوگئی کہ وہ دو میں سے کسی ایک کو منتخب کرے۔
سائنس دان ہونا اور بات ہے اور جذباتی مسائل سے متعلق خصوصًا مذہبی اعتقادات میں جب کہ وہ سائنس دان بچپن میں غسلِ ذہنی کے عمل سے گزرا ہو، سائنٹفک رویہ رکھنا بالکل جداگانہ بات ہے۔ سائنس دان کے لیے لازم ہے کہ اس کا اندازِ فکر ہر حال میں استدلالی، منطقی اور صحیح رویہ کا ہو۔ صرف ذہانت کافی نہیں ہے۔ صحیح اندازِ فکر نہ صرف سائنس کے تجربات، مشاہدات اور نظریہ سازی کے لیے ضروری ہے بلکہ زندگی کے دوسرے شعبوں اور علوم کے لیے بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ سائنس ہمیں سکھاتی ہے کہ تمام مسائل کے لیے سائنٹفک رویہ اختیار کیا جائے۔ طبیعت میں صحیح اندازِ فکر کا نشوونما پانا اور مسائل کو ٹھیک، درست اور منطقی طور پر حل کرنے کی عادت کا حامل ہونا نوعِ انسانی کے لیے سائنس کا سب سے بڑا تحفہ ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ وقت کی مناسبت کی قدر کرتے ہوئے سائنسی رو سے اٹھنے والے سوالات کو مذہبی انتہا پسندی کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے بلکہ اسے مذہب ہی کی روشنی میں حل کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ ہمارا شمار بھی ترقی یافتہ اقوام میں ہوسکے۔

Avatar
جہانزیب بٹ
کھوٹا سِکہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *