عمل ضروری ہے۔۔مرزا مدثر نواز

کہا جاتا ہے کہ دریائے دجلہ میں ایک مرُدے کی کھو پڑی پانی پر تیرتی آ رہی تھی‘ وہ ایک عابد و زاہد شخص کے پاس آ کر رک گئی۔ اسے اللہ کا حکم ہوا کہ وہ اس عابد سے بات کر سکتی ہے۔ کھوپڑی بولی‘ ۔۔۔ میں بھی کسی زمانے میں بڑا طاقتور بادشاہ تھا‘ میں نے عراق پر حملہ کر کے اسے فتح کر لیا تھا‘ میرا خزانہ بھرا ہوا تھا‘ پھر میں نے ریاست کرمان کو فتح کرنے کے بارے میں سوچامگر اچانک موت نے آ لیااور فتح و نصرت کی یہ حسرت دل میں لیے میں قبر میں چلا گیا۔ اب میں محض یہ کھوپڑی ہوں مگر پھر بھی تمہیں ایک نصیحت کر سکتا ہوں۔ ذرا غور سے میری نصیحت کو سننا‘ ہوسکتا ہے یہ تمہارے کام آ جائے۔ ۔۔”وہ شخص جو خلق خدا کو تکلیف پہنچاتا ہے خود بھی تکلیف میں رہتا ہے۔ وہ بچھو جو دوسروں کو ڈنگ مارتا ہے صحیح سلامت اپنے گھر تک کبھی نہیں پہنچتا”۔

انسان وہ ہے جو دوسرے انسانوں کے کام آئے اور اس سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔ اگر ایسا نہیں تو پھر پتھر اور ایسے انسان میں کیا فرق رہ جاتا ہے بلکہ یہ مثال بھی درست نہیں لگتی کیونکہ پتھر بھی کسی نہ کسی کام آ جاتا ہے۔ جو انسان کسی کو کوئی فائدہ نہ دے سکے اسے شرم سے مر جانا چاہیے۔ برے آدمی کے مقابلے میں درندہ بہتر ہے۔ اگر انسان دوسروں کے کام آنے کی بجائے انہیں چیر پھاڑ کر کھانے پر آمادہ ہو جائے ان کی دولت پر نظر رکھے تو وہ درندوں سے بد تر ہو گا۔ بدکار کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوا۔ ظالم پر جب مشکل وقت آتا ہے تو کوئی اس کی مشکل کشائی کے لیے آگے نہیں آتا۔

ایک پہلوان کسی کنویں میں گر گیا تھا‘ اس نے بڑی فریاد کی مگر کوئی اس کی مدد کو نہ آیا۔ کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اس کے ظلم اور زیادتیوں کا شکار ہو چکے تھے انہوں نے جب دیکھا تو اسے انتقام میں آ کر خوب پتھر مارے۔ وہ سب اسے پتھر بھی مارتے جاتے تھے اور یہ طعنہ بھی دیتے جاتے تھے کہ جب تم طاقتور تھے تو تم نے کسی کی فریاد نہ سنی اور ظلم کی انتہا کر دی۔ آج تم بے بس ہو تو دوسروں سے یہ توقع کیوں رکھتے ہو کہ وہ تمہاری فریاد پر کان دھریں گے۔ (حکایتِ سعدیؒ )

اللہ تبارک نے جن و انس کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا۔کیا عبادت صرف ایمان لانا، نماز یا پھر روزہ، زکوٰۃ اور حج تک محدود ہے؟اگر یہی عبادت کا مفہوم ہے تو کیا فرشتے ناکافی تھے؟ عبادت صرف حقوق اللہ کا نام نہیں ہے بلکہ ہر لمحے اور معاملے میں اس کے احکام  کی تعمیل ہے یعنی تمام اعمال صالح عبادت میں شامل ہیں۔ زبان سے کلمہ پڑھ لینا اور باقی معاملات میں خدائے واحد کی نافرمانی کرکے اپنے آپ کو جنت کا حقدار سمجھنا درست نہیں۔ دوسروں کا حق مار کر، سودی کاروبار کرکے، ہر جائزو ناجائز کام کے لیے رشوت لے دے کر، کمزوروں پر ظلم کر کے، ہمسائیوں کو تکالیف دے کر، حرام و حلال کی تمیز ختم کر کے، پبلک مقامات پر ناجائز تجاوزات قائم کر کے، قبضے کی زمین پر مسجد بنا کر اپنے آپ کو موحّد اور بالاتر سمجھنا طاغوت کا دھوکہ ہے۔
؂ دلوں کی عمارتوں میں کہیں بندگی نہیں
اور پتھر کی مسجدوں میں خدا ڈھونڈتے ہیں لوگ!

محمد رسول اللہﷺ جس تعلیم کو لے کر آئے اس کا بنیادی مقصد  یہ ہے کہ انسان کی نجات دو چیزوں پر موقوف ہے ایک ایمان اور دوسری عمل صالح۔ ایمان بنیادی اصولوں پر یقین کامل رکھنے کا نام ہے اور عمل صالح ان اصولوں کے مطابق عمل۔ اسلام نے انہی دو چیزوں کو انسان کی نجات اور فلاح قرار دیا ہے۔

لیکن افسوس ہے کہ عوام میں ایمان کو جو اہمیت حاصل ہے وہ عمل صالح کو نہیں۔ حالانکہ یہ دونوں لازم و ملزوم کی حیثیت سے عملاََیکساں اہمیت رکھتے ہیں۔فرق صرف اتنا ہے کہ ایمان بنیاد ہے اور عمل صالح اس پر قائم شدہ دیوار یا ستون ‘جس طرح کوئی عمارت بنیاد کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی اسی طرح وہ دیوار یا ستون کے بغیر کھڑی بھی نہیں ہو سکتی۔

اعمال صالحہ کی دو قسمیں ہیں‘ ایک وہ جس کا تعلق خاص اللہ تعٰا لی  سے ہے، دوسری وہ جس کا تعلق بندوں سے ہے یعنی اخلاق و معاملات۔قرآن پاک نے انسان کی فلاح و کامیابی کے ذریعہ کو بیسیوں آیتوں میں بیان کیا ہے مگر ہر جگہ بلا استثناء ایمان و عمل صالح دونوں پر اس کو مبنی قرار دیا ہے اور ہر جگہ ایمان کو پہلی اور عمل صالح کو دوسری مگر ضروری حیثیت دی ۔ اللہ تعٰالیٰ نے شرک و کفر کے سوا ہر گناہ کو اپنے ارادہ اور مشیت کے مطابق معافی کے قابل قرار دیا ہے مگر حقوق عباد یعنی باہم انسانوں کے اخلاقی فرائض کی کوتاہی اور تقصیر کی معافی اللہ نے اپنے ہاتھ میں نہیں بلکہ ان بندوں کے ہاتھوں میں رکھی ہے جن کے حق میں وہ ظلم اور تعدی ہوئی ہو اور ظاہر ہے کہ ان سے اس رحم و کرم کی توقع نہیں ہو سکتی جو اس ارحم الرٰحمین کی بے نیاز ذات سے ہے‘

اسی لیے فخر انسانیتﷺ نے فرمایا کہ ’’ جس بھائی نے دوسرے بھائی پر کوئی ظلم کیا ہو‘ تو اس (ظالم بھائی) کو چاہیے  کہ اسی دنیا میں وہ اس (مظلوم بھائی) سے اس کو معاف کرا لے‘ ورنہ وہاں تاوان ادا کرنے کے لیے کسی کے پاس کوئی درہم یا دینار نہ ہو گا‘ صرف اعمال ہوں گے‘ ظالم کی نیکیاں مظلوم کو مل جائیں گی اور نیکیاں نہ ہوں گی تو مظلوم کی بدیاں ظالم کے نامہ اعمال میں لکھ دی جائیں گی‘‘

مرِزا مدثر نواز
مرِزا مدثر نواز
پی ٹی سی ایل میں اسسٹنٹ مینجر۔ ایم ایس سی ٹیلی کمیونیکیشن انجنیئرنگ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *