انعام رانا،مکالمہ اور گالی۔۔حافظ صفوان محمد

کسی دانشور کا یا گمانِ غالب ہے کہ مجھ مابدولت ہی کا قولِ زریں ہے کہ دوستی کے آڑے آنے والا ہنر اس قابل ہے کہ اسے ترک کر دیا جائے۔ عرصہ ہوا کہ اس پر عمل پیرا ہونے کی کوشش اور جدوجہد جاری ہے۔ خیالِ خاطرِ احباب ہمیشہ دامن گیر رہتا ہے، اور میں اسے اسبابِ نجاتِ دارین میں سے سمجھتا ہوں۔

تحریریں جو دوستوں کو خوار کروائیں، گالیاں کھلوائیں اور اس سے ایک حد اور آگے چلے جائیں تو بہو بیٹیوں کو بازاری زبان کا موضوع بنوائیں،اس سے بہتر جانا کہ دوست اور دوستی بچائی جائے، لکھنے لکھانے کی خیر ہے۔

مگر کبھی کبھی کوئی چوٹ ایسی پڑتی ہے کہ دل بے اختیار مضراب کے تار کے مانند بج اٹھتا ہے اور چاہتا ہے کہ ہواڑ نکال ڈالے۔

انعام رانا اپنی جیب ہلکی کرتا ہے، وکالت کے دھیلے اس ایک کاوش پہ لگاتا ہے کہ جس کا نام “مکالمہ” ہے۔ اس پلیٹ فارم کو کسی نہ کسی طور قائم رکھے ہوئے ہے جو دشنام طرازی اور بے مقصد ہیجان کے برعکس بات کرنے کو، مکالمہ کرنے کو اور مختلف نقطہائے نظر کو بیان کرنے کا موقع و محل فراہم کرتا ہے۔ وہ سیاسی جماعتوں کے حب و منافرت سے مبرا ہوکر بطور چیف ایڈیٹر مختلف لکھاریوں کے مضامین شائع کرتا ہے۔ ان میں کئی لکھاری اس کے قریبی احباب ہیں اور ایسے احباب ہیں جن سے اس کی وابستگی سیاسی محبتوں سے بالاتر ہے۔ اگر وہ ان کے مضامین چھاپتا ہے تو امید رکھتا ہے کہ ان مضامین پر،ان کے مواد پر اور ان میں پیش کیے گئے حقائق،اعداد و شمار پر مکالمہ ہوگا۔

مگر ہوتا کیا ہے؟ وہ اپنے کسی ایسے لکھاری کا مضمون چھاپتا ہے جس کی کسی سیاسی جماعت سے وابستگی ہے اور پھر دیکھتے دیکھتے انعام رانا کی فیس بک وال ایسی غلاظت سے اٹ جاتی ہے جیسے عرصہ سے حوائجِ ضروریہ کو دبائے پھرتے ہجوم کو کوئی اجتماع گاہ یا دھرنا میسر آجائے۔ گالیاں، فحش زبان، گھٹیا طرز گفتگو اور رذیل خطابات جو لکھاری کو دیے جاتے ہیں اور بالواسطہ مکالمہ اور انعام رانا بھی ان سے فیض یاب ہوتا ہے۔ ان دشنام ایجادان و ایجادات کی بدولت فیسبک کی رذالت مآباؤں میں مریم نواز سرِ فہرست ہے تو رذالت مآبوں میں انعام رانا سے یہ مقام کوئی نہیں چھین سکتا، حتیٰ کہ راقمِ آثم خاکسار حافظ صفوان بھی نہیں۔

میرا ایسے دانش وروں اور عقلی و بصری لیکوریا میں مبتلا سیاسی باولے پن کے جنون میں کف اڑاتے مرد عورتوں سے ایک سوال ہے: کیا آپ انعام رانا کو، مکالمہ کو، فنڈز دیتے ہیں کہ انعام رانا آپ کو خوش کرتی، آپ کی مرضی کی پوسٹ لگائے؟ کیا اپنی جیب سے پیسے خرچ کرکے عوام کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنے والے شخص کو اتنا حق بھی نہیں کہ وہ اپنی مرضی سے اپنے کسی لکھاری دوست کا مضمون اس ڈر کے بغیر چھاپ سکے کہ اس غریب کے ساتھ وہ سلوک نہ ہوگا جو ٹڈی دل کسی کھیت کے ساتھ کیا کرتا ہے؟ مکالمہ اور انعام کو گالی دینا چہ معنی دارد؟؟ اگر آپ کو کسی کا لکھا ہضم نہیں ہوتا تو برائے مہربانی اپنی جیب ڈھیلی کیجیے، کوئی سڑاند کی ماری سائٹ بنائیے اور اس پر حسبِ خواہش اپنے سیاسی  و مذہبی ہیضے کی تفریغ کا سامان بہم پہنچائیے۔

مکالمہ کو، انعام رانا کو اور اس کے دوستوں کو ان آلائشوں سے فرق نہیں پڑتا۔ ہاں البتہ اتنا ضرور ہے کہ ایسے افراد کو انعام رانا اپنی اور مکالمہ کی ساکھ سے دور ہی رکھے کہ یہ آخر وقار کا سوال ہے۔

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *