ظالم مرد

SHOPPING
SHOPPING

دو دن پہلے فیسبک کے ایک دوست کے ساتھ بات ہو رہی تھی، ان کا کہنا تھا کہ میں ہمیشہ مردوں کی سائیڈ ہی کیوں لیتا ہوں اور اس سلسلے میں انہوں نے میری تین تحاریر کا حوالہ بھی دیا جس میں رن مریدی جیسے موضوع پر بات کی گئی تھی۔ اب ان کو کیا بتاؤں کہ بھائی گھر گھر کا یہ حال ہے ہر بندہ کسی نا کسی شکل میں رن مرید ہے، ہمارے بڑے بڑے مفکر اور دانشور بھی اسی حالت کا شکار ہیں اور اب اگر آپ خواتین لکھاریوں کی بات کریں تو وہ ہمیشہ خواتین کے مسائل کا ہی تذکرہ کرتی ہیں اور تو اور بہت سارے مرد لکھاری بھی قسم کھائے بیٹھے ہیں کے جو بھی ہو عورتوں کی ہی بات کرنی ہے۔بھائی ایک بات تو بتاؤ کہ مردوں کا معاشرہ ہے یا عورتوں کا؟ پاکستان میں عورتوں کی تعداد تقریبا 52فیصد اور مرد تقریبا 48فیصد ہے اور اگر مرد کم ہیں تو لازمی ان کی ہی بات ہو گی (ویسے آپس کی بات ہے کہ اس وقت بیگم بچوں کے ساتھ مصروف ہے اس لیے ایسا لکھ رہا ہوں، ورنہ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ میری داہنی پسلی میں کافی دنوں تک درد رہا تھا)۔
اِس سلسلے میں میری ایک محترم فیس بک دوست نے ایک پوسٹ لکھی جو اِس بات کی غمازی کرتی تھی کہ خواتین لکھاری صرف خواتین کے مسائل کو ہی اجاگر کرتی ہیں۔ اس پوسٹ کے ٹھیک ایک دن پہلے اُن سے ان کی ایک ویڈیو کے بارے میں بات ہو رہی تھی جو کہ انہوں نے اپنی وال پر چڑھائی تھی جس میں ہمارے بھائی یعنی اپنے مجازی خدا کے ساتھ نئے لانچ ہونے والے مکالمہ ویب ٹی وی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کر رہی تھیں لیکن دیکھیے میرے جیسے قنوطی شخص کو اس میں بھی مظلوم مرد ہی نظر آیا، میں نے پوچھا باجی ہمارے بھائی کو کھل کر سانس تو لینے دیتی آپ نے اُن کے شانے پر ایسے ہاتھ رکھا ہوا تھا جیسے ایک کمانڈر اپنے ماتحت کے شانے پر ہاتھ رکھ کر تقریر کر رہا ہو اور وہ بیچارہ کھل کر سانس بھی نہ لے سکے کہیں صاحب ناراض نہ ہو جائیں تو فورا شرما کر بولیں۔۔ اللہ آپ نے نوٹ کر لیا کہ میرا ہاتھ اُن کے کندھے پر تھا۔ اب بندہ کیا بتائے کہ جب بھی محفل میں بیگم ساتھ بیٹھی ہو یا کھڑی ہوں تو ان کی کہنی شریف ما بدولت کی پسلیوں کے ساتھ ہی لگی رہتی ہے۔ (ضرب شدید کے واسطے) ۔میرے دوست اور ہمسائے رانا صاحب اب کیا بتاؤں ان کے بارے میں الحمداللہ نہایت ہی اچھی طبعیت کے مالک اور اصولوں کے نہایت ہی پکے، ایک دن ان کی اپنی بیگم کے ساتھ کسی بات پر ان بن ہو گئی۔ہنستے بستے گھروں میں ہو ہی جاتی ہے، اب جیسے ہی بھائی غصہ میں گھر سے نکلنے لگے تو بھابھی نے چلاتے ہوے کہا اگر گھر میں گھسے تو ٹانگیں توڑ دوں گی اور بھیا ہمارے اتنے پکے کہ سارا دن باہر بیٹھے رہے وہ تو شام کو چند دوستوں نے بھابھی کی منت سماجت کی ورنہ بھائی نے تو جانے سے انکار ہی کر دیا تھا۔ 4 دن پہلے ہمارے محلے میں ایک شادی تھی اور تمام دوست بمعہ اہل و عیال مدعو تھے۔ واپسی پر میری بیگم نے میٹھے پان کی فرمائش کر دی میں نے مسز رانا سے بھی پان کی بابت پوچھا تو فوراََ بولیں نہیں نہیں اگر رانا صاحب کو پتہ چلا گیا تو ماریں گے، میں نے بڑی پریشانی میں رانا صاحب سے پوچھا کہ یار کیا معاملہ ہے؟ تو بولے یار ایک دفعہ پان کھا رہی تھی تو اسکے سفید سوٹ پر داغ پڑ گیا اسکو صاف کرنے کے چکر میں بلیچ لگائی تو سوٹ خراب ہوگیا جسکے نتیجہ میں بیگم نے قریب پڑا ہوا کپڑے دھونے والا ڈنڈا گھما کے مارا جو میں تو جھکائی دے کر بچا گیا لیکن بیگم کی کلائی مڑ گئی جس پر انہوں نے محلہ میں سہیلیوں کو بتایا کہ رانا صاحب نے پان کھانے پر غصہ سے میرا ہاتھ مروڑ دیا ہے۔
قریب بیٹھے ہوئے ہمارے گجر بادشاہ بولے بھیا میں تو ایک دن ڈوپٹہ غلط پیکو کروا آیا تھا گھر آتے ہی میرے بخیے ادھڑ گئے تھے۔ اب اگر میں بٹ صاحب جو پورے 28 دن اپنی بازو پر پلاسٹر چڑھائے پھرتے رہے، میاں صاحب اعوان صاحب یا اپنی کتھا بتانا شروع کروں تو کسی بھی ڈرامہ چینل پر چلنے والے سوپ ڈرامہ کی 2000 اقساط ختم ہو جائیں لیکن میری باتیں نہیں لیکن اگر آپ کسی خاتون سے پوچھ لیں وہ فرمائیں گی میں تو ہر بات مانتی ہوں بس ذرا کمانڈنگ طبعیت پائی ہے اور مرد کہے گا یار کبھی اسکی مان لیتا ہوں کبھی وہ اپنی منوا لیتی ہے لیکن ہمارے ایک دوست ہیں سندھو صاحب۔۔ واہ کیا کہنے ان کے گٹھاہوا کسرتی بدن، نکلتا ہوا سرو قد اپنے زمانے میں کبڈی کے کھلاڑی اور وہ بھی جاپھی، داڑھی مونچھ ایسے گھبرو جوان جیسے واہگہ بارڈر کے محافظ جوان۔ ایک دن ان سے پوچھا سندھو صاحب آپ اتنے رعب والے ہیں، بھابھی کیسے گزارہ کرتی ہوں گی؟ بولے یار عورت ذات ہے میں ہاتھ ہو لا رکھتا ہوں اور میں نے کاموں کی لسٹ بنا کر دی ہے کہ یہ تمہارے ذمہ اور یہ میرے ذمہ اس میں انیس بیس کا فرق نہیں پڑتا اس لیے زندگی بہت اچھی گزر رہی ہے، ہم دوستوں نے رشک سے سندھو صاحب کی جانب دیکھا اور مننماتے ہوئے بولے کہ کچھ ہمیں بھی سیدھی راہ دکھائیں تاکہ سکھی ہوں۔ گویا ہوئے دیکھو یار،صبح اٹھ کر بچوں کو ناشتہ اور سکول کے لیے تیار کروانا سکول چھوڑنا میری ذمہ داری ہے اور اس کام میں بیگم کی مداخلت بالکل پسند نہیں واپسی پر بیگم کے ساتھ ناشتہ کرنا اور دفتر جانے سے پہلے دن بھر کے کاموں کی تفصیل بتا دیتا ہوں، واپسی پر گندے برتن سلیقہ سے سنک کے پاس اور کپڑے مشین کے پاس ہوتے ہیں اس سے فارغ ہو کر رات کا کھانا بناتا ہوں کیوں کہ بچوں کو ماں کے ہاتھ کا پکا بالکل پسند نہیں ہے، کپڑے برتن دھونے کے بعد محال ہے کہ میں سوکھے برتن و کپڑے الماری میں رکھ دوں یہ تمہاری بھابھی کی ذمہ داری ہے، ہم نے کام بانٹ رکھے ہیں، پکاتا میں ہوں کھاتی وہ ہے۔ برتن اٹھاتی وہ ہے دھوتا میں ہوں۔ کپڑے میں دھوتا ہوں سکھاتی وہ ہے۔ استری میں کرتا ہوں پہنتی وہ ہے اور میرے منہ سے اتنا ہی نکلا لکھ دی لعنت اے۔۔۔لیکن آج دوپہر ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے میرے دل کو سکون سا دیا، وہ یہ کہ میرا چھوٹا بیٹا جو بمشکل اڑھائی سال کا ہے ایک عدد کرسی کھینچ کر باورچی خانہ میں لایا اور سنک کے پاس اس پر کھڑا ہو کر برتن دھو رہا تھا۔ الحمداللہ دل باغ باغ ہو گیا کہ بچے نے ابھی سے پریکٹس شروع کر دی ہے اور مستقبل میں میرا نام روشن کرے گا۔۔۔رن مریدی میں!

SHOPPING

حسام دُرانی
حسام دُرانی
A Frozen Flame

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *