مسیحا

شاہ زیب والدین کی اکلوتی اولاد تھا، ہونہار لائق اساتذہ کا نورِ نظر، میٹرک اچھے نمبروں کے ساتھ پاس کیا تو یونس صاحب نے بیٹے کی اعلیٰ تعلیم کی خاطر شہر ہجرت کرنے کا سوچا، گاؤں کی زمین چھوٹے بھائی کو ٹھیکے پر دی، آئندہ پانچ سال کی رقم پیشگی وصولی اور شہر میں اپنا گھر خرید لیا۔ شاہ زیب کو کالج میں داخلہ دلا کر خود ضلع کچہری میں عرضی نویسی کا کام شروع کر دیا ۔ سفید پوشی میں وقت گزر رہا تھا کہ ایک دن یونس صاحب کو دل کا دورہ پڑا اور ہسپتال لیجاتے ہوئے راستے میں ہی خالق حقیقی سے جاملے ۔بڑے بھائی کا کفن میلا بھی نہ ہوا کہ گاؤں کے ایک جاننے والے نے مژدہ سنایا کہ چھوٹے بھائی یحییٰ نے جعلی کاغذات بنوا کر زمین پر قبضہ کر لیا ہے۔ اصل کاغذات بھی شاہ زیب کے چچا یحییٰ کے پاس ہی تھے ، شاہ زیب چھوٹا تھا اور خالی ہاتھ زمین کے قبضہ کی جنگ لڑنا اس کے بس کی بات نہ تھی چناچہ عذرہ بیگم اسے تقدیر کا لکھا سمجھ کر خاموش ہو گئیں ۔ حالات کی ستم ظریفی کہ شاہ زیب تعلیم جاری نہ رکھ سکا اور مجبوراً گھر کے ہی ایک کونے میں چھوٹی سی کریانے کی دکان بنا ، عذرہ بیگم نے کپڑے سلائی کا کام شروع کر دیا ساتھ بچیوں کو بھی سکھانے لگیں۔ کہتے ہیں وقت سے بڑا کوئی مرہم نہیں۔۔ یہ بڑے سے بڑے زخموں کو مندمل کر دیتاہے، دکان بھی چل نکلی شاہ زیب سمجھدار تھا اس لیئے جلد ہی کاروبارکے اسرار و رموز سیکھ گیا ۔اب اس کی ماں کو اس کے سر پر سہرہ سجانے کا ارمان تھا، وقت نے کروٹ لی اور عذرا بیگم لبنیٰ کو بہو بنا کر اپنے گھر لے آئیں۔ چند دن گزرے کہ عذرہ بیگم کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی، بھاگم بھاگ ہسپتال لیجایا گیا ٹیسٹ کروانے پر پتہ چلا کہ انہیں برین ٹیومر ہے۔ روزانہ ہزاروں روپے کی دوائیاں اور ہسپتال کے اخراجات الگ۔۔جمع پونجی شادی پر لگ چکی تھی کام ٹھپ ہو کر رہ گیا، پیسہ پانی کی طرح بہانے کے باوجود عذرہ بیگم کی طبیعت میں رتی برابر افاقہ نہ ہوا ۔آخر مکان تک بیچنے کی نوبت آن پہنچی۔ شاہ زیب کی بیوی ساس اور شوہر کی پریشانی محسوس کر رہی تھی اس لیئے ایک نتیجے پر پہنچ کر اس نے اپنا تمام زیورشوہر کے حوالے کر دیا۔۔۔شاہ زیب نے متشکرانہ نظروں سے اپنی وفادار بیوی کو دیکھا اور زیور بیچنے چل پڑا، تا کہ سر پر موجود چھت بیچنے سے بچا جا سکے۔عذرہ بیگم ابھی بھی ڈاکٹروں کی نگرانی میں تھیں۔۔۔زیور بیچ کر حاصل کیا گیا پیشہ بھی کب تک ہاتھ میں رہتا آخر ختم ہو گیا۔۔۔۔شاہ زیب انہی سوچوں میں غلطاں و پیچاں دوائیاں ہاتھ میں پکڑے ہسپتال کے گیٹ پر پہنچا تو سامنے ہی اس کی بیوی لبنیٰ کسی شخص سے بات کر رہی تھی۔۔شوہر کو دیکھ کر اس نے تعارف کروایا۔۔ شاہ زیب یہ کامران ہے کالج میں ہم ساتھ پڑھتے تھے، میں نے کسی وجہ سے کالج چھوڑ دیا تھا اور یہ ایم بی بی ایس کررہا ہے یہاں ہاؤس جاب کرنے آیا ہے ۔
شاہ زیب ہاتھ ملاتے ہوئے معذرت خواہانہ انداز میں گویا ہوا کہ معاف کیجئے گا آپ کی کوئی خاطر مدارت نہیں کر سکتا اس وقت۔۔کامران نے پرخلوص لہجے میں جوب دیا کہ ایسی کوئی بات نہیں ، یہ بتائیے آپ یہاں کس سلسلے میں آئے ہیں ؟
شاہ زیب نے بتایا کہ یہاں آئی سی یو میں میری والدہ ایڈمٹ ہیں۔ انہیں برین ٹیومر ہے۔
عذرہ نام کی خاتون ؟ کامران نے پوچھا۔۔۔
جی جی وہ میری والدہ ہیں، شاہزیب نے جواب دیا
اور یہ دوائیا ں کس لیے؟ اور کب سے آپ دوائیاں لا رہے ہیں؟ کامران نے پوچھا
وہ تو جب سے ہم آئے ہیں مسلسل ہی منگوا رہے ہیں،
کیا بات کر رہے ہو ؟
کیوں کیا ہوا ؟
ارے ان کا تو صبح نو بجے جب میں راؤنڈ پر آیا اسی وقت انتقال ہو گیا تھا !!!

مدثر ظفر
مدثر ظفر
فلیش فکشن رائٹر ، بلاگر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *