نظریہ اور قوم

نظریہ کسی قوم کی اساس ہوتا ہے ۔ اساس کو اگر میں سانس کہوں تو بے جا نہ ہو گا۔کیوں کہ اساس مضبوط نہ ہو تو کوئی عمارت قائم نہیں رہتی ،بعینہ جیسے سانس نہ ہوتو زندگی قائم نہیں رہتی ۔ یہ نظریہ ہی تو ہے جس کے پرچار کی خاطر قوموں نے کیا کیا گل کھلائے ہیں ۔ صلیبی جنگوں کا محور ملکوں پر قبضہ ہی نہیں تھا بلکہ صلیبیوں کے نظریے کا پرچار تھا۔ فرعون اور ہامان جیسے لوگوں نے ہزاروں بے گناہوں کو سیخوں پے چڑھا دیا تو مقصد صرف اپنے نظریے کا فروغ تھا ۔ برِصغیر پر انگریز قبضہ جمانے آئے تو صرف قبضہ ہی نہیں بلکہ نظریے کو فروغ دینے کی ہر ممکن کوشش کی جس کے اثرات ہمیں جگہ جگہ نظر آتے رہتے ہیں ۔ روس نے اگر افغانستان اور دیگر ممالک پہ حملہ کیا تو محور یہی نظریہ ہی تھا ۔ امریکا آیا تو یہی نظریہ پیشِ نظر تھا ۔
آج ہم نے دیکھنا یہ ہے کہ آخر یہ نظریہ ہے کیا کہ جس کی خاطر قوموں نے جان و مال داؤ پر لگا دیا اور اس نظریے کا فروغ چاہا۔ نظریے کے بغیر کوئی نظام اس جہان فانی میں باقی نہیں رہ سکتا ،اسی لیے ہر قوم نے اپنا ایک نظریہ بنایا ہوا ہے جس پر وہ قوم قائم ہے ۔ نہ صرف وہ قوم خود قائم ہے بلکہ دوسری قوموں کو بھی اس نظریے کا قائل بنانا چاہا۔ عیسائیت ہو یا یہودیت ،ہندو ازم ہو یا کوئی بھی مذہب ہو ہر مذہب کا اپنا ایک نظریہ ہے ۔ وہ نظریہ خواہ باطل ہی کیوں نہ ہو لیکن اس نظریے کو ماننے والے اس کا فروغ ہر صورت چاہتے ہیں ۔
اسلام کا بھی ایک نظریہ ہے ۔ یہ نظریہ انتہائی پاکیزہ اور اللہ وحدہ لا شریک کی طرف سے عطا کردہ ہے ۔ اسلامی نظریہ ایسا نظریہ ہے کہ جس کے پرچار کی اجازت رب رحمٰن نے خود عطا کی ہے ۔ پاکستان بھی اسی نظریے پر قائم ہوا۔ جسے مجھ سمیت میری قوم کا ہر فرد جانتا ہے کہ وہ ہے “لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ”
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہر قوم اپنے باطل نظریات رکھنے کے باوجود ان پر ڈٹی ہوئی ہے لیکن آج کا مسلمان اپنا نظریہ کیوں بھولتا جا رہا ہے۔حالانکہ وہ ایک سچا اور حق نظریہ رکھنے والا ہے۔ اس سے یہ حق کس نے چھین لیا جو کہ تمام اقوام کے پاس موجود ہے ۔ میرے ملک کے باشندوں کی اپنے نظریے سے نا آشنائی کیوں ؟ آج کے نوجوان کو وطنِ عزیز کے قائم ہونے کی وجہ بھی شاید معلوم نہ ہو ۔ شاید وہ یہ نہیں جانتا کہ پاکستان ایک نظریے کے تحت وجود میں آیا نہ کہ صرف زمین کا ٹکڑا حاصل کیا گیا ۔ میں نے پہلے ہی بات ذکر کی ہے کہ نظریے کے بغیر کسی قوم کا وجود ممکن نہیں ہے ۔ نظریہ ایک سانس ہے جو رہے تو قوم زندہ رہتی ہے ورنہ قصہ پارینہ بن جاتی ہے ۔ نظریے سے دوری ملک و ملت کو اپنے ہاتھوں آگ لگانے کے مترادف ہے۔ نظریے کو بھول جانا تو ایسے ہے کہ کوئی شخص پہلے اپنا آشیانہ تعمیر کرے تو پھر خود ہی اس کو آگ لگا کر راکھ کر دے ۔
غیر ملکی طاقتیں مسلسل پاکستانیوں کو ان کے نظریے سے دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں ۔ نصابوں میں سے نظریہ پاکستان اور نظریہ اسلام ختم کرنے کا پلان ہے ۔ یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے؟ کیوں کہ وہ جانتےہیں کہ نظریہ ہی سب کچھ ہے اور اگر یہ نظریہ پاکستانیوں کے پاس نہ رہا تو یہ جلد ختم ہو جائیں گے اور قصہ پارینہ بن جائیں گے ۔ پاکستانیو! اگر ملک کا دفاع چاہتے ہو اور اگر ملک کی بقا ء چاہتے ہو تو اپنے نظریے پر ڈٹے رہو ورنہ خواب ہو جاؤ گے اور افسانوں میں ڈھل جاؤ گے ۔
؎ اپنےمرکز سے اگر دور نکل جاؤگے
خواب ہو جاؤ گے افسانوں میں ڈھل جاؤ گے

Avatar
نعیم الرحمان
کم عمر ترین لکھاری ہیں۔ روزنامہ تحریک کے لیے مستقل لکھتے ہیں ۔ اور سب سے بڑھ کر ایک طالب علم ہیں ۔ اصلاح کی غرض سے لکھتے ہیں ۔ اسلامی نظریے کو فروغ دینا مقصد ہے ۔ آزادی کو پسند کرتے ہیں لیکن حدود اسلامی کے اندر۔ لبرل ازم اور سیکولرزم سے نفرت رکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *