مجھے آج تک پتا نہ چلا ، میں کون ہوں ؟۔۔۔راجندر سنگھ بیدی

شاید اس سے کوئی یہ مطلب اخذ کرے کہ میں عجز وانکسار کا اظہار کر رہا ہوں ، تو یہ نا درست ہو گا۔ عین ممکن ہے کہ جو آدمی کسی دوسرے کے آگے نہیں جھکتا ، یا کسی خاص مدرسۂ فکر و خیال یا مذہب یا ’’ازم ‘‘کی پیروی نہیں کرتا ، عجز کا حامل ہو اور وہ شخص جو بہت ہاتھ جوڑتا ہے ،جھک جھک کر بات کرتا ہے ، انا کا بد ترین نمونہ —

بلکہ بہت انکسار کا اظہار کرنے والا شاید زیادہ خطرناک انسان ہوتا ہے۔

اَپرا ہدی دونا نِویں ، جیوں ہنستاں مرگانہہ

گرنتھ صاحب

اَپرا ہدی دُگنا جھکتا ہے ، جیسے ہرن کو مارنے کے لیے شکاری !

میں جانتا ہوں ، میں عام طور پر ایک سادہ اور منکسرالمزاج آدمی ہوں ، لیکن مجھ پر ایسے لمحے آتے ہیں ، بادی النظر سے دیکھنے والا جسے میری انا سے تعبیر کر سکتا ہے۔وہ لمحے اُس وقت آتے ہیں جب میں کوئی ادبی چیز لکھنے کے لیے بیٹھوں۔ مضمون میرے ذہن میں ہو۔ بات نئی اور مختلف اور مجھے اسے کہنے کے انداز پر ایک اندرونی طاقت اور صحت کا احساس ہو۔جب معلوم ہوتا ہے،میں اپنے آپ کو ایک غیر شخصی حیثیت سے دیکھ رہا ہوں — ہٹ جاؤ ، میں آ رہا ہوں ، با ادب با ملاحظہ ہوشیار یا …ساودھان ، راج راجیشور ،چکرورتی سمراٹ …رنگ بھومی میں پدھارتے ہیں …

چونکہ ایسے احساس کے بغیر لکھنا سہل نہیں ،اس لیے میری یہ لمحاتی انا انکسار سے دور کی بات نہیں۔ اس وقت کاغذ اور میرے در میان کوئی نہیں ہوتا۔ اس لیے کسی کو اس سے فرق نہیں پڑتا۔ اپنے گھر بیٹھ کر کوئی اپنے آپ کو کالی داس یا شیکسپیٔرسمجھ لے ، اس سے کسی کا کیا جاتا ہے ؟البتّہ لکھ لینے اور پبلشر کے پاس پہنچنے تک بھی وہ اپنے آپ کو عظیم سمجھتا رہے تو بڑا احمق آدمی ہے۔ اول تو کاغذ پر نزول ہوتے ہی اپنی اوقات کا پتا چل جاتا ہے، اور جو نہ چلے تو دوست بتا دیتے ہیں اور جو زیادہ بے عزّتی کرنا چاہیں تو بتاتے بھی نہیں۔

ہاں ، تو میں کون ہوں ؟

عام طور پر یہی پوچھا جاتا ہے کہ فلاں آدمی کون ہے ؟ یا کیا ہے ؟ — مطلب یہ کہ کیا کام کرتا ہے ؟ یہ دو سوال میرے سلسلے میں غیر ضروری ہیں کیونکہ چند لوگ مجھے جانتے ہیں۔ کیا کام کرتا ہوں ؟اس سے بھی واقف ہیں۔ بھلا ہو فلموں کا ،جنھوں نے مجھے رسوا کر دیا۔ یہ دنیا اشتہاروں کی دنیا ہے۔ مشتہر انسان کی طرف لوگ آنکھیں پھیلا کے دیکھتے ہیں لیکن مشتہر آدمی کو اپنے جانے پہچانے ہو نے کی جو قیمت ادا کرنی پڑتی ہے ، اس سے عام آدمی واقف نہیں اور اس لیے شہرت کی تمنّا کیا کرتے ہیں۔ میں تو کچھ بھی نہیں۔ ہماری فلموں کے ہیرو لوگوں سے پوچھیے۔ کیا وہ اپنی زندگی کا ایک بھی لمحہ فطری طریقے سے گذ ار سکتے ہیں ؟ وہ گھر میں ہوں تو بیوی کے لیے بھی ہیرو بننے کی کوشش کیا کرتے ہیں ، جو کہ ان کی رگ رگ پہچانتی ہے اور مسکراتے ہوئے کہتی ہے

بہر رنگِ کہ خواہی جامہ می پوش

من اندازِ قدت را می شناسم

اپنے آپ کو دیکھتا ہوں تو مجھے وہ کتّا یاد آتا ہے (میں پھر انکسار کا اظہار نہیں کر رہا ) جسے ایک ڈائریکٹر نے اپنی ایک فلم میں لیا۔ کتا فلم کے تسلسل میں آ گیا۔ یعنی سین نمبر بارہ میں آیا تو سین نمبر اکیاون میں بھی اس کی ضرورت تھی۔ اور وہ سین چھ مہینے کے بعد لینا تھی۔ بے چارہ اچھا بھلا کتا تھا۔بازار میں گھومتا ، کوڑے کے ڈھیر یا اِدھر اُدھر ہر جگہ کھانے کی کسی چیز کی تلاش میں سر دھنتا تھا، لیکن فلم میں آ جانے کے بعد وہ ایک معیّن تجارتی چیز ، ایک جنس بن گیا جو بک سکتی تھی ، جس کا بھاؤ تاؤ ہو سکتا تھا۔ اس لیے ڈائریکٹر صاحب نے اسے باندھ کر رکھ لیا۔ اب بیچارے کو دن میں تین چار وقت کھانا پڑتا تھا۔ سونے کے لیے گدّے استعمال کرنے پڑتے۔ زکام لگنے پہ سلوتری کو بلوایا جاتا تھا۔ اور ہر آدمی کے آنے پر کتّا زور زور سے دُم ہلاتا۔ وہ انسان کو فرشتہ سمجھنے لگا۔ یعنی جتنا کہ کتا شیطان اور فرشتے کے درمیان تمیز کر سکتا ہے۔ چنانچہ فلم بنتی رہی اور کتا صاحب موج اُڑاتے رہے۔ اُدھر فلم ختم ہوئی’ اِدھر انھیں ‘آزاد ’کر دیا گیا۔ لیکن اب کوڑے کر کٹ کے ڈھیر سے روزی کُریدنے کی اسے عادت نہ رہی تھی۔وہ با ر بار گھوم پھر کے وہیں پہنچ جاتا اور پہلے سے زیادہ زور سے دُم ہلاتا، جس کے جواب میں اُسے ٹھوکر ملتی۔ اور چوں چوں کرتا ہوا وہ وہاں سے بھاگ جاتا۔ لیکن پھر گھوم کر وہیں …وہی حیرانی ، وہی کشت ،وہی گالی — یہ ڈائریکٹر کتّا نہیں — کوئی انسان ہے !

یہ اس آدمی کی حالت ہے،جو شہر ت میں بہک جاتا ہو۔ یا زندگی میں کسی مرتبے، مقام کا بھوکا ہو۔ پیسے چاہتا ہو جس سے وہ ہر چیز کو خرید نے کی طاقت حاصل کر سکے۔ قانون ، مذہب ، سیاست سب کو جیب میں ڈال لے۔لولِتا کے ہیرو کی طرح کسی نفسیاتی اُلجھن کا شکار ہو جائے ، مزے اُڑائے۔ اور لوگ داد دیں — ’’بڑے لوگوں کے چونچلے ہیں !‘‘شہرت ، مرتبہ ، مقام ، پیسا ایسی خطرناک چیزیں ہیں کہ انھیں حاصل کر نے کے بعد ہر شریف آدمی ان کا تیاگ کر نا چاہتا ہے لیکن ‘میں تو کمبل کو چھوڑتا ہوں ‘ کمبل مجھے نہیں چھوڑتا‘ کی طرح یہ چیزیں اس کا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔ یہ بھی محل نظر ہے کہ وہ شخص خالی خولی باتیں کرتا ہے یا واقعی ان چیزوں کو چھوڑنا بھی چاہتا ہے ؟

ایک دفعہ کا ذکر ہے ، میرے ایک چاہنے والے ،میرے مدّاح مجھے مل گئے۔ انھوں نے میری کچھ کہانیاں پڑھی تھیں۔ وہ ان بزرگوں میں سے تھے جو زندگی کا راز جانتے ہیں۔ تھوڑی دیر اِدھر اُدھر کی باتیں کر نے کے بعد وہ سیدھے مطلب پر آ گئے —

’’بیدی صاحب …آپ بہت بڑے آدمی ہیں۔‘‘

’’جی ؟‘‘میں نے کچھ گھبراتے ہوئے کہا ’’میں جی (پنجابی انداز)‘‘۔’’جی، میں تو کچھ بھی نہیں۔‘‘

— اور جب انھوں نے مجھ سے اتفاق کیا تو مجھے بڑا غصّہ آیا !

میں کون ہوں ؟کیا ہوں ؟ کے سوال تو ختم ہوئے۔ در اصل یہ سوال مجھ پہ لا گو ہی نہیں ہوتے۔ میں تو اُن لوگوں میں سے ہوں ،جن سے پوچھنا چاہیے — ’’آپ ،کیوں ہیں ؟— یعنی کہ آخر — کیوں ؟‘‘

یہ بھی میں نہیں جانتا!

واقعی دنیا میں کروڑوں انسان روز پیدا ہوتے ہیں۔ ان سب میں سے ایک میں بھی ایک دن ایکا ایکی پیدا ہو گیا۔ ماں کو خوشی ہوئی ہو گی ،باپ کو ہوئی ہو گی۔ لیکن دائیں ہاتھ کے پڑوسی کو پتا بھی نہ تھا اور پڑوسی کو پتا ہونا کوئی اچھی بات بھی نہیں۔وہ ضرور مبارک باد دینے کے لیے آیا ہو گا لیکن رسمی طور پر۔ میرے پیدا ہو جانے سے اسے کیا خوشی ہو سکتی تھی ؟اُلٹا اس تجارتی دنیا میں اس کے لڑکے پنّا لال کا مدّمقابل پیدا ہو گیا۔ اس کا حریف۔ اس کی پیدا ہونے والی لڑکی کے لیے خواہ مخواہ کا خطرہ …تو گویا ایک قاعدہ بنا ہوا ہے کہ راجندر سنگھ بیدی پیدا ہو تو مبارک باد دو۔ چوہڑ سنگھ ہو تو بدھائی دو۔ ڈھلّو رام یا چمنّے خاں آ جائیں تو خوشی مناؤ ،ڈھول بجاؤ۔

ٹیگور کہتے ہیں ، دنیا میں ہر روز جو اتنے انسان پیدا ہو جاتے ہیں ، اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا ابھی انسان بنانے سے نہیں تھکا۔ خدا کی کتنی ستم ظریفی ہے۔ چونکہ وہ تھک نہیں سکتا، اس لیے انسان بناتا جا رہا ہے !

بیکار مباش کچھ کیا کر

پاجامہ اُدھیڑ کر سیا کر

چنانچہ خدا کے پاجامے کا آخری ٹانکا یعنی یکم ستمبر 1915کی سویر کو لاہور میں 3بج کر 47منٹ پر ،صرف مہا کوی ٹیگور کو ثبوت مہیا کر نے کے لیے پیدا ہو گیا …رام اور رحیم انسان کی طرح بھول گئے کہ یہ دنیا دُکھ کا گھر ہے۔ورنہ اس دنیا میں مجھے بھیجنا رحمت کی بات تھی ؟بلکہ شاستروں کے مطابق کوئی بدلا لینے کی۔کوئی کرم پچھلے جنم میں کیے ہوں گے جنھیں خدا کی رحمت بھی معاف کر نے کی قدرت نہ رکھتی تھی۔

جیسے ہر ماں باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ ہمارا بیٹا بڑا ہو، تو کلکٹر بنے ،ایسے ہی میرے ماں باپ کی خواہش تھی۔ان بیچاروں کا کیا قصور ؟ان کی سوچ ہی کلکٹر تک محدود تھی۔انھیں کیا معلوم کوئی ایسا بھی ہو سکتا ہے جس کے سامنے کلکٹر پانی بھریں۔ جیسے سیدھا سادا ایک جاٹ ما لگذاری کے سلسلے میں تحصیلدار کے سامنے پیش ہوا تو تحصیلدار صاحب نے جاٹ کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ جاٹ نے بہت خوش ہو کر دعا دی — — — ’’خدا کرے تحصیلدار صاحب،آپ ایک دن پٹواری بنیں ……‘‘

کمپیٹیشن کی اس دنیا میں لوگ بڑے بڑے حوالے دیتے ہیں۔ایک ایسی سازش ہوتی ہے ،عام آدمی فوراً جس کا شکار ہو جا تا ہے۔مثلاً لوگ کہتے ہیں — لنکِن لاگ کیبن میں پیدا ہوا اور اسٹیٹس کا پر یذیڈنٹ بنا۔لاگ کیبن سے پریذیڈنٹ کی روایت کا ذکر کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ کتنے لوگ ہیں جو جھونپڑی سے راج بھون تک پہنچے۔اس دھوکے، اس سازش کے شکار ہو کر لاکھوں ، کروڑوں سر پٹختے مر جاتے ہیں اور پھر

اجل ہے لاکھوں ستاروں کی اک ولادتِ مہر

اس کے بعد بھی آپ خدائی اور خلقت سے نا انصافی کرنا چاہیں تو آپ کی مرضی۔

میں ایک بیمار بچہ تھا۔ ایک بیما ر ماں کا بیٹا۔میں نے تپ محرقہ میں وہ غیر مشتکل ہچکولے دیکھے ہیں جن کا مرکز مریض خود ہوتا ہے اور اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے زندگی کے گو پھیے میں ڈال کر اسے بار بار دور ،کسی موت کے اُفق سے پار پھینکا جا رہا ہے۔میں نے سرہانے میں آنکھیں دبا کر ،ایک دوسرے میں گڈگڈ ہوتے ہوئے وہ ہزاروں رنگ دیکھے ہیں ، جو کسی عکس کی زد میں نہیں آتے اور طیّب جن کا تجزیہ کرنے سے قاصر ہے ،قوسِ قزح جن کی حد باندھنے سے عاری۔ وہ آنسو روئے ہیں جو نمکین تھے اور نہ میٹھے۔ جو کسی ذائقے کی قید میں نہیں آتے۔ اور جسے پیار کرنے والے ماں باپ ،بھائی اور بہن یا محبوبہ نہیں پونچھ سکتی۔سیکڑوں بار میں کسی لق و دق ویرانے میں اکیلا رہ گیا ہوں اور ایکا ایکی ڈر کی پوری شدّت کے ساتھ مجھے محسوس ہوا کہ کروڑوں یوجنوں تک میرے پاس کوئی نہیں ، میں بھی نہیں …

بیسیوں بار میں نے انگلستان کا وہ بازار دیکھا ہے ،یا بنارس کا وہ گھاٹ جہاں پچھلے جنموں میں میں پیدا ہوا تھا …گنگا طغیانی کے بعد ہٹ گئی ہے اور کناروں کے قریب سرخی اور زردی سے ملی جلی مٹی کے بیچ ہزاروں لاکھوں چھوٹی چھوٹی ندیاں چھوڑ گئی ہے۔ جہاں پیر پڑتا ہے تو ایک ندی اور بہہ نکلتی ہے …اور وہاں آٹھ نو برس کا ایک سیاہ فام بچّہ،ننگا، کمر میں سیاہ تاگا باندھے ، سر پر چوٹی رکھے کھڑا ہے اور وہ — میں ہوں …

اس سے پہلے کہ میں بڑا ہو کر اپنی نسوں کو بدکاری اور کاروباری حادثات میں تباہ کر لیتا ،میرے اعصاب ختم ہو چکے تھے۔ذرا اسی بات پر ناراض ،ذرا اسی بات پر ریں ریں روں روں …ماں جھلّا کر مجھے دور پھینک دیتی تھی کیونکہ میں اس کی بیمار چھاتی تک چچوڑ ڈالتا تھا … ماں ،تم ہو نہ ہو ، مجھے میرا دودھ دے دو۔میں آج تک پکار رہا ہوں — ماں !مجھے میرا دودھ دے دو۔اور ماں کہیں نہیں ہے … اس کا مطلب جانتے ہیں ؟— ماں کہیں نہیں ہے۔ ہاں تو ،ایک بار پھینک دینے کے بعد اتھاہ ماد ریت کے عالم میں ، ماں مجھے پھر اٹھا لیتی تھی۔وہ نہیں جانتی تھی، مجھے رکھے یا پھینک دے …

میں کئی بار مرا اور کئی بار زندہ ہوا۔ ہر چیز کو دیکھ کر حیران ،ہر سانحے کے بعد پریشان۔میری حیرانی کی کوئی حد نہیں تھی۔پریشانی کی کوئی انتہا نہیں۔ جیسا کہ بعد میں پتا چلا، جیوتش لگوائے گئے۔ جیوتش نے کہا۔لگن میں کیتو ہے اور بر ہسپت اپنے گھر سے بُدھ پر درشٹی ڈالتا ہے۔یہ بالک کوئی بہت بڑا کلاکار بنے گا۔ لیکن چونکہ شنی کی درشٹی بھی ہے ،اس لیے اسے نام مرنے کے بعد ملے گا… سوریہ سوگریہ ہے ، دھن اور لابھ استھان میں پڑا ہے۔اور اسی گھر میں شکر ہے، جسے سوریہ نے اپنے تیج سے اِستھر کر دیا ہے۔چونکہ شنی شکر کو دیکھتا ہے اس لیے اس کے جیون میں بیسیوں عورتیں آئیں گی۔شنی اور شکر کا یہ میل شاید اسے کوٹھے پر بھی لے جائے ،لیکن بر ہسپتی گھر کا ہونے کے کارن کبھی بدنامی نہیں ہو گی — لیجیے !

…پھر منگل بھی سنیچر کے ساتھ پڑا ہے۔اگر دونوں ایک دوسرے کو کاٹتے ہیں لیکن پھر بھی منگل منگل ہے ،اثر تو کر ے گا ہی۔کام چلتے چلتے ایک دم رک جائیں گے۔خاص طور پر اُن دنوں جب کہ بر ہسپتی وکریہ ہو گا۔ دسویں گھر میں ر اہو ہے جسے منگل دیکھتا ہے، اس لیے پتنی ہمیشہ بیمار رہے گی۔گویا میرے باپ کی بیوی بیمار ،دائم المرض اور میری بیوی بھی …پورے خاندان کو شراپ لگا تھا !

چنانچہ آج تک میں نے ایک بیوی کی زندگی تباہ کرنے اور چند بچوں کا مستقبل خراب کرنے کے علاوہ کوئی اُپجاؤ کام کیا ہے تو یہی صفحے کالے کرنا ،کچھ کتابیں لکھ ڈالنا اور پھر خود ہی اُن کو خریدنے کے لیے چل دینا۔

— — — — — — — — —

میری ماں براہمن تھیں اور میرے پتا کھشتری۔اس زمانے میں اس قسم کی شادی گریٹنا گرین میں بھی نہ ہو سکتی تھی، لیکن ہو گئی۔ میرے ماں باپ ایک دوسرے کے جذبات اور خیالات کا بہت احترام کیا کرتے تھے۔اس لیے گھر میں ایک طرف گرنتھ صاحب پڑھا جاتا تھا تو دوسری طرف گیتا کا پاٹھ ہوتا تھا۔ پہلی کہانیاں جو بچپن میں سنیں ،جنّ اور پری کی داستانیں نہ تھیں ،بلکہ مہاتم تھے جو گیتا کے ہرا دھیائے کے بعد ہوتے ہیں اور جو بڑی شردھا کے ساتھ ہم ماں کے پاس بیٹھ کر سناکرتے تھے۔چند باتیں جو سمجھ میں آ جاتی تھیں جیسے راجا …برہمن …پشاچ…لیکن ، ایک بات —

’’ماں !یہ گنِکا کیا ہوتی ہے ؟‘‘

’’ہوتی ہے ،آرام سے بیٹھو۔‘‘

’’اُوہوں ،بتاؤ نا— گنکا…‘‘

’’چپ‘‘

— اور پھر وہ دَیا جو ماں ہی کو آسکتی ہے، جب وہ اپنے بچّے کے چہرے کو ایکا ایکی کمھلاتے ہوئے دیکھتی ہے —

’’گِنکا بُری عورت کو کہتے ہیں۔‘‘

’’تم تو اچھی ہو نا ،ماں ؟‘‘

’’ماں ہمیشہ اچھی ہوتی ہے …کسی کی بھی ہو ؟‘‘

’’تو پھر بُری کون ہوتی ہے ؟‘‘

’’تو تو سر کھا گیا ہے ،راجے …بُری عورت وہ ہوتی ہے جو بہت سے مردوں کے ساتھ رہے۔‘‘

میں سمجھ گیا لیکن دوسرے دن مجھے بے شمار جوتے پڑے۔ہوا یہ کہ میں نے پڑوس میں سومتری کی ماں کو گِنکا کہہ دیا کیونکہ اس کے گھر میں دیور ، جیٹھ اور دوسرے انٹ سنٹ قسم کے کئی مرد رہتے تھے۔

چنانچہ میری باقی کی زندگی سب ایسی ہی ہے۔ اِدھر میں نے سوال کیا ،اُدھر زندگی نے کہا — ’’چُپ۔‘‘

اور جو کبھی جواب بھی دیا تو ایسا کہ میں اسے سمجھ ہی نہ سکوں۔اور سمجھ جاؤں تو جوتے پڑیں۔

میری جسمانی کمزوری ، نسوں کا اُلجھے ہونا ، میرے سوالوں کا جواب مناسب طور پر نہ دیے جانا ، یا جواب کی ماہیئت کا نہ سمجھنا، ایسی باتیں ہیں جو کسی بھی بچے میں احساسِ ذات پیدا کر سکتی ہیں اور وہ ضرورت سے زیادہ محسوس کرنے لگتا ہے ،حسّاس ہو نے لگتا ہے۔پھر زندگی میں سیدھے سادے اندھیرے کے علاوہ مہا شُونیہ بھی ہے — مقام ہُو …اور بیسیوں ڈر ہیں ،خطرے ہیں ، مایوسیاں جو دل میں ہر وقت لرزہ پیدا کیے رہتی ہیں۔جیسے بجلی کا موہوم اشارہ بھی ڈایا فرام میں جُھرجُھری پیدا کر دیتا ہے …باقی کی چیزیں واقعات اور تجربات ہیں ، جو ہر مصنّف کی زندگی میں آتے ہیں۔ وہ اُن سے سیکھتا ،اُن کا تجزیہ کرتا ہے اور پھر اسے کاغذ پر اتارنے کی کوشش۔

یوں جانیے کو پانچ برس کی عمر میں میں رامائن اور مہابھارت کی کہانیوں اور اُن کے کردار سے واقف ہو چکا تھا۔اب رامائن کتنی بڑی کتاب ہے۔ اس میں کتنے خوبصورت اور ایثار والے کردار آتے ہیں ، لیکن اس کی کیا وجہ کہ اب رامائن کے کرداروں میں مجھے سب سے زیادہ ہمدردی سگریو کے ساتھ ہوئی جس کا بڑا بھائی بالی ،اس کی بیوی تک کو اٹھا کر لے جاتا ہے اور وہ بیچارہ منھ اٹھا کر دیکھتا رہ جاتا ہے۔ اگر بھگوان رام ادھر نہ آ نکلتے تو سگریو بیچارہ لنڈورہ ہی رہ گیا تھا۔اسی طرح میری دلچسپی کا مرکز ،ایک کردار مہابھارت میں بھی آتا ہے — شکھنڈی ،مخنّث …جسے بیچ میں رکھ کر بھیشم پتامہ کو مارا جاتا ہے ، ورنہ وہ نہ مرتے ؟…آج تک زندہ نہ ہو تے۔

ماں کی بیماری کی وجہ سے میرے پتا بازار سے ایک پیسے روز کے کرایے پر کوئی نہ کوئی کتاب لے آیا کرتے تھے اور میری ماں کے پاس بیٹھ کر اسے سنایا کرتے۔میں پائینتی میں دبکا سنا کرتا۔ گویا اسکول کی عمر کے ساتھ ٹاڈ کے راجستھان اور شرلک ہومز کے کارناموں سے واقف ہو چکا تھا۔جو چیز اپنی سمجھ میں نہ آئی وہ تھی — مسڑیز آف دی کورٹ آف پیرس …مجھے صرف اتنا یاد ہے کہ وہ اسے بڑے مزے لے لے کر پڑھا کر تے تھے۔ اور میں حیران ہوتا تھا کہ فلاں آدمی کیوں ہر بار نئی عورت سے گڑبڑ کرتا ہے۔جب تک میں جان چکا تھا کہ عورتوں کے پیچھے پڑنا کوئی شرافت کی بات نہیں اور یہ کہ عورت بہت گندی چیز ہے …چنانچہ میں بے کیف ہو کر سو جاتا۔

اس کے بعد میرے چچا نے ایک اسٹیم پریس خرید لیا جو جہیز میں پانچ چھ ہزار کتابیں لایا۔ پرائمری سے مڈل تک پہنچتے پہنچتے میں نے وہ سب چٹ کر لیں۔ میں وہ سلور فش تھا جو ہر پرانی کتاب کے بیچ میں سے نکلتا ہے۔یا بُک مارک، جسے ہر معقول پبلشر نئی کتاب میں ڈال دیتا ہے۔ علمی طور پر میں قریب قریب ہر چیز سے واقف ہو چکا تھا لیکن عملی طور پر نہیں۔ علم اور عمل میں فاصلہ ہونے سے جو بھی تباہی ہو سکتی ہے ،وہ ہوئی۔ میں ہر تجربے کی سُولی پر مصلوب ہوا اور شاید میرے لیے ضروری بھی تھا …

زندگی کی ایسی بنیاد کو وضاحت سے بتا دینے کے بعد باقی کے حوادث کا ذکر فروعی ہے۔یہی نا کہ میڑک پاس کیا ،کالج میں داخل ہوئے۔انگریزی اور پنجابی میں شعر کہے۔اردو میں افسانے لکھے۔ماں چل بسیں۔ ڈاک خانے میں نوکر ہو گئے — شادی ہوئی ،بچّہ ہوا۔پتا چل بسے۔ بچّہ چل بسا۔نو سال ڈاک خانے میں ملازمت کی۔ریڈیو میں چلے گئے …بٹوارہ ہوا …قتل و غارت …لہوسے لتھڑے ہوئے بدن …ننگے ریل کی چھت پر دلّی پہنچنا …اسٹیشن ڈائریکٹر جموں ریڈیو اسٹیشن …ریاست کے جمہوری نظام ،سے لڑائی …پھر بمبئی …اچھی فلمیں ،بڑی فلمیں …کہیں کہیں بیچ میں افسانوں کی کوئی کتاب …پھر ہاتھ قلم کرتے رہے۔

لکھتے رہے جنوں کی حکایتِ خوں چکاں

ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

پھر کوئی معاشقہ …ایسے لمحے جو بُدھ پر بھی نہ آئے ،ایسے پل جنھیں راجا مل بھی نہ جی سکا… بیوی میں دلچسپی کا فقدان ، بیوی کی اپنے ساتھ محبت کا خاتمہ …وجہ ؟— ادھیڑ عمر کا سڑی پن۔ بڑے بیٹے کا مجھے کاروباری طور پر بیوقوف سمجھنا اور میرا اسے پیسے کا پجاری اور غیر ذمّہ دار …بھلا کوئی بات ہوئی ؟

میرے اعتقادات کیا ہیں ؟— کوئی نہیں۔میری امیدیں کیا ہیں ،اور مایوسیاں کیا— ؟ کوئی نہیں۔میں عقلمندی کی وجہ سے کسی عورت سے محبت نہیں کرتا اور وہ بیوقوفی کی وجہ سے مجھ سے نہیں کرتی۔اس لیے کہ میں حرص اور محبت کا فرق سمجھتا ہوں۔بغیر خواہش کے میری ایک ہی خواہش ہے کہ میں لکھوں۔پیسے کے لیے نہیں ،کسی پبلشر کے لیے نہیں۔میں بس لکھنا چاہتا ہوں۔ مجھے کسی دھرم گرنتھ کی ضرورت نہیں کیونکہ اُن متروک کتابوں سے اچھی میں خود لکھ سکتا ہوں۔ مجھے کسی گرو ، استاد ، کسی دیکشا کی تلاش نہیں ، کیونکہ ہر آدمی آپ ہی اپنا گرو ہو سکتا ہے ،اور آپ ہی چیلا۔ باقی دکانیں ہیں۔میں نے ہرے ہرے پتوں اور چنبیلی کے پھولوں سے باتیں کی ہیں اور ان سے جواب لیا ہے۔میں کاگ بھاشا جانتا ہوں۔میرا کتّا مجھے سمجھتا ہے اور میں اسے۔ مجھے کسی حقیقت، کسی موکش کی ضرورت نہیں۔ اگر بھگوان انسان کو بنانے کی حماقت کرتا ہے، تو میں انسان ہو کر بھگوان بناتے رہنے کی بیوقوفی کیوں کروں ؟اگر حقیقت کو میری ضرورت ہے تو میں سمجھتا ہوں ، وہ ماضی اور مستقبل سے بے نیاز ،مکمل سُکوت کے کسی لمحے میں مجھے اپنے آپ ڈھونڈلے گی۔ میں ایک سادے سے انسان کی طرح جینا چاہتا ہوں ،چاہنے کا مفہوم نکال کر۔ ایک ایسے مقام پر پہنچنے کی تمنّا رکھتا ہوں ، تمنا سے عاری ہوکر، جسے ہم عرفِ عام میں ’ سہج اوستھا ‘کہتے ہیں اور جو صرف جاننے کے بعد ہی آتی ہے !!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”مجھے آج تک پتا نہ چلا ، میں کون ہوں ؟۔۔۔راجندر سنگھ بیدی

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *