قائد کا خط پاکستان کے نام!

پیارے پاکستان!

تمھارا خط ملا۔۔پڑھ کر بہت پریشانی ہوئی۔۔تم میری اکلوتی اولادہو۔۔مجھے نہیں معلوم تھا میرے بعد تمھارے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے گا کہ تم مجھے خط لکھنے پر مجبور ہو جاؤ گے۔۔۔۔میرے بچے تمھیں وجود میں لانا اگرچہ میرے اکیلے کا کارنامہ نہیں۔۔اس میں گاڈ کی مرضی بھی شامل تھی لیکن تم نے ایک خواہش کی صورت برسوں میرے وجود میں نمو پائی۔۔میرے خیال کی رگوں سے خون سینچا، میر ی آنکھ کے ہر منظر میں جھلک دکھلائی،میری ہر سانس میں سانس ملائی۔۔۔اور کتنے خیر خواہ تمھارے منتظر تھے دن رات تمھارے انتظار میں دیدہ و دل فرشِ راہ کیے۔۔اگرچہ گاڈنے مرد کو عورت جیسی تخلیق کی صلاحیت نہیں دی،تم کسی کے بطن سے نہیں بلکہ میرے دل سے جنم لے کر حقیقت کے پردے پر آشکار ہوئے۔۔۔تم میری اکلوتی اولادہو۔۔۔اور تمھارا غم مجھ سے دیکھا نہیں جا رہا۔۔
تم نے بتایا کہ تم اب پہلے جیسے نہیں رہے۔۔
ہاہ۔۔۔تبدیلی آہی جاتی ہے،کوئی کب تک پہلی شکل میں باقی رہتا ہے، وہ تمھارا بچپن تھا لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ابھی تم جوان ہو لیکن خط کی تحریر تمھیں بسترِ مرگ پر پڑا بوڑھا ظاہر کر رہی ہے۔مجھے یاد ہے تمھاری پیدائش سے پہلے حالات کتنے خراب تھے،ہزاروں لوگ تمھارے خلاف تھے،لیکن جو تمھاے حق میں تھے انہوں نے تمھاری خاطر اپنی جانیں داؤ پر لگائیں،عزتیں گنوائیں،دولت لُٹوائی ، کچھ ایسے بزرگ بھی تھے جو تمھیں پھلتا پھولتا دیکھنے کے لیئے تندرست و توانا ہو گئے تھے، بچوں کو زیادہ کچھ معلوم نہ تھا سوائے اس کے کہ وہ اب تمھارے ساتھ رہیں گے۔۔اور میں۔۔۔میں ہر پل اسی کوشش میں سرگرداں کہ کب تم ایک الگ پہچان بنو گے اور ساری دنیا میں تمھارے نا م کا ڈنکہ بجے گا۔۔۔پر کیا کہوں۔۔۔دل دکھ سے بھر گیاہے۔۔ تم نے بتایا کہ جس ایمان،اتحاد اور تنظیم کی طاقت نے سب کو یکجا ء کیا تھا ان تینوں کو ہی سب نے جدا کر دیا ہے،جس کلمے کی بنیاد پر سب نے ساتھ رہنے کا عہد کیا تھا وہ کلمہ سب بھول چکے ہیں اور اللہ رسول ﷺکی پیروی مشکل ترین کام بن چکا ہے، قرآن کے احکامات شجرِ ممنوعہ قرار پا ئے ہیں۔۔ہر سمت آگ و خون کی ہولی جاری ہے، غریب کے لیئے زندگی بوجھ بن چکی ہے،امیر عیش و عشرت میں ڈوبا ہوا ہے،لوٹ مار کا بازار گرم ہے،اب کوئی کسی کو نہیں جانتا۔۔۔
تمھارے خط نے مجھے بے پناہ تکلیف سے دو چار کر دیا ہے،۔۔۔تم نے بتایا کہ مسجدیں، مندر، درگاہیں بم بھماکوں کے باعث اپنی اصل شکل کھو چکی ہیں، وادیاں دہشتگردوں کے قبضے میں ہیں، بچے خوفزہ ہیں۔۔میں یہ سب تمھارے سلوٹ زدہ چہرے، پپڑی جمے ہونٹوں اور پیوند زدہ لباس میں واضح طور پر دیکھ رہا ہوں۔۔۔تمھارا خط پڑھ کر میں عالمِ برزخ میں رہنے کی سی کیفیت میں مبتلہء ہوں۔۔میرے بچے تم میری اکلوتی اولاد ہو۔۔اور جس تکلیف اور اکیلے پن کا شکار ہو اس احساس نے مجھے یہاں قبر میں بھی بے چین کردیا ہے، کاش میں تمھاری مدد کو آسکتا۔۔لیکن ایسا ممکن نہیں۔۔۔ہاں تم اتناحوصلہ ضرور رکھو کہ تمھیں اس حالت میں پہنچانے والے ایک دن خود ذلیل و خوار ہو ں گے اور ضرور ہوں گے۔۔تم میرے جگر کا ٹکڑا ہوا اور مجھے معلوم ہے کہ تمھارے جگر کا ٹکڑا تم سے جدا ہے جس کے نام پر سیاستدان اپنی دکانداری چمکا رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے وہ جنت ایک دن تمھارے پہلو میں ہوگی،تمھاری اداسی میری شکست ہے اور میں جانتا ہوں تم مجھے ایسا ہر گز نہ دیکھنا چاہو گے۔۔یہ دنیا ایک دن تمھارے قدموں میں ہوگی سب زخم سِل جائیں گے،تمھیں لہو لہان کرنے والے اپنا وجود کھو دیں گے۔اور تم باقی رہو گے۔۔تم باقی رہنے کے لیئے بنے ہو، تم سچ ہو، تم نیکی ہو۔۔ تم پاکستان ہو۔۔ اور پاکستان کو زوال نہیں!!!

اسما مغل
اسما مغل
خیالوں کے سمندر سے چُن کر نکالے گئے یہ کچھ الفاظ ہی میرا تعارف ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *