لاہور کانفرنس میں کی گئی تقریر

لاہور کانفرنس میں کی گئی تقریر
جناب صدر اور معزز ڈگنٹریز
السلام علیکم
میں قیصر محمود بھائی اور منصور مانی بھائی کا شدید شکرگزار ہوں کہ انھوں نے مجھے اج ڈائس پر کھڑا کر ہی ڈالا ورنہ اج تک میں یہی سمجھ رہا تھا کہ شاید کابل میں میں لیٹا ہوا تھا. اج پتہ چلا کہ کھڑا بھی ہوسکتا ہوں. کھڑا سے مراد صرف کھڑا ہونا لیا جائے۔
مجھے کہنے کی آذادی دی گئی ہے حالانکہ ایک شادی شدہ بندہ آذادی جیسی نعمت کیلئے کیسے ترستا ہے یہ اپ یعقوب غزنوی صاب سے پوچھ سکتے ہیں. جو گھر میں سر پر ٹوپی پہن تسبیح کے دانے گنتا ہے اور بھابھی کو ٹوپی پہناتا رہتا ہے اور باہر آکر ہمیں آشعار کی صورت میں صوتی سزا دیتا رہتا ہے. یا آذادی اظہار کا مطلب آپ مبشر علی زیدی صاب سے پوچھ لیجیئے جو بیچارہ کسی بچی کی یاد میں پڑوسن کے مرغے کو کوستا رہتا ہے. اور ہم پورا دن مرغے کوستے رہتے ہیں اور مرغے ہمیں کوستے ہیں.
ہم جیسے مقبوضہ شوہروں کے پاس آذادی صرف اور صرف فیس بک کے حد تک تھی مگر کافی لوگوں کے اسٹیس جو دس بارہ دن کے بعد وہ لگاتے ہیں جس پر “پاکستان زندہ باد” لکھا ہوا ہوتا ہے اور پتہ چلتا ہے کہ صاحبان یا تو بیرون ملک چلے گئے یا چلہ پر چلے گئے سو ہم بھی منہ میں مدنی پھتر رکھ کر گناہوں سے بچ جاتے ہیں.
گھر میں بولنے کی آزادی نہیں باہر کچھ کرنے کی آزادی نہیں سو قیصر محمود بھائی نے جب کانفرنس کا بتایا کہ وہاں تم بول بھی سکتے ہو اور کر بھی سکتے ہیں. واللہ کرنے کا بول کر مجھے قیصر بھائی کابل ٹو کراچی اینڈ فائنلی لاہور لیکر آگئے.
جب یہاں آیا تو میرے ذہن میں “کچھ کرنا” تھا پرسوں سے ایا ہوا ہوں مگر کرنا نصیب نہیں ہوا سو اج قیصر بھائی سے پوچھا کہ کرنا کب ہے اس نے فوراً عامر خاکوانی صاب کے سامنے کھڑا کردیا اور کہا کہ کرلو بالاخر مصحافہ کروا ڈالا. خاکوانی صاب کا مصحافہ بھی ریسلنگ سے کم نہیں ہوتی لہذا میں خاکوانی صاب کے سینے میں چھپ گیا اور تب تن سر نہوڑے رکھا جب تلک انھوں نے مردانہ آواز میں “عارف بس ” کہہ کر ہم سے خود کو جدا نہیں کیا واللہ ماں کی یاد آگئی.
مصافحہ کرانے کے بعد مجھے کہا گیا کہ آپ تقریر بھی کرلو موضوع کا پوچھا کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی مذہبی اور سیاسی انتہا پسندی… فوراً سے پیشتر میں حالت سکتہ میں آگیا کہ اس سے بڑی انتہاء پسندی کیا ہوگی کہ آپ ایک کابلی والے کو کہیں کہ چرس پینا ہے یا نمازپڑھنی ہے دونوں میں سے ایک کام کرنا ہے سو مجھے بھی قیصر بھائی نے یہی کہا اور کنفیوزڈ کردیا میری دعا ہے کہ آللہ تعالیٰ قیصر بھائی کو بھی ایسے ہی اضطراب میں مبتلا کریں جیسے مجھے کیا ہے.
پیٹر ٹی کولمین کے نظر میں انتہا پسندی ایک ایسا نفسیاتی مرض ہے جس کے باعث انسان اپنے روزمرہ کے معمولات خصوصاً سیاسی اور مذہبی معاملات میں، برداشت، رواداری اور اعتدال کی حد پار کر جاتا ہے، ایسے میں وہ نہ صرف اپنی سوچ نظریہ اور عقیدے کو ہی برحق قرار دیتا ہے بلکہ انہیں دوسروں پر بھی مسلط کرنے کی کوشش کرتا ہے جس سے معاشرے میں انتشار کی کیفیت پیدا ہوتی ہے، معاشرے کا نظم درہم برہم ہو جاتا ہے، اس نفسیاتی کیفیت کو شدت پسندی اور جنون یعنی فینیٹس ازم بھی کہتے ہیں جس میں اگر تشدد اور زبردستی کا عنصر بھی شامل تو یہ رویہ دھشت گردی میں بدل جاتا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اعتدال کسے کہتے ہیں، اس کی حدود کیا ہیں، وہ کیا رویہ ہے جس کے بعد انتہا پسندی کی حد شروع ہوتی ہے، یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا تم معاشروں میں اعتدال کی ایک جیسی حدود مقرر ہیں یا ان میں بھی اختلاف کی گنجائش موجود ہوتی ہے، میرا خیال ہے کہ اعتدال سے پہلے ہمیں شدت پسند رویوں کی وجوہات کو سمجھنا چاہئے تاکہ اعتدال کی راہ نکالی جا سکے۔
شدت پسندوں کی بڑی پہچان یہ ہے کہ انہیں سیاست اور مذہب کا یا تو سر سے علم نہیں ہوتا یا پھر سنی سنائی باتوں پر مبنی جزوی علم ہوتا ہے جس کا ماخذ صرف ان کا اپنا مکتبہ فکر ہوتا ہے۔
شدت پسندی افراد کی دوسری بڑی شناخت یہ ہے کہ یہ ان معاملات کا بھی انکار کرتے ہیں جن پر اہل علم کا اتفاق ہوتا ہے، مثال کے طور پر حنفی، مالکی، شافعی اور جنبلی ان چاروں فقہ کے درست ہونے پر اجماع امت اور علماء کا مکمل اتفاق ہے لیکن پھر بھی کچھ لوگ اپنے آپ کو ٹھیک اور دوسرے کو غلط سمجھ کر اس کے پیچھے نماز ادا نہیں کر سکتے، شدت پسند عناصر یہی سلوک سیاست میں کرتے ہیں، جب کوئی کام دوسرا کرے تو وہ غلط ہے پھر اپنی باری پر وہی کام خود کرلے تو وہ ٹھیک ہے یا پھر جو سیاسی فیصلہ غلط ہو گیا اس کا ملبہ دوسروں پہ ڈالتے ہیں اور ٹھیک ہوگیا تو اس کا سارا کریڈٹ خود لیں گے۔
شدت پسندوں کی تیسری شناخت یہ ہے کہ جن باتوں سے بندہ گنہگار تو ہوتا ہے لیکن کافر نہیں ہوتا یہ ان باتوں پر بھی اگلے بندے پر کافر کا فتوٰی لگا دیتے ہیں حالانکہ اجماع امت ہے کہ کبیرہ گناہ گو کہ بڑے گناہ ہیں لیکن اس سے بندہ کافر نہیں ہوتا، گنہگار بندے کا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ چاہے تو بخش دے چاہے تو سزا دے لیکن انسان کو حق نہیں کہ وہ ایسے معاملات اپنے ہاتھ میں لے جس کا انسان کو شرعی اختیار نہیں دیا گیا۔
شدت پسندوں کی چوتھی شناخت یہ ہے کہ خود کو خاص بندہ سمجھ کر سوسائٹی کے عام آدمی سے علیحدہ رہتے ہیں تاکہ ممتاز رہیں اور خود کو کوئی اعلٰی چیز ثابت کر سکیں اسلئے عام آدمی کی طرح بیحیو نہیں کرتے۔
ان چار شدت پسند رویوں پر قابو پا لیا جائے تو سوسائٹی خودبخود اعتدال کی راہ پر چل نکلے گی، اب سوال یہ ہے کہ ان رویوں کی اصلاح کیسے ہو…؟
پہلے تو مذہبی اور سیاسی لیڈروں کو چاہئے کہ اپنے اپنے اسکول آف تھاٹ کو کنٹرول کریں، انہیں اسلامی اور سیاسی رواداری کا سبق دیں، سیاسی اور مذہبی تقریروں میں بھی اس بات کا بار بار اظہار ہونا چاہئے کہ عدم برداشت کو ترک کرکے مثبت سوچ اور رویئے کو اختیار کریں۔
دوسرے نمبر پر عوامی اوئیرنیس پر توجہ دی جانی چاہئے کہ عدم برداشت ایک بیماری ہے اسے پالنے کی بجائے بحث ومباحثہ کو جنگ سمجھنے کی بجائے افہام و تفہیم کے طریقہ سمجھیں اور مثبت جذبے کیساتھ شائستگی کا رویہ اپنائیں۔
تیسرے نمبر پر ایسے عناصر کو سزا دینے کی بجائے ان کو علمی گفتگو کے ذریعے لاجواب کیا جائے اور اپنا رویہ بدلنے پر مجبور کیا جائے۔
چوتھے نمبر پر میڈیا پر سیاسی اور مذہبی ٹاک شوز میں ہونے والے جھگڑوں پر مکمل پابندی لگائی جائے بلکہ قوم کے سامنے برداشت اور شائستگی کا عملی رویہ پیش کیا جائے اور اسی چیز کی تشہیر عوامی آگاہی اور تعلیمی مقصد سمجھ کر کی جائے۔
پانچویں نمبر پر ایک قانونی کاروائی بھی ہونی چاہئے جس کے ذریعے ایسے شدت پسند عناصر کو کھلا بجائے نفسیاتی کلینکس میں انکی ریہبیلٹشن کیجائے.
یہ تو تھی علمی و ادبی گفتگو جس سے اہل علم کو اتفاق بھی ہو سکتا ہے اور اختلاف بھی ہو سکتا ہے، آپ کا شائستہ اختلاف بھی مجھے قبول ہوگا لیکن شدت پسندی کی ایک قسم ایسی بھی ہے جس کے بارے میں آپ میرے ساتھ اختلاف نہیں کر سکتے اور اس شدت پسند کا نام ہے
“پانی ہمارے گاؤں کا اچھا ہے”
ادھر کھانا کھاؤ، ادھر کھانا ہضم
یہ جملہ ہر وہ لڑکی کہتی ہے جس کا شادی سے پہلے صرف پچیس کلو وزن ہوتا ہے، پھر شادی کے بعد شوہر کے گھر میں رہ کے سو کلو وزن ہوجاتا ہے لیکن تعریف پھر بھی اپنے گاؤں کی کرے گی، یہ سب سے بڑی شدت پسندی بلکہ دہشت گردی ہے جو تقریباً ہر شادی شدہ بندے کیساتھ اکثر ہوتی ہے۔
ہم لوگ جو اپنے گھر کے شدت پسند کو قابو نہیں کر سکتے وہ عالمی اور قومی دہشت گردی پر کیسے قابو پا سکتے ہیں البتہ یہ بات ماننے والی ہے کہ یہ شدت پسند عناصر شوہروں کی خدمت بھی بہت کرتے ہیں۔ اور ایسا کرتے ہیں کہ شوہر یاتو کابل بھاگ جائے یا پڑوسن کے مرغوں پر نظر رکھیں.

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *