دین کی تجدید نو اور ہم سب۔۔زاہد سرفراز

 یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر اس وقت تک بحث ممکن نہیں جب تک یہ تسلیم نہ کر لیا جائے کہ دین بدل دیا گیا ہے اور موجودہ دین اصل دین نہیں بلکہ اس کے برخلاف ایک یکسر مختلف دین ہے اور اس کا دارومدار اب تک لکھی گئی گمراہی اور جہالت پر مبنی کتب پر ہے ،جن کے پیچھے کہیں  بڑے نام ہیں اگر علمی عدل کا مظاہرہ کیا جائے تو اسلامی تاریخ کے بڑے بڑے برج الٹ جاتے ہیں وہ کہ جنھوں نے گمراہی کی ابتدا کی یا اس میں کسی درجے پر کوئی کردار ادا کیا ۔ابتدا میں کی گئی کوئی تبدیلی بہت معمولی ہوتی ہے مگر وہ تبدیلی جو خاص طور پر میٹا فزکس میں کی جاتی ہے ایک ایسا راستہ کھول دیتی ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بالکل ہی متضاد دین کو جنم دیتی ہے۔۔

مثال کے طور پر احمد بن حنبل نے قبر میں مردے کے سننے کا عقیدہ گھڑ لیا، جو وقت گزرنے کے ساتھ قبر پرستی میں بدل گیا اور قبر پرستی بھی ایسی کہ آج آپ لوگوں کو قبروں پر سجدے کرتے اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں، مسجدیں ویران ہیں مگر درگاہیں آباد ہو گئیں۔ گویا پیراڈئیم شفٹ ہو گیا ۔

ایسے ہی صوفی ازم کے نام پر اٹھنے والے طوفان بدتمیزی نے وہ گمراہی پھیلائی کہ باقاعدہ دین طریقت کے نام سے الگ دین ایجاد کر لیا گیا، خانکاہی دین نے جہاں دنیا سے کنارہ کش ہونے کا درس دیا وہیں عجیب و غریب معجزوں اور کرامات کی ایک خیالی دنیا آباد ہو گئی اور یوں عصر حاضر کا مسلمان وقت کو درپیش چیلنجوں کو پس پشت ڈال کر تمام دنیا سے پیچھے رہ گیا۔

غرض اسلام وہ نہ رہا جیسا کہ اللہ کے ایک عظیم پیغمبر نے ہمیں تعلیم دی تھی۔ قرآن میں بیان کی گئی انسانی تاریخ اور دین کے ساتھ کیا گیا انسانی کھلواڑ بڑی تفصیل کے ساتھ مذکور ہے  کہ واردات کیسے ڈالی جاتی ہے اور اسے کس طرح اپنے منطقی انجام تک پہنچایا جاتا ہے، پھر انبیاء ہر دور میں تجدید نو کےلیے  جب تشریف لائے تو ان کو کن علمی دلائل کا سامنا رہا اور ان کے سامنے کیا کیا تاویلیں گھڑی گئیں، سب قرآن میں مذکور ہے۔ بہت سے لوگ تجدید نو کو مختلف غیر شرعی نظاموں کی گرافٹنگ مراد لے کر اسے یک  جنبشِ قلم مسترد کر دیتے ہیں اور آج تک پیدا ہونے والے متجدین کو کفر کے فتوے لگا کر ان کو رد کر دیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے  کہ سب اچھا ہے، ہم مسلمان ہیں اور دین بھی اپنی خالص ترین حالت میں موجود ہے، کسی تجدید کی ضرورت نہیں اور نہ ہی گمراہی پھیلانے والی ان کتب پر پابندی کی کوئی ضرورت ہے، جنھوں نے قرآن و حدیث کی جگہ لے لی ہے اور یہ صحائف مقدسہ جو ان کے نام نہاد علما نے لکھے اصل میں تشریح دین کے فرائض سر انجام دیتے ہیں اور یہی اصل دین ہیں۔۔

اس کے لیے آپ مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ دین کے اصل لٹریچر کو چھوڑ کر کہاں سے استفادہ حاصل کیا جاتا ہے ، اس گمراہی اور تاریکی کے باوجود دین کے نام پر پیدا ہونے والے سب فرقوں کو درست ثابت کیا جاتا ہے اور تجدید نو کی مخالفت کی جاتی ہے گمراہی سے گمراہی کا تدارک کیا جاتا ہے۔

یہ تو تھی تھوڑی سی تفصیل جو کہ اس مضمون کے لیے ضروری تھی ،اب آتے ہیں تجدید نو کی طرف کہ تجدید نو ہے  کیا اور کیونکر ممکن ہے؟

جس کی اقبال نے بھی اپنی کتاب reconstruction of religious thoughts میں وضاحت کی ہے، تجدید نو کے دو تصورات ہیں اور دونوں پر ہی ہماری تاریخ میں کام کیا گیاہے ، ایک یہ ہے کہ جدید علوم سے علم مستعار لے کر دین کی گرافٹنگ کی جائے جو کہ ظاہر ہے غلط ہے ،کیونکہ یہ عمل دین کی میٹا فزکس تک کو بدل دیتا ہے، اس کوشش کے سرخیل علماء میں غلام احمد پرویز ، سر سید احمد خان اور دیگر جدت پسند علما شامل ہیں جبکہ دوسری طرح کی تجدید جو اپنی اصل کی طرف لوٹنے کی ایک کوشش ہے ،حقیقی تجدید ہے، جو نا صرف مختلف دور کے حق پرست علماء نے بھی کی بلکہ تمام انبیاء بھی اسی مشن کو لے کر اس دنیا میں آتے رہے۔ اس نوع کی تجدید میں احمد سرہندی، مجدد الف ثانی عبدلوہاب نجدی اور مودودی صاحب کے علاوہ دیگر بہت سے علما کے نام شامل ہیں۔

آج تک تجدید نو کا جو بھی عمل وقوع پذیر ہوا اس نے ایک نئے فرقے کو تو جنم دیا مگر اپنا مشن بھلا کر خود کو اسی میں غرق  کرلیا گیا  جو صاحب تحریک چھوڑ گئے تھے حالانکہ ان کے مشن کو مزید علم اور تحقیق کے بعد آگے بڑھانے کی ضرورت تھی مگر ایسی کسی کوشش نے اسی فرقے سے ایک نئے فرقے کو جنم دیا کیونکہ جمود پرست لوگوں نے صاحب تحریک کو ہی علم کل جانا اور اس طرح انھیں نکال باہر کیا گیا یا وہ خود ہی بے زار ہو کر الگ ہو گئے، اس ضمن میں ڈاکٹر اسرار، آمین حسن اصلاحی، ڈاکٹر مسعود الدین عثمانی اور دیگر بہت سے نام ہمارے لیے مثال کے طور پر موجود ہیں۔ جنھوں نے اس مشن کو  آگے بڑھانے کی کوشش کی مگر وہ یا تو نکال دئیے گے یا خود ہی الگ ہو گئے، اب ان اصحاب کی جماعتوں میں بھی یہی تاریخ دہرائی جائے گی اور یوں گروہ در گروہ لڑی در لڑی محض فرقوں میں ہی اضافہ ہوتا رہے گا اور یہ اس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک اس مقدمے کی نوعیت کو نہیں سمجھ لیا جاتا اور انسانی خطا کو مد نظر رکھتے ہوئے علماء پرستی کو چھوڑ کر حق پرستی پر کار بند نہیں ہوا جاتا ۔

آؤ  کہ دین خالص کر لیں اس تحریک کو  آگے بڑھائیں اور نئے فرقوں کو جنم لینے سے روکیں ،تحقیق اور جستجو کو اپنا شعار بنا لیں پھر وہ وقت زیادہ دور نہیں جب ہم ایک ہوں گے!!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *