کسی کو غلام اور لونڈی بنانا بد ترین لعنت ہے

حدیث رسول میں واضح طور پر آتا ہے ان اللہ لا یجمع أمتی علیٰ ضلالۃ، غامدی صاحب بھی اتفاقاً اس اصول کو تسلیم کرتے ہیں اور اس اصول کی تقریر غامدی صاحب مقامات کے مضمون اجماع میں اس طرح کرتے ہیں،
حدیث ہے اللہ میری امت کو کسی گمراہی پر جمع نہ کرے گا۔ حدیث کا تعلق ضلالت سے ہے، خطا سے نہیں۔ پوری امت کسی ضلالت پر جمع ہوجائے، یہ نا ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ دین کے معاملے میں ہدایت و ضلالت کا فرق اتمام حجت کے درجے میں واضح کردیا گیا ہے: غامدی مقامات ۲۰۱۴ء ،ص ۱۶۱۔
غامدی صاحب کے اس اصول کے تحت لونڈی اور غلام کے مسئلے میں یہ امت کامل ہدایت پر ہے اور غامدی صاحب ضلالت پر ہیں۔ خود غامدی صاحب کا اصول یہی ہے کہ مجتہد کے لیے اپنے اجتہاد سے انحراف انکار جائز نہیں۔ وہ اس کے لیے حجت ہے، اس سے انحراف کا عمل اللہ کی نظر میں خیانت ہے :غامدی میزان ۲۰۱۵ء،ص ۳۶۶
لہٰذا غامدی صاحب کو اپنے اجتہاد سے انحراف نہ کرنا چاہیے اور تسلیم کرلینا چاہیے کہ یہ امت ہدایت پر ہے، وہ ہدایت پر نہیں ہیں۔
اصول : غلام اور لونڈی بنانا لعنت ہے، مسلمان اس میں مبتلا رہے:غامدی
مغرب نے پچھلی صدی میں غلامی کا خاتمہ کردیا، یہ اس کا احسان ہے۔
غامدی صاحب اس اصول کی تقریر البیان میں اس طرح کرتے ہیں:
مکی سورت البلد کی آیت بارہ وَمَآ اَدْرٰکَ مَا الْعَقَبَۃُ [۹۰:۱۲] کی تشریح میں غامدی صاحب لکھتے ہیں کہ قرآن نے کہا غلام آزاد کیے جائیں ۔
قرآن نے اسے خیر کے کاموں میں سر فہرست رکھا ہے۔ اس سے ہر شخص اس حکم کی اہمیت کا اندازہ کرسکتا ہے۔ یہ اس لعنت کے خاتمے کی طرف قرآن کا پہلا قدم تھا۔ بعد میں سورہ محمد، سورہ نور اور سورہ توبہ کے احکام نے غلامی کی بنیاد ہی ختم کردی۔ یہ الگ بات ہے کہ نزول قرآن کے صدیوں بعد تک خود مسلمان اسے ماننے کے لیے تیار نہیں ہوئے، یہاں تک کہ پچھلی صدی کی ابتداء میں قرآن کا منشاء پورا ہوگیا اور یہ لعنت دنیا سے ختم ہوگئی: غامدی، البیان، جلد چہارم، لاہور ، المورد، طبع دوم مئی ۲۰۱۴ء،ص ۴۶۰۔
غامدی صاحب نے تکلف کرتے ہوئے صرف یہ لکھا ہے کہ نزول قرآن کے صدیوں بعد تک مسلمان اسے ماننے کے لیے تیار نہیں ہوئے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ نزول قرآن کے دوران اللہ نے رسول کو لونڈی رکھنے کا حکم دیا اور رسول نے اس حکم کی تعمیل میں حضرت ماریہ کو گھر میں رکھ لیا : غامدی میزان ۲۰۱۵ء، ص۴۲۹۔
غامدی صاحب کا یہ دعویٰ بھی بے بنیاد ہے کہ مغرب نے انسانی غلامی کا خاتمہ کردیا۔ ان کو یہ بھی نہیں معلوم کہ مغرب کے جدید فلسف،ے عقیدے اور اصول نے Technoscience، Capitalism، Scienctism، Corporations ، Scientific Imperealism ، Information Technology اور Work کے ذریعے پوری دنیا کو اپنا غلام بنا لیا ہے۔ انسان چوبیس گھنٹے نظام سرمایہ داری کی خدمت میں مصروف ہے اور چوبیس گھنٹے مارکیٹ میں رہتا اور مارکیٹ کی غلامی کرتا ہے۔ اس کی خواب گاہ میں اور اس کے ہاتھ میں ہرو قت میڈیا اور فون کے ذریعے مارکیٹ کی حکمرانی اور مارکیٹ کی غلامی ہورہی ہے۔ آدمی گھر کے بیت الخلاء Toilet میں ہوتا ہے اور آجر [Employer]موبائل کے ذریعے اسے حکم دے رہا ہوتا ہے کہ کیا کرنا ہے یا یہ کام ہے۔ انسان رفع حاجت بھی اپنی آزادی سے نہیں کرسکتا۔ اس غلامی کی داستان ہزرل،ہائیڈیگر ، جے الول، ممفرڈ، گائی ایٹن ،مارکوزے،فوکالٹ کی کتابوں میں پڑھی جاسکتی ہے۔

انسان کے دماغ ذہن قلب اعمال اعضاء کو مکمل غلام بنانے والی تہذیب کے قصیدے پڑھنا اسلامی جدیدیت پسندوں کا کام ہے۔ اٹھارہویں صدی سے پہلے کے حکمران اور ان کی حکومتیں زیادہ سے زیادہ اپنے غالی دشمنوں کی جانوں پر کچھ اختیار رکھتی تھیں کہ اگر وہ ان کے علاقے میں ہوں تو انھیں گرفتار کرلیا جائے یا انھیں قتل کی سزا دی جائے لیکن اگر وہ ان کے علاقوں سے نکل جاتے تو ریاست کچھ نہیں کرسکتی تھی۔ لیکن جدید ریاستوں کا اختیار انسان کی زندگی اور زندگی کے ہر لمحے پر بھی ہوگیا ہے۔ وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی یا موبائل کیمروں سیٹلائٹ کے ذریعے آپ کے ایک ایک لمحے کی نگرانی کررہی ہے۔ یہ جدید نئی غلامی کسی کو نظر نہیں آرہی ۔ فوکالٹ کے الفاظ میں:
Where traditional sovereign Power exercised the right over death the modern Power exercised it will over life itself.
جدید انسان کیا کھاتا ہے، کیا پڑھتا ہے، کیا دوا لیتا ہے، کیا خریداری کرتاہے، اس کی نقل و حرکت، پسند نا پسند جدید ریاست کو کمپیوٹر کے ذریعے اس کی ہر چیز کا علم ہے۔ وہ کس سے محبت کرتا ہے، اس سے کیا باتیں کرتا ہے، ریاست کے پاس اس گفتگوکا بھی ریکارڈ ہے۔ یہ آزادی ہے یا غلامی کی بد ترین شکل؟ مغرب کے فلاسفہ اسے نجی زندگی کا خاتمہ End of Privacy کہتے ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ نئی غلامی کا آغاز Begining of new slavery ہے۔

اصول:تورات نے غلام لونڈی بنانے کی اجازت دی تھی:غامدی
تورات میں استثناء کے باب ۲۰ میں یہ حکم پوری تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے کہ اپنی میراث کے علاقے میں کسی کافر و مشرک کو زندہ نہ چھوڑیں۔ سزا کے طور پر ان کے مرد قتل کردیے جائیں اور عورتوں بچوں کو غلام بنالیا جائے: غامدی مقامات ۲۰۱۴ء ص ۱۹۵
اصول: عہد رسالت کی تورات کا نسخہ محرف نہیں تھا: غامدی
یہ حقیقت ہے کہ تورات کی جو روایت [Version] (یعنی تورات کا جو نسخہ) زمانہ رسالت کے یہود و نصاریٰ کے پاس تھی، قرآن فی الجملہ اس کی تصدیق کرتا ہے: غامدی میزان ۲۰۱۵ء ص ۱۵۲
یعنی غامدی صاحب تسلیم کرتے ہیں کہ عہد رسالت کی تورات محفوظ و مامون تھی۔ وہ محرف، مخلوط ، منتشر نہیں تھی۔ لہٰذا تورات کے احکا م بھی اللہ کے احکام تھے اور اللہ تعالیٰ نے ہی بنی اسرائیل کو حکم دیا تھا کہ دشمنوں کو لونڈی غلام بنا کر رکھو اور قرآن بھی اس تورات کی تصدیق کرتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ قرآن بھی لونڈی غلام بنانے کا حکم دیتا ہے۔ اسی لیے اس نے تورات کی تصدیق کی ورنہ قرآن تورات کی ترمیم کرتا اور اس کے احکام کی اصلاح کرتا۔

اصول:تورات میں لونڈی غلام بنانے کا حکم تھا غلامی کی لعنت تورات میں تھی: غامدی
اس اصول کی تقریر وہ البیان میں اس طرح کرتے ہیں:
سبت چھٹی کے دن کو کہتے ہیں، یہ ا صلاً جمعہ کا دن تھا جسے بنی اسرائیل نے اس کے اگلے دن سے بدل ڈالا۔ ان کے ہاں یہ دن پشت در پشت تک دائمی عہد کے نشان کے طور پر خدا کی عبادت کے لیے خاص تھا اور اس میں ان کے لیے کام کاج سیر و شکار حتی کہ گھروں میں آگ جلانا اور لونڈی غلاموں سے کوئی خدمت لینا بھی ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ ان کی ایک بستی کے لو گوں نے اس دن کی پابندیوں سے اپنے آپ کو آزاد کرنے کے لیے جو شرعی حیلے ایجاد کیے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی شریعت کا مذاق اڑایا :غامدی البیان جلد اول جنوری طبع اول ۲۰۱۴ء ص ۸۰۔

غامدی صاحب کی تفسیر سے یہ بھی واضح ہوا کہ بنی اسرائیل کی پوری تاریخ میں لونڈی غلام ہوتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے کبھی لونڈی و غلام کے خاتمے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا اور غامدی صاحب ہی کی شہادت ہے اور میزان کے باب ایمانیات میں موجود ہے کہ قرآن نے رسالت مآب کے زمانے کے تورات کے نسخے Version کی تصدیق فرمائی تھی :غامدی میزان ۲۰۱۵ء ص ۲۵۲
اس کا مطلب یہ ہوا کہ لونڈی غلام بنانے کی لعنت تورات کی اجازت سے بنی اسرائیل کی پوری تاریخ میں موجود رہی اور قرآن نے بھی اس تورات کی تصدیق کردی جس نے لونڈی و غلام کی لعنت کو اختیار کرنے کی آزادی دی تھی۔ یہ کیسی کتاب اللہ تھی جس میں اللہ نے ایک لعنت (نعوذ باللہ) کی اجازت دے دی؟ اللہ کے بندے غامدی صاحب کو تو علم و عقل سے پتہ چل گیا کہ کسی انسان کو لونڈی غلام بنانا لعنت ہے مگر خود اللہ تعالیٰ کو اس عظیم اصول ، کلیے اور قضیے کا علم (نعوذ باللہ) نہیں ہوسکا۔ اللہ کا بندہ اللہ سے زیادہ نعوذ باللہ علیم و خبیر ہے۔

اصول:تورات میں عورتوں بچوں کو قیدی بنا لینے کی اجازت ہے:غامدی
تورات میں دشمن کے بالغ مردوں کو قتل کرنے کا حکم ہے:غامدی
بنو قریظہ کے مسئلے میں سعدؓ بن معاذ حکم بنائے گئے۔ انھوں نے تورات کے مطابق فیصلہ کردیا کہ بنو قریظہ کے بالغ مرد قتل کیے جائیں، عورتوں اور بچوں کو قیدی بنالیا جائے:غامدی ،میزان، ۲۰۱۵ء،ص ۵۹۷
اصول: اللہ تعالیٰ نے غلامی کی لعنت کو تورات و قرآن میں باقی رکھا: غامدی
سورۂ احزاب میں رسول کو باندی رکھنے کا حکم دیاگیا: غامدی
ایک جانب غامدی صاحب یہ لکھتے ہیں کہ غلام لونڈی بنانا ایک لعنت تھا جسے قرآن نے ختم کردیا :البیان جلد چہارم ص ۴۶۰،دوسری جانب تورات سے ثابت کرتے ہیں کہ تورات میں غلام لونڈی بنانے اور رکھنے کا حکم بھی تھا۔ میزان اور البیان کے حوالے اوپر گزرچکے ہیں ۔

سوال یہ ہے کہ اگر غلام لونڈی بنانا شرف ا نسانیت کی توہین تھا تو اللہ نے سورۂ احزاب میں رسالت مآبؐ کو لونڈی رکھنے کی اجازت دے کر اس لعنت کو قرآن کے پاکیزہ اوراق اور اس امت کی پاکیزہ تاریخ کا حصہ کیوں بنادیا۔ غامدی صاحب لونڈی کی لعنت کا ذکر کرتے ہوئے میزان کے باب قانون معاشرت میں سورہ احزاب ۳۳ میں ماملکت ایمانھم کاترجمہ لونڈی کرتے ہیں:غامدی، میزان، ۲۰۱۵ء،ص ۴۲۸
اس کے بعد ملک یمین لونڈی کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ چنانچہ اسی پابندی کے باعث سیدہ ماریہ کے ساتھ آ پ نکاح نہیں کرسکے اور وہ ملک یمین (لونڈی) کے طریقے پر آپ کے گھر میں رہیں:غامدی ، میزان، ۲۰۱۵ء،ص ۴۲۹
یعنی رسول اللہ کے پاک گھر میں اللہ پاک کے حکم سے ایک لعنت (نعوذ باللہ) لونڈی رہی اور رسالت ماب نے اسے رکھا۔ اگر لونڈی کوئی لعنت ہے تو کیا اللہ اور اس کے رسول کو اس کا علم نہیں۔ اس کا علم صرف غامدی صاحب کو ہے؟

اصول: نکاح کے سوا ہر جنسی تعلق حرام اور بد کاری ہے:غامدی
اس اصول کی تقریر غامدی صاحب میزان میں اس طرح کرتے ہیں:
قرآن نے پوری قطعیت کے ساتھ بتادیا ہے کہ عورتوں سے جنسی تسکین حاصل کرنے کا ایک ہی طریقہ اللہ کے نزدیک جائز ہے اور وہ نکاح ہے۔ اس کی مقدرت نہ ہو تو یہ چیز بد کاری کے جواز کے لیے عذر نہیں بن سکتی :غامدی ،میزان، ۲۰۱۵ء،ص ۴۰۸

اصول: لونڈی لعنت تھی مگر مجبوراً اللہ نے اجازت دی کہ تمتع کرلو:
غامدی مقامات میں اس اصول کی تقریر اس طرح کرتے ہیں :
بیوی کے سوا کسی سے جنسی تعلق حرام ہے مگر زمانہ رسالت کی جن لونڈیوں کے لیے اس وقت تک آزادی کی کوئی صورت پیدا نہیں ہوئی تھی، وہ البتہ اس حکم سے مستثنیٰ تھیں اور لوگ چاہتے تو ان کے ساتھ بھی یہ جنسی تعلق قائم کرسکتے تھے۔ سورۂ مومنون میں لونڈیوں سے نکاح کے بغیر تمتع کی اجازت اللہ نے دی وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حَافِظُوْنَ ۔ اِِلَّا عَلٰی اَزْوَاجِہِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ
اَیْمَانُہُمْ فَاِِنَّہُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَ۔۔۔فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ فَاُوْلٰٓءِکَ ہُمُ الْعَادُوْنَ (۲۳:۵،۶،۷):غامدی مقامات ۲۰۱۴،ص ۲۵۹۔ ۲۶۰۔
اللہ کے دونوں اصول نعوذ باللہ غامدی صاحب کے اصولوں کی طرح Oxymoron ہیں۔

اصول: صرف لونڈی سے نہیں ہاتھ سے بھی زنا کاری جائز ہے: غامدی
اس اصول کی تقریر غامدی صاحب میزان میں اس طرح کرتے ہیں:
اللہ نے سورۂ مومنون میں بیویوں اور مملوکہ عورتوں کے سوا قضائے شہوت کے تمام طریقے حرام قرار نہیں دیے مگر علماء یہی سمجھے اور انہوں نے استمنا بالید کو بھی حرام کردیا حالانکہ اس سورت مومنون کی آیتوں میں مستثنیٰ منہ استمنا کے طریقے نہیں بلکہ افراد ہیں۔ اس سے واضح ہے کہ بیویوں اور مملوکہ عورتوں کے سوا قضائے شہوت کا کوئی اور طریقہ اختیار کرنا بھی جائز ہے۔ لہٰذا استمناء بالید کو حرام یا مکروہ نہیں ٹھہرایا جاسکتا :غامدی مقامات ۲۰۱۴ء ص ۲۶۰، ۲۶۱۔

قضائے شہوت کا کوئی اور طریقہ اختیار کرنا جائز ہے جیسے استمناء بالید مگر منہ یا دبر کے راستے سے جنسی تعلق قائم کرنا درست نہیں :غامدی، مقامات، ۲۰۱۴ء،ص ۲۶۱-یہ دونوں اصول بھی Oxymoron ہیں۔
غامدی صاحب نے مقامات میں حضرت عائشہ کی عمر کا انکار کرنے کے لیے عقلی و منطقی دلائل کے دریا بہا دیے ہیں۔ انہی دلائل میں سے کچھ دلائل لے کر ہم سیدہ ماریہ قبطیہ کے حوالے سے غامدی صاحب سے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ اس رشتے کا کیا دعوت کی کسی مصلحت سے کوئی تعلق تھا؟ کیا یہ رشتہ کسی تہذیبی تمدنی ضرورت کو پورا کررہا تھا؟ کیا یہ کسی کی دلداری کے لیے کیا گیا تھا ۔کیا اس کا مقصد رفاقت کا حق تھا یا یہ رشتہ دوستی رفاقت نگہداشت گھر بار کے معاملات آخر کس مقصدکس کے لیے کیا گیا تھا (غامدی صاحب کے شریر نفس نے یہ تمام منطقی سوالات نکاح عائشہ پر اٹھائے ہیں :مقامات ۲۰۱۴ء ص ۳۲۳ تا ۳۲۷)
دین میں کسی حکم، اجازت، رخصت، کی علت کا علم ہونا ضروری نہیں دین کا ہر حکم العادل کا حکم ہے اور عین عدل ہے۔ شریعت کے احکام عدل ہیں، ان کو سننا اور ان پر عمل کرنا دین کا تقاضہ ہے خواہ عقل قبول کرے یا نہ کرے۔ عقل مخلوق ہے، وہ خالق کے احکامات کی حکمت علت کا احاطہ کبھی نہیں کرسکتی۔ اسے تقلید کا حکم دیا گیا ہے، تنقید کا نہیں۔ جدیدیت پسند تقلید کے قائل نہیں۔ وہ سوالات جو رسالت مآب کے دور میں اور اس کے بعد امت کی پندرہ سو سالہ تاریخ میں کسی کو نہیں سوجھے، جو سوالات رسالت مآب کے بارے میں ابو جہل ابو لہب اور روم و ایران کے دشمنوں نے نہیں اٹھائے، وہ غامدی صاحب اٹھارہے ہیں۔ یہ سوال ان کے داخلی تقاضے سے نہیں مغرب کے مسلط کردہ خارجی مطالبے سے پیدا ہوئے ہیں۔ یہ سوالات اسلامی علمیت، تاریخ و تہذیب میں پندرہ سو سال تک کبھی نہیں اٹھے۔ اس لیے کہ اسلامی علمیت میں اللہ عادل الحق الخیر ہے۔ اس کا کلمہ، اس کی شریعت، اس کے پیغمبر کے اعمال، احکام سب کچھ الحق ہیں۔ ان میں کسی نقص یا عیب کی تلاش ایک بے شرم انسان کے لیے ممکن ہے، ایک مسلمان کے لیے امر محال ہے اور وہ لوگ جو یہ سوالات اٹھاتے ہیں، اصلاً وہ ابو جہل اور ابو لہب سے بدتر لوگ ہیں۔ انھیں اپنی دنائت کا علاج کرانا چاہیے۔ یہ سوالات مستشرقین کے اور Feminism اور Freedomکے عقیدوں کے تخلیق کردہ سوالات ہیں۔ وہ مسلمانوں کو عشق رسالت سے الگ نہیں کرسکے تو انھوں نے مسلمانوں کو اسلام اور ذات رسالت مآب کا مخالف بنانے کے لیے غامدی صاحب جیسے عقلی منطقی فلسفیانہ سوالات پیدا کردیے تاکہ نوجوان خلفشار انتشار کا شکار ہوجائیں۔ غامدیت یہی کام پورے زور و شور سے کررہی ہے۔

قرآن کے برخلاف مسلمان صدیوں تک غلامی کے قائل رہے: غامدی
مسلمانوں کا اجماع کسی ضلالت پر ہونا عقلاً محال ہے: غامدی
ایک جانب غامدی صاحب لکھتے ہیں کہ قرآن کی سورہ نور سورہ محمد سورہ توبہ میں لونڈی غلام کی لعنت کی ممانعت کے باوجود مسلمان صدیوں تک اس لعنت میں مبتلا رہے :غامدی، البیان، جلد چہارم ، ص ۴۶۰ محولہ بالا ۔۔۔
یعنی مسلمانوں نے اجتماعی طور پر رسالت مآب سے لے کر اکیسویں صدی تک قرآن کے منشاء، مقصد، موقف سے انحراف کیا۔ لونڈی غلام حلال رکھے مگردوسری جانب مقامات میں لکھتے ہیں ’’ امت مسلمہ حدیث کے مطابق کبھی کسی گمراہی پر جمع نہیں ہوگی، نہ اللہ امت کو کسی گمراہی پر جمع کرے گا۔ پوری امت کسی ضلالت پر مجتمع ہوجائے یہ نا ممکن ہے کیونکہ دین کے معاملے میں ہدایت و ضلالت کا فرق اتمام حجت کے درجے میں واضح کردیا گیا ہے: غامدی ، مقامات ۲۰۱۴ء،ص ۱۶۰،۱۶۱ ۔

سوال یہ ہے کہ امت قرآن کی تین سورتوں کے احکامات کا پندرہ سو سال تک انکار کرتی رہی یعنی ضلالت پر مجتمع رہی تو یہ امت ۔ امتِ ضلالت ہے یا ا متِ ہدایت ہے؟
ضلالت پر امت ہے یا ضلالت پر غامدی صاحب ہیں؟
غامدی صاحب کے اصول کے تحت وہ غامدی صاحب ضلالت پر ہیں۔ غامدی صاحب کے اصول کے تحت وہ اپنے اصول سے انحراف نہیں کرسکتے۔ غامدی صاحب کے اصول کا واضح مطلب یہ ہوا کہ یہ امت کبھی ضلالت پر مجتمع نہیں ہوئی لہذا امت نے لونڈی و غلام کو رکھا تو اس نے قرآن و سنت کے احکامات پر ہی عمل کیا۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہوا کہ امت تو ہدایت پر ہے البتہ میرے محترم غامدی صاحب ضلالت پر ہیں۔ ان کی ضلالت ان کے اپنے اصول سے واضح ہے جس کا اعلان انہوں نے مقامات کے مضمون ’’اجماع‘‘ میں کیا ہے۔ غامدی صاحب کے لیے غامدی صاحب کے اصول حجت ہیں کیوں کہ وہ اہل سنت کے منہج کے اصولوں کو نہیں مانتے۔ لہٰذا غامدی صاحب کے اصول کے تحت پوری امت ہدایت پر ہے۔ لونڈی غلام بنانا قرآن کا حکم ہے لہٰذا پوری امت نے اس حکم پر تواتر تسلسل کے ساتھ عمل کیا۔ غامدی صاحب کو اپنے اصول کے تحت امت کو ہدایت پر ماننا لازم ہے کیوں کہ میزان کے قانون عبادات میں انہوں نے خود یہ اصول بیان کیا ہے کہ مجتہد کے لیے اپنے اجتہاد سے انحراف اور اس کی خلاف ورزی جائز نہیں۔ چنانچہ قرآن نے اسے ضمیر کے ساتھ خیانت سے تعبیر کیا ہے: غامدی، میزان ۲۰۱۵ء،ص ۳۶۶
ہمیں افسوس ہے کہ وہ بار بار اپنے ضمیر کے ساتھ خیانت کے مرتکب ہورہے ہیں۔

Avatar
سید خالد جامعی
صحافی،کالم نویس،محقق

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *