شکستہ ساز کی آواز۔۔۔ممتاز یعقعوب خان

مقبول بٹ شہید تاریخ کشمیر کا وہ مثالی کردار ہے جسے ہمیشہ یاد رکها جائے گا- ریاست جموں کشمیر کے اس عظیم سپوت مقبول بٹ شہید نے منقسم ریاست پر بسنے والے انسانوں کے حق خودارادیت ، آزادی ، خودمختاری ، خوشحالی اور وقار کے لیے طویل جدوجہد کی اور کسی بھی موقع پر خود کو مصلحت کا شکار نہ ہونے دیا یہاں تک کہ آزادی کے اس کٹھن راستے پر سفر کرتے اپنی جان تک کی قربانی دے دی۔

جب کشمیری قوم کے اعصاب جواب دے رہے تھے  اور دنیا اسے بزدلی کے طعنے دے رہی تھی ، تب دھرتی کے اس نڈر اور غیور بیٹے کی غیرت نے جوش مارا اور ریاستی عوام کے حقوق اور آزادی کا علم اٹھاتے ہوئے اپنے سے سو گنا بڑی طاقت سے ٹکرا کر امر ہو گیا۔

مقبول بٹ شہید کشمیر میں گوریلا جنگ کے بانی تھے- بٹ شہید کا ماننا تھا کہ ریاست کی آزادی کے لیے روایتی جنگ کی بجائے قابض افواج کو عوامی بغاوت اور جدوجہد کے ذریعے نکیل ڈالی جا سکتی ہے- لہذا سیاسی اور سفارتی محاذ کے ساتھ ساتھ عوامی مسلح جدوجہد بھی ناگزیر ہے۔ موجودہ دانشوروں کا خیال ہے کہ مسلح جدوجہد کو مطلق ترک کرکے محض ”ہو ہا” کرکے آزادی مل جائے گی ، جو کہ خام خیالی سے زیادہ کچھ بھی  نہیں-

یہ بھی پڑھیں :  وارث۔۔روبینہ فیصل/افسانہ،آخری حصہ

شہید کشمیر مقبول احمد بٹ کا کہنا تھا کہ
”میں جبر ،ظلم ، فرسودگی ، دولت پسندی اور استحصالی قوتوں کے خلاف بغاوت کا مرتکب ہوا ہوں”

اس دو ٹوک موقف کو بھارت اور پاکستان کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر اور بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بیٹھے اقتدار پسند مفاداتی حکمران ہضم نہ کر پائے- چنانچہ سیز فائر لائن کے آر پار مقبول بٹ شہید کو مختلف مقدمات ، اسیری اور ہر قدم پر مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر اس مرد حر کے استقلال میں لرزش نہ آئی اور یہ عظیم مجاہد جدوجہد اور قربانی کے راستے پر قربان ہو گیا-

مقبول بٹ شہید دنیا کی دیگر آزاد و خود مختار اقوام کی طرح ، اپنی روایات ، مذہبی اقدار ، معاشرت ، سیاست ، معیشت ، اقتصادیات اور تعمیر و ترقی کو کشمیری قوم کا پیدائشی حق سمجھتے تھے  جو کہ خالق کائنات کی طرف سے عطائی ہوتا ہے- بٹ شہید صرف اور صرف کشمیری قوم کا ایجنٹ  تھا ، کسی دوسرے ملک یا طاقت کا نہیں-

یہ بھی پڑھیں : مراکش کی مختصر روداد۔۔عظیم الرحمٰن عثمانی

مقبول بٹ شہید نے جو فلسفہ اور نظریہ پیش کیا اس پر آخر دم تک قائم رہے۔ مقبول بٹ کی پہلی اورآخری ترجیح ریاست جموں کشمیر کی قومی آزادی تھی۔ بٹ شہید کی مستقل مزاجی ، نڈر ، بے باک اور ٹھوس جدوجہد انهیں دیگر رہنماوں سے الگ کرتی ہے جو کبھی طاقت کے سامنے ڈگمگا جاتے ہیں تو کبھی  ذاتی مفادات کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتے ہیں۔

بھارتی مقبوضہ کشمیر کی عدالت سے سزائے موت پانا اور سری نگر جیل سے فرار ہونے کے بعد دوبارہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں داخل ہونا ، شہید کشمیر کی جراءت مندی کی ایک عظیم مثال ہے- ایسی جراءت قوم کا مخلص ، خیر خواہ اور حقیقی رہنماء ہی کر سکتا ہے ، مفادات کے عوض وفاداریوں اور دین ایمان کا سودا گر نہیں-

قومی تحریک اور جنگ آزادی لڑنے کے لیے دوست اور دشمن کی شناخت کا ہونا ضروری ہے۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے  کہ ہمارے ساتھ  کون کتنا مخلص ہے ، کون ہمیں آزاد دیکھنا چاہتا ہے اور کون غلام بنائے رکھنا چاہتا ہے- ہمارا بدترین دشمن ہر وہ شخص ، ادارہ ، حکومت اور ریاست ہے جو ہمارے حق خودارایت کی مخالفت کرے گا اور جو اسکی مخلصانہ حمایت کرے گا وہی ہمارا بہی خواہ ہو گا-

یہ بھی پڑھیں :  عورت اور ہندوستانی تہذیب کے کھوکھلے دعوے۔۔آصف اقبال

ان تمام نام نہاد رہنماوءں (جن کی ساری جدوجہد حصول اقتدار رہی اور ہے) جو کرسی کے لئے مقبول بٹ شہید کو ایجنٹ اور غدار قرار دیتے رہے ، انهیں اس حقیقت کا علم ہونا چاہیے  کہ تین دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی  مقبول بٹ شہید کشمیر کا واحد رہنماء ہے جس کا یوم شہادت دنیا بھر  میں بسنے والے کشمیری بڑے ہی جوش و خروش کے ساتهھ مناتے اور اس دن کو آزادی اور حقوق کی جدو جہد کے لیے تجدید عہد کے طور پر مناتے ہیں-

یہی تاریخ کا سب سے بڑا انصاف ہے کہ مقبول بٹ کے فلسفہ نظریہ اور سوچ و افکار کی صداقت پر کسی بھی  باشعور کشمیری کو شبہ نہیں ، چاہے وہ ان کے نظریات کا ماننے والا ہو یا کسی مصلحت یا مفادات تلے دب کر جینے میں بہتری سمجھتا ہو۔ کشمیری عوام اس عظیم حریت پسند کو غیر متنازعہ قائد سمجھتے ہیں۔ اس کے برعکس اقتدار کے پجاری ہر پانچ سال بعد ڈوبتے ابھرتے نظر آتے ہیں- عوام تب ہی ساتھ  ہوتی ہے جب تک ان کے پاس طاقت اور اقتدار ہوتا ہے- ایک نظریاتی رہنماء اور مفاداتی کا فرق جاننے کے لیے یہی کافی ہے-

تاریخ بڑی ہی ظالم اور بے رحم ہوا کرتی ہے ، کھرے اور کھوٹے میں فرق کو چھپایا نہیں کرتی- بٹ شہید اس دار فانی سے کوچ کر جانے کے باوجود بھی کشمیری قوم کے دلوں میں آج تک زندہ ہے اور رہے گا- کیونکہ وہ قوم کا مخلص رہنماء تھا ، جس نے کسی موڑ پر بھی اسکی آزادی اور حقوق پر لچک نہیں دکھائی ، خود تکالیف اور اذیتیں جھیلیں مگر لرزہ برآندام نہ ہوا- ایسے مخلص لوگ ہی تاریخ میں درخشاں رہتے ہیں اور یہی اقوام کے ماتھے  کا جھومر ہوا کرتے ہیں- وہ وقت دور نہیں جب قوم کو لولی پوپ دکھا کر انگلیوں پرنچانے والے مداری اپنی سیاہ کاریوں سمیت تاریخ کے اوراق میں دفن ہو کر رہ جائیں گے-

کشمیری قوم کو سمجهنا چاہیےکہ بٹ شہید کا نظریہ پوری قوم کے اجتماعی مفادات کے تحفظ کا آئینہ دار ہے- یہی وہ نظریہ ہے جس پر عمل پیرا ہو کر ہم ایک قوم کہلا سکتے ہیں- یہی وہ نظریہ ہے جو ہماری شناخت ، حقوق اور کا ضامن ہو سکتا ہے- کوئی بھی زندہ ضمیر اور باشعور انسان اپنے رہنماوءں کی قربانیوں کا پاس ضرور رکھتا ہے- آج اگر ہم آنکھوں پر ذاتی مفادات کی پٹی باندھ  کر بٹ شہید کی قربانی سے انکار کریں اور جا بجا تذلیل کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں تو اس سے بڑی بدقسمتی ، بدبختی ، احسان فراموشی اور زیادتی ہو ہی نہیں سکتی-

یہ بھی پڑھیں : میں نے یوم یکجہتی کشمیر منایا۔۔نجم ولی خان

ہمیں اپنے اس طرز عمل کے لیے تاریخ کبھی  معاف نہیں کرے گی- کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جس قوم نے اپنے بڑوں کی قربانیوں سے انکار کیا ، وہ قوم مٹ تو جاتی ہے مگر کبھی سرخرو نہیں ہوا کرتی- وقتی طور پر ہمیں شاید ایسا لگتا ہو کہ ہم آزاد اور خود مختار ہو کر اپنا وجود کیسے قائم رکھ سکتے ہیں تو ایک نظر ہٹلر کے عتاب کا شکار ان منتشر یہودیوں پر ڈالیں جنهیں دنیا کے کونے کونے سے اکٹھا کرکے عربوں سے زمین خرید کر بسایا گیا تھا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ عربوں کی سر زمین پر اسرائیل نامی ایک چھوٹی سی ناجائز ریاست ابھری جو آج ٹیکنالوجی کی دنیا میں اپنا ثانی نہیں رکھتی-

یہ بات بجا ہے کہ اسرائیل کو پیروں پر کھڑا کرنے میں امریکہ اور یورپ کا ہاتھ ہے مگر اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ انکی کامیابی اور طاقت کے پیچھے انکی انتھک محنت بھی  ہے- ہمارے پاس اتنے وسائل ضرور ہیں کہ ہم دنیا کے نقشے پر ایک باعزت قوم کے طور پر ابھر سکتے ہیں- مگر اسکے لیے ہمیں اپنا اچھا برا سمجھنا اور سخت محنت کرنی ہوگی- جاپان کو امریکہ نے کھنڈر بنا کر رکھ دیا تھا مگر وہی جاپان اپنی محنت کے بل پر ٹیکنالوجی کی دنیا میں امریکہ کو بھی  پیچهے چھوڑ گیا-

یاد رہے! کہ ریاست جموں کشمیر کا بطور الگ ریاست قیام بھارت ، چین اور پاکستان کے لیے کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے- پاکستان کے ساتھ  اس کا رشتہ بہت ہی جداگانہ ، گہرا اور اٹوٹ ہے- اور الگ ریاست کی صورت میں دو طرفہ معائدے عمل میں آنا ناگزیر بھی- پاکستان کی مضبوطی کشمیری عوام کی طاقت ہے- اس لیے بدگمانی کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں- کشمیری عوام نے اگر اس ریاست کو بھارت کی کالونی بنانا ہوتا تو اتنی قربانیاں دینے کی ضرورت نہ تھی- تاہم اس کے مستقبل کا فیصلہ عوام کی مرضی اور آزادانہ رائے شماری سے طے ہونا ہے-

مقبول بٹ شہید پاکستان کے مخالف نہ تھے ، اگر ہوتے تو ٹریننگ اور مدد کے لیے پاکستان کی بجائے یورپ یا امریکہ چلے جاتے- پاکستان کے ساتھ اگر انکا کوئی مطالبہ تھا تو وہ کشمیری عوام کے حقوق اور آزادی کا تھا- بٹ شہید کا منشور کشمیری قوم کو متحد رکهنا تھا- آج انہی کے پیروکار کہلانے والے بیسیوں ٹکڑیوں میں بٹ کر انکی برسی منا رہے ہوتے ہیں-

کوئی گلاب سنگھ اور ہری سنگھ  کے قصیدے پٹھ  رہا ہے (جن کے لیے بٹ شہید کا خیال حقیقت پسندانہ تھا کہ وہ استحصالی جاگیردار تھے) تو کوئی بدزبانی کرکے قوم کو تقسیم اور تحریک کو بدنام کرنے میں مشغول ہے- اگر واقعی بٹ شہید کے نظریہ کے ماننے والے ہیں تو مشترکہ پلیٹ فارم سے تحریک کو شروع کرنا ہو گا- ورنہ کھوکھلے  دعووں کا دور کب کا بیت چکا-
میں جھوٹ کے سورج سے نہیں لایا ہوں کرنیں
میں نور صداقت کے لیے خود ہی جلا ہوں
اللہ تعالی ہمارا حامی و ناصر ہو-

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”شکستہ ساز کی آواز۔۔۔ممتاز یعقعوب خان

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *