زنادقہ، گمراہ فرقے کی کہانی۔۔۔ داؤد ظفر ندیم

عالم اسلام میں اپنے مخالفین یا کسی حد تک امکانی مخالفین کے خلاف فتوٰی دینے کا رواج بہت پرانا ہے۔ سلطنت عباسیہ کے دور میں اس کام کو جو ترقی ہوئی وہ اپنی مثال آپ ہے. اس دور میں حکومت نے ایک فرقہ زندقہ کے نام سے گھڑ لیا تھا اور اپنے سیاسی مخالفین کو اس فرقے سے جوڑ دیتے تھے. اس سلسلے میں کسی کا لحاظ نہیں کی جاتا تھا۔ عباسیہ دور میں بہت سی مثالیں ملتی ہیں کہ کیسے وہ اپنے کسی ممکنہ مخالف کو بھی اس فرقے سے جوڑ دیتے تھے اور اسے زندیق ثابت کردیتے تھے۔ مہدی کے دور میں ایک محکمہ قائم ہوگیا جو زندقہ کے الزام میں لوگوں کو سزا دینا تھا. مہدی کا کہنا تھا کہ میں زندقہ فرقے کے ہر فرد کو قتل کرنا چاہتا ہوں. اس کے بعد ہادی اور ہارون وغیرہ نے یہ سلسلہ جاری رکھا. اس ضمن میں جناب امین مصری نے اپنی کتاب ضحی اسلام میں بعض واقعات کا ذکر کیا ہے. ان میں سے دو واقعات ذکر کر رہا ہوں۔

جن اولین افراد کو زندقہ کے گروہ میں شامل ہونے کی بنا پر سزا دی گئی ان میں عمر بن عبد العزیز کے پوتے آدم بھی تھے. وہ ایک شاعر تھے جن کی شاعری عوام میں بہت مقبول تھی. کسی اموی کی مقبولیت عباسیوں کو گوارا نہ تھی چنانچہ ان کو فرقہ زنادقہ میں ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور ان پر مقدمہ چلا کہ وہ شراب پیتے ہیں. اور دوسرا یہ کہ وہ ایسی شاعری کرتے ہیں جس سے دین سے انحراف کا شبہ ہوتا ہے. ان کی شاعری میں شراب کی تعریف اور بے راہ وری کی تعلیم ملتی ہے۔ آدم نے جواب دیا کہ وہ نبیذ پیتا ہے جو عباسی حکومت کے اکثر عمائدین پیتے ہیں اور جسے اس دور میں حرام نہیں سمجھا جاتا تھا. دوسرے الزام کا یہ جواب دیا کہ وہ شاعر ہے اور شاعرانہ بات پر کسی کا محاسبہ نہیں ہوتا بلکہ اسے شاعرانہ کیفیت سمجھ کر نظر انداز کیا جاتا ہے. انھوں نے اس سے سختی سے انکار کیا کہ ان کا تعلق زنادقہ نام کے کسی فرقے یا گروہ سے ہے مگر ان کے جواب کو تسلی بخش نہیں تسلیم کیا گیا بلکہ ان کو تین سو کوڑوں کی سزا دی گئی اور ان کو مجبور کیا گیا کہ وہ اپنے عقائد سے توبہ کریں اور شاعری سے باز آئیں.

خلیفہ المعتصم کے دور میں فرقہ زنادقہ سے تعلق کے الزام میں ایک مشہور مقدمے کا حوالہ ملتا ہے۔ یہ المعتصم کے ایرانی نسل کے سپہ سالار افشین کا مقدمہ ہے. افشین کے بارے اصل بات یہ تھی کہ خلیفہ اس کی بڑھتی ہوئی طاقت اور اثر و رسوخ سے خوف زدہ تھا اور اسے شک تھا کہ افشین بغاوت کی تیاری کر رہا ہے۔ اس کے خلاف مقدمے کے لیے ایک کمیشن بنایا گیا جس میں محمد بن عبدالمالک، زیاد اور احمد بن ابی داؤد شامل تھے. افشین کے خلاف کئی الزام عائد کیے گئے.

پہلا الزام یہ تھا کہ اشروسنہ میں ایک بت خانہ تھا جس پر دو افراد نے قبضہ کیا اور اس کو مسجد میں بدل دیا. ایک شخص اس مسجد کا امام بن گیا اور دوسرا اس مسجد کا موذن بن گیا اور وہاں نماز شروع ہوگئی. افشین نے اس مسجد کو بند کرا دیا اور اس کو دوبارہ بت خانہ بنا دیا. امام اور موذن کو کوڑوں کی سزا دی. افشین نے جواب میں کہا کہ اس علاقے کی فتح سے پہلے وہاں کے لوگوں کو مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی تھی اور یہ کہا گیا تھا کہ ان لوگوں کے عبادت خانوں کی حفاظت کی جائے گی، ان دونوں نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی تھی اس لیے ان کو سزا دی گئی۔

دوسرا الزام یہ تھا کہ افشین کی لائبریری سے ایک کتاب ملی ہے جس کتاب پر سونے چاندی کی تاروں کا بنا ہوا غلاف ہے اور اس کتاب میں کفریہ باتیں درج ہیں. افشین نے کہا کہ یہ کتاب مجھے ورثے میں ملی ہے. یہ کتاب ایران کے رسوم اور رواج پر مشتمل ہے اور ایران کے بہت سے لوگوں کے پاس موجود ہے اس پر سونے چاندی کی تاروں کا غلاف پہلے سے موجود تھا اور اس کو اتارنے کی کوئی وجہ نہیں سمجھی گئی اسے صرف ایک تاریخی دستاویز کے طور پر لائبریری میں رہنے دیا گیا تھا.

تیسرا الزام یہ تھا کہ افشین جانور کو ذبح کرنے کی بجائے جھٹکے سے ہلاک کرتا ہے اور اس کو کھاتا ہے. افشین نے کہا کہ الزام لگانے والا اور اس کا گواہ دونوں افراد قابل اعتماد نہیں ہیں. ان کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی انھوں نے مجھے ایسا کرتے کبھی دیکھا ہے. انھوں نے ایک سنی سنائی بات پیش کی ہے جس کا کوئی چشم دید گواہ نہیں.

چوتھا الزام یہ تھا کہ افشین کو جو خطوط ایرانی عوام کی طرف سے آتے ہیں اس میں درج ہوتا ہے کہ خداوند فارس کے نام اس کے بندگان میں سے ایک بندے کی طرف سے. یہ ایک کسری کو لکھنے کا انداز ہے جو کہ شرک ہے. افشین نے کہا کہ یہ لوگ اس کے کہنے پر ایسا نہیں لکھتے بلکہ وہ قدیم رواج کی وجہ سے ایسا لکھتے ہیں اور اس کے لیے ممکن نہیں کہ عوام کو ایسا کرنے سے منع کر سکے. وہ ایسے طرز تحریر کے عادی ہیں اور ان کا خیال ہے کہ سربرآوردہ افراد کو ایسے ہی مخاطب کرنا چاہیے.

پانچواں الزام یہ تھا کہ تویہار ایک ایرانی سردار ہے جو خلیفہ کا ایک بڑا دشمن ہے. افشین کے بھائی کا اس دشمن سے رابطہ ہے. افشین کے بھائی نے اس شخص کو خط بھی لکھے ہیں جن میں اس نے مجوسیت کو ایک روشن دین لکھا ہے اور اس میں لکھا ہے کہ وہ مل کر اس دین کو اور ایرانی حکومت کو بحال کر سکتے ہیں۔ خلیفہ کی فوج عرب، مغربی اور ترک لوگوں پر مشتمل ہے مگر مل کر ان تمام لوگوں کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور ان میں موجود تضادات سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے. افشین نے کہا کہ یہ درست ہے کہ ان کے اور تویہار کے درمیان ایک خاندانی تعلق موجود ہے جس کی وجہ سے اس کے خاندان کے لوگ تویہار سے رابطہ رکھتے ہیں تاہم وہ ان خطوط سے آگاہ نہیں اور وہ تو اس بات کا خواہشمند ہے کہ جہاں اس نے خلیفہ کی اتنی خدمات انجام دی ہیں تویہار کے علاقے کو بھی فتح کروں اور اسے گرفتار کرکے خلیفہ کے سامنے پیش کروں.

چھٹا الزام یہ تھا کہ افشین نے مسلمان ہونے کے باوجود ختنہ نہیں کروایا تھا اور وہ صرف ظاہری طور پر مسلمان ہوا تھا. افشین نے کہا کہ اسے اس عمر میں ختنہ کروانے سے ڈر آتا تھا کہ اس سے اس کی جنسی قوت یا جان کو نقصان نہ پہنچ جائے. اس کے علاوہ کسی عالم دین نے اس کی یہ راہنمائی نہیں کی تھی کہ ختنہ نہ کراونے والا دین اسلام سے خارج ہو جاتا ہے.

عدالت نے افشین کے جوابات کو تسلیم نہیں کیا اور اسے زندقہ سے تعلق رکھنے کے الزام میں تامرگ بھوکے پیاسے رہنے کی سزا دی. وہ قید میں بھوکا پیاسا مرگیا تو اس کی لاش کو سولی پر لٹکا دیا گیا اور اس کے بعد اس کے جسم کو جلا دیا گیا.

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *