دائرۃ الکہلاء۔۔۔۔ اویس قرنی

جگر صاحب کا پہلی بار تقریبا ًتین ماہ بھوپال میں قیام رہا اس کے بعد وہ واپس چلے گئے اور ایک سال بعد وہ دوبارہ تشریف لائے اور محمود علی خان جامعی کے یہاں قیام کیا ۔ جو اس وقت بھوپال میں مردم شماری کے آفیسر تھے۔ پھر محفلیں جمنے لگیں اور بھوپال کے تقریباً تمام اچھے شعراء اس محفل میں حصہ لینے لگے۔ ان میں کم عمر بھی ہوتے تھے جوان اور پیر بھی۔ اور رات کے تین تین بجے تک محفل جمی رہتی تھی۔

یہ زمانہ موسم برسات کا تھا۔ اور بھوپال میں برسات کا موسم بہار کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ اس موسم میں آرام طلبی کی خواہش پیدا ہوتی ہے اور مزاج میں سستی آجاتی ہے۔ اس لیے کاہلی کی تحریک شروع کی گئی۔ ایک بات اور سامنے آئی۔ چھوٹے بڑے ایک دوسرے کے سامنے بے تکلف نہیں ہو پاتے۔ اور بے تکلفی کے بغیر کام نہیں چلتا تھا اس لیے بھی ضرورت محسوس کی گئی کہ ایک ایسی انجمن بنائی جائے جس میں فرق مراتب کا خیال ختم کر دیا جائے۔ اور ان بے فکروں کو آداب ِمحفل سے کچھ حد تک بے نیازی حاصل ہو جائے۔

مولوی مہدیؔ بھی اسی جگرؔنوازوں کی جماعت سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی عادت تھی کہ جب وہ آتے تو فوراً ہی لیٹ جاتے اور ہلکی چادر جسم پر ڈال لیتے اور صرف ایک پیر کو جنبش دیتے رہتے۔ صبح سے رات تک انکا یہی معمول تھا۔ چونکہ سب سے زیادہ معمر تھے۔ اس لیے ہر فرد ان کا ادب و احترام کرتا تھا۔ ان کی سستی اور کاہلی کو دیکھ کر ہر شخص کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ کیوں نہ ہر شخص کیلئے کام سے بچنے کے مواقع پیدا کیے جائیں۔ چنانچہ کئی دنوں کی بحث ومباحثہ کے بعد ایک انجمن قائم کی گئی جس کا نام “دائرۃ الکہلاء” رکھا گیا۔ جس کی بنیاد محمود علی صاحب کے گھر پر رکھی گئی۔ پھر اسے “دارالکہلاء ” کا نام دیا گیا۔ اس انجمن کی بنیاد کی وجہ یہ بتائی گئی کہ دنیا میں جتنی پریشانیاں اور مشکلات پیدا ہو رہی ہیں وہ سب سرعت رفتار کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہیں۔ اسی کی وجہ سے جنگیں بھی ہو رہی ہیں اور جنگوں کیلئے آسانیاں بھی پیدا ہو رہی ہیں۔ اسی کی وجہ سے دنیا والے مشکلات اور تکالیف میں گرفتار ہوتے چلے جا رہے ہیں اس لئے ضرورت کہ اس کی روک تھام کی جائے۔ سستی اس سلسلے میں بڑی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی غرض سے کاہلوں کی انجمن بنائی گئی تاکہ کاہلی اور سستی کی اشاعت کی جا سکے اور جنگ اور دوسری مشکلات کا سد باب ہو سکے۔ انجمن کی فیس ایک تکیہ رکھی گئی۔ جو شخص بھی اس انجمن کا رکن ہوتا تھا وہ ایک تکیہ لا کر دار الکہلاء میں ڈال دیتا تھا۔ ایک بات یہ طے پائی کہ لیٹا ہوا آدمی اول درجہ کا کاہل شمار کیا جائے گا۔ بیٹھا ہوا دوم۔ اور کھڑا ہوا سوم درجہ کا۔ اس لیے لیٹا ہوا بیٹھے ہوئے کو اور بیٹھا ہوا کھڑے ہوئے کو کسی کام کا حکم دے سکتا ہے۔ مثلاً چلم بھرنا ، پانی پلانا وغیرہ۔ کام سے بچنے کیلئے اکثر ممبران دروازے پر پہنچتے ہی کھڑے کھڑے لیٹ جاتے تھے اور لیٹے لیٹے کمرے میں داخل ہوتے تھے تاکہ کسی قسم کا حکم نہ دیا جا سکے. موٹی کور کی پیالی میں چائے پینا ایک دم ممنوع قرار پایا۔ اس لیے کہ اس میں منہ زیادہ کھولنا پڑتا ہے جو کاہلی کیلئے نقصان دہ ہے۔

انجمن کے صدر جگرؔ صاحب ہوئے اور صدر الکہلاء یا رئیس الکہلاء کہلائے۔ حسرت لکھنوی نائب صدر بنے اور نائب الکہلاء یا معین الکہلاء کہے گئے۔ محمود علی خان اس کے ناظم مقرر ہوئے اور انہیں ناظم الکہلاء کہا گیا۔ ناظم کے ذمہ انجمن کی ضروریات پوری کرنا تھا۔ اور آئندہ کا پروگرام مرتب کرنا تھا ۔ غلام حسین خان عزمؔ بنارسی کو نقیب الکہلاء کا نام دیا گیا۔ ان کا کام یہ تھا کہ انجمن کی کاروائی کو بلند آواز سے سنائیں۔ یہ عہدہ انہیں اس لیے دیا گیا تھا کہ وہ طویل قد اور بھاری آواز کے مالک تھے۔ ان کے علاوہ انجمن کے 21 ممبران اور تھے جن کو ان کی خصوصیات کی بنا پر خطابات دئیے گئے تھے۔ سید اکبر علی کاظمی دراز قد تھے۔ اس لیے طویل الکہلاء کہلائے۔ محمود اعظم فہمیؔ قلیل الکہلاء (پست قدی کی وجہ سے)، باسطؔ بھوپالی ضخیم الکہلاء (موٹاپے کی وجہ سے) جلیل ؔصاحب دبیز الکہلاء ، شاکر علی خاں تنبیہہ الکہلاء (سب کی پکڑ دھکڑ کاکام ان کے ذمہ تھا) , محمد شریف فکری ؔقوت الکہلاء کہلائے (قبلہ نما توند کی وجہ سے) مہدی صاحب جد الکہلاء کہلائے۔ کچھ تو اپنی بزرگی اور مشفقانہ رویہ کی وجہ سے اور کچھ اس واقعہ کی وجہ سے کہ ایک روز حقہ آیا جس کی چلم میں دہکتے ہوئے انگارے تھے۔ اتفاقاً چلم الٹ گئی اور انگارے مہدی صاحب کے زانو پر آ گرے۔ اس وقت وہ دیوار کے سہارے آدھے لیٹے ہوئے اور آدھے بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے کپڑےجل گئے ، یہاں تک کہ ان کا جسم بھی جل گیا۔ لیکن وہ ذرا بھی نہ ہلے۔ البتہ چلم کے گرتے ہی کچھ لوگ گھبرا کر کھڑے ہوگئے۔ مہدی صاحب نے فوراً اٹھنے والوں کو انگارے ہٹانے کا حکم دیا۔ اس واقعہ نے انہیں جد الکہلاء بنا دیا۔

عبدالطیف برادر باسطؔ بھوپالی مرحوم جن کا ناک نقشہ اور رنگ سانولا تھا ، ملیح الکہلاء کہلائے۔ سید عبدالطیف بن اولاد حسین سفید شلجمی رنگ کی وجہ سے صبیح الکہلاء کہلائے۔ اور احمد اللہ شاکیؔ شریر الکہلاء کہلائے۔ ذوالفقار علی کیفیؔ , دعوتیں وغیرہ طے کرنا ان کے ذمہ تھا اس لئے سفیر الکہلاء , شعری بھوپالی اور مولانا طرزی مشرقی باغی الکہلاء کہلائے۔ اس لئے کہ دونوں نے قائدے توڑے اور سستی اور کاہلی کے خلاف کام کئے تھے۔ اور پابندی سے حاضر نہ ہوتے تھے۔ احمد مکی دبلے ہونے کی وجہ سے نحیف الکہلاء کہے گئے۔ یہ تمام خطابات بہت غور و فکر کے بعد ممبروں کی خصوصیات مد نظر رکھتے ہوئے ایک نشست میں تقسیم کیے گئے تھے۔ یہ نشستیں رات 9 بجے سے تین بجے تک جمتی تھیں۔ کبھی کبھی کوئی ممبر تاش ، شطرنج یا کیرم کھیلنے کی تجویز پیش کرتا یا چائے پینے کی خواہش ظاہر کرتا تو عام ممبروں کی رائے سے صدر اس کی منظوری دیتا۔ جگرؔ صاحب بغیر دودھ کی چائے بیحد پسند کرتے تھے۔ جب انجمن کی نشستیں برخاست ہوتی تھیں تو ایک ایک پیالی بغیر دودھ کی چائے کا دور چلتا تھا۔ اور یہ تقریبا ًہر رات کا دستور تھا۔

انجمن میں کبھی کبھی ساتھ کھانے کا پروگرام بنتا۔ جس میں تمام ممبر شریک ہوتے ، ہر ممبر اپنے یہاں کی بنی ہوئی مخصوص چیز لاتا لیکن اس کا خیال کہ کھانا دو آدمیوں کیلئے کافی ہو ضروری تھا۔ اس سے زیادہ لانا جرم تھا۔ لیکن اس جرم کا کبھی کوئی ممبر مرتکب نہیں ہوا۔ طریقہ یہ تھا کہ ہر ممبر کا کھانا محمود خان صاحب کے یہاں پہنچ جاتا جہاں سے ترتیب دیکر دار الکہلاء بھیج دیا جاتا۔ اس زمانہ میں جگرؔ صاحب اکثر کہیں نہ کہیں مدعو ہوا کرتے تھے۔ چنانچہ یہ طے ہوا کہ آئندہ سے جو صاحب جگرؔ صاحب کو مدعو کریں انہیں چاہیے کہ تمام ممبروں کو بھی مدعو کریں ورنہ جگرؔ صاحب کسی بھی دعوت میں شریک نہ ہوں گے۔ جس کا نتیجہ یہ ضرور ہوا کہ دعوتوں کے سلسلے میں کمی ہوئی۔ لیکن جگرؔ صاحب کے شیدائی پھر بھی باز نہیں آئے۔ اکثر دعوتیں ہوتی تھیں۔ اور تمام ممبروں کو مدعو کیا جاتا تھا۔ کھانے کے بعد دار الکہلاء کی پوری محفل میزبان ہی کے گھر پر جمتی تھی۔

اس انجمن کے تقریباً دس ممبر شاعر تھے۔ اس لیے شعر و شاعری کی محفلیں بھی جمتی تھیں۔ ایک بار شعرو شاعری کا مقابلہ ہوا اور جگرؔ صاحب کے اس شعر پر فی البدیہہ شعر طلب کیے گئے۔


ہم کو دعوائے عشق بازی ہے
مستحقِ عذاب ہیں ہم لوگ

ایک صاحب نے کہا:۔
صبح اٹھتے ہیں نو بجے سو کر
یعنی بالکل نواب ہیں ہم لوگ

دوسرے نے کہا:۔
اور سوتے ہیں رات تین بجے
یعنی بالکل خراب ہیں ہم لوگ

اسی قسم کے بہت سے شعر کہے گئے لیکن سب سے زیادہ مولوی مہدی صاحب کا شعر پسند کیا گیا اور جگر ؔصاحب نے خوب داد دی۔ شعر یہ تھا:۔
ہر گناہ میں کمال رکھتے ہیں
مستحقِ ثواب ہیں ہم لوگ

دائرۃ الکہلا ء میں ایک دن تمام ممبران کو ایک دوسرے کا نام پلٹنے کی سوجھی۔ چنانچہ ایک دوسرے کے نام پلٹے گئے۔
جگر صاحب کا نام جگرؔ مراد آبادی کی جگہ “مگر جرادآبادی” ہوا , شریف ؔ فکری صاحب “شریف کفری” ہوئے۔ شاکر علی خاں “کاشر علی خاں” ہوئے۔ سب سے زیادہ مشکل ذوالفقار علی کیفیؔ کا نام پلٹنے میں آئی ۔ جب کچھ نہ بن پڑا تو نام بیچ سے پلٹ دیا گیا یعنی ذوالفقار سے “فل ذقار” ہو گیا ۔

شعر و شاعری کا بھی کافی مشغلہ رہتا تھا۔ جس کی وجہ سے فضا شاعرانہ بن گئی تھی۔ اور لوگ اچھے سے اچھا شعر کہنے کی کوشش کرتے تھے۔ جگرؔ صاحب نے بھی خوب شعر کہے۔ یہ حقیقت ہے ، اس دوران جگرؔ صاحب نے جس قدر زیادہ غزلیں کہی ہیں اور کسی شہر میں نہ کہہ سکے۔ اس دور میں مندرجہ ذیل غزلیں جگر صاحب نے کہیں:۔

جو اب بھی نہ تکلیف فرمائیے گا
تو بس ہاتھ ملتے رہ جائیے گا
نظر ملا کے مرے پاس آ کے لوٹ لیا
نظر ہٹی تھی کہ پھر مسکرا کے لوٹ لیا
ہجوم تجلی سے معمور ہو کر
نظر رہ گئی شعلہ طور ہو کر
عشق میں لاجواب ہیں ہم لوگ
ماہتاب ، آفتاب ہیں ہم لوگ
حسنِ معنی کی قسم ، جلوہ صورت کی قسم
تو ہی فردوس ہے فردوس محبت کی قسم
محبت میں یہ کیا ستم دیکھتے ہیں
بہت فرصت ِشوق کم دیکھتے ہیں
تڑپ کر دل انہیں تڑپا رہا ہے
قیامت پہ قیامت ڈھا رہا ہے
اے محتسب نہ پھینک، ارے محتسب نہ پھینک
ظالم شراب ہے ، ارے ظالم شراب ہے

یہ انجمن ایسی پر کشش تھی کہ ہر ممبر خواہ کسی حال میں ہو کھنچا چلا آتا تھا۔ اور اس وقت تک اٹھنے کا نام نہ لیتا تھا جب تک محفل برخاست نہیں ہو جاتی تھی۔ یہ سلسلہ تقریباً رات تین بجے تک رہتا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کچھ دنوں بعد ہر ممبر کے گھر میں عورتیں فکرمند ہونے لگیں اور آپس میں ایک دوسرے سے پوچھ گچھ ہونے لگی۔ انہیں حیرت یہ تھی کہ آخر جگرؔ صاحب میں کیا بات ہے کہ لوگ ان کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں۔ حیرت نے شک کی صورت اختیار کی اور آخر تمام ممبروں کی بیویوں نے متفقہ طے کر لیا کہ جگرؔ صاحب کوئی شاعر نہیں بلکہ کوئی طوائف ہیں جس نے تمام لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہے۔ جب جگرؔ صاحب کو تمام ممبروں نے اس بات سے آگاہ کیا تو وہ خوب ہنسے۔۔۔۔

معلقاتِ جوگی

اویس قرنی کا ادب سے شغف اور اس پہ تحاریر قابل رشک ہیں۔ یہ وہ جوہر ہے جو کئی نقاد کو تمام عمر حاصل نہیں ہوتا۔ آپ “مکالمہ” کیلیے باقاعدہ ادبی تحاریر لکھیں گے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *