برفباری اور میں

اس ہفتے آمد بہار پر ہونے والی چھٹیوں (spring break) کی وجہ سے یونیورسٹی بند ہونے کی جتنی خوشی تھی، آج کے اس برفانی طوفان نے سب تہس نہس کردی۔ امریکہ کے شمالی علاقوں میں چند دن پہلے برف کے طوفان کی پیش گوئی کی گئی تھی۔ 3انچ فی گھنٹہ کی رفتار سے ہونے والی برف باری نے ہر چیز کو منجمد کر دیا۔ آج احساس ہوا کہ کرفیو لگنا کسے کہتے ہیں۔۔۔پچھلی رات Connecticut کے گورنر نے اعلان کیا کہ انتہائی ایمرجنسی کے علاوہ کوئی بھی شخص گاڑی لے کر سڑک پر نہ نکلے اور ہائی وے پر گاڑی چلانے کی صورت میں 92$ کا جرمانہ ادا کرنے ہوگا۔اس پابندی کے باوجود مجبوراً مارکیٹ جانا پڑا لیکن کچھ بھی خریدے بِنا ہی واپس لوٹ آئی کیونکہ اسٹور میں داخل ہونے پر پھل اور سبزیوں کا ڈپارٹمنٹ دیکھ کر وہاں پر سونامی کے گزرنے کا گمان ہوا۔ دودھ اور ڈبل روٹی کے شیلف مکمل طور پر یتیم ہو چکے تھے۔ لوگوں نے بیٹریاں اس تعداد میں خریدیں کہ ہمیں یقین ہے زندگی میں دوبارہ خریدنے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور ان سب سے بڑھ کر ہمیں واپس پلٹنے کے لیے مجبور کرنے والی اسٹور رجسٹر کی وہ لائن تھی جو اسٹور کے آخری سرے تک جا رہی تھی۔ اس لائن میں شمولیت کے بعد کم از کم ایک گھنٹے سے زیادہ وقت اسٹور سے واپس باہر آنے کے لیے لگتا اور اتنی ہمت ہم میں تو کم از کم بالکل نہ تھی۔
رات کے اس بھیانک خواب سے آنکھ کھلی ہی تھی کہ ٹی وی لگاتے ساتھ ہی نیا مژدہ سننے کو ملا۔۔بقول نیوز کاسٹر منگل سے بدھ تک کے لیے 6,000 سے زیادہ فضائی پروازیں منسوخ کردی گئیں ہیں جس کی وجہ سے 400,000 سے زائد مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہوگا۔
یہ سب دیکھ اور سن کر افسوس ہوا مگر اس سے کہیں زیادہ جھنجھلاہٹ اپنے حال پر ہوئی کہ سب کچھ بے ترتیب ہو رہا تھا شدید ٹھنڈ، آمدورفت میں مشکلات، کام میں دِقت لیکن دوسری طرف یہ سب بھلا بھی محسوس ہُوا کہ بھاگتی دوڑتی زندگی کو جیسے آرام آگیا ہو سکون کے چند لمحے میسر آگئے ہوں ۔

حمیرا گل
حمیرا گل
طالب علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *