• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • مشال قتل کیس اور مذہبی جماعتوں کا رویہ۔۔۔ طاہر یاسین طاہر

مشال قتل کیس اور مذہبی جماعتوں کا رویہ۔۔۔ طاہر یاسین طاہر

قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ
اب تو کھلنے لگے مقتل بھرے بازار کے بیچ
بارہا محسن نقوی کے اس شعر کے سہارے کالم شروع کیا۔آج پھر اسی شعر کا عصا لیے درکار ہے، میرے سامنے مذہبی جنونیت کا پہاڑ ہے جس سے ٹکرا جانا ہے۔دنیا کا کوئی مذہب ، کوئی تہذیب کوئی قانون، کوئی آئین قاتلوں کی طرف داری کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔ تمام الہٰی مذہب کا مشترکہ ہدف انسانی اخلاق کو بہتر بنا کر انسانی معاشرے کو قبول صورت بنانا ہے۔ اگر کوئی خشک عباد ت گذار دینِ مبین کے اس اخلاقی اور اہم ہدف کو پس ِ پشت ڈال کر مخلوقِ خدا کے قتال پہ آمادہ ہوتا ہے تو اسے اپنی مذہبی فکر کے بے ثمر ہونے کی فکر کرنی چاہیے۔اللہ کے اس فرمان کا بہت ذکر کیا جاتا ہے،جس کا مفہوم یہ ہے کہ” جس نے کسی ایک بے گناہ انسان کو قتل کیا گویا اس نے ساری انسانیت کو قتل کیا، اور جس نے کسی ایک بے گناہ انسان کی جان بچائی گویا اس نے ساری انسانیت کی جان بچائی”گناہ گار کون ہے؟یہ طے کرناگلی کوچوں کے لونڈوں کا کام نہیں۔فرض کریں کوئی گناہ گار یا گستاخ ثابت بھی ہو جاتا ہے تو مشتعل ہجوم کون ہوتا ہے کسی کو سزا دینے والا؟
ریاستی قانون موجود ہے۔کسی مولوی کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنی منشا اور فکری روش کو ہی عین اسلام سمجھنا شروع کر دے۔جن معاشروں میں قاتلوں کی حمایت میں جلوس نکلیں،اور جہاں مخالفین کو فتویٰ کی زد میں لا کر مارا جائے وہ معاشرے درندوں کی کمین گاہ تو ہو سکتے ہیں، انسانی سماج کا حصہ نہیں۔مشال کون تھا؟ اس کا قصور کیا تھا؟ اور پھر اسے کس طرح قتل کیا گیا؟ یہ سب جے آئی ٹی رپورٹ میں موجود ہے۔ اسی رپورٹ کی روشنی میں عدالت نے فیصلہ بھی دیا، جس پہ کہ مشال کے والدین کو تحفظات ہیں جبکہ حیرت انگیز طور پہ بری ہونے والے ملزمان کے ہمدردوں کو بھی فیصلے پر تحفظات ہیں۔ساٹھ سے زائد ملزمان میں سے دو مرکزی ملزم فرار ہیں، ایک کو سزائے موت ہوئی۔ 5 مجرموں کو 25 سال قید اور 25 مجرموں کو 3 سال قیدجبکہ کوئی دو درجن سے زائد افراد کو ضمانت پہ رہائی ملی۔ بالکل اسی طرح جیسے دہشت گرد صوفی محمد کو ملی۔عدم ثبوت۔کوئی جائے اور بیرسٹر انعام رانا سے پوچھے کہ بھائی یہ عدم ثبوت کس بلا کا نام ہے؟جب ملزم اور جرم آشکار تو عدم ثبوت کیا چیز؟ صوفی محمد کے کرتوت آشکار پھر ضمانت کیسی؟جب ریاست مدعی ہو تو پھر کمزور سے کمزور ریاست بھی ملزمان کے خلاف بڑے ٹھوس ثبوت رکھتی ہے۔کوئی آئینی ماہر اس پہ قلم آرائی کرے۔ہان مجھے اپنی بات کی فکر ہے کہ یہ  قانونی موشگافیوں میں گم نہ ہو جائے۔
مشال پر تشدد کرنے والوں میں سے بیشتر کو رہائی ملی تو جماعت اسلامی کے مقامی امیر اور” فکری غریب “نے اعلان کیا کہ جماعت کے تمام وابستگان رشکئی انٹر چینج پر جمع ہوں، رہائی پانے والوں کا استقبال کیا جائے گا، اور پھر انھوں نے رہائی پانے والوں کا استقبال کیا بھی۔ اس استقبالیہ شو میں ایک ملزم عمران نے پشتو میں تقریر بھی کی۔ اور بے شک اس کی تقریر میں دھمکی تھی۔ ہر اس شخص اور آواز کے لیےجو مقرر کے نزدیک مشال کی ہم آواز  ہو گی۔بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا واقعی مشال نے گستاخی کی نبی پاک وﷺ کی ذات قدس کے بارے میں؟ اگر نہیں کی تو اسے قتل کیوں کیا گیا؟اور اگر خدا نخواستہ مشال نے نبی پاک ﷺ کی ذات ِ اقدس  کے بارے گستاخی کی تھی تو پھر ریاستی قوانین کے بجائے ہجوم کو کس نے اختیار دیا کہ اسے قتل کر دیا جائے؟خبر یہ ہے کہ  نمازجمعہ کے بعد مردان میں مختلف مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے حکومت سے گزشتہ برس عبدالولی خان یونیورسٹی میں توہین مذہب کے الزام میں قتل ہونے والے طالب علم مشال خان کے کیس میں سزا یافتہ افراد کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے سزا کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی اور شدید نعرے بازی بھی کی گئی۔مردان میں پاکستان چوک میں جمعے کی نماز کے بعد شروع ہونے والی احتجاجی ریلی میں، تحفظ ختم نبوت، جماعت اسلامی، جمعیت علما اسلام (ف) کے علاوہ مقامی افراد نے بھی شرکت کی۔احتجاجی ریلی تحفظ ختم نبوت کے امیر قاری اکرام الحق کی سربراہی میں نکالی گئی تھی۔خیال رہے کہ ہری پور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 7 فروری کو عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان کے قتل کیس کے فیصلے میں ایک مجرم کو سزائے موت، 5 مجرموں کو 25 سال قید اور 25 مجرموں کو 3 سال قید جبکہ 26 افراد کو بری کرنے کا حکم دیا تھا۔مظاہرین نے حکومت اور مشال خان کے خلاف نعرے بازی کی، مظاہرین کی جانب سےبینرز میں”مشالیوروک سکو تو روک لو”جیسے نعرے درج تھے۔انسداد دہشت گردی عدالت سے بری ہونے والے افراد کو جلسے کے دوران “غازی استقبالیہ”بھی دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ مشال قتل کیس میں عدالتی احکامات پر تشکیل پانے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے مطابق طالب علم  مشال خان نے توہینِ مذہب نہیں کی تھی بلکہ یونیورسٹی میں موجود ایک طلبہ تنظیم نے سازش کے تحت 23 سالہ طالب علم کو قتل کروایا تھا۔خبریں نہایت دل گیر اور مردان کے جلوس کے شرکا کا رویہ انتہائی جارحانہ ہے۔ طالبانائزیشن کی نئی شکل مخالفین کو گستاخ ِ رسولﷺ قرار دے دے کر قتل کرنے کو بے تاب نظر آتی ہے۔ مذہبی جماعتوں کے پاس سماج کی بہتری کے لیئے کوئی ایجنڈا ہی نہیں۔ نہ سیاسی، نہ معاشی، نہ تعلیمی۔ سوائے فتویٰ گری کے ان کے ہاتھ کچھ نہیں۔کم کمال ذہنیت نفیساتی عارضہ میں مبتلا ہے۔بے شک حضرت محمد مصطفیٰ وﷺ اللہ کے آخری رسول اور نبی ہیں۔کیا جماعت اسلامی یا دیگر مذہبی جماعتیں اب مل کر کسی کے مسلم یا گستاخ ہونے کا سرٹیفکیٹ جاری کیا کریں گی؟ مردان اور رشکئی کے جلوس معمولی واقعات نہیں۔ ریاستی اداروں کو ان واقعات پہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔میری نظر میں طالبانائزیشن کی نئی شکل سماج میں نئے درد پیدا کرے گی۔اگر مشال گستاخ تھا تو جے آئی ٹی میں ثابت ہو جاتا۔ کے پی کے۔ کی حکومت اس نازک مرحلہ پر خاموش کیوں ہے؟درندگی کی کسی بھی شکل کی حوصلہ شکنی نہایت ضروری ہے۔ یہ شکل فرقہ واریت کے حلیے میں ہو یا مخالفین کو گستاخ قرار دے کر قتل کرنے کے لباس میں۔ہاں اس مرحلہ پر امت اور بالخصوص پاکستان کے بیدار مغز اور پاکباز علمائے حق کو سامنے آنا چاہیے۔ملکی قانون اور آئین کا احترام سب پہ لازم ہے۔پریشر گروپس جلوس نکال کر عدلیہ اور ریاست پر دبائو بڑھانے کی روش پہ چل نکلے ہیں۔ان گروپس کو ریاستی آئین کے تابع کرنے کے لیے قانون کو اپنی طاقت منوانا ضروری ہو گیا ہے۔ہمارا معاشرہ نفرت کی ڈگر پہ چل رہا ہے، اسے واپس محبتوں کی طرف ہانک کر لانا ہے۔اسلام سلامتی و امن کا دین ہے۔اخلاق و مروت اور رواداری و دردمندیکا دین ہے۔ اسلام کی آفاقی تعلیمات کی پیروی میں ہی انسان اور انسانیت کی نجات ہے۔ مولوی کی فکر اسلام کی نمائندہ نہیں ۔کوئی بھی متشدد گروہ کبھی بھی اسلام کا نمائندہ نہیں ہو سکتا ہے۔

طاہر یاسین طاہر
طاہر یاسین طاہر
صحافی،کالم نگار،تجزیہ نگار،شاعر،اسلام آباد سے تعلق

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *