احوال ذلالت بطرز جدید چال چلن۔۔مریم مجید/قسط1

صاحبان دنیا میں خدا اور جنس کے بعد جو شے قدامت میں بازی لیے  جاتی ہے وہ ہے ذلالت ۔ آپ کو یاد ہو تو میں وہی ہوں جو نے کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں۔۔
ارے نہیں بھائی! بہادر شاہ ظفر نہیں، قریشی ہوں قریشی! جی جی وہی قریشی جو کاٹھ کی ہنڈیا کو دوسری بار چڑھانے کی کوشش میں منہ سر کی کھا چکا ہوں ۔۔یاد آیا؟ نہیں ۔۔؟؟ اچھا چلیے  خاک ڈالیں ماضی گم گشتہ کی سیاہ یادوں پر ،کہ یوں بھی ابھی ذلت کے امکاں اور بھی ہیں ۔

صاحبان!
یہ قصہ نصف ماہ قبل کا ہے جب چاند پورا تھا آسمان پر اور ستارے گردش میں تھے آسمان کے نہیں، میرے ۔ تو انہی گھومتے ہوئے لیل و نہار میں مجھ پر راہو  کیتو اور سارے نحس ستارے و سیارے مہربان ہو گئے اپنی تمام تر نحوست سمیت اگرچہ کہ وہ سب مل کر بھی میری سیاہ نصیبی کا مقابلہ کرنے کی تاب نہ لا سکتے تھے ۔
شام کا سہانا وقت تھا جب میں چھت پہ لیٹا ہوا دنیا اور بینک بیلنس سمیت حکومت کی بے ثباتی پر غور کر رہا تھا تو اچانک مجھ پر ایک سیاہ سا سایہ لمبا ہونے لگا۔ میں گھبرا کر فوراً  اٹھ بیٹھا’ دیکھا تو بھتیجا وکیلانہ مسکراہٹ منہ پہ سجائے، جس میں کائیاں پن کے ساتھ ساتھ اب شتر غمزے بھی جھلک دکھا رہے تھے اپنے تئیں خاصا بانکا سجیلا بنا کھڑا تھا۔

اوہ خدایا! نصیبوں کی سیاہی پر کالے کوٹ کا تڑکا لگنا ضروری تھا کیا!”؟؟ میں دل ہی دل میں کراہ کر رہ گیا۔
” سلام چاچا جی! اس نے ایک ادائے دلبرانہ سے ذرا جھک کر سلام کیا اور میری چارپائی پر ہی بیٹھ گیا۔میں اتنی دیر میں یہ جائزہ لے چکا تھا کہ وکیل بابو کے ہاتھ کسی بھی قسم کے ڈبے سے عاری ہیں ۔ پچھلی بار یہ آمد مجھے دو دانتوں سے محروم کر گئی تھی یعنی بھتیجا میرے حق میں دیگر اشیا کی طرح شدید منفی اثرات کا حامل تھا۔
“وعلیکم السلام بھتیجے! کہو آج مجھے کس اعضائے رئیسہ یا خبیثہ سے محروم کرنے کی نیت سے آئے ہو”؟ میرے دل میں بھتیجے کی بے اعتنائی کا زخم فوراً  ہرا ہو گیا اور میں نے آنکھیں جھٹ ماتھے پہ رکھتے ہوئے دریافت کیا۔

بھتیجے نے خرخراہٹ مائل ہنسی حلق سے برآمد کی اور مسکرا کر شرما کر کالے کوٹ کی جیب سے ایک عدد سرخ و سنہرا مکتوب نکالا اور کسی گھٹیا مسخرے کی مانند گھٹنوں پر جھکتے ہوئے میری خدمت میں پیش کر دیا۔
میں نے اسے تھاما اور کھول کر جھانکا تو شادی کا کارڈ اندر لیٹا مسکرا رہا تھا۔
پہلی نظر میں تو گمان گزرا کہ بھتیجے نے اپنی وکالت کا لائسنس بمع ڈگریوں کے اس سرخ و سنہری مکتوب پر لکھوا ڈالا ہے ۔ عبارت ہی کچھ ایسی تھی ” ہمارے صاحبزادے محمد وکیل،ایل ایل بی (پنجاب یونیورسٹی) دو سالہ تجربہ بطور اسسٹنٹ فلاں چیف جسٹس، چیمبر نمبر فلاں فلاں کی شادی،خانہ آبادی مسمات سلمی عرف چھنو بی ۔اے ایل ایل بی، یک سالہ تجربہ دیوانی مقدمات سے فلاں فلاں تاریخ کو ہونا قرار پائی ہے”

میں نے نظر دوڑائی کہ مقام نکاح شاید معزز عدالت ہی ہو مگر وینیو پر بادشاہی مسجد کے پاس کوئی کھلا احاطہ تھا جہاں یہ تقریب سعید اگلے ماہ کی پانچ تاریخ کو انجام پانا تھی۔
میں نے جھوٹے اور پوپلے منہ سے رسمی سی مبارک باد دی اور جواباً  بھتیجے نے بھی ویسا ہی اصرار کیا جس سے اسے اور مجھے دونوں کو بالترتیب یہ اطمینان حاصل ہوا کہ میرے پانچ سو روپے کا لفافہ اور بھتیجے کا ایک بندے کی روٹی بار سبک ہو گا۔ یعنی میں نے اسے حسب خواہش ٹرخایا اور وہ حسب من پسند خواہش ٹرخ گیا۔
یہ اطمینان نصیب ہونے کے فوراً  بعد بھتیجے نے رخصتی کا عندیہ دیتے ہوئے کھڑے ہونے کی کوشش کی اور نجانے کیسے چارپائی کا وہ حصہ جس پر میں ایستادہ تھا،وہ غیر ایستادہ ہو گیا اور گھن کھائی لکڑی کے ٹوٹنے سے میں ناتواں پیٹھ کے بل پختہ فرش پر جا پڑا۔
“آہ! میرے منہ سے ایک گھٹی ہوئی سسکی برآمد ہوئی کہ عین اس جگہ پر کوئی روڑا تشریف فرما تھا جو میرے نزول پر بااحتجاج ہوتے ہوئے میری تشریف کو کچوکا دے گیا تھا۔

بھتیجے نے کمینہ پن کی انتہا کرتے ہوئے شترانہ مسکراہٹ چھپانے کی کوئی کوشش نہ کرتے ہوئے مجھے سہارا دے کر سیدھا کیا اور کپڑے جھاڑنے کا مشورہ دیتے ہوئے ایک پرچہ سا میرے پاس رکھ کر چلتا بنا۔
اب مجھے بھتیجے کی نحوست میں بال برابر شبہ بھی نہ رہ گیا تھا اور میں  دل ہی دل میں  خدائے لم یزل کا شکر گزار ہوا کہ اس قانونی اونٹ نے شبو سے عقد کرنے سے انکار کر دیا تھا ورنہ اس کی نحوست سے کچھ بعید نہ تھا کہ متواتر ملاقاتوں پر وہ مجھے قفس عنصری سے قسطوں میں آزاد کرتا جاتا اور پھر طائر لاہوتی کی عالم ناسوت کی جانب پرواز میں کوتاہی کا سوال ہی نہ اٹھتا ۔

کچھ دیر کڑھنے و کراہنے کے بعد میں اٹھا تو نظر اس پرچے پر پڑی جو بھتیجا میرے پاس رکھ کر رخصت ہوا تھا۔
تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر اسے کھولا تو دماغ کھول کر رہ گیا۔ “ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے؟؟؟ وہ ایک حکیمانہ مطب کا اشتہار تھا جس میں شوگر اور اس سے پیدا ہونے والی مردانہ کمزوریوں پر مفصل تحقیق درج تھی ۔اور خدا جھوٹ نہ بلوائے تو اس عالم تنہائی میں بھی مجھ پر وہ تفصیلات پڑھتے ہوئے تخیلاتی شب عروسی پوری طرح بیت گئی ۔ تحقیق کے آخر پہ یہ خوشخبری بھی درج تھی کہ حکیم مذکور سے علاج یافتہ ہونے کے بعد آپ نہ صرف اپنی شادی کے لڈو بلکہ منے میاں کی آمد کی مٹھائی بھی کھانے کے لائق ہو جائیں گے۔ دل میں اسی کی رفتارسے پھوٹتے لڈووں کے سامنے بیگم کی آواز کا سپیڈ بریکر آ گیا جو صور اسرافیل کی مانند چنگھاڑتے ہوئے مجھے دہی لانے کو کہہ رہی تھی ۔ ۔غصہ تو بہت آیا کہ کہاں میٹھے لذیذ لڈو اور کہاں یہ کھٹا دہی مگر مرتے کیا نہ کرتے ، پرچہ جیب میں ٹھونسا اور تحقیقی مقالے کے مطالعے کو کسی اور وقت پر اٹھا رکھتے ہوئے عازم دکان ہوئے ۔

پیسے کھیسے میں ڈال کر جب میں بغرض حصول دہی دکان کو گامزن ہوا تو تب بھی میرے دماغ میں حکیمی خوشخبری کے علاوہ یہ سوال بھی کلبلا رہا تھا کہ آخر بھتیجے کو اس عالم جوانی میں اگرچہ پینتیس کا ہوئے اسے دو برس بیت چکے تھے، اس اشتہاری مہم کے پرچے کی کیا ضرورت آن پڑی تھی؟
قبل از نکاح ایسے اشتہارات جیب میں رکھ کر گھومنے کا مقصد سوا اس کے کیا ہو سکتا تھا کہ بھتیجے کا کھاتہ قومی اسمبلی کا سا منظر پیش کرتا ہے اور بالا ہی بالا وہ تمام اثاثہ ہائے ضروری و شرعی کو اپنے ہی ہاتھوں گنوا چکنے کے بعد ایسے لوازم پر بھروسہ کرتا پھر رہا ہے۔

میری اس قدر فکر انگیزی کو سامنے سے آتے چوہدری نے تہہ و بالا کر دیا جب میری نظر اس کی اکڑی ہوئی پگڑی رنگدار قمیض کہ جس کو پہن کر وہ ایک نودولتیا چمار نظر آتا تھا، اور ڈبیوں والی دھوتی پر پڑی ۔ خلاف معمول آج تھوبڑا پر انوار پر لوڈ شیڈنگ نہ تھی بلکہ کئی انرجی سیور جھلملا رہے تھے۔ میرے منہ میں نیم کی چھال ابل پڑی۔ چوہدری کے ہاتھوں اٹھائی گئی ہزیمت مجھے پھر سے یاد آ گئی اور میں کنی کترا کر موڑ مڑنا ہی چاہتا تھا کہ چوہدری نے وہی کنی پکڑ کر مجھے خود سے زبردستی بغل گیر کر لیا۔

چند لمحوں کے لیے  تو میں اس اچانک کارروائی پر ساکت سا رہ گیا اور پھر جلدی سے ادھر ادھر دیکھا کہ کوئی متوجہ تو نہیں مبادا اس عمر میں مجھ پر کوئی شرعی حد نافذ نہ ہو جائے ، اور بزور چوہدری کو دھکیل کر خود سے دور کیا ” دیکھ چوہدری ماضی میں ہمارے تمہارے بیچ جو بھی لاگ ڈپٹ ہوئی تھی ، وہ قصہ پارینہ ہوا اب تمہیں کیا حق ہے کہ سر عام بوس و کنار تک معاملات رنگین و سنگین کرتے پھرو ” ؟ میں نے مناسب فاصلہ رکھتے ہوئے چوہدری کو لتاڑا ۔ چوہدری نے پہلے تو مجھے گھورا اور پھر ایک جناتی قہقہ لگاتے ہوئے بولا” اوئے قریشی! لگتا ہے تو سٹھیا گیا ہے ۔ اوئے میں تو تجھ سے جھپی اس لئیے ڈال رہا تھا کہ خیری صلا سے تیری تیسری بھابھی اگلے مہینے کے پہلے چاند کو آنے والی ہے، اور تجھے شادی میں لازم آنا ہے۔ ”

صاحبان! یقین کیجئے ! میرے ہاتھوں و دیگر حصوں کے طوطے فی الفور ٹیک آف کر گئے اور آنکھوں میں تارے ناچ اٹھے۔۔ چوہدری ۔۔۔ اور تیسری شادی؟؟؟ یقیناً یہ سوال میرے ہونق چہرے پر بھی درج تھا تبھی تو چوہدری رازدارنہ انداز میں نزدیک ہوتے ہوئے بولا” اوئے قریشی ! یہ سارا کمال نیو جرمن دوا خانے والوں کا ہے ۔اپنی نکڑ پہ ان کی ایک برانچ  کھلی ہے ، اور آج وہ اپنے پرچے بانٹتے پھر  رہے  تھے  ۔تو میں  بھی چلا گیا۔ پہلے دو ہفتوں کی دوا پر ڈسکاؤنٹ دے رہے تھے ” چوہدری نے ڈب سے ایک بڑا سا پڑا  نکال کر مجھے دکھایا۔

اچھا تو بھتیجے کے ہاتھ میں موجود پرچے کا یہ راز تھا۔

” اچھا اچھا! رشتہ کہاں طے پایا ” ؟ میں نے ابتدائی دھچکے سے نکلتے ہوئے چوہدری سے استفسار کیا تو وہ چند لمحے تو خود بھی سوچ میں پڑ گیا پھر ہچکچاتے ہوئے بولا” یار ۔۔وہ تو کوئی مسئلہ  ہی نہیں ،اگلے مہینے کے پہلے چاند تک کوئی نہ کوئی مل ہی جائے گی۔ ”

اوہ! تو چوہدری ابھی صرف شادی کے گھوڑے پر نیو جرمن دوا خانے کی زین کس رہا تھا اور تیسری شادی کا بور والا لڈو ابھی پردہ افلاک سے رونما نہیں ہوا تھا میں نے کمینگی آمیز خوشی سے سوچا مگر دل ہی دل میں چوہدری کے جذبہ  یقین سے حسد بھی محسوس ہوا کہ وہ “مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی” کی عملی تفسیر دکھائی پڑتا تھا۔اور دو چار مزید جملوں کے تبادلے کے بعد گھر کو چل پڑا ۔

بیگم کو دہی بہم پہنچانے کے بعد میں اپنے بستر پر جا لیٹا اور کمبل منہ تک تان کے بیگم کے اچانک چھاپے کے امکانات کو کم سے کم کرتے ہوئے جیب سے حکیمی تحقیقاتی مقالہ نکال لیا اور چیدہ چیدہ مندرجات پر تفکر کرتے ہوئے عالم استغراق میں چلا گیا۔ مندرجات کی نوعیت و نیت تو چوہدری والی ہی تھی بلکہ آپ سے کیا پردہ، میں ذہن میں خاندان میں دور پرے تک کی ادھیڑ عمر، بیوہ یا قریب البیوگی خواتین کی فہرست بھی مرتب کر رہا تھا جن کو نیو جرمن دوا خانے کے ٹیسٹ کیس کے طور پر کام میں لایا جا سکتا تھا تاہم حفظ ما تقدم کے طور پر میں نے بیگم کو بھی اوورہالنگ کے بعد فہرست میں شامل ہی رکھا کہ ساون ہرے نہ ہوں تو کم از کم بھادوں سوکھے نہ رہیں ۔ ۔

رات سونے تک میرے ذہن میں چوہدری مونچھیں مروڑتا، گھوڑے پر بیٹھا جلوہ افروز ہوتا رہا اور عالم تصور کی محویت کا یہ عالم تھا کہ دو بار تو مجھے گھوڑے کی دم اپنے منہ پر چابک کی طرح پڑتی محسوس ہوئی اور میں ہلکا سا اچھل کر رہ گیا۔
بیگم نے پہلے تو اس اچھل کود کو ناگواری سے برداشت کیا مگر جب میرے بار بار پہلو بدلنے سے کھاٹ نے راگ درباری الاپنے شروع کیے  تو وہ جھنجلا ہی گئی۔

” اے میاں!اگر قمیض میں جوئیں پڑ ہی گئی ہیں تو صبح حمام میں جا کر نہا آنا مگر ابھی تو یہ پنج کلی رقص بند کرو” مجھے اچھا خاصا لتاڑ کر اس نے حفظ ماتقدم کے طور پر کمبل کو اچھی طرح لپیٹا اور میرے ناتواں بدن پر دو عدد دیسی روئی کےصحت مند گاو تکیے  دھرے اور جب اسے یہ اطمینان نصیب ہو گیا کہ اب میں اچھل کود نہ سکوں گا تو ریل کے بدمست انجن کی طرح خراٹے بکھیرنے لگی۔ ۔۔

میں بھی آہستہ آہستہ خراٹوں کے سر سے سرمست ہوتا ہوا عالم تنویم میں جا پہنچا اور ایک عجیب منظر میں داخل ہو گیا ۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک چمن نہایت خوش منظر اور راحت آفرین ہے ۔سبزہ و گل امڈے پڑتے ہیں اور جھکی ہوئی سرسبز ٹہنیوں کے وسط میں ایک سفید براق سا سنگ مرمر کا تخت رکھا ہے۔ گمان ہوا گویا بہشت میں قدم رنجہ فرما لیا ہے۔ لشتم پشتم عازم تخت ہوا اور بیٹھنے کو ہی تھا کہ کسی جانب سے چوہدری اور بھتیجا دونوں نمودار ہوئے۔۔دل ہی دل میں سخت کبیدہ خاطر ہوا اور شکوہ کناں بھی کہ یارب معلوم نہ تھا بہشت میں بن مانس بھی پائے جاویں گے۔

چوہدری اور بھتیجے کو چار چار نازک انداموں پری چہرہ حسیناؤں  نے ایسے گھیر رکھا تھا جیسے ہمارے قومی اداروں کو بدنظمی و رشوت ستانی نے اپنی پناہ میں لے رکھا ہے۔
میرا دل پاتال کی گہرائیوں میں جا گرا۔۔میں بھتیجے کی جانب لپکا اور غیض سے کانپتے ہوئے بولا” بھتیجے! چوہدری سے تو کیا شکوہ کروں کہ اس سے دیرینہ چشمک ہے مگر تم تو دور پرے کے خون تھے۔۔؟؟جب یہ حسیناؤں  کی رجسٹریشن ہو رہی تھی تو تم نے مجھے خبر کیوں نہ کی؟ ؟معلوم ہوتا ہے تمہیں عدالت کے روبرو کرنا ہی ہو گا۔۔”

بھتیجا خرخرایا اور آنکھیں مٹکا کر بولا” چاچا جی ذرا بائیں جانب نظر ڈالیں ” میں نے گردن گھما کر دیکھا تو ایک مرنجاں  مرنج  سی شخصیت، آنکھوں پہ چشمہ اور کالا کوٹ زیب تن کیے بیٹھی تھی۔شکل کچھ کچھ جانی پہچانی معلوم ہوتی تھی مگر یاد نہ آتا تھا۔ “اے شتر بے مہار!! یہ بابا کون ہے آخر”؟؟ آخر بھتیجے سے ہی دریافت کیا تو وہ لمبے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے گویا ہوا” چاچا جی یہ سراپا رحمت ہیں، دنیا میں انہوں نے پھلوں سبزیوں اور مرغیوں کو خوب خوب انصاف دلایا ہے اور نتیجتاً  اس بہشت اور حوروں کے خصوصی پیکج کے حقدار ہوئے ہیں ” میں تھرا ہی گیا کہ منصف کے بارے ایسی گستاخی سرزد ہوئی مجھ سے؟؟ توبہ تلا کرتے ہوئے رازدارنہ انداز میں پوچھا”بھتیجے یہ تو بتاؤ  کہ ان حوران بہشت کے لباس فرنگیانہ اور مختصر کیوں ہیں؟ ؟

بھتیجے نے سر دھنتے ہوئے نعرہ مجذوب بلند کیا اور بولا ۔۔”چاچا جی ان کے ڈریس ڈیزائنر کو دنیا میں تقریر اور سکرٹ کی لمبائی بہت گراں گزرتی تھی ۔یہاں انہوں نے سوموٹو ایکشن لیتے ہوئے شعبہ لباس اپنی نگرانی میں لے لیا ہے اور اب کم خرچ بالا نشین سی زندگی ہے”

میرے رہے سہے حواس اور حوصلے پھر پھر کر کے اڑ گئے اور ایسی ایسی شخصیات کو اس چمن میں دیکھ کر میں نے واپسی کی ٹھانی۔ابھی ایک پاؤں  چمن کی دہلیز پر ہی تھا کہ کسی نے ٹانگ پکڑ  کر پیچھے کھینچ لیا ۔میں اوندھے منہ گرا اور اٹھنے کی کوشش کر ہی رہا تھا کہ چوہدری بھتیجا اور منصفین سر پہ آ پہنچے ۔”اب کہاں جاتا ہے اے مشت استخوان ” وہ ہنس رہے تھے اور ان کے ہاتھوں میں نیو جرمن دوا خانے کے اشتہارات کے پلندے تھے۔۔
میں بھاگنے کی غرض سے اٹھنے کی کوشش کرتے ہوئے ذرا کھسکا مگر میرا پیر نجانے کس شے کی گرفت میں آ گیا اور اب وہ لاکھ کوشش کرنے پر بھی آزاد نہ ہو رہا تھا۔ میں جھٹپٹا اور سٹپٹا رہا تھا میرے قریب آتے چوہدری ،بھتیجا اور منصف اب ہاتھوں میں تیز دھار اوزار لیے  ہوئے تھے اور بآواز بلند “آپریشن آپریشن ” کے نعرے لگا رہے تھے۔ حسیناؤں  کے ہاتھوں میں دستانے اور منہ پر ماسک تھے۔۔وہ آدم خوروں کی طرح میری طرف بڑھ رہے تھے اور میں پاؤں  آزاد کرانے کی کوشش میں ادھ موا سا ہو رہا تھا ۔عین اسی لمحے ایک چنگھاڑ سی میرے کانوں کو چھیدتی ہوئی گزر گئی اور زلزلہ سا برپا ہو گیا۔ منظر تیزی سے بدلنے لگا اور دو چار مزید ہچکولے کھانے کے بعد جب حواس بیدار ہوئے تو دیکھا کہ چارپائی سے آدھا لٹکا ہوا ہوں، ایک پاؤں  کمبل کی ادھڑی ہوئی پٹی میں پھنسا ہے اور اسے چھڑانے کی جدوجہد کرتے ہوئے میں بیگم کو جگانے کی گستاخی کر چکا ہوں ۔بیگم کی چنی چنی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا اور وہ مجھے کچا چبا جانے کے ارادے سے گھور رہی تھی۔ “اے اس عمر میں بھی تمہاری ہڈی کو چین نہیں پڑتا کیا؟؟ میں پوچھتی ہوں آخر تمہیں اس اچھل کود کا شوق کیوں لاحق ہو گیا ہے؟؟؟ ایسی لات جمائی ہے کہ کمر میں پٹاخہ پھوٹ پڑا ۔۔صاف کہے دیتی ہوں اگر باز نہ آئے تو کل سے پڑچھتی پہ سونا پڑے گا”۔۔

اس کی پاٹ دار آواز میں ایک تقریر دلگداز و سمع خراش وصول کرنے کے بعد میں نے اپنی چارپائی مخالف کونے میں گھسیٹ لی اور رات کا بقیہ حصہ کمبل کی ادھڑی ہوئی پٹی کی سلائی کرتے ہوئے صرف کیا۔

جاری ہے۔۔

مریم مجید
مریم مجید
احساس کے موتیوں میں تحریر کا دھاگہ پرو کر مالا بناتی ہوئی ایک معصوم لڑکی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”احوال ذلالت بطرز جدید چال چلن۔۔مریم مجید/قسط1

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *