کھیلوں کے مقابلے اور ایچ ای سی کا کردار ۔۔اے وسیم خٹک

پاکستان میں کھیلوں کی تباہی کی  ذمہ داری اگر میں تعلیمی اداروں سمیت ہائیر ایجوکیشن کمیشن   پر ڈالوں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہوگا ـ، تعلیمی اداروں پر اس لئے میں یہ ذمہ داری ڈالوں گا کیونکہ تعلیمی ادارے داخلے کے وقت تمام طلبہ سے سپورٹس کی مد میں پیسے وصول کرتے ہیں ـ اب ہر طالب علم سپورٹس میں حصہ تو نہیں لیتاـ کچھ کھلاڑی ہی کھیلوں میں حصہ لیتے ہیں ـ تعلیمی اداروں میں جو سپورٹس گالا  ہوتےہیں اس میں مجموعی طور پر سو کے قریب طلبا اور طالبات حصہ لیتے ہیں ـ جبکہ تعداد طلبہ کی ہزاروں میں ہوتی ہے ـ پھر ہائیر ایجوکیشن کمیشن ہر سال انٹر یونیورسٹیز کے مقابلے منعقد کراتی ہے جس میں زون وائز مقابلے کرائے جاتے ہیں ـ اور یہ مقابلے یونیورسٹیز کراتی ہیں، ـ جن کو ایچ ای سی اجازت دیتی ہے ـ اور ان کے لئے رقم مختص کی جاتی ہے جو کہ ایچ ای سی دیتی ہے ـ جن میں کھلاڑیوں کے لئے اور مہمانوں سیمت کوچز اور ٹیم منیجرز کو اعزازیہ بھی شامل ہوتا ہے ـ مگر اکثر ادارے اس رقم کا استعمال ٹھیک طرح سے نہیں کرتے۔ اس میں نہ کھلاڑیوں کے لئے کیمپ لگایا جاتا ہے ـ نہ ہی کھلاڑیوں کو اعزازیہ دیا جاتا ہے ،فوڈ سپلیمنٹ بھی مہیا نہیں کیا جاتا ،ـ جس سے کھلاڑیوں کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے ـ اور جب وہ مقابلوں کے لئے جاتے ہیں ـ تو وہاں بھی انہیں پریشان کیا جاتا ہے ـ ان کی رہائش کا کوئی معقول انتظام نہیں ہوتاـ اکانومی کلاس ٹکٹ اور کم اعزازیہ ان کے ساتھ مذاق نہیں تو کیا ہے ؟ــ

ہرسال یونیورسٹیوں میں کھیلوں کی انٹروسٹی مقابلے کرائے جاتے ہیں پنجاب اور سندھ کی یونیورسٹیاں جو پروگرامات منعقد کرتی ہیں ـ اس میں ہمیشہ سے ہی بے ترتیبی اور بد نظمی  نظر آتی  ہےـ اُن یونیورسٹیوں کے کرتا دھرتا اپنی چودھراہٹ قائم کیے  ہوئے ہیں ـ ، ـ اس لئے بہت سے مقابلوں میں وہ دو نمبر طریقوں سے کھلاڑیوں کو مقابلوں میں شامل کرتے ہیں جو نہ کلاس لیتے ہیں۔ ـ بس   صرف  ان  طلبا کے نام یونیورسٹیوں میں انرول کیے  جاتے ہیں جو ان کے لئے کھیلتے ہیں ـ یا پھر فیک ڈاکومنٹس سے انہیں مقابلوں میں حصہ دلاتے ہیں ـ جن کا نتیجہ کامیابی کی صورت میں ہی نکلتا ہے۔

ـ واضح رہے کہ پنجاب اور سندھ کی یہ یونیورسٹیاں خود تو دونمبری کرتی  ہیں مگر دوسرے صوبوں پر اعتراض کرنے میں پیش پیش ہوتی  ہیں ـ، خاص  طور پر پختونوں کے ساتھ ان کی دشمنی کھیلوں میں بھی موجود ہے ـ جس کا وہ ان مقابلوں میں مختلف طریقوں سے اظہار کرتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں جو مقابلے ہوتے ہیں ان میں تھوڑی بہت بہتری ہوتی ہے مگر اب فیک ڈاکومنٹس پر کھلاڑیوں کو مقابلوں میں حصہ دلانے  کا عمل  خیبر پختونخوا میں بھی شروع ہوچکا ہے ، جس کی روک تھام ضروری ہوگیا ہے ـ

گزشتہ ہفتے اسی سلسلے میں کراچی یونیورسٹی جانا ہوا جہاں بیڈمنٹن کے مقابلے ہونے تھے ـ کراچی یونیورسٹی چونکہ میزبان تھی تو ذہن میں تھا کہ اتنی بڑی یونیورسٹی ہے ـ اور سب اتنی دور دراز  سے آئے ہیں ـ تو خاطر خواہ انتظامات طلبہ اور  آفیشل کے لئے کیے گئے  ہوں گے ـ مگر  یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی  اور خیال آیا کہ اونچی دکان پھیکا پکوان والا   محاورہ ایسے ہی مواقع کے لیے وجود میں آیا ہوگا، ـ سٹوڈنٹس جو ملک کے کونے کونے سے ہزاروں میل کا فا صلہ طے کرکے آئے تھے ـ انہیں زمین پر لٹایا گیا اور ایک ایک کمرے میں پندرہ طلباء کو ٹھونسا گیا جس میں صرف انہیں تکیے فراہم کیے  گئے، باقی کوئی  اور چیز نہیں۔ ان تکیوں سے بھی ایک عجیب قسم کی بو آرہی تھی ـ یہ طلباء کھیلنے آئے تھے اور اپنی یونیورسٹیوں کے سفارتکار تھے ـ مگر جو رویہ وہاں اپنایا گیاـ اس پر ہائیر ایجوکیشن کمیشن پر افسوس کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا جاسکتا۔

اس پروگرام کے انعقاد   کے لئے جامعہ  کراچی نے ایچ ای سی سے لاکھوں کی رقم اینٹھی   ہوگی مگر خرچہ کچھ بھی نہیں ـ ۔کراچی جامعہ کی ڈائریکٹر سپورٹس جو کہ ایک خاتون ہیں ،ان سے بات کرنے کی کوشش کی ،لیکن ان کے رویے سے یوں  محسوس  ہوا کہ انہیں   بات کرنے  کی تمیز ہی نہیں ہے ،ـ بات سے مکر جانا ـ اور پختونوں کو مقابلے سے باہر کرانا کوئی ان  سے سیکھے، ـ بات بات پر وہ خود سے قوانین بناتی اور اس کو پھر لاگو کرتی  ہیں ـ کہ بس ٹیم آؤٹ ہوگی، ـ کیونکہ میں آرگنائزر ہوں میں جو کرنا چاہوں کرسکتی ہوں ـ کوئی روکنے والا نہیں، ـ کراچی یونیورسٹی میں انٹرورسٹی بیڈمنٹن مقابلے بدترین ماحول میں ہوئے جس میں خیبر پختونخوا کی ٹیموں کو باہر کیا گیا ناقص انتظامات کے باعث مقابلوں میں بدمزگی ہوئی مگر ایچ ای سی کو اوکے کی  رپورٹ پہنچ گئی  ہوگئی،ـ اگر ایسی ہٹ دھرمی ہر یونیورسٹی میں موجود ہے تو پھر سپورٹس کا خدا ہی حافظ ہےـ۔

سنا ہے کہ اب سپورٹس کی ترقی کے لئے قومی سپورٹس یونیورسٹی ایچ ای سی بنا رہی ہے ـ میری اتنی گزارش ہے کہ جن اداروں کو مقابلے منعقد کرانے کے لئے دیے  جاتے ہیں خدارا ان کا چیک اینڈ بیلنس بھی رکھا جائے ـ طلباء سے فیڈ بیک لیا جائے کہ ادارے جہاں سے وہ کھیلتے ہیں وہ انہیں کیا سہولیات دیتے ہیں ـ انہیں فوڈ سپلیمنٹ دیاجاتا ہے اُن کےلئے کیمپ لگایا جاتا ہے، جو پندرہ روزہ ہوتا ہے جہاں انہیں تربیت کے اسرار ورموز سکھائے جاتے ہیں ـ کیا انہیں دوسرے شہروں میں سہولیات دی جاتی ہے ـ جو مقابلے ہوتے ہیں اُن میں بے انصافی کی جاتی ہے یا میرٹ دیکھا جاتا ہے ـ ان کے لئے جو پیسے مختص کیے جاتے ہیں کیا وہ اُن پر لگائے جاتے ہیں یا سپورٹس کے کرتا دھرتا کھا جاتے ہیں ـ تب ہی کھیلوں کی ترقی ممکن ہے ورنہ یہ طلباء وطالبات یوں ہی ذلیل وخوار ہوتے رہیں گے اور کھیلوں کی مد میں ایچ ای سی اور تعلیمی ادارے پیسے بٹورتے رہیں گے !

اے ۔وسیم خٹک
اے ۔وسیم خٹک
پشاور کا صحافی، میڈیا ٹیچر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *