مہاتما گاندھی کی زندگی کے کچھ خفیہ گوشے۔۔محمدعبدہ

 چند دن پہلے مولانا آزاد کے مہاتما گاندھی بارے خیالات پر کتابوں سے کچھ ذکر کیا تھا جس  میں مولانا  آزاد  گاندھی بارے فرماتے ہیں۔ “گاندھی مجاہد فی سبیل الله ہیں اور بانفسھم و باموالھم کے جہاد مقدس سے گزر چکے ہیں۔حق و عدالت کا عجیب سپہ سالار ہے۔ عظیم شخصیت ، سچی رہنمائی ، انسانی فطرت کا روشن پہلو ، عظیم روح ہے۔ مہاتما گاندھی کی راہنمائی پر اعتماد بھی ایک تنہا راہنمائی ہے”۔

کچھ احباب نے فوراً گاندھی کی شان میں زمین آسمان ایک کرنا شروع کردیا تو سوچا کہ آج کی اس نسل کو تصویر کا دوسرا رخ بھی پیش کرنا چاہیے ۔ اس سلسلے میں یہ مضمون حاضر ہے۔

چند سال پہلے برطانیہ اور انڈیا میں تین کتابیں شائع ہوئیں ہیں۔ پہلی کتاب جان ایڈم کی گاندھی: نیکڈ امبیشن Gandhi Naked Ambition ہے۔ دوسری کتاب “گریٹ سول مہاتما گاندھی اینڈ ہز سٹرگل اِن انڈیا” پولٹزر انعام یافتہ مصنف جوزیف لیلیویلڈ نے لکھی ہے۔ دونوں کتابوں کا موضوع مہاتما گاندھی کے آشرم ہیں۔ جو اصل میں جنسی آشرم تھے۔ جبکہ تیسری کتاب “مہاتما گاندھی انگریز کے ایجنٹ تھے” ۔انڈین سپریم کورٹ کے سابق جسٹس مرکنڈے کاٹجو نے لکھی ہے۔

تینوں کتابوں میں تفصیل سے حوالہ جات کے ساتھ بحث کی گئی ہے۔ جان ایڈم نے “گاندھی نیکڈ امبیشن” میں مہاتما گاندھی کے برہنہ عورتوں کے ساتھ سونے کے علاوہ عجیب و غریب جنسی تجربات کو انتہائی عرق ریزی کے بعد اپنی کتاب میں سمویا ہے۔ گاندھی کی مادی اوردنیوی لذتوں کا احاطہ کرنے اور اُن کی جبلی اور تشنہ خواہشات کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ مہاتما گاندھی تالاب میں نہانے کے لئے نوجوان عریاں دوشیزائیں اپنے ساتھ رکھتے تھے وہ اپنے بدن پر عریاں خواتین سے مساج بھی کرواتے تھے اور بستر پر اپنے آشرم کی خواتین کے ساتھ بے لباس سونے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے۔ گاندھی کے ساتھ نہانے والی نوجوان خواتین میں ان کی سیکریٹری سوشیلا نائر کی اٹھارہ سالہ بہن کے علاوہ اُن کی اٹھارہ سالہ بھتیجی مانو بھی شامل تھی۔ آشرم میں رہنے والے کئی مردوں کی بیویاں بھی اس عمل سے گزری تھیں۔

ایڈم نے گاندھی کے ایسے جنسی عمل کو سٹرپ ٹیز کا نام دیا ہے، جو جنسی فعل سے مبرا تھے۔ ایڈم نے اپنی کتاب میں تحریر کیا ہے کہ بھارت کے ممتاز سیاسی لیڈر جواہر لعل نہرو، گاندھی کی ان حرکات سے خود کو دور رکھتے ہوئے ان کو ابنارمل قرار دیتے تھے۔ جوزف لیلیویلڈ کی کتاب “گریٹ سول مہاتما گاندھی اینڈ ہز سٹرگل اِن انڈیا” Great Soul:Mahatama Gandhi and his struggle with India ریاست گجرات سے شائع ہوئی۔ ابھی فروخت کے لئے  مارکیٹ میں نہیں آئی تھی کہ اس پر پابندی لگا دی گئی۔ جوزف لیلیویلڈ نے لکھا ہے کہ، گاندھی کا آشرم میں قیام قابل ذکر ہے جہاں ننگے لڑکے لڑکیوں کو اکھٹا سونے کی ترغیب دی جاتی تھی۔ عورتوں اور مردوں کو تنہائی سے منع کیا جاتا اور اگر جذبات پر قابو پانے میں مشکل ہوتی تو ٹھنڈے پانی سے نہانے کی ترغیب دی جاتی۔ البتہ انہوں نے خود ان اصولوں کی پابندی نہیں کی کیوں کہ ان کی جسمانی فزیشن کی بہن “سشیلا نیر” اپنی جوانی کے دور سے ہی گاندھی کے ساتھ رہی۔ وہ گاندھی کے ساتھ سوتی اور غسل کرتی تھی۔ جب گاندھی سے اس کا جواب مانگا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ اس دوران آنکھیں بند کر لیتے تھے۔

کتاب میں گاندھی کے ایک جرمن شخص کے ساتھ ”تعلقات “کا انکشاف بھی ہے۔ گاندھی کی سادگی کا  ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ یہ بھی کیا خوب ڈرامہ تھا سادگی اور بچت کا پرچار کرنے کے لئے  گاندھی ٹرین کی تھرڈ کلاس بوگی میں سفر کرتے تھے۔ یہ اور بات ہے گاندھی کے سفر کو محفوظ بنانے کے لئے  پورے ڈبے میں کانگریس کے خرچ پر ہندو کرم چاری سوار ہوتے تھے۔ گاندھی نے سادگی کا ناٹک بڑی خوبصورتی سے رچائے رکھا۔ وہ بکری کا دودھ پیا کرتے تھے جس کی خوراک میں بادام اور میوہ جات شامل تھے۔ یہ بکری بھی گاندھی کے ساتھ دنیا کی سیر کرتی رہی۔ برطانیہ کے کئی پھیرے لگائے۔ جسٹس مرکنڈے کاٹجو جو اپریل 2006 سے ستمبر 2011 تک سپریم کورٹ میں جج اور پھر پریس کونسل آف انڈیا کا چیئرمین رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی کتاب “مہاتما گاندھی انگریز کے ایجنٹ تھے” میں لکھا ہے ۔ گاندھی برطانوی ایجنٹ تھے جنھوں نے ہندوستان کوعظیم نقصان سے دوچار کیا۔ مذہبی، لسانی، نسلی، اور فرقہ ورانہ اعتبار سے ہندوستان انتہائی متنوع ملک ہے۔ اسی حقیقت کے پیش نظر برطانیہ نے ’ تقسیم کرو اور حکومت کرو‘ کی پالیسی اپنائی تھی (اس ضمن میں پروفیسر بی این پانڈے کی راجیہ سبھا میں کی گئی تقریر بھی ملاحظہ کی جاسکتی ہے)

سیاست کو ہمیشہ مذہبی رنگ دے کر گاندھی نے برطانیہ کی اس پالیسی کو تقویت بخشی۔ اگر ہم گاندھی کی عوامی تقاریر اور تحریروں کا مطالعہ کریں تو پتا چلتا ہے کہ 1915 میں جنوبی افریقہ  سے واپسی کے بعد 1948 میں اپنی موت تک انھوں نے ہر تقریر اور ہر مضمون میں ہندومت کی تعلیمات و تصورات جیسے رام راجیہ، گور کشا، برہمچاریا، ورناشرم دھرما وغیرہ کی ترویج کی۔ 10 جنوری 1921 کو ہفت روزہ “ینگ انڈیا” میں لکھا۔ ’’میں ایک سناتانی ہندو ہوں۔ میں ورناشرم دھرم اور گائے کی حفاظت پر ایمان رکھتا ہوں”۔ مرکنڈے کاٹجو لکھتے ہیں۔  گاندھی کے عوامی اجتماعات میں ہندو بھجن “رگھوپتی راگھو راجا رام” بہ آواز بلند پڑھا جاتا تھا۔ ہندوستان میں برطانوی راج کے خلاف انقلابی تحریک بیسویں صدی کے اوائل میں انوشیلن سمیتی جیسی تنظیم کی جدوجہد آزادی کا رُخ انقلابی سمت سے ’’ ستیہ گرہ‘‘ نامی بے ضرر اور بے معنی راستے کی طرف موڑ دیا۔ اس سے بھی برطانوی مفادات کو تقویت ملی۔

گاندھی قدامت پسندانہ معاشی نظریات کے حامل اور ترقی کے مخالف تھے۔ انھوں نے دیہی برادریوں کی خودانحصاری پر زور دیا۔ اسی  طرح  ان کا “گاندھی ازم” کا نظریہ بھی مکمل طور پر غیرعقلی اور عوام کو دھوکا دینے کے مترادف تھا۔ کچھ لوگ تقسیم کے وقت پھوٹنے والے نسلی فسادات کے سدباب کے لیے فسادزدہ علاقوں میں جانے پر گاندھی کی مدح سرائی کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے پہلے انھوں نے عشروں تک عوامی سیاسی اجتماعات میں مذہبی تعلیمات کا پرچار کرکے لوگوں کے دلوں میں آگ کیوں بھڑکائی۔ جس سے ہندوستانیوں میں مذہب کی بنیاد پر تفریق پیدا ہوئی۔ پہلے تو آپ خود آگ لگواتے ہیں اور پھر بھڑکتے ہوئے شعلے بُجھانے کا ڈراما کرتے ہیں۔ آخر میں اپنے قارئین سے  سوال کرتے ہیں۔ کیا وہ شخص جس نے سیاست کو مذہب کے رنگ میں رنگ کر برطانیہ کے مفادات کا تحفظ کیا ہو۔ وہ راشٹرپتا کہلائے جانے کے قابل ہے؟ مرکنڈے کاٹجو نے ملعون سلمان رشدی پر بھی تنقید کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ سلمان رُشدی کو مسلمان مخالفت میں غیرضروری طور پر سراہا جاتا ہے۔

Avatar
محمد عبدہ
مضمون نگار "محمد عبدہ" کا تعلق فیصل آباد سے ہے اور حالیہ کوریا میں مقیم اور سیاحت کے شعبے سے تعلق ہے۔ پاکستان کے تاریخی و پہاڑی مقامات اور تاریخ پاکستان پر تحقیقی مضامین لکھتے ہیں۔ "سفرنامہ فلپائن" "کوریا کا کلچر و تاریخ" اور پاکستانی پہاڑوں کی تاریخ کوہ پیمائی" جیسے منفرد موضوعات پر تین کتابیں بھی لکھ چکے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”مہاتما گاندھی کی زندگی کے کچھ خفیہ گوشے۔۔محمدعبدہ

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *