انسانی سمگلنگ۔۔۔ محمد عبدہ

انسانی سمگلنگ معاشرے کا ناسور ایک بار پھر پاکستان یورپ بھر میں خبروں میں سر ورق پر آگیا ہے اور یہ وجہ دہشتگردی نہیں بلکہ دہشتگردی جتنا ہی سنگین اور غلط کام ہے۔ لیبیا سے کشتیوں پر غیر قانونی طور پر یورپ جانے کی کوشش میں درجنوں پاکستانی سمندر میں ڈوب کر مر گئے ہیں۔ یہ پاکستانی دبئی اور ترکی کے راستے لیبیا جاتے ہیں جہاں سے ان کی اگلی منزل یورپ ہوتی ہے۔ روشن مستقبل کی تلاش میں نوجوان اپنی زمینیں مکان بیچ کر یا ادھار لے  کر انسانی اسمگلروں کو 12 سے 18 لاکھ دیتے ہیں۔ جو انہیں  دبئی اور ترکی میں اگلے ایجنٹ کو بیچ دیتے ہیں۔ غیرقانونی طریقے سے جاتے ہوئے اکثر تو راستے میں ہی مر جاتے ہیں یا ایجنٹ پکڑے  جانے کے ڈر سے انہیں سمندر میں پھینک دیتے ہیں  اور دونوں صورتوں میں  قیمتی  جان  کے ضیاع کے ساتھ پاکستان کی بدنامی کا باعث بھی بنتے ہیں۔ اگر کوئی بچ کر یورپ پہنچ جائے تو وہاں قیام کرنے کے لیے  پاکستان کے بارے انتہائی شرمناک جھوٹی کہانیاں سنائی جاتی ہیں۔ غیر قانونی طریقوں سے یورپ جانے والے یہ نوجوان زیادہ تر گوجرانوالہ، گجرات ،منڈی بہاؤالدین، لالہ موسی ،جہلم ،سیالکوٹ سے تعلق رکھتے ہیں۔

ان علاقوں میں کون سی جنگ ،خانہ جنگی، لسانی یا مذہبی لڑائی ہورہی ہے جس کی بنیاد بنا کر سیاسی پناہ کا جواز پیدا کرتے ہیں اور اس صورت میں بھی  دنیا میں پاکستان کو بدنام کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ جب یہ پاکستان کو چھوڑنے کے لیے  ہزاروں جھوٹ بولتے ہیں۔ پاکستان کو بدنام کرتے ہیں  اور لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں۔ تو پھر مشکل میں پھنسنے کے بعد واویلا کس بات کا مچایا جاتا ہے۔ الفاظ کچھ سخت ہیں لیکن اس طرح پاکستان کو بدنام کرتے ہوئے جو راستوں میں مر جاتے ہیں وہ کسی ہمدردی کے مستحق نہیں ہیں اور جو انسانی سمگلروں کی قید یا جیلوں میں بند ہیں وہ  کسی  مدد  کے لائق نہیں ہیں۔ انہیں وہیں رہنے دیا جائے یا پھر انہی کے خرچ پر پاکستان  لاکر سخت سزائیں دیتے ہوئے نشانہ عبرت بنایا جائے۔

یورپ کی طرح کوریا میں بھی انسانی سمگلنگ کا کام عروج پر ہے۔ دبئی کے راستے ہزاروں پاکستانی کوریا آرہے ہیں۔ اور پھر کوریا آ کر سیاسی پناہ کا جھوٹا ویزہ لیتے ہیں  اور یہ ویزہ لینے کے لیے  وہ پاکستان اور مذہب پر کیسے گھناؤنے جھوٹ بولتے ہیں وہ سن کر بھی شرم آتی ہے۔ اب یہ خبریں کوریا کے ٹی وی اور اخباروں میں بھی آنا شروع ہوگئی ہیں۔ کوریا  میں کون کون سے معزز  پاکستانی ایجنٹ بنے ہوئے ہیں یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ اس سارے معاملے میں حکومت پاکستان کا کردار بھی بہت افسوسناک ہے۔ انسانی سمگلنگ کا پاکستان میں کوئی موثر قانون نہیں ہے جو لولالنگڑا قانون موجود ہے اس پر بھی عمل درآمد نہیں ہوتا۔ انسانی سمگلر لوگوں سے کروڑوں روپے اکٹھے کرکے چند ایک کو منزل پر پہنچا کر اکثریت کو مار دیتے ہیں یا مرنے کےلیے چھوڑ دیتے ہیں اور پکڑے  جانے پر ان کروڑوں میں سے چند لاکھ دے کر چھوٹ جاتے ہیں اور کسی دوسرے شہر میں نئے نام سے پھر کام شروع کرسکتے ہیں۔ حکومت نے انسانی سمگلنگ کا بل دو بار پیش کیا لیکن اسے منظور کروانے کی توفیق نا ہوئی۔ ہنگامی بنیادوں پر یہ بل قانون بناکر نافذ العمل کیا جائے اور سخت سے سخت سزائیں رکھی جائیں۔ کیونکہ یہ صرف انسانی سمگلنگ ہی نہیں حوالہ اور ہنڈی کا کیس بھی ہے۔

قانون میں انسانی سمگلروں کو 5 سال کی بجائے عمر قید کی سزا ہونی چاہیے  اور جس انسانی سمگلر کے نوجوان مر جائیں اس پر قتل کی دفعہ بھی لگنی چاہیے۔ جو نوجوان غیرقانونی جاتے ہوئے مر جائے اسے واپس لانے کا تمام خرچہ اس کے خاندان سے وصول کیا جائے اور قانون توڑنے پر جرمانہ بھی کیا جائے۔ اسی طرح وہاں پھنسنے والے کو واپس لاکر پانچ سال کی سزا دی جائے اور اس کا اور ہر انسانی سمگلر کا پاسپورٹ ہمیشہ کے لیے  منسوخ کردیا جائے۔ ان انسانی سمگلروں کا پورا نیٹ ورک ہوتا ہے جو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی مدد سے چلتا ہے۔ اور بیرون ملک مقیم کوئی عام پاکستانی انسانی سمگلر نہیں بنتا بلکہ یہ کام وہی کرتے ہیں جو اس ملکوں میں خاص نام رکھتے ہیں۔ یہ بکنگ ایجنٹ ہیں۔ اور وصول کی گئی رقم کی غیرقانونی نقل وحرکت کرتے ہیں یا رقم کے ضامن ہوتے ہیں۔ ان کے خلاف ایکشن لینے سے انسانی سمگلنگ کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ اگر حکومت چاہے تو یورپ اور مشرق بعید کے ملکوں میں بنی ہوئی پاکستانی سماجی تنظیموں کی مدد سے انسانی سمگلروں کے اس نیٹ ورک کو ختم کرسکتی ہے۔

Avatar
محمد عبدہ
مضمون نگار "محمد عبدہ" کا تعلق فیصل آباد سے ہے اور حالیہ کوریا میں مقیم اور سیاحت کے شعبے سے تعلق ہے۔ پاکستان کے تاریخی و پہاڑی مقامات اور تاریخ پاکستان پر تحقیقی مضامین لکھتے ہیں۔ "سفرنامہ فلپائن" "کوریا کا کلچر و تاریخ" اور پاکستانی پہاڑوں کی تاریخ کوہ پیمائی" جیسے منفرد موضوعات پر تین کتابیں بھی لکھ چکے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”انسانی سمگلنگ۔۔۔ محمد عبدہ

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *