تاریخ تصوف از ڈاکٹر مصطفی حلمی مصری پر ایک نظر۔۔راجہ قاسم محمود/آخر ی حصہ

تصوف کے بطور ایک علمی نظم میں آنے کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے اول اسلام میں احکام شرعیہ مدون اور منظم نہیں تھے بلکہ احکام عبادات،معاملات اور عقائد کی صورت میں ملے جلے ہوئے تھے۔پھر ہر شعبے پر توجہ کی گئی علم شریعت کا جو حصہ ظاہری اور علمی احکام کے متعلق تھا تو فقہا نے فقہ اور اصول فقہ پر کتب تالیف کیں،ایسے ہی علم کلام،تفسیر،حدیث پر الگ سے کام ہوا،یوں ہی شریعت کے باطنی علم کو منظم کیا گیا اور اس مدون اور مرتب کرنے والے صوفیاء کرام تھے جس  میں مجاہدات،ریاضیات،مراقبات اور محاسبات کے بارے میں بتایا گیا۔مصنف کہتے ہیں کہ تیسری اور چوتھی ہجری کی تاریخ تصوف کے مطالعہ سے ایک لفظ جس کا استعمال بار بار ہوتا ہے وہ ہے “محبت” یعنی محبت الہی،ڈاکٹر حلمی کہتے ہیں کہ حسین بن منصور حلاج کا دور جب آیا تب ہم کو اتحاد،حلول،آثار باقیہ اور نفحات صادقہ جیسی باتیں نظر آتی ہیں۔مگر اس دور میں بھی صوٖفیا کی کثرت ایسی تھی جو کہ محبت الہی کو چشمہ ہدی سمجھتے تھے۔

تیسری اور چوتھی صدی کے چند اہم صوفیاء جیسے کہ حضرت سری سقطی جنہوں نے بغداد میں توحید و ورع کا جھنڈا گاڑا یہ ایک تاجر پیشہ تھے،بغداد میں حقائق،مقامات اور احوال کے متعلق سب سے پہلے آپ ہی نے بات کی، ایسے ابو حمزہ کوفی نے اصطلاحات صوفیا مثلا” صفا،ذکر،محبت،انس خداوندی اس طرح کے دوسرے مسائل پر باقاعدہ گفتگو کی ،ایسے حضرت معروف کرخی نے تصوف کی ماہیت اور نوعیت پر غور کرکے اس کو بیان کرنے کی کوشش کی ،ابو سیلمان درانی بھی ایک بڑے صوفی جن کا حب الہی مسلک تھا اور اس پر بہت سختی سے کاربند تھے،ایک اور بڑا نام حضرت حارث محاسبی کا ہے آپ نے حقائق کے منکشف ہونے اور معارف کی جلوہ گستری سے فیض یاب ہونے پر بات کی۔ایک اور اہم نام حضرت ذوالنون مصری ہیں انھوں نے تصوف کے احوال و مقامات بھی مرتب اور مدون کیے،ان کا اصول حیات یہ تھا

1. حب الخلیل (یعنی خدائے بزرگ و برتر سے بے پناہ عقیدت)
2. بغض القلیل (کسی سی خواہ وہ دشمن جان کیوں نا ہو کم سے کم بغض)
3۔اتباع التنزیل (قرآن کی صورت میں جو نازل ہوا اس کی مکمل اتباع)
4.خوف التحویل (انجام کا ڈر)

حضرت ذوالنون مصری نے اتباع سنت کی پیروی پر زور دیا اور کہا کہ اللہ اور آپ ﷺ سے عشق کی پہلی علامات ہی اتباع شریعت ہے۔آپ نے کہا کہ معرفت کی تین قسمیں ہیں
1. عوام مومنین کی معرفت: جو لوگ عقیدہ کے لحاظ سے خدا کو مانتے ہیں
2.متکلمین اور حکماء کی معرفت: جو لوگ عقل کی رہبری میں خدا کی معرفت حاصل کرتے ہیں
3. خواص اور مقربین بارگاہ الہی کی معرفت جو دل کی بصیرت سے رب کو پہچانتے ہیں۔

اس کے بعد ابویزید بسطامی قابل ذکر ہیں استغراق ذات،فنا،نفس اور اتحاد ذات کے جذبہ میں حد سے زیادہ بڑھ کر ان سے عالم جذب و سکر میں ایسے کلمات صادر ہوئے جن کو صوفیاء کی اصطلاح میں شطحیات کہتے ہیں جن کا ظاہری معنی ایمان کے لیے مضر ہوتا ہے۔آپ نے سکر(نشہ و مستی) کا لفظ استعمال فرمایا جس نے بعد میں تصوف پر گہرا اثر ڈالا آپ کے معاثرین میں سے یحیی بن معاذ بھی تھے جن کے بارے میں حضرت بایزید بسطامی نے فرمایا کہ اگر یہ رابعہ عدویہ کے زمانے میں ہوتے تو حب الہی میں ان سے بھی کہیں آگے بڑھ جاتے۔ایک اور بڑا نام حضرت جنید بغدادی کا ہے جنہوں نے مسلک سکر اور فنا سے ہٹ کر صحو (ہوشیاری) پر زور دیا۔آپ نے کہا کہ صحو کو سکر پر فضیلت حاصل ہے کیونکہ صحو میں شعور زندہ رہتا ہے جبکہ سکر میں عقل غافل ہو جاتی ہے۔آپ نے تصوف کی تعلیم و تدریس کو بھی اہمیت دی مگر اس کو لوگوں کے لیے عام نہیں کیا بلکہ خواص مریدین تک محدود رکھا جن کی فہم و ذکا اور دانش و حکمت پر ان کو بھروسہ تھا۔ایک اور بڑا نام علی بن موفق کا ہے تھا جنہوں نے رابعہ عدویہ کے مسلک حب الہی کو ایک نئی زندگی بخشی۔ایک اور اہم نام ابو صالح حمدون کا ہے جن کو ملامتیہ مسلک کا بانی کہا جاتا ہے ان کا کہنا یہ تھا یہ کافی ہے کہ بندے اور رب کے درمیان جو کچھ ہے کسی دوسرے کو ان کیفیات سے آشنا کرنا درست نہیں۔تیسری اور چوتھی صدی میں تصوف نے علمی و فنی لحاظ سے نشوونما پائی۔اس دور میں شیخ کے گرد مریدین کی جماعت بیٹھتی تھے اور مرشد ان کی راہنمائی کرتا اور برابر ان کو ہدایت اور راہبری کرتا۔

علم شریعت کی دو قسمیں علم ظاہر و علم باطن کا ذکر پہلے ہو چکا،ے۔ڈاکٹر مصطفی حلمی لکھتے ہے کہ ایک وقت ایسا آیا کہ جب فقہاء (علم ظاہر کے حاملین) اور صوفیاء (علم باطن کے حاملین) کے مابین اختلاف شدت اختیار کرگیا۔فقہاء کے نزدیک صوفیاء نےکچھ الہام اور وجدان کے نام پر ایسی باتیں کی جو احکام شریعت اور قرآنی تعلیمات کے سراسر خلاف ہیں۔اس پر انھوں نے صوفیا کی شدید مخالفت کی اس خلیج کو ان صوفیا نے ختم کیا جو کہ بیک وقت اہل ظاہر بھی تھے اور اہل باطن بھی،مگر صوفیا اور فقہاء کے درمیان موجود اختلاف اس وقت شدید ہو جاتا ہے جب منصور حلاج کی ذات پر بات آتی ہے۔

حلاج جید صوفیاء کرام سے فیض صحبت میں رہے جیسے کہ سہل بن عبداللہ تستری،عمرومکی اور جناب جنید بغدادی کے حلقہ تلمذ میں تھے۔ان کی شخصیت کا تعارف کراتے ہوئے مصنف لکھتے ہیں کہ ان کی طبعیت بیباک تھی،جو بات دل میں آتی اس کو زبان پر لے آتے،اپنے عقیدے اور مسلک کے حوالے سے بے لچک تھے۔ان پر سب سے پہلے سیلمان بن داؤد ظاہری نے فتوی لگایا جس پر یہ گرفتار بھی ہوئے اس کے بعد بھی یہ کئی دفعہ زنداں میں رہے بالاخر 309 ہجری میں ان کے متعلق آخری فیصلہ سنا دیا گیا کہ ان کی زندگی ختم کردی جائے۔انھوں نے “انا الحق” کا نعرہ بلند کیا جو کہ ان کا جرم بن گیا کہ یہ حلول کے قائل ہیں۔ان کی وفات کے بعد دو گروہ بن گئے ایک تو ان کو زندیق اور کافر کہتا تھا جن میں اکثریت علمائے ظوایر کی تھی جبکہ دوسرا گروہ ان کو ولی اللہ اور مقدس ہستی خیال کرتا تھا،مولانا روم اور شیخ فرید الدین عطار بھی ان سے عقیدت رکھنے والوں میں شامل ہیں۔مصنف نے حلاج کے کچھ اشعار نقل کیے ہیں جن سے بظاہر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ حلاج حلول کے قائل تھے جبکہ حلاج کے حامی حلاج کو اس الزام سے بری سمجھتے ہیں،بہرحا ل ایک بات کا دونوں جانب سے اتفاق پایا جاتا ہے کہ حلول کا نظریہ اسلام کے منافی ہے۔حلاج نے آپ ﷺ کی شان اقدس میں بھی لکھا ہے جس کے کچھ اقتباسات مصنف نے ان کی کتاب “الطواسین” سے نقل کیے ہیں۔حلاج لکھتے ہیں

“تمام علوم آپ ﷺ کے بحر علم کا قطرہ ناچیز تھے۔تمام حکمتیں آپ ﷺ کے سمندر کے سامنے ایک چھوٹی سی نہر تھیں۔تمام زمانے آپ ﷺ کے زمانے کے سامنے ایک ساعت سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے”
ایک اور جگہ لکھا
“حق آپ ﷺ کا وجود ہے اور آپ کے وجود ہی  سے  حقیقت نمودار ہوئی ہے،آپ ﷺ وصلت میں اول اور نبوت میں آخر تھے،آپ ﷺ حقیقت کے باطن معرفت کے ظاہر تھے”
حلاج کے بارے میں ڈاکٹر حلمی یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ وحدت ادیان کے قائل تھے وہ اسلام ،یہودیت اور عیسائیت میں کوئی فرق نہیں سمجھتے تھے،اور کہتے تھے کہ ان کے صرف نام جدا جدا ہیں مقصود اصلی ایک ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ فقہاء کے حلاج کے بارے میں شدید تحفظات تھے جس سے صوفیاء کے متعلق انھوں نے شدید رویہ اختیار کرنا شروع کردیا۔ معروف دیوبندی عالم مفتی رشید احمد گنگوہی نے فتاوی رشیدیہ میں منصور کو ولی لکھا ہے اور یہ بھی لکھا کے وہ معذور تھے اور ان پر فتوی کفر دینا بے جا ہے،ان کے باب میں مولانا گنگوہی لکھتے ہیں کہ سکوت کرنا چاہیے،مگر اس وقت دفع فساد کے لیے قتل کرنا ضروری تھا۔ اعلحضرت فاضل بریلوی بھی حلاج کو اولیا میں شمار کرتے ہیں۔

پانچویں صدی تصوف کی تاریخ کی اہم ترین شمار ہوتی ہے کیونکہ اس صدی میں صوفیاء اور فقہاء کے درمیان بڑھتی مخالفت کو ختم کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی جس کا سہرا امام غزالی کے سر جاتا ہے۔ابتداء میں امام غزالی کو بھی چند فقہاء کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا،اس مخالفت کی وجہ اس دور کے صوفیاء کے تعلیمات کا جو لب لباب تقلید سے آزادی،مکلفات شرعیہ سے احتراز اور بعض صوفیا کا اسماعیلیہ باطنیہ کے بعض عقائد سے امتزاج تھا۔امام غزالی کے لیے دوسری مخالفت ارباب علم الکلام والے تھے جو کہ پہلے سے ہی صوفیاء کے مخالف تھے۔

امام غزالی کی دعوت پر بات کرتے ہوئے مصنف کہتے ہیں کہ انھوں نے دین صحیح کی طرف رجوع کیا جائے،اور لوگ دین کا دامن پکڑ کر تصوف سے ربط پیدا کریں،کتاب و سنت کی اقتداء کے بغیر حصول معرفت اور تزکیہ قلب ممکن نہیں۔امام غزالی نے صوفیاء کی تعلیمات اور اذواق کو اہل سنت کے مسلک توحید کا جز بنایا اور ان کے درمیان ربط پیدا کرنے کی کوشش کی،امام غزالی کی بدولت فقہاء تصوف کی طرف مائل ہونے لگے،انہی کی وجہ سے پانچویں اور چھٹی صدی یجری میں تصوف کو وہ مقام ملا جو اس سے پہلے علمی و عملی طور پر حاصل نہیں ہوا تھا۔امام غزالی نے فلاسفہ پر بھی نقد کیا وہ جو عقل کو آخری حجت قرار دیتے تھے ان کے سامنے عقل کا عجز ثابت کیا،

امام غزالی کہتے تھے کہ ہر چیز کی ایک خاص حد اور اس کا خاص دائرہ ہے اسی طرح عقل کا بھی ایک دائرہ اور اس کی حد ہے،ایسے ہی وجدان کی بھی ایک خاص حد اور دائرہ ہے۔ان دونوں کی حدود الگ الگ ہیں۔اس لیے معرفت حق کے ادراک سے عقل عاجز  ہے وہ اس لطف و لذت سے آشنا نہیں ہے،ادراک حقیقت قلب و روح کا کام ہے جہاں عقل کا گزر نہیں۔ امام غزالی نے یہ بھی کہا ہر شخص اس کا مستحق نہیں جو علم باطن کو حاصل کرے ایک عام انسان کو قرآن اور حدیث پر ہی اکتفا کرنا چاہیے۔امام غزالی نے جہاں فقہاء کو تصوف کے قریب کیا وہاں آپ نے متکلمین کے دلائل کی کمزوری بھی آشکار کی۔چھٹی صدی ہجری میں اس کا نتیجہ سامنے آیا کہ بڑی تعداد میں صوفیاء کی جماعت وجود میں آ گئی مگر پھر مسئلہ  یہ ہوا کہ کچھ لوگوں نے علم کلام اور فلاسفہ کے مسائل تصوف میں خلط ملط کر دئیے،جس کے نتیجے میں نئی بحثیں ہونے لگیں جیسے کہ روح کے عوالم،صانع کی حقیقت،موجودات کی نوعیت و کیفیت کیا ہے؟

اس دور میں تصوف کے اندر کلامی اور فلسفیانہ رنگ سے نئے مسائل پر غور شروع ہو گیا،اس دور میں صوفیاء کے کلام میں قطب کا ذکر ملنے لگا،مصنف کا خیال ہے کہ قطب کا نظریہ اسماعیلیہ باطنیہ سے متاثر لگتا ہے۔قطب سے مراد وہ شخص ہوتا ہے جو علم و عمل میں کمال کی انتہا تک پہنچا ہوتا ہے اس کے درجے تک کسی کی رسائی نہیں ہو سکتی یہاں تک کہ اللہ تعالی اسے اپنے جوارح رحمت میں بلا لے،مصنف کہتے ہیں کہ یہ ہی نظریہ شعیہ حضرات کا اپنے “امام معصوم” کے بارے میں ہے۔قطب کے بعد صوفیاء ابدال کے قائل ہیں جیسے اہل تشیع کے ہاں امام کے نقباء ہوتے ہیں۔بہرحال  یہ مصنف کی رائے ہے جس سے یقینا” اتفاق کرنا مشکل ہے لیکن باطنیہ کے خیالات کی اس دور میں تصوف میں آمیزش قرین قیاس ہے کیونکہ کچھ معاملات میں دونوں کے درمیان کچھ اقدار مشترک ہیں۔

چھٹی اور ساتویں صدی ہجری کی کچھ اہم شخصیات میں ایک شیخ شہاب الدین سہروردی شیخ الاشراق (یہ سلسلہ سہروردیہ کے بانی شیخ شہاب الدین سہروردی سے علیحدہ ہیں) اہم شخصیت ہیں،حلب کے متعدد فقہاء سے آپ کے مناظرے ہوئے جس کی وجہ سے فقہاء کے ساتھ آپ کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہوگئے یہاں تک کہ آپ کی شکایت سلطان صلاح الدین ایوبی کو کی گئی،سلطان صلاح الدین کے بیٹے الظاہر نے آپ کو اپنے والد کے حکم پر قتل کرا دیا۔

مصنف کہتے ہیں کہ سہروردی کی کتاب “حکمتہ الاشراق” نے مسلمانوں کی فکر و تاریخ پر گہرا اثر ڈالا یہ کتاب نا تو خالص تصوف کی کتاب ہے نا ہی فقط فلسفہ کی بلکہ یہ دونوں کا امتزاج ہے،سہروردی نے کتاب کے آغاز میں ہی لکھ دیا ہے کہ ان کی کتاب صرف اسی طالب علم کے لیے ہے جو الہیت اور بحث دونوں سے سروکار رکھتا ہوں  ان دونوں میں سے کسی چیز کی کمی سے یہ کتاب  اس کے لیے  بے معنی ہوجائے گی۔فلسفہ اور تصوف کے امتزاج  کی  دوسری شخصیت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی کی ہے آپ نے 560 ہجری میں اندلس میں پیدا ہوئے،حدیث اور فقہ میں غیر معمولی ادراک حاصل کرکے اپنے زمانے کے ممتاز اصحاب میں شمار ہوتے تھے،ان کی ذات مسئلہ  “وحدت الوجود” کے بارے میں خصوصی شہرت کی حامل ہے جس کی وجہ سے کئی فقہاء نے آپ کی تکفیر بھی کی اور آپ کی وفات کے بعد بھی کئی فقہاء آپ کی تکفیر کرتے رہے جن جن میں بالخصوص شیخ ابن تیمیہ اور علامہ برہان الدین البقاعی قابل ذکرہیں۔

بالخصوص علامہ بقاعی جنہوں نے نظم قرآن پر بہت وقیع کام بھی کیا تھا نے علامہ ابن عربی کے معاملے میں بہت شدت دکھائی اور ان کے خلاف کتابیں لکھیں۔ایسے ہی کئی جلیل القدر فقہاء،محدثین و صوفیاء نے شیخ اکبر کا دفاع بھی کیا جن میں امام رازی،علامہ سیوطی،شیخ شہاب الدین سہروردی،قطب الدین حموی قابل ذکر ہیں۔مسئلہ  وحدت الوجود ایسا مسئلہ  ہے جس کو سجھنے سے تاحال میں قاصر ہوں اس کے اوپر علما کی کچھ وضاحتیں گوکہ نظر سے گزری ہیں مگر اپنی کم علمی کی وجہ سے ان کا مفہوم بھی مجھ  پر واضح نہیں ہوسکا۔

مصنف کے بقول شیخ اکبر بھی وحدت ادیان کے قائل تھے جیسے کہ حلاج قائل تھے کہ ہر دین کی حقیقت ایک ہے،میرا گمان غالب ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو اس معاملے میں مغالطہ لاحق ہوا ہو گا اور شیخ اکبر کی کتب کے بارے میں یہ بات بھی پائی جاتی ہے کہ اس میں کچھ الحاقی باتیں بھی شامل ہیں ہو سکتا ہے یہ نظریہ بھی ان ہی میں سے ہو۔شیخ اکبر کے ایک اور نظریہ “حقیقت محمدیہ” بارے میں مصنف لکھتے ہیں کہ حقیقت محمدیہ کے بارے میں وہ دو لفظ استعمال کرتے ہیں کبھی قطب اور کبھی روح خاتم،یہ کمالات علمیہ و عملیہ کا قدیم ترین منبع ہے،حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آپ ﷺ تک یہی حقیقت،جو حقیقت محمدیہ کے رنگ میں جلوہ گر رہی ہے اور آپ ﷺ کے بعد اس کا وجود آپ ﷺ کی پیروی کرنے والےمیں نظر آتا ہے۔مصنف نے شیخ الاشراق اور شیخ اکبر کے بعد شیخ عمر بن الفارض اور شیخ عبدالحق بن سبعین کا مختصر ذکر کیا یے جو کہ صوفی ہونے کے ساتھ ساتھ بہت بڑے فلسفی بھی تھے،دوںوں حضرات نے ذات الہی کو اپنی محبت موضوع بنایا ہے

کتاب کے آخر میں مصنف کہتے ہیں کہ ساتویں صدی ہجری کے بعد تصوف کے باب میں وہ کچھ اضافہ نا ہو سکا جو پہلے ہو رہا تھا گوکہ بعد میں بھی کئی جلیل القدر صوٖفیاء جیسے کہ شیخ عبدالکریم الجیلی،امام عبدالوہاب شعرانی،عبدالغنی نابلوسی نظر آتے ہیں مگر جو روایت متقدمین چھوڑ گئے تھے یہ اس کو آگے نہ  بڑھا سکے یوں تصوف انحطاط پذیر ہوگیا۔مصنف نے برصغیر کا ذکر نہیں کیا حالانکہ شیخ مجدد الف ثانی جیسا بڑا نام لازمی ذکر کرتے ویسے کتاب میں بالعموم ہند و پاک کے صوفیاء کرام کا ذکر نہیں ملتا جس میں کئی قد آور شخصیات کا ذکر رہ گیا ہے جیسے کہ خواجہ اجمیرؒ اور ان کےفیض یافتہ خلفاء اور ان کے وابستگان،یوں ہی داتا علی ہجویریؒ اور ان کی کتاب کشف المحجوب کا مقام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔اس کے علاوہ ایک اور اہم ہستی شیخ عبدالقادر جیلانی کے ذکر سے بھی یہ کتاب خالی ہے حالانکہ ان کا علمی و روحانی مرتبہ تصوف اسلامی میں بے مثال ہے۔یوں ہی تصوف کے لٹریچر میں ایک نمایاں کتاب “الرسالہ” اور اس کے مصنف امام ابو القاسم قیشریؒ کے ذکر کی بھی کمی محسوس ہوتی نظر آتی ہے۔

مگر مصنف کی اس بات سے انکار شاید مشکل ہے کہ تصوف میں انحطاط آگیا۔اب خام صوفیاء کے غلبے نے تو اس کو مزید  زوال پذیر کردیا ہے۔ گو کہ اس بات کا انکار مصنف کو بھی نہیں کہ ہر دور میں ایسے صوفی موجود رہے ہیں جو کہ ذاتی خوبیوں اور کمال کے حامل ہوتے ہیں اس کی سب سے بڑی مثال پیر مہر علی شاہ گولڑوی ہیں جنہوں نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے بے مثال اور لازوال کام کیا ہے۔انفرادی سطح پر صاحب کمال لوگوں کا وجود رہا ہے مگر تصوف کا اجتماعی نظام اصلاح کا شدید طلب گار ہے اور اس کے لیے مستند علما و مشائخ کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

لنک قسط 1 https://www.mukaalma.com/21113

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *