“میرا داغستان جدید” ناصر عباس نیر/تبصرہ-محمد نصراللہ

ہر آدمی کا اپنا “داغستان”(علاقہ) ہوتا ہے، ایک اپنا “سدا” (گاؤں) اور ایک اپنی زبان ( آوار) بھی۔ ہر آدمی کی دنیا میں کوئی “حمزہ” تو کوئی نہج کوئی “ابو طالب” (دوست) بھی ہوتا ہے۔ کوئی مانے نہ مانے ہر آدمی کی دنیا میں کسی نہ کسی صورت میں ایک یا بعض اوقات ایک سے زیادہ رسول ( رہنما، ہادی، حقیقی دوست) بھی ہوتے ہیں۔ جو اپنے باہر کچھ دوستوں کو پہچان لیتا ہے، کسی مقام پر جاکر وہ اپنے اندر کے دوست، اپنے رہنما، اپنے حمزہ کو بھی ڈھونڈ لیتا ہے۔

ہر آدمی اپنا داغستان، اپنا سدا، اپنی زبان ہونے کے باوجود بھی، ضروری نہیں کہ اپنے داغستان کو دیکھ، سن پائے اور پھر اپنے دیکھے، سنے اور محسوس کیے ہوئے جہان کو لکھنے کے قابل بھی ہوسکے۔

رسول حمزہ توف کے “میرا داغستان” کے بعد ناصر عباس نیر نے اپنے زمانے، اپنے داغستان جدید کو دیکھا۔ ہر وہ آنکھ جدید ہوتی ہے جو اپنے دیکھنے، سننے اور محسوس کرنے کے عمل کے دوران میں پوری طرح سے دیکھتی، سنتی اور محسوس کرتی اور پھر اپنے دیکھے، سنے اور محسوس کیے گئے تجربے پر کلی طور پر بھروسا کرتی ہے۔

ناصر عباس نیر سراسر یا یوں سمجھ لیجیے کہ مطلق العنان، جدید نہیں ہیں۔ وہ قدیم بھی ہیں۔ ان معنوں میں کہ وہ اپنی دنیا کے ماضی، روایت، تہذیب اور اقدار سے بھی ایک رشتہ محسوس کرتے ہیں؛ تاہم وہ روایت پرست نہیں ہیں، کلی طور پر روایت شکن بھی نہیں ہیں۔ وہ ایک طرح سے روایت دوست ہیں اور اسی روایت سے دوستی کا رشتہ نبھاتے ہوئے وہ اپنے داغستان کو بھی اپنے نظر سے دیکھتے، سمجھتے اور اس سے ایک اپنا رشتہ استوار کرنے اور پھر اس رشتے کو لکھنے کی جستجو کرتے ہیں۔ ” میرا داغستان جدید” کے ایک باب میں لکھتے ہیں:

” میں نے کئی بار محسوس کیا ہے کہ میں نے جس سے ایک لفظ بھی سیکھا ہے، وہ مجھے، اپنے ابا حمزہ کا بھائی لگا ہے۔ میں نے دل میں اس کے لیے گہرا احترام محسوس کیا ہے۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ میرے ابا حمزہ کے بھائیوں کا شمار ہی نہیں ہے۔”

ایک داغستان آدمی کے اندر ہوتا ہے: انسانی رشتوں اور ان رشتوں سے جڑی ہوئی یادوں اور ان رشتوں سے متعلق پہلے سے موجود تصورات کی صورت میں، اور ایک داغستان حقیقت میں باہر موجود ہوتا ہے۔ اپنے اندر ایک اپنا داغستان بنانے، بسانے، اور اسے بسائے رکھنے کی راہ میں کئی آزمائشیں آتی ہیں۔ ناصر عباس نیر بھی ان آزمائشوں کو محسوس کرتے ہیں۔ وہ تصور اور حقیقت کے دونوں علاقوں، دونوں داغستانوں (تصوراتی اور حقیقی) سے تعلق کو محسوس کرتے ہوئے ان دونوں دنیاؤں میں تضاد محسوس کرتے ہیں، اسی تضاد کے احساس سے، ان کے خیال کے مطابق ان کی اس کتاب کے لکھنے کا آغاز ہوا:

” اس کتاب کا آغاز زندگی کے ایک بنیادی تضاد کے احساس سے ہوا۔ دعوے اور حقیقت کا تضاد۔ انسانی رشتوں سے متعلق دعووں اور حقیقت کا تضاد۔ ”

انسانی رشتوں سے متعلق یہ تضاد کوئی معمولی تضاد نہیں ہے۔ یہ تضاد ایسا تضاد بھی نہیں ہے کہ جس کا ایک فرد کو اپنی زندگی میں بالکل ہی تجربہ نہ ہوا ہو۔ یہ تضاد کس قدر الجھا کے رکھ دینے والا تضاد ہے کہ ایک آدمی اپنے تشکیلی تصور میں جن رشتوں کو اپنا بہت اپنا سمجھنے کا دعوی کرتا ہو؛ حقیقت میں، عملی طور پر وہ ان رشتوں کو اپنا نہ محسوس کر پاتا ہو۔

ناصر اس تضاد کو رسول حمزہ توف کے داغستان میں حل ہوتا ہوا محسوس کرتے ہیں کہ توف کے داغستان میں انھیں رشتوں کے تصور اور ان کی عملی صورتوں میں ہم آہنگی ملتی ہے؛ ناصر اس ہم آہنگی کے احساس کا اثر قبول کرتے ہیں؛ مگر وہ اس ہم آہنگی کے سلسلے میں روح کو چبھنے والے یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ کیا یہ ہم آہنگی ممکن بھی ہے اور کیا اسے برقرار بھی رکھا جا سکتا ہے؟ پیش لفظ میں اٹھائے گئے یہ سوال قاری کے اندر ناصر کے داغستان کو پڑھنے کی تڑپ پیدا کرتے ہیں۔

ناصر عباس نیر کا رسول( افسانوی کردار، جو مصنف کی حقیقی یاد داشتوں کو بیان کرتا ہے) اپنے ” داغستان” کو دیکھنے کے سفر کے دوران میں باہر کی دنیا کے تضادات کو بھی اپنے اندر محسوس کرتا ہے اور رسول اپنے اندر کے باہر کی دنیا کے ساتھ تناسب، باہمی تعلق اور اتحاد کو دیکھنے اور پھر اس اتحاد کو اس پوری کتاب میں لکھنے کے تجربے سے بھی گزرتا ہے۔ یہ دونوں تجربے: ہم آہنگی اور تضادات کے مشاہدے کے تجربے، ” میرا داغستان جدید” کا رسول مختلف صورتوں میں لکھتا ہے۔

رسول اس کتاب کے لکھنے کا آغاز اپنے خون میں لکھے ہوئے ناموں کو دیکھنے سے کرتا ہے۔ وہ اپنے لہو میں لکھے ہوئے جن ناموں سے ہم آہنگی کا رشتہ محسوس کرتا ہے ان میں ایک نام اس کے ابا کا نام، دوسرا ایک پاریکھ کا، تیسرا ایک گلوکارہ کا، چوتھا شاعر کا اور پانچواں ایک مغنی کا ہے ۔ رسول کے خون میں لکھے سارے نام فنکاروں کے نام ہیں۔ ان سب فنکاروں میں ایک پہلو مشترک ہے۔ سچائی ، انکار اور جرات کا پہلو۔

اس سچائی، انکار اور جرات کا ساتھ نبھانے کا احساس کیا احساس ہوتا ہے۔ ۔ رسول کی زبانی محسوس کیجیے:

” مجھے یہ کہنے میں باک نہیں کہ جس لمحے وہ ایک جابر حاکم کے سامنے، انکار کرتے ہیں اس لمحے وہ ایک بے مثل نور کو اپنے خون اور سانسوں میں رواں محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔”

رسول اپنے داغستان میں اپنے خون ہی کو نہیں دیکھتا، وہ اپنے دوست ابو طالب کے زخم کے خون کو بھی محسوس کرتا ہے۔ وہ اس کی کہانی بھی اس کی زبانی سنتا ہے۔ رسول سنتا ہے۔ وہ ابو طالب کی زبانی ہم آہنگی ہی کی نہیں، تضاد کی کہانی بھی سنتا ہے۔ دوستی کے دعوے اور حقیقت کے تضاد کی کہانی:

” مجھے اپنا ایک پرانا دوست اپنی طرف آتا دکھائی دیا۔ میں سمجھا کہ اس نے میرے زخم سے بہتے خون کی بو محسوس کی ہے، اس لیے وہ دور سے دوڑتا ہوا آیا ہے۔ میرے اس دوست نے مجھے دور سے سلام کیا اور آگے بڑھ گیا۔”

” وہ سوچتا، جن لوگوں سے آدمی نے بھلائی کی ہوتی ہے، ان کے دل اسی آدمی کے لیے، ٹھیک اس لمحے کیوں سخت ہو جایا کرتے ہیں، جب آدمی کو ان کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے؟”

رسول اپنے ابا کی زبانی تیمار داروں کے رسمی اقوال کے باطن کے تضاد کی حقیقت کا بھی سامنا کرتا ہے:

” مریض کا حال پوچھا نہیں، دیکھا جاتا ہے۔”

رسول شاعر ہے؛ مگر وہ صرف شاعر ہی نہیں ہے، وہ قصہ گو، فلسفی، دانشور اور ماہر نفسیات بھی ہے۔ وہ دیکھنا، سننا، پرکھنا جانتا ہے۔ وہ ہر طرح کی صدائیں سنتا ہے؛ مگر ٹوٹے ہوئے دلوں کی صدائیں زیادہ غور سے سنتا ہے:

” ٹوٹے ہوئے دل کی دو صدائیں ہوتی ہیں۔ ایک اس دل کی اپنی، خالص صدا۔۔۔۔شکستہ دل کی دوسری صدا، آدمی کی اپنی ناکامیوں کی بازگشت ہوتی ہے۔ شکستہ دل آدمی ، اکثر پہلی صدا میں دوسری صدا کی آمیزش کر لیا کرتا ہے۔ وہ سچ میں دروغ ملا لیتا ہے۔ ”

رسول کے داغستان میں کئی کردار ہیں۔ انسان بھی، جانور، درخت پرندے اور حشرات بھی۔ رسول کے داغستان میں کئی جگہیں، کئی موسم، کئی آوازیں، کئی کھانے پینے کی اشیا ہیں۔ رسول ان سب چیزوں سے اپنا ایک ذاتی، حسی و تجرباتی تعلق محسوس کرتا ہے۔ اسی لیے رسول اس پرانے سنسار، اس پرانے داغستان میں کچھ نیا دیکھ سن پاتا اور اپنے اندر اس نئے دیکھے بھالے سنسار کے اظہار کا جذبہ پاتا اور پھر ایک نیا داغستان تخلیق کرپاتا ہے۔

رسول حمزہ توف کی کتاب ” میرا داغستان” اور ناصر عباس نیر کی کتاب ” میرا داغستان جدید” پڑھ کر دونوں کتابوں میں پائی جانے والی تھوڑی بہت فکری و فنی مماثلتوں اور ان کتابوں میں پائے جانے والے زیادہ فرق پر بھی رکا جا سکتا ہے۔ ( مثلا یہ کہ ناصر نے کتاب کا نام رسول کی کتاب سے لیا ہے، کردار بھی رسول کی کتاب سے لیے ہیں، ناصر کا رسول بھی شاعری کرتا یے، سچے شاعر اور سچی شاعری کی عظمت کی باتیں کرتا ہے، سچے اور جھوٹے فنکاروں میں فرق بیان کرتا ہے، فنکاروں اور کسانوں کی زندگیوں کے فرق کو محسوس کرتا ہے، سچے اور جھوٹے فنکاروں سے متعلق طاقت وروں کے ردعمل بیان کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کی سب باتیں ناصر کی کتاب سے متعلق خارجی باتیں ہیں۔ فنی طور پر ناصر کی کتاب کا ” لباس” اور طرح کا لباس ہے۔ فکری و محسوساتی طور پر بھی ناصر کی کتاب کا ذائقہ اور طرح کا ذائقہ ہے۔ )

اگر ہم دونوں کتابوں کے فرق اور مماثلتوں کے جھنجھٹ میں پڑگئے تو دونوں کتابوں کے الگ الگ ذائقے کو الگ الگ طور پر محسوس کرنے سے محروم رہ سکتے ہیں۔

بہ طور قاری رسول حمزہ توف کی کتاب ” میرا داغستان” کے ساتھ اور ناصر عباس نیر کی کتاب ” میرا داغستان جدید” کے ساتھ راقم کا الگ الگ طرح کا رشتہ قائم ہوا۔ ان دونوں کتابوں سے تعلق کی بابت اپنی یادداشت پر نظر دوڑاتا ہوں تو رسول حمزہ توف کی کتاب کے واقعات، اس کی مثالیں، اس کی تشبیہات، اس کے اسلوب کی آہستہ روی یاد آتی ہے؛ جبکہ ناصر عباس نیر کی کتاب کے ابواب کے عنوانات، ان عنوانات میں موجود افکار اور اقوال اور نظموں کو پڑھنے کے بعد ان کا دل میں رہ جانے والا احساس اور یہ یاد کہ ناصر کی کتاب کے ابواب کا آغاز کبھی کسی سوال سے اور کبھی ایسے بیان ہوتا ہے جو بیان آدمی کو پورے باب کے ساتھ بہائے چلا جاتا ہے اور کبھی اس باب کے وسط میں اور کبھی اختتام کے آس پاس اس باب میں کچھ ایسی لہریں پیدا ہوتی ہیں جن میں آدمی کچھ دیر کے لیے جذب ہو کے رہ جاتا ہے اور یہ جذب کی یاد ایک احساس کی صورت میں آدمی کی یادداشت کا جزو بن کے رہ جاتی ہے۔ ظاہر ہے جذب کی یاد یا جذب کا احساس محض لفظوں اور جملوں کی شکلوں سے پیدا نہیں ہوتا، ان افکار و خیالات سے پیدا ہوتا ہے جو آدمی کی داخلی دنیا میں ترتیب پاتے ہیں۔ ناصر عباس نیر اور رسول حمزہ توف کی کتابیں پڑھتے ہوئے قاری ان مصنفین کے داخل کے نظم و آہنگ ہی کو محسوس کرنے کا تجربہ نہیں کرتا؛ بلکہ اس احساس کے علاوہ بھی وہ اپنی جھولی میں اور بہت کچھ پاتا ہے۔ ان دونوں کتابوں کے سینے میں قیمتی شے، دانائی ہے؛ مگر دونوں کا رنگ، دونوں کی پڑھت کا احساس جدا جدا ہے۔ کسی کتاب سے متعلق اپنے احساسات کو شاید ہی بیان کیا جا سکتا ہو؛ ہاں مگر کسی کتاب سے اس کے خیالات ضرور بانٹے جا سکتے ہیں۔

” مضطرب اور خوف زدہ شخص کسی اخلاقی اصول کو نہیں مانتا، اسے جھوٹ، جھوٹ نہیں، اپنی بقا کا اصول نظر آتا ہے۔”

” مکمل جینا مکمل خود انحصاری ہے۔”

” مکمل بے رحمی کا عقیدہ ہے کہ دنیا وجود سے خالی جگہ ہے۔ یہ اشیا سے بھری ہے۔ جنھیں ہم وجود سمجھتے ہیں وہ بھی اشیا ہیں۔ ”

” ہر وہ شخص جو کچھ بھی اثر اور طاقت رکھتا ہے، طفیلیے اس کا رخ کرتے ہیں۔ ”

” ایک آدمی کے وجود کے نور کا دشمن، دوسرے آدمی کے وجود کی تاریکی ہوا کرتی ہے۔”

” زبان سے آزادی کا ایک اہم قدم یہ جاننا ہے کہ یہ دنیا، زبان کے بغیر وجود رکھتی تھی اور رکھتی ہے۔ زبان کے بغیر دنیا کو اس کی اصلی صورت میں دیکھا اور جانا جا سکتا ہے۔ اجنبی دنیا کو اجنبی دنیا کے طور پر دیکھا اور اس کے ساتھ رہا بسا جا سکتا ہے۔ ”

” جب ہم کسی کی مکمل بات واقعی سن لیتے ہیں تو پھر ہم اپنی مکمل بات کہنے کے بھی قابل ہو جاتے ہیں۔”

” جب آدمی کسی راستے پر آنکھیں بند کرکے سفر کرنے لگے تو اسے نیا راستہ تلاش کرنا چاہیے۔”

” جس نے ایک بار زخم دیا، وہ دوسری بار بھی زخم دے گا۔”

” جو ہواؤں کے مخالف رخ چلتا ہے، لوگ اسے عزیز جانتے ہیں۔ ہواؤں کے ساتھ چلنے والے، عافیت پسند اور مصلحت پسند ہوتے ہیں؛ وہ کتنے ہی کامیاب سمجھے جائیں، لوگوں کے دلوں میں جگہ نہیں بنایا کرتے۔ ”

” ہر لمحہ، ہم تاخیر کے اذیت ناک احساس میں مبتلا ہیں۔”

“ہم ٹھہرنا، بیٹھنا ، چلنا بھول گئے ہیں۔”

” میرے عزیزو، آدمی کا کام ہی اس کا رہنما ہوا کرتا ہے ”

” اس سے زیادہ بدنصیب کوئی ہو سکتا ہے، جس کے پاس ، اور سب کچھ ہو، اس کے اپنے آنسو ہوں، نہ اپنے خواب، اپنا لہجہ ہو، نہ اپنی کوئی منشا۔”

” آدمی کی اپنی نظر بھی ایک جگہ ہے۔ کچھ اپنی ہی نظر میں رسوا ہو جایا کرتے ہیں۔”

” صلاحیت، فطرت کی طرف سے ہے؛ استحقاق و امتیاز، آدمی کے خون جگر سے ہے۔ “

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply