گھر کی پکی کہانی۔
ہم اکثر کہانی گھر پر ہی پکا لیتے ہیں۔
کبھی دور سے جا کر لے آتے ہیں۔
دور جزیروں سے اٹھا لاتے ہیں ادھ پکی ایک کہانی
مگر اسے پکانا تو گھر پر ہی ہوتا ہے۔
کبھی کبھی آرڈر دے دیتے ہیں۔
اور نارسسٹک کہانی کھالیتے ہیں۔
آرڈر سے منگوائی کہانی کھاتے کھاتے
سب بے مزہ سے ہوگئے ہیں۔
بازاری کہانی بیمار کہانی۔
بھیڑ چال کی کہانی۔
گھر کی پکی کہانی انوکھی ۔
خون جگر سے پکی کہانی۔
سچی کہانی۔
جو پیٹ کے توے پر بنتی ہے۔
پیٹ پر بیتی کہانی۔
بہت تونگر ہوتی ہے؛
اسی لئے دیر سے ہضم ہوتی ہے۔
پھر یہ بھی تو ہے کہ
اکثر لوگوں کو گھر کی کہانی کھانے پر شرم آتی ہے۔
وگرنہ
اصل کہانی تو وہی ہوتی ہے۔
منفرد ذائقے کی ۔
اور ایک گھر کی پکی کہانی
سے زمانے بھر کے لوگوں کا پیٹ بھرتا ہے۔
ایگو سیر ہو کر کھاتی ہے۔
اور مطمئن رہتی ہے۔
گھر کی پکی کہانی سے۔
شرم کس بات کی؟
ہم سب انسان ہیں۔
پیٹ پر پکی ہی تو کھاتے ہیں۔
مگر تب جب
بڑا دل ہو تو پکتی ہے
گھر کی کہانی۔
وہ سچی بھٹیارن گھر پر کہانیاں پکاتی تھی۔
پیٹ کے توے پر۔
۔۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں