دل شبِ انبساط سے گزرا(حصہ اوّل)۔۔صائمہ نسیم بانو

شہریار یوسفِ ثانی تھا، مردانہ وجاہت کا شاہکار تھا، یونانی ایراس دیوتا، محبت کا دیوتا، اپنے کنٹری سائیڈ ہیملٹ کی تمام حسیناؤں کی دھڑکن روک دینے پر قادر، قادر الکلامی پر سند، حسن کو چانچنے، پرکھنے، پا لینے اور سنبھالنے کے ڈھنگ سے آشنا، اس کنٹری سمال ٹاؤن میں حسن والوں سے ایسا حسین معاملہ کرنے کا سلیقہ شاید ہی کسی اور کو آتا ہو۔ شہریار فنِ لطیف، ادب عالیہ، تہذیب، موسیقی، ردھم، رقص، گیت، سنگیت، سُر، تال، رامش و راگ، ان کی سبھی راگنیوں سے واقف و آشنا تھا۔ وہ دلبری میں یکتا اور دلبروں میں انوکھا تھا۔

کائنات کے ردھم کو وہ بہت کم عمری میں سمجھ بیٹھا تھا، وہ ناز و نعم میں پلا بڑھا اور امارت کے نشے میں سرود و سرور کے سنگ کھیلا تھا۔ پونم کی راتوں میں وہ بپھرتے، مچلتے، تڑپتے اور چٹانوں کے مضبوط جثے ڈھا دینے والے ساگر کی طرح منہ زور ہو چلا تھا۔

دھیرے دھیرے چمن زاروں اور مرغزاروں میں جھومتا اور اٹھلاتا، پھولوں کے رس چوسنے اور تتلیوں کے رنگین پروں سے رنگین چھاپ چُرا لینے کا شوقین بن گیا۔ عاشقی کی  یہ طرز اس کے جمال کو بڑھاوا دیتی ۔ کبھی وہ سورج مکھی بنتا تو تتلیاں اس کے بدن سے زر گل و رسیلا گودہ چوسنے کو بیتاب ہو جایا کرتیں اور جب وہ ایک بھنورے کی طرح اپنے قوی پروں کے بل پر اِتراتے ہوئے لہرا لہرا کر باغیچے میں اک شان سے چکر بھرتا ،تو ہر کلی نگاہ جھکائے، دھیرے سے اپنے بدن سے پوشاک سرکائے ،اس کے حضور یکسو ہو رہتی کہ وہ ان کے نوخیز جوبن کا امرت جتنا چاہے اور جب چاہے نچوڑ لے اور بیخود ہو رہے۔

ایک روز باغیچے میں اچھوتی سی نئی رنگین کلی کھلی، وہ مکھش اس اپسرا پر جی جان سے فدا ہو رہا۔ کس قدر حسین اور نرمل تھی وہ دلربا، اداؤں، شدتوں اور سلگن سے بھری ہوئی، مچلتی جوانی کا گودا اور بے نیاز حسن کا نورس اس کے مرمری بدن میں کوندتا پھرتا تھا۔ روپ ایسا کہ جیسے چندن، صندل اور زعفران کو گوندھ کر بنائی گئی ہو۔ وہ سخن فہم تھی، ذوق افزا تھی، وفور تخلیق سے بھر پور اور سرشار بھی، فن و جمال مزاج میں رچا تھا، شوق کی چاشنی میں وہ پور پور بھیگی ہوئی تھی، لطافت میں ایسی رنگی تھی کہ نشاط و بہجت لمحہ لمحہ اپنے ہم نشیں کو آنند بخشنے پر کمال رکھتا ہو۔

شہریار نے یہ مزا، ترنگ، امنگ، سرود، سرو، شادمانی، طرب، خوشی، انبساط، بہجت، آنند پہلے نہ چکھ رکھا تھا۔ وہ دیوانہ وار کلی پر لپکا اور کلی نے بھی دم بخود ہو کر لاج کا پلو سرکنے دیا، ورود نور نے کنور کو بیتاب کر دیا، رسمِ رونمائی کے لئے گلچیں نے آرسی مصحف کا اہتمام کیا تو اس گھونگھٹ کشائی پر باغیچے کی ہر کلی اور ہر مگس نے اپنا اپنا دل تھام لیا، اک طرف شہر بانو کا قہر ڈھاتا حسن تھا اور دوجی طرف شہریار کا جمال، شہرزادوں اور شہر زادیوں نے یوں شمس و قمر جیسے شہزادے اور شاہزادی کو محبت کے افق پر دیکھا تو گنگ ہو گئے، منظر پر سکوت چھا گیا، ہوا نے سانس روک لی، بادل سایہ فگن ہوئے، ستاروں نے اپنے اپنے مچان کے چھجوں سے ذرا سا باہر کو جھانکا، زمین اپنے مدار کا طواف بھول گئی اور آسمان کا کلیجہ پھٹنے کو آگیا، پھر فاصلوں نے وقت کی باگ تھامی تو زمانہ عالم وجد میں آگیا ۔۔لمحوں نے ماترے بھرے، باد صبا نے تتکار کی تو بدلیوں نے ہستک اور تتلیوں نے جگنوؤں کے ساتھ مل کر رنگ و نور کی جُگل بندی سے سماں باندھ دیا۔ ان دو کی دھڑکنوں نے خامشی کی دُھن پر وصل کے گیت بنے اور عین اسی لمحے شہریار نے عالم سرمستی و کیف میں بیخود ہو کر شہر بانو کے لبوں پر اپنے سلگتے لب رکھ دیے اور اس کے نازک شانے پر اپنی پوروں کو شدت سے دبا دیا۔ وہ نوخیز کلی مچل رہی تھی، تڑپ رہی تھی، سرخوشی اور مستی سے بے حال تھی۔ شہریار عالمِ مدہوشی میں پکار اٹھا ۔۔اے بانوی انبساطِ خاطرِ من ،ہمیں اپنی غلامی کا شرف بخش دیجیے۔۔

جاری ہے

صائمہ بخاری بانو
صائمہ بخاری بانو
صائمہ بانو انسان دوستی پہ یقین رکھتی ہیں اور ادب کو انسان دوستی کے پرچار کا ذریعہ مان کر قلم چلاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *