• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • بسنت، ثقافت اور عوامی اختیار: تجارتی تہواروں کے تحت عوام کی بے بسی/سائرہ رباب

بسنت، ثقافت اور عوامی اختیار: تجارتی تہواروں کے تحت عوام کی بے بسی/سائرہ رباب

ثقافت صرف رنگ، موسیقی، یا تصویروں کا نام نہیں۔ یہ اس بات کا اظہار ہے کہ ایک سماج میں لوگوں کا ایک دوسرے کے ساتھ تعلق کیسا ہے، وہ اپنی زمین، زبان، وسائل اور ایک دوسرے سے کس حد تک جڑے ہیں۔ تہوار اسی جڑت کا سب سے خوبصورت اظہار ہوتے ہیں، کیونکہ وہ لوگوں کو ایک کمیونٹی میں باندھتے ہیں، محبت، رسائی اور اجتماعیت پیدا کرتے ہیں۔ بسنت بھی کبھی ایسا ہی تہوار تھا۔
بسنت کی اصل روح کیا تھی؟
چھتوں پر بچے، بزرگ، عورتیں، نوجوان۔
گلیوں میں ڈھول کی تھاپ۔
آوازیں، قہقہے، مقابلے، میل جول۔
کوئی ٹکٹ نہیں، کوئی اجازت نامہ نہیں، کوئی بارکوڈ نہیں۔
یہ دن ہر فرد کو خوشی میں شریک کرتا تھا۔ امیر یا غریب کا فرق کم ہوتا، ہر شخص اپنی توانائی اور محبت کے ساتھ تہوار کا حصہ بنتا۔ بسنت لوگوں کو جوڑتی تھی، انہیں اجتماعی شناخت اور کمیونٹی کا احساس دیتی تھی۔
لیکن آج ہم جو دیکھ رہے ہیں وہ ایک مختلف تصویر پیش کرتا ہے۔ SOPs کے باوجود بارکوڈز، محدود سپلائی، مہنگے سامان اور صرف لاہور تک محدود اجازت، بسنت کو عوامی تہوار سے منافع بخش سرمایہ دارانہ سرگرمی میں بدل دیتے ہیں۔ پچاس روپے کا گڈا پانچ سو کا، اور ڈور ہزاروں میں پہنچ جاتی ہے۔ اب تہوار خوشی نہیں بلکہ خریداری کی طاقت اور طبقاتی حیثیت کا امتحان بن جاتا ہے۔ جو خرید سکتا ہے، وہ شریک ہے، جو نہیں خرید سکتا وہ صرف تماشائی۔
یہی وہ عمل ہے جسے David Harvey نے Accumulation by Dispossession کہا ہے۔ مارکس نے بتایا کہ سرمایہ داری منافع پیدا کرنے کے لیے محنت کے ذریعے لوگوں کی محنت اور وسائل پر قبضہ کرتی ہے۔ ڈیوڈ ہاروی نے اس نظریہ کو آگے بڑھاتے ہوئے واضح کیا کہ صرف پیداوار ہی نہیں بلکہ عوام کی مشترکہ چیزیں، جیسے زمین، پانی، اور اب ثقافت اور تہوار، بھی قبضے کے ذریعے مارکیٹ اور طاقتوروں کے کنٹرول میں آ جاتی ہیں، یعنی ‘Accumulation by Dispossession’۔ اس مضمون میں بسنت کی مثال یہی دکھاتی ہے کہ عوام کی ثقافت کیسے سرمایہ دارانہ اور ریاستی کنٹرول کے ہاتھوں عوام سے چھینی گئی۔
Harvey
کے مطابق سرمایہ داری صرف پیداوار یا محنت کے ذریعے منافع نہیں کماتی، بلکہ عوام کی مشترکہ چیزوں کو چھین کر، انہیں مارکیٹ میں بیچ کر بھی منافع کماتی ہے۔ عموماً مثالیں زمین، پانی، جنگلات دی جاتی ہیں۔ پانی جو فطرت نے مفت دیا، وہ بوتلوں میں بند ہو کر مہنگے داموں فروخت ہوتا ہے۔ زمین جو صدیوں سے عوام کی تھی، وہ ہاؤسنگ سوسائٹی یا کمروں میں بدل کر عوام کی دسترس سے باہر کر دی جاتی ہیں ۔ بسنت اور دیگر تہوار بھی کبھی عوام کی مشترکہ ملکیت تھے، لیکن اب وہ کنٹرول اور مہنگے سامان کی محتاج ہیں۔ عوامی چیزیں جو طاقت اور شرکت دیتی تھیں، وہ اب لوگوں کو بے بس اور محصور کرتی ہیں۔
یہی تضاد جدید ثقافتی تنقید میں “Commercialized Culture vs People’s Culture” کے زمرے میں آتا ہے۔
People’s Culture
میں رسائی سب کے لیے کھلی ہوتی ہے، شرکت آسان اور طبقاتی فرق مٹتے ہیں۔ Commercialized Culture میں رسائی خریدنے کی طاقت سے مشروط ہوتی ہے، تہوار ایک طبقاتی نمائش بن جاتے ہیں، اور اصل عوامی روح ختم ہو جاتی ہے۔ بسنت کبھی گلیوں میں ہوتی تھی، اب مالز، اسپانسرڈ مقامات اور محدود سپیسز میں نظر آتی ہے۔ پہلے لوگ خود تہوار بناتے تھے، اب انہیں بتایا جاتا ہے کہ تہوار کیسے منانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تہوار عوام کو empower نہیں کرتے بلکہ ان کی بے بسی کو واضح کر دیتے ہیں۔
تہوار صرف خوشی کا ذریعہ نہیں ہوتے، بلکہ عوامی جگہوں کو زندہ کرتے ہیں، لوگوں کو جوڑتے ہیں اور اجتماعی یادداشت قائم کرتے ہیں۔ جب یہ عوام سے لے کر مارکیٹ اور انتظامیہ کے ہاتھوں میں چلے جاتے ہیں، تو اصل مقصد، یعنی لوگوں کو بااختیار بنانا، ختم ہو جاتا ہے۔ بسنت کی مثال اس بات کو واضح کرتی ہے کہ جب تہوار پر مکمل کنٹرول اور مصنوعی قلت (artificial scarcity) نافذ کی جاتی ہے، تو چند امیر لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں اور باقی لوگ احساس کمتری اور مایوسی کا شکار ہوتے ہیں۔
یہ تضاد صرف اقتصادی یا انتظامی نہیں، بلکہ سماجی اور سیاسی بھی ہے۔ اگر بسنت واقعی پنجاب کی ثقافت ہے تو پھر یہ صرف لاہور تک کیوں محدود ہے؟ فیصل آباد، گوجرانوالہ، ملتان اور دیگر شہروں کا اعتراض بالکل جائز ہے۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ثقافت کو بھی مرکزیت (centralization) کا شکار بنا دیا گیا ہے، جیسے لاہور ہی پنجاب ہو۔ اس مرکزیت کے ذریعے سرمایہ دارانہ اور حکومتی طاقتیں تہوار کے وسائل، رسائی اور کنٹرول پر قبضہ کرتی ہیں۔
ماہرین نے اسے Festival Neoliberalism کا نام دیا ہے: بڑے میلے، بڑے اسپانسر، بڑا منافع — مگر عوامی روح غائب۔ گوجرانوالہ کی گلیوں کا لوک کلچر، فیصل آباد کے چبوتروں کی محفلیں، ملتان کے چوکوں کی آوازیں، سب کلچرل ایونٹ میں کہیں کھو جاتی ہیں۔ ان کی جگہ مہنگے فوڈ کارنر، سیلفی اسپاٹس اور elite-friendly موسیقی لے لیتی ہے۔ ثقافت اپنی عوامی، سیاسی اور سماجی آواز کھو دیتی ہے اور صرف نمائش بن جاتی ہے۔
اس صورت حال میں بسنت کا اصل مقصد یعنی عوام کو empower کرنا، ختم ہو جاتا ہے۔ تہوار اب لوگوں کو نہ جوڑتے ہیں، نہ جڑت کا احساس دلاتے ہیں۔ بلکہ وہ لوگوں کو طاقتور طبقوں اور سرمایہ دارانہ مفاد کے ہاتھوں بے بس اور محدود کر دیتے ہیں۔ یہ بالکل وہی عمل ہے جسے Harvey accumulation by dispossession کے طور پر بیان کرتے ہیں: عوام کی چیزیں ان سے چھین کر منافع بخش استعمال کے لیے مارکیٹ میں ڈالنا۔
تہوار کے اہم ہونے کی وجہ یہ بھی ہے کہ وہ عوامی ملکیت کے ساتھ جڑے ہیں۔ جب وہ عوام کے پاس رہتے ہیں تو لوگوں کو زمین، وسائل اور اپنی ثقافت پر حق کا احساس ہوتا ہے۔ یہ لوگوں کو طاقت دیتا ہے، اجتماعی شناخت اور معاشرتی رشتہ مضبوط کرتا ہے۔ جب یہ عوام سے چھین کر مہنگے سامان، محدود سپیس اور برانڈڈ سرگرمیوں کے تابع کر دیے جاتے ہیں، تو یہ طاقت عوام سے لے کر سرمایہ دارانہ اور حکومتی طبقوں کے پاس چلی جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بسنت، اور اسی طرح کے تہوار، نہ صرف خوشی کے دن ہیں بلکہ اس بات کا پیمانہ بھی ہیں کہ کسی معاشرے میں ثقافت پر اختیار کس کا ہے: عوام کا یا منافع کا۔ اگر تہوار طبقاتی فاصلے بڑھانے لگیں، اگر وہ عوامی امانت کے بجائے کارپوریٹ و حکومتی ملکیت بن جائیں، تو وہ اپنی اصل روح کھو دیتے ہیں۔
ثقافت اور قوم پرستی تبھی بامعنی ہوتی ہے جب وہ محبت، اتحاد، برابری اور عوامی وسائل پر عوام کے اختیار کو مضبوط کرے۔ اگر اس سے یہ عناصر نکال دیے جائیں تو باقی صرف فخر اور شور رہ جاتا ہے۔
حل یہ نہیں کہ تہوار ختم کر دیے جائیں۔ حل یہ ہے کہ انہیں اصل عوامی شکل میں واپس لایا جائے:
پورے پنجاب میں یکساں اجازت دی جائے۔
غیر ضروری کنٹرول، SOPs اور بارکوڈ کا خاتمہ ہو۔
سپلائی محدود کرنے کے بجائے سب کے لیے کھلی ہو۔
ثقافت مارکیٹ کے بجائے کمیونٹی کے پاس ہو۔

julia rana solicitors

جب تہوار اور ثقافت عوام کے پاس رہیں تو وہ معاشرے کو طاقت دیتے ہیں۔ جب مارکیٹ کے پاس چلے جائیں تو وہ صرف مہنگی نمائش بن کر رہ جاتے ہیں۔ بسنت نے یہ سبق دیا کہ تہوار صرف خوشی کا نام نہیں، بلکہ یہ اس بات کا پیمانہ بھی ہیں کہ معاشرے میں اختیار کس کے پاس ہے، عوام کے یا سرمایہ دارانہ اور ریاستی مفاد کے لیے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply