• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • موسیقی کی دنیا کے عظیم فنکار مہدی حسن خان صاحب کی داستانِ حیات۔۔۔گوہر تاج

موسیقی کی دنیا کے عظیم فنکار مہدی حسن خان صاحب کی داستانِ حیات۔۔۔گوہر تاج

تاج کی زیرِ طبع کتاب ”ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم“سے لیا گیا ایک باب

موسیقی کی دنیا کے عظیم فنکار مہدی حسن خان صاحب کی داستانِ حیات۔مہدی حسن صاحب کی شخصیت کے رنگ!

کہا جاتا ہے بڑے اور مشہور فنکار کی زندگی اپنی نہیں رہتی بلکہ عوام الناس کی ہو جاتی ہے۔ اپنی اس ”اپنائیت ”کا اظہار وہ اکثر فنکار کی نجی زندگی کے معاملات اور شخصیت کے اچھے برے پہلوؤں کی کرید سے کرتے رہتے ہیں۔
مہدی حسن صاحب کی زندگی کے مختلف ادوار کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے ماحول اور حالات نے ان کی شخصیت کی تشکیل پہ کیا اثرات مرتب کیے ہیں۔مثلاً آٹھ برس کی عمر میں ماں کے انتقال کے بعد ان کی گود کی گرمی کی جگہ سُروں کی نرمی نے لے لی جو انہیں باپ اور چچا کی سختی سے دی گئی موسیقی کی تربیت نے عطا کی مگر محض سُروں کی تعلیم نہیں تھی بلکہ زندگی کی اعلی قدروں کے بیج ڈالنے اور نمو کا بھی وقت تھا اور اس وقت انہوں نے اپنے خوابوں کی آبیاری، دیانت داری، لگن اور محنت سے آگے بڑھنے کی عادت کو اپنایا۔ اس یقین کے ساتھ کہ خدا ساتھ ہے۔انہیں نپے تلے پرانے رستوں کی بجائے اپنی راہ کی تلاش کرنے کی بصیرت بھی ملی اور ہم ان تمام پہلوؤں کو ان کی شخصیت میں نمایاں دیکھتے ہیں۔

مہدی حسن صاحب ایک ہشت پہلو شخصیت تھے۔ موسیقی کے شعبہ میں گلوکاری، دُھن ساز اور موسیقی کے مختلف ساز بجانے کی مہارت کے ساتھ انجینئرنگ کی طرف مائل تکنیکی ذہن کے بھی مالک تھے۔ان کا موسیقار اور تکنیکی ذہن کبھی ایک دوسرے سے صف آراء نہیں ہوئے۔ دونوں نے ساتھ ساتھ حالات سے جنگ کی،عزت کی روٹی حاصل کرنے کے لئے جب ٹریکٹر کا پنکھا چلتا تو ان کا ریاض بھی جاری رہتا۔اس مثبت رویے نے انہیں ہمدرد، نرم خو اور سلجھی طبیعت کا بنایا۔ شاہی خاندانوں کے درمیان رہنے نے انہیں وقار، تمکنت اور بینیازی دی اور ان خاندانوں کی سرپرستی نے ان میں انکساری اور اپنی محنت سے روزی کمانے کی عادت ڈالی۔

مہدی حسن صاحب نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ” برصغیر کی تقسیم سے قبل ان کے والد استاد عظیم خان کو ریاستوں کی جلد ہونے والی ٹوٹ پھوٹ کا اندازہ ہونے لگا تھا۔” اس وقت مہدی حسن صاحب کی عمر دس گیارہ اور بھائی پنڈت غلام قادر کی سولہ برس تھی۔ان کے والد نے سوچا کہ بجائے شاہی گھرانوں کی سرپرستی میں رہنے کے اپنے فن کے بل بوتے پہ کمائی کا ذریعہ ڈھونڈنا چاہیے۔اس طرح محلوں کی تن آسانی سے علیحدہ ہونے اور شہر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ان کے اس قدم پہ شاہی خاندان کی خفگی کے جواب میں ان کا کہنا تھا۔” ابھی آپ کا اچھا زمانہ ہے۔” وہ(اولادیں) نہیں جانتے کہ سورج کب ڈوبتا ہے اور کب طلوع ہوتا ہے۔کل جب آپ اپنی ریاست کھو دیں گے تو ان کا کیا ہو گا؟ لہذا میں ان کو یہاں سے الگ کرنا چاہتا ہوں تاکہ ان کو اصل زندگی کا پتہ چلے۔ ” والد عظیم خان کے اس دانشمندانہ فیصلہ سے انہوں نے عزت و وقار کے ساتھ روزی کی تلاش کی خو ڈالی اور برے سے برے حالات میں بھی اپنے اندر کے فنکار کی قدر و منزلت نہیں کھوئی اور ثابت قدمی سے منزل کی جانب رواں دواں رہے۔

مہدی حسن صاحب نے اپنے ایک انٹرویو میں علی الصبح جنگل کے مہیب اندھیرے میں ورزش اور دوڑنے کا ذکر کیا ہے جس کی وجہ سے ان میں جراتمندی اور پر خطر حالات سے نمٹنے کی عادت پیدا ہوئی۔ اس زمانے میں تصورتھا کہ اندھیرے میں بھوت پریت ہوتے ہیں۔ مشورہ یہ دیا جاتا تھا کہ اگر ڈر لگے توسُر الاپ لو تاکہ ڈر اور خوف پہ قابو پایا جا سکے۔موسیقی کے استاد غلام حیدر خان نے اپنے مضمون میں لکھا ہے۔” وہ مضبوط، سادہ اور سچے انسان تھے اور خطرہ مول لیتے تھے۔ایک دفعہ وہ باوجود منع کرنے کے رات گئے سندھ کے ایک پُر خطر علاقے سے گزرے۔ راستہ میں ڈاکوؤں نے روک لیا مگر پھر بھی اپنے ملک کے بڑے فنکار کو پہچان کر رات کا کھانا کھلایا اور بالآخر ان کی پرانی شیورلیٹ میں جانے دیا۔یہ واقعہ جہاں ڈاکوؤں کی فن کی وقعت کو واضع کرتا ہے وہاں پاکستانی حکومت کی فن و ثقافت کی ترویج کے سلسلے میں روا بے حسی کا ماتم بھی کرتاہے۔کیا شرمناک بات ہے کہ ڈاکو تو فنکار کی قدر کر رہے ہیں، لیکن حکمران محض سرکاری خزانے سے ڈاکے ڈال کر اپنی جیبیں بھر رہے ہیں۔ یہ تفکر کیے بغیر کہ سماجی ترقی میں فن و ثقافت کے فروغ کا کتنا اہم کردار ہوتا ہے۔اداروں کی تشکیل نہ ہونے کی وجہ سے کلاسیکی موسیقی کا فن جاننے والے کتنے عظیم فنکار بھوک اور کسمپرسی سے مر رہے ہیں۔

مہدی حسن صاحب نے دو شادیاں کی تھیں۔ایک شادی 1951 میں ارینج تھی۔ خاندانی گیارہ سالہ شکیلہ اور دوسری بیگم کا تعلق ریڈیو پاکستان سے تھا جہاں وہ سنگر تھیں، تاہم مہدی حسن صاحب سے 1960 میں شادی کے بعد گانا ترک کر دیا کہ بقول مہدی حسن صاحب ” ہمارے خاندان میں لڑکیاں گانا نہیں گاتیں۔” (ان کی مراد گائیکی کے فن سے تھی۔) دوسری بیگم سے موسیقی اور نئی طرزوں کے سلسلے میں مشورہ لیتے تھے۔ شادی کے وقت پہلی بیگم اتنی کم عمر تھیں کہ بقول مہدی حسن صاحب ”بیوی کی پرورش میرے ہاتھ ہوئی ہے۔” انہوں نے دوستانہ ماحول میں انہیں بہت کچھ سکھایا۔
1958 ء (پچیس اگست)ان کا پہلا بیٹا طارق پیدا ہوا۔ پہلی بیوی سے نو اور دوسری بیوی سے پانچ بچے ہوئے۔ ان کے بیٹے سجاد مہدی کے مطابق ” وہ شفیق آدمی تھے۔انہوں نے ” آپ ” کے علاوہ کبھی نہیں بولا۔ (مخاطب ہوئے) جبکہ راجھستانی مارواڑی بولتی  تھی جو بہت خشک زبان ہے۔ ”
ان کے بیٹے آصف مہدی نے جو ایک اچھے گائیک ہیں بتایا” بحیثیت والد وہ بہت نرم مزاج کے اور بحیثیت استاد بہت زیادہ گرم مزاج کے ثابت ہوئے۔” انہوں نے موسیقی کی تربیت اور اس حوالے سے پٹائی کا ذکر کیا مگر بعد میں تربیت کی افادیت کا احساس ہوا۔

مہدی حسن صاحب کا فن امن اور آشتی کا سفیر تھا۔ جس نے سُروں کی مالا میں انسانیت کے موتی چُنے۔ایک دن کسی نے ان سے آج کل ہونے والے بم دھماکے، بد امنی اور نفرت کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا ” اصل میں سُر ختم ہو گئے ہیں، لے ختم ہو گئی ہے۔”
مہدی حسن صاحب راجھستان صوبہ میں واقع ایک گاؤں ”لونا“میں پیدا ہوئے تھے۔ان کا ابتدائی بچپن راجھستانی صحرا کی مٹی پر سُروں کی بارش برساتے اور دوست  احباب  کے ساتھ گزرا۔1946 میں پاکستان آنے کے بعدجب مہدی حسن صاحب جب پہلی بار 1977 ء میں راجھستان (جے پور)کے سرکاری مہمان بن کر گئے تو انہوں نے لونا (گاؤں) جا نے کی خواہش کا اظہار کیا۔
جب گاڑی گاؤں کی طرف جا رہی تھی تو اچانک انہوں نے ڈرائیور سے گاڑی روکنے کو کہا۔ جب گاڑی رُکی تو سب نے حیرت اور بے یقینی کے عالم میں دیکھا کہ مہدی حسن صاحب اترے اور کچی سڑک کے کنارے ٹیلے پہ بنے ایک مندر کی جانب چلنے لگے اور وہاں کی ریتلی زمین پر بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کے رونے لگے۔ جیسے یہ مٹی نہیں ان کی ماں کی گود ہو جس سے بچھڑنے کے کئی سال بعد وہ ملے ہوں۔بعد میں انہوں نے بتایا کہ اپنے بچپن میں وہ یہاں بھجن گایا کرتے تھے۔
” مہندر یو آیو ہے ”۔۔۔۔ یہ ان کی آمد کی خوشی میں وہاں کے رہنے والے راجھستان میں بولنے والی پوربی زبان میں گا رہے تھے۔ مہندر یو آیو ہے ” مہندر یو آیو ہے ” (یعنی مہدی آیا ہے)پھر ان کی راجھستان کے قاعدہ کے مطابق دودھ اور دہی یا چھاچھ ربڑی سے تواضع کی گئی۔

گو صوبہ راجھستان کے ضلع جھنجھنو کے کلکٹر نے ان کے اعزاز میں دعوت کا اہتمام کیا مگرمہدی حسن صاحب اپنے دور کے رشتے  کی بہن کے گھر مہمان بن کر چلے گئے اور وہاں راجھستان کی مشہور لہسن کی چٹنی اور باجرے کی روٹی کھائی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *