میچ میکنگ۔۔
“آپ کی نظر میں کوئی رشتہ ہے”؟۔
میری دوست نے کہا ۔
“کس کے لئے ؟ “
میں نے پوچھا۔
“میرے بیٹے کے لئے
اور بیٹی کے لئے “
پھر خود ہی تعارف بڑھاتے ہوئے بولی۔”ماشاللہ دونوں ہی یونیورسٹی گریجوایٹ ہیں اور کمپیوٹر کی جاب کر رہے ہیں”
میں نے کہا ” ابھی انہیں ماسٹر کرنے دیں ۔ ابھی عمر پڑی ہے۔”
“ہائے نہیں ایسا نہ کہیں ۔بچے شادی کی عمر کو پہنچ گئے ہیں۔
“جوانی تو دیوانی ہوتی ہے ۔اگر کوئی گناہ ہوگیا تو گناہ والدین کے سر پر آئے گا۔”
میں نے پوچھا کتنی عمر ہے؟
وہ بولی 25 اور 26 سال تو ہے۔
“تو کیا یہ آج ہی بالغ ہوئے ہیں ۔”؟
“کیا مطلب،؟”
“میرا مطلب کہ یہ جوانی تو سولہ برس سے بھی پہلے آجاتی ہے ۔ تو آپ کا کیا خیال ہے کہ وہ مغربی اور آزاد معاشرے میں رہتے ہیں ۔ دوسرے شہروں کی یونیورسٹیوں میں تنہا مکانوں میں رہتے ہیں اور آپ بھی بے فکر اپنے معاش میں مصروف ہیں کبھی جا کر بھی نہیں دیکھا کہ کسی ریلیشن شپ میں بغیر نکاح کے آپ کی عاقبت تو جہنم زدہ نہیں ہورہی۔”
میں نے جھنجھوڑا۔
میں نے مزید کہا “ابھی تک جس گناہ کا آپ کو اپنے سر آنے کا ڈر ہے کیا وہ ابھی تک سرزد نہیں ہوا ہوگا۔”
“استغفار استعفار۔ نہیں ایسی بات نہیں ہے۔ انسان کو اپنے بچوں کا پتہ ہوتا ہے۔ ویسے بھی بڑا دین دار گھرانہ ہے ہمارا ایسی بات نہیں ہے۔ اللہ کا ہم پر بہت فضل ہے دن رات دعائیں کرتے ہیں ہم دونوں میاں بیوی۔ اللہ کا کرم ہے۔
میرے بچے بہت نیک ہیں ۔ ہر جمعے کی نماز پڑھتے ہیں ۔ روزے رکھتے ہیں ۔ اس کی گارنٹی ہے ۔”
میں نے پھر جھنجوڑا اور بولی “جب وہ جوانی کے ابتدائی ہیجانوں میں گناہ سے بچ گئے اور آپ کو بھی سرخ رو کر دیا تو اچانک آپ کو فکر کیوں لاحق ہوگئی۔ کیا اب آپ کی دعائیں کافی نہیں کچھ عرصہ مزید دیں معاشی طور پر سنبھلنے دیں۔ میں نے سمجھایا۔
وہ بولی “بس فکر تو ہوتا ہے نہ کہ گناہ نہ ہو جائے ۔انسان خطا کا پتلا ہے۔ آپ کوئی رشتہ بتائیں ۔”
میں نے کہا کہ مجھے علم ہوا ہے کہ بہت سی مذہبی تنظیمیں میچ میکنگ کے ورکشاپ کراتی ہیں ۔ اس میں لڑکی اور لڑکے کے میچ میکنگ کا بڑا جدید اور منظم اور قابل بھروسہ انتظام ہوتا ہے۔
مجھے آپ بتائیں کب اور کہا ں ہوتا ہے”۔
اپنی دوست کی بے تابی دیکھ کر ترس کھا کر میں نے کہا۔
“یہ ہر ماہ ہوتا ہے۔”
“آپ مجھے لے کر چلیں ۔”
ہاں میں جانتی ہوں ایک تنظیم کو ۔آپ کے ساتھ چلی چلوں گی۔
وہ خوش ہوگئی ۔
وقت مقرہ اور تاریخ پر یہ خاندان میچ میکنگ ورکشاپ پر پہنچ گئے۔
مجھے تو یہاں آنے کا پہلا تجربہ تھا ۔ایک سماجی مشاہدے کے طور پر وہاں دوست کے ساتھ پہنچ گئی۔
ورکشاپ کی جھلکیاں دیکھنے کو ملیں۔
ایک بڑے ہال کے دو دروازوں سے انٹری تھی ۔ ہال میں کرسیاں بچھی ہوئی تھیں ۔منتظمین خواتین سامنے ٹیبل پر پینل کی صورت بیٹھی تھیں ۔
پہلے تلاوت ہوئی ۔نکاح کی اہمیت پر دو تقاریر ہوئیں ۔
پھر اعلان ہوا کہ دائیں جانب نیلے رنگ کی تھیم کے سٹال پر لڑکے کی مائیں پہنچ جائیں اور اپنے بیٹوں کے نام لکھوا دیں جن کو گناہ سے بچانا ہے۔ مائیں اپنے بیٹوں کی حالیہ تصاویر اپنے موبائل پر نکال کر رکھیں۔
دوسری جانب یعنی بائیں جانب گلابی رنگ کی تھیم کے ساتھ لڑکی کی مائیں اپنی بیٹی کا نام لکھوائیں اور تصویر اوپر کر کے تیار رکھیں ۔ اور اپنے بیٹے بیٹی کے کوائف
بھی کمپیوٹر پر درج کروائیں ۔ اور میز پر پڑے ہوئے ربن نما جھنڈیاں بھی اٹھا کر لہرائیں تاکہ لڑکے اور لڑکی کی ماں کاحسب ضرورت اندازہ ہو سکے ۔
یہ بھی اعلان ہوا کہ تقویٰ اور دین داری سب سے بڑی چیز ہے ذات پات اور مال کو نہ دیکھیں ۔۔
اب ہال میں بھگدڑ سی مچ گئی ۔
ادھیڑ عمر عورتیں اپنے بچوں کو زنا کے گناہ سے بچانے کے لئے نیلی اور گلابی جھنڈیاں لہراتی اپنے زنا کے گناہ سے محفوظ بچوں کی عصمت اور جوان پاکیزگی کی گارنٹیاں دیتی خواتین جن کے چہروں کی خوبصورتیاں لڑکوں کی نمازوں اور لڑکیوں پر اللہ کے فضل سے ورجینٹی اور نکاح سے پہلے سب کچھ ٹوٹ جانے کے اندیشوں سے ماند پڑ رہی تھیں۔
اب میں نے دیکھا کہ ہال میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔
گلابی اور نیلی جھنڈیاں رشتے کی متلاشی خواتین کے ہاتھوں سے گر چکی تھیں ۔وہ اب دو کی صورت میں تھیں
لڑکے کی ماں اور لڑکی کی ماں ۔
سب گفتگو کان لگا کر سننے والی تھی۔ میں سماجی مطالعات و مشاہدات کی شوقین دھیرے دھیرے زنا سے محفوظ بچوں کی ماووں کے پیچھے پیچھے ان کی گفتگو سن رہی تھی۔
اس ورکشاپ میں چند لڑکیاں ماؤں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملاتے دھیرے دھیرے شادی کے لئے زبردستی تیار کرکے لائی ہوئ بیٹیاں بھی ناگواری سے بیزار بیزار چل رہی تھیں ۔اور نیلی جھنڈی والی عورت کو پکڑ لیتیں۔ یہ بھی خاص بات تھی کے دوسرے ہال میں لڑکے بھی اپنے اپنے ڈیڈیوں کے ساتھ تھے۔
کوائف کے تبادلے ہو رہے تھے
میچ بنتے بنتے ملتوی ہورہے تھے۔ کیونکہ یہ آواز سننے میں آرہی تھی کہ ” نہیں ہمارے بیٹے کو دبلی پتلی گوری رنگت کی لڑکی چاہئے اور تعلیم کی بھی شرائط کا تبادلہ خیال جاری تھا ۔ادھر لڑکے کی ماں اپنے اپنے بیٹوں کی بہترین تصاویر کی نمائش کر رہی تھیں ۔لڑکیوں کی طرف سے بھی اور لڑکوں کی طرف سے بھی تمام شرائط رشتہ میں مادی لالچ، اونچا خاندان، شریف خاندان اور سب سے زیادہ دیں کا پہلو دیکھا جا رہا تھا ۔
پھر اعلان ہوا کہ جن نیلی اور گلابی جھنڈیوں کے میچ کا ابتدائی ۔ مرحلہ طے ہوگیا ہے وہ ہال کے ساتھ بنے ہوئے چھوٹے کمروں میں اپنی گلابی اور نیلی جھنڈیوں کے ساتھ فیملی ملاقات بھی کرلیں اور زنا سے بچنے کے دیگر امور بھی طے کرلیں تاکہ کل کو کوئی مسئلہ نہ ہو اور طلاق کی شرح میں اضافہ نہ ہو۔
میں نے ان فیملی ملاقاتوں میں جھانکنے کا موقع بھی نکال لیا ۔
جہاں اگلا مرحلہ تھا کہ دو دلوں کو اب جائز طریقے سے شادی کے بندھن میں بندھنے کے لئے خود فیصلے کرنے کے لئے مزید کمروں میں جانا ہوگا ۔جہاں وہ تنہائی میں اپنے تمام معاملات زیادہ وقت لے کر طے کرلیں ۔والدین بچوں کو آزادی سے ایک دوسرے کو سمجھنے کے لئے آزاد چھوڑ کر وقت دیں ۔شادی لائف ٹائم اچیومننٹ ہے۔
مجھے بند کمروں میں جائز شادی کے امید وار جوڑوں پر رشک آیا۔ کتنے خوش قسمت ہیں کہ تین گھنٹے تک وہ حلال شادی کے امور طے کرنے اور جائز پڑتال کرنے کا آزاد مگر کنٹرول تجربہ گاہ کے ویری ایبل کی طرح جدید طرز اور سائنسی انداز میں موقع مل رہا ہے۔
باہر برآمدے میں والدین ایسے انتظار کر رہے تھے جیسے بچے کی متوقع ولادت پر ہسپتال کے ویٹنگ روم میں گرینڈ پیرنٹس ولادت کی خوشی سننے کے لئے بے تاب ہوتے ہیں ۔
میں باہر کھڑی ایک طرف ان جائز شادیوں کے ورجن لڑکے لڑکیوں کے باہر نکلنے پر دیکھتی ۔کچھ کے معاملات جلدی نکاح کی امید سناتے اور کچھ حق چوائس کی بنیاد پر مسترد کرکے منہ لٹکائے نکلتے ۔
کچھ لڑکیاں پیر پختہ ہوئے نکلتیں کہ میں اس میسوجنسٹ سے شادی نہیں کروں گی کیونکہ اس نے برتن دھونے سے انکار کردیا ہے اور باہر کا کھانا وہ نہیں کھا سکتا ۔کچھ لڑکوں کو اس لیے مسترد کردیا گیا کہ وہ ڈاکٹر انجنئیر جیسی زیادہ کمائی نہیں۔ کسی کی بات اس لئے نہیں بنی کہ لڑکی نے جیب خرچ زیادہ حق مہر اور تمام قانونی حقوق کا بھی اعلان کردیا تھا ۔کسی کی بات نہیں بنی کہ لڑکا ہر سال ٹرپ پر نہیں لے جا نے کا وعدہ نہیں کر رہا ۔
والدین باہر بیٹھے بچوں کے بند کمروں میں ازدواجی معاملات طے کرنے پر خوش بھی ہو رہے تھے لیکن مسلسل مذہبی ہونے ،تقوی پر چلنے کی روایات کی تشہیر بھی بڑی ڈھٹائی سے کر رہے تھے۔
لیکن کچھ خوش قسمت جوڑے تو ان مادی باتوں کو نظر انداز کرکے اپنی فطری جسمانی ہم آہنگی کا طبی معائنے کے طور پر شاید نکاح سے پہلے ازدواجی تعلقات بھی آزمائشی طور پر قائم کر آئے تھے۔
انہوں نے آسمان سے بننے والے جوڑوں کو زمین پر ہی درست کر لیا تھا ۔غالبا یہ سمجھ دار تھے۔ باقی امور تو طے ہو ہی جائیں گے۔
لیکن والدین مطمئن تھے کہ کوئی بات نہیں شادی تو ہو ہی جانی ہے اور اس سے پہلے نکاح کا فنکشن اس کو جائز کردے گا۔
خیر میری دوست کی بیٹی اور بیٹے کے تمام جائز امور اسی میچ میکنگ کے بازار میں طے پائے۔
اور پھر نکاح کے اعلان کے لئے ایک بڑے سجے ہوئے ہال میں تمام سماجی نیٹ ورک کے لوگ بن سنور کر آئے ۔،سلامیاں، چھوارے کی پوٹلیاں جو دلہن دولہا کے غرارے اور شیروانی سے میچ کرتی ہوئی بنائی گئی تھیں ۔
دھوم دھام سے میری دوست کی کنواری بیٹی اور دھلے دھلائے گھوڑے کی طرح گارنٹی شدہ ورجن بیٹے کے جائز بندھن میں بندھ گئے۔
بیٹے کی طلاق کی خبر بھی آگئی ۔طلاق بھی جائز طریقے سے ہوئی ۔ حق مہر لے کر اور قانونی طور ہر کورٹ میں طلاق کا اندراج کرکے نصف پراپرٹی کا بٹوارہ کرکے۔
لیکن اب بیٹی کے جائز نکاح کو بچانے کے لئے پورا خاندان سرگرم ہوگیا ۔
بیٹی کی ماں نے سمدھی سے ایسی آ نکھ لڑائی کہ دونوں اپنا میچ میکنگ کرنے لگے ۔دونوں نے بڑھاپے کی دہلیز ہر قدم رکھتے ہوئے پہلے سمدھی سمدھی کھلیتے رہے ۔پھر ایکسٹرا میریٹل افئیرز میں ملوث ہوئے ۔ بیٹی کی طلاق کے بعد بچوں کے زنا سے خوفزدہ سمدھی سمدھن سارے بندھن توڑ کر
خاندان کو پامال کرتے ہوئے اپنا میچ میکنگ کرکے ہمیشہ کے لئے ہنسی خوشی رہنے لگے۔
اور گناہگار بچے پہلے کی طرح آزاد ریلیشن کے لئے نئے مواقع ڈھونڈنے لگے
یوں میچ میکنگ کا بازار بوڑھے بچوں کے لئے بھی نئے افق کھول گیا
میری دوست ابھی بھی گناہ سے ڈرتی ہے۔
زنا کا ڈر ۔ اور میچ میکنگ کا حلال دھندا۔
صادقہ نصیر
۔۔۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں