• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کیا نظریۂ ضرورت کے تحت دین ساقط الاعتبار ہو سکتا ہے؟ – وحید مراد

کیا نظریۂ ضرورت کے تحت دین ساقط الاعتبار ہو سکتا ہے؟ – وحید مراد

عقل، علم اور ضرورت : ایک فکری الجھن کا جائزہ

معاصر سماجی اور فکری فضا میں “ضرورت” کا لفظ اپنی اصل معنویت سے خاصا دور ہوچکا ہے اور بعض تناظرات میں ایک مشتبہ تصور کے طور پر سمجھا جانے لگا ہے۔ ایسے سماجی، عدالتی اور سیاسی ماحول میں جہاں اصولوں کو وقتی مفادات، آئینی تقاضوں کو ہنگامی تاویلات اور اخلاقی معیار کو وقتی جواز کے تحت بار بار موڑا جاتا رہا ہو، وہاں “نظریہ ضرورت”کا بداعتمادی کی علامت بن جانا فطری ہے۔ یہی بدگمانی بتدریج علمی اور دینی مباحث میں بھی سرایت کر گئی، یہاں تک کہ “ضرورت” کو دین کی اصولی اساس کے لیے ایک ممکنہ خطرہ سمجھا جانے لگا۔ بظاہر یہ رویہ شریعت کی داخلی سالمیت کے تحفظ کا اظہار معلوم ہوتا ہے،لیکن درحقیقت یہی زاویۂ نظر ضرورت اور عقل کے باہمی تعلق کے حوالے سے ایک فکری مغالطے کی بنیاد رکھ دیتا ہے،جس کے نتائج نہ علم کے حق میں ہوتے ہیں اور نہ دینی روایت کے لیے سودمند ۔

اسی پس منظر میں یہ دعویٰ سامنے آتا ہے کہ علمی معاملات میں “ضرورت” کا کوئی کردار نہیں؛ علم صرف عقل اور اس کے طے کردہ معیاراتِ صحت (validity) پر قائم ہوتا ہے، جبکہ ضرورت محض اخلاقی، سماجی یا سیاسی دائرے سے متعلق ہے۔ اس موقف کے پیچھے یہ اندیشہ بھی کارفرما ہے کہ اگر علوم کی نسبتیں دینی اسکیم سے “ضرورت” کی بنیاد پر طے کی گئیں تو کسی مرحلے پر خود دین بھی “نظریۂ ضرورت” کے تحت ساقط الاعتبار ہو سکتا ہے۔ بظاہر یہ اندیشہ معقول دکھائی دیتا ہے، لیکن در حقیقت یہ ایک گہرے فکری خلط کا نتیجہ ہے جس میں ضرورت اور عقل کو ایک ہی سطح پر رکھ کر ان کے درمیان غیر ضروری مقابلہ کھڑا کر دیا جاتا ہے۔

اس خلط کو دور کرنے کے لیے سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ “ضرورت” کا لفظ ہر جگہ ایک ہی مفہوم نہیں رکھتا۔ فلسفہ، علمیات اور اسلامی روایت میں ضرورت کی مختلف سطحیں تسلیم کی گئی ہیں۔ ایک سطح اخلاقی یا سماجی ضرورت کی ہےیعنی حالات کا دباؤ یا تاریخی جبر اور اس کے ساتھ ایک علمی ضرورت (epistemic necessity) بھی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، کسی شے کو “علم” کہلانے کے لیے کچھ شرائط کا پورا ہونا لازم ہےجیسے فہم، دلیل اور کسی درجے کی صداقت۔ یہ ضرورت نہ سماجی ہے نہ سیاسی، بلکہ خود علم کی ساخت سے پیدا ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ علم میں ضرورت سرے سے کوئی معنی نہیں رکھتی، خود علمیات کی بنیادی بحثوں سے صرفِ نظرکی علامت ہے۔ عقل علم کی صحت، معقولیت اور صداقت کو جانچتی ہے، جبکہ ضرورت یہ طے کرتی ہے کہ کون سا علم انسانی، اخلاقی، سماجی یا دینی زندگی میں بامعنی اور کارآمد ہے۔ دوسرے لفظوں میں، عقل علم کا معیارِ صدق ہے اور ضرورت اس کی قدر، ترجیح اور محلِ اطلاق کا تعین کرتی ہے۔

عقل اور ضرورت کو ایک دوسرے کی ضد بنا دینا درست نہیں۔ علم کبھی خلا میں پیدا نہیں ہوتا؛ وہ انسان کے سوالات، مسائل، حدود اور امکانات کے اندر جنم لیتا ہےاور یہ سب کسی نہ کسی درجے میں “ضرورت” سے جڑے ہوتے ہیں۔ یہ کہنا کہ “ضرورت علم کے عقلی یا غیر عقلی ہونے سے متعلق نہیں”، جزوی طور پر درست ہے؛ لیکن اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ ضرورت کا علم سے کوئی تعلق ہی نہیں، ایک غیر ضروری اور خطرناک دعویٰ ہے۔ ضرورت سچ اور جھوٹ کا فیصلہ نہیں کرتی،لیکن علم کے ظہور، انتخاب ، ترجیح اور فہم کی سمت ضرور متعین کرتی ہے۔ عقل یہ طے کرتی ہے کہ کیا درست ہے اور کیا غلط؛ لیکن عقل کن سوالات پر کام کرے گی، یہ اکثر انسانی ضرورت ہی طے کرتی ہے۔فقہ، اجتہاد اور دینی فکر کی پوری روایت اسی حقیقت پر قائم ہے کہ انسان بدلتے حالات میں نئے سوالات کے ساتھ علم کی طرف رجوع کرتا ہے اور انہی سوالات کی نوعیت علم کی ترتیب، ترجیح اور عملی صورت کو متعین کرتی ہے۔

یہ اندیشہ کہ اگر علوم کی نسبت “ضرورت” سے طے ہونے لگے تو خود دین بھی کسی وقت “نظریۂ ضرورت”کے تحت ساقط الاعتبار ہو سکتا ہے، ایک غیر ضروری خوف (slippery inference) ہے۔ یہاں دو مختلف سطحوں کو خلط ملط کر دیا گیاہے: ایک طرف علم کی تعبیر، ترجیح ، اطلاق؛ اور دوسری طرف دین کی صداقت اور اس کی اصل بنیاد۔ یہ مان لینا کہ اگر انسانی ضرورت نے علم کی تشکیل میں کردار ادا کیا تو لازماً دین بھی محض وقتی ضرورت بن جائے گا ایک منطقی چھلانگ ہے، دلیل نہیں۔ دین کی صداقت اپنی جگہ پر قائم ایک حقیقت ہے ، جبکہ انسانی فہمِ ، علومِ دین اور نظم کا ارتقا ایک الگ تاریخی اور علمی سطح رکھتا ہے۔

اسی طرح عقل کے “خالص اور ضرورت سے آزاد”ہونے کا تصور بھی ایک مثالی مفروضہ ہے۔ تاریخِ علم میں منطق، فقہ، کلام، فلسفہ حتیٰ کہ سائنسی علوم بھی کسی نہ کسی انسانی ضرورت، سوال یا بحران کے جواب میں سامنے آئے ہیں؛ اس کے باوجود انہیں غیر معتبر نہیں کہا جاتا۔ ضرورت علم کی دشمن نہیں، بلکہ اکثر اس کی محرک ہوتی ہے۔ وہ یہ طے نہیں کرتی کہ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ، لیکن یہ ضرور متعین کرتی ہے کہ ہم کس سچ کی تلاش کریں، کس سوال کو اہم سمجھیں اور کس علم کو قابلِ توجہ بنائیں۔ عقل علم کی جانچ کرتی ہے اور ضرورت علم کو انسانی زندگی سے جوڑتی ہے۔ لہٰذا مسئلہ یہ نہیں کہ علم میں ضرورت کو داخل کیا جائے یا نکال دیا جائے، بلکہ سوال یہ ہے کہ ضرورت کو کیسے حد میں رکھا جائے۔ فکری توازن اسی میں ہے کہ عقل اور ضرورت دونوں کی واضح حدود متعین کی جائیں۔

یہی نکتہ جب فکری روایت کی روشنی میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ “ضرورت” کا مسئلہ کوئی سطحی یا حادثاتی بحث نہیں، بلکہ علم، عقل اور دین کے باہمی تعلق کا ایک بنیادی سوال ہے۔ اسی لیے بڑے اور معتبر مفکرین نے اس پر باقاعدہ اور سنجیدہ گفتگو کی ہے، جس کا خلاصہ یہاں پیش کیا جا رہا ہے تاکہ یہ بحث مکمل ہو جائے۔

امام شاطبیؒ کے ہاں “ضرورت” محض سماجی یا سیاسی دباؤ کا نام نہیں، بلکہ شرعی اور عقلی نظم کی ایک داخلی شرط ہے۔ ان کے نزدیک علم خصوصاً فقہ اور اصولِ فقہ، انسانی زندگی کی واقعی ضروریات کے بغیر نہ سمجھا جا سکتا ہے اور نہ منظم ہو سکتا ہے۔ حفظِ دین، نفس، عقل، نسل اور مال جیسے مقاصد کوئی خارجی جواز نہیں بلکہ شریعت کے اندرونی اہداف ہیں۔ شاطبیؒ ضرورت کو حکم کی صداقت کا معیار نہیں بناتے، بلکہ اس کے اطلاق، ترجیح اور درجہ بندی کا اصول قرار دیتے ہیں۔ مقاصدِ شریعت ان کے ہاں قطعی اور کلی ہیں، جبکہ ضرورتیں متغیر اور سیاقی۔ ضرورت بذاتِ خود دین کو ساقط الاعتبار بنا سکتی، تو مقاصدِ شریعت کا پورا تصور ہی منہدم ہو جاتااور ایسا ممکن نہیں۔

امام غزالیؒ اس مسئلے کو ایک اور زاویے سے نہایت توازن کے ساتھ واضح کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک علم کی قدر صرف اس کی منطقی صحت سے وابستہ نہیں، بلکہ اس انجام سے بھی جڑی ہے جس کی طرف وہ انسان کو لے جاتا ہے۔ اسی لیے وہ فرق قائم کرتے ہیں کہ ہر صحیح علم لازماً نافع نہیں،لیکن ہر نافع علم کا صحیح ہونا ضروری ہے۔ یہاں “نفع یا ضرورت” علم کی صداقت کا معیار نہیں بنتی، بلکہ یہ طے کرتی ہے کہ کوئی علم دین، اخلاق اور انسانی انجام کے حوالے سے کس درجے میں داخل ہوگا۔ ضرورت کو کلی طور پر خارج کر دیا جائے تو “علمِ نافع اور علمِ غیر نافع” کی پوری غزالیائی تقسیم بے معنی ہو جاتی ہے، حالانکہ یہی تقسیم ان کے فکری نظام کا مرکزی ستون ہے۔

جدید فلسفے میں بھی یہی بات مختلف انداز سے تسلیم کی گئی ہے۔ کانٹ کے ہاں عقل اپنی صداقت کے اصول خود متعین کرتی ہے، لیکن وہ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ انسان کن سوالات کو سنجیدگی سے لے گا۔یہ اس کی عملی اور اخلاقی ضرورتوں سے وابستہ ہوتا ہے۔ ہابرماس اس نکتے کو مزید واضح کرتے ہیں کہ علم ہمیشہ کسی نہ کسی انسانی دلچسپی یا ضرورت کے تحت پیدا ہوتا ہے؛ تاہم یہ دلچسپیاں علم کو سچا یا جھوٹا نہیں بناتیں، بلکہ اسے انسانی دنیا میں بامعنی بناتی ہیں۔ اسی طرح میک انٹائر (Alasdair MacIntyre) یہ بتاتے ہیں کہ عقل اور علم ہمیشہ کسی روایت کے اندر کام کرتے ہیں اور یہ روایات خود انسانی مسائل اور ضرورتوں کے جواب میں تشکیل پاتی ہیں۔ ان کے نزدیک خالص اور ضرورت سے آزاد reason ایک خیالی تصور ہے، تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

julia rana solicitors

اس تناظر میں سوال یہ نہیں رہتا کہ علوم کی نسبتیں دینی اسکیم سے “ضرورت”کی بنیاد پر طے ہوں گی یا “”عقلی بنیاد” پر۔ درست سوال یہ ہے کہ عقل اور ضرورت اپنے اپنے دائرے میں کس طرح کام کریں گے۔ عقل کے بغیر علم مصلحت کا شکار ہو سکتا ہےاور ضرورت کے بغیر انسانی زندگی سے کٹ کر محض تجرید بن جاتا ہے ۔اسلامی روایت نے ان دونوں انتہاؤں کو واضح طور پر رد کیا ہے۔ یہاں عقل کو علم کی صحت کا معیار بنایا گیا ہے اور ضرورت کو اس علم کی معنویت، ترجیح اور اطلاق کا اصول۔ ضرورت علم کے لیے غیر متعلق ہوتی تو نہ اجتہاد ممکن ہوتا، نہ دینی علوم کی درجہ بندی اور نہ ہی دین انسانی زندگی کے بدلتے حالات سے کوئی بامعنی مکالمہ قائم کر سکتا۔ضرورت کو دینی اسکیم میں شامل کرنا دین کو نسبتی بنانا نہیں، بلکہ دین کی حکمت کو انسانی زندگی میں کارفرما دکھاناہے۔ خطرہ ضرورت کے تصور میں نہیں، بلکہ اسے عقل کا متبادل بنا دینے میں ہے۔ اسلامی روایت نے ضرورت کو عقل کے تابع رکھا ہے، عقل کی جگہ نہیں بٹھایااور یہی فکری و تہذیبی پختگی کا اصل راز ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply