خدا سے گپ شپ ، ادب اور کفر کا چسپاں کرنا

سنا ہے کہ ایک دفعہ موسی علیہ السلام ایک دیہاتی چرواہے کے پاس سے گزرے۔
وہ اللہ سے گپ شپ میں مصروف تھا اسی اللہ سے جس کو کسی نے نہیں دیکھا۔
وہ کہہ رہا تھا او ربا جے توں مل جاؤندا تے تیرے سر اچوں جواں کڈدا۔
تیری مالش کردا۔
تینوں اپنی بکری دا ددھ پیاوندا۔ وغیرہ وغیرہ۔ (یقینا اس نے تو عبرانی میں کہا ہوگا لیکن ہم نے پنجابی کو ہی آسان سمجھا قریب ترین ترجمانی واسطے)
موسی علیہ السلام غصہ کر گئے اور اس کو سرزنش کی کہ بھئی یہ درست نہیں۔
کوئ اللہ سے ایسے بھی بات کرتا ہے۔
اللہ تعالی موسی علیہ السلام پر خفا ہوگئے کہ اے موسی یہ تو نے کیا کیا۔ ارےیہ بندہ تو روز مجھے ہنساتا تھا!!!
گزراش ہے کہ ہر انسان کا اللہ سے ایک الگ تعلق ہے۔
اور اس تعلق کے درمیان کوئی حجاب حائل نہیں۔
بھلا کوئی کسی پر ایک لمحے میں کفر کا فتوی لگا کر کیونکر نکل جاتا ہے جبکہ اس کو اپنی توحید کا نہیں پتا۔
ہمارا اسلام تو ہمیں گنجایش سکھاتا ہے۔
اسلام تو سلامتی کا دین ہے۔
اسلام لعنت کا دین نہیں۔
اسلام کفر چسپاں کرنے کا دین نہیں۔
اسلام تو جہالت کی بات پر بھی سلامتی کی دعا کا حکم دیتا ہے۔
اسلام دوسرے کے صریح کفر میں تاویل کرنا سکھاتا ہے کہ شاید ایسا ہو کہ وہ اس بات کو سمجھتا نہ ہو۔
شاید ایسا نہ ہو جیسا میں نے سمجھا، بلکہ اس کا دل سلیم اور جسم کسی کیفیتِ سرخوشی یا جبر کا شکار ہو۔
شاید ایسا نہ ہو بلکہ موسی کے اس چرواہے کی طرح اس بندے کا دل و دماغ بس اللہ کو اپنے قریب ترین محسوس کرنا چاہتا ہو
شاید ایسا نہ ہو بلکہ اس کا دماغ وقتی طور پر کسی خلل کا شکار ہوگیا ہو۔
شاید ایسا نہ ہو بلکہ کچھ اور ہو جو میں نہ جانتا ہوں۔
چلو ہر معاملے کو خد کے سپرد کریں۔
اور اپنی زبان کو کسی فتوئ کفر سے آلودہ نہ ہی کریں۔
کیا خبر کہ میری توحید کبھی توحید ہی نہ ہو۔
اور اگر ہو بھی تو کیا خبر کہ میں اسی توحید کو سلامتی سے قبر تک لے بھی جاؤں یا نہیں۔
شاید کے اگر یہ کفر و شرک ہو تو کیا خبر کہ عین موت کے وقت اللہ اسے ہدایت دے دے۔ اور مجھے عین موت کے وقت کفر میں مبتلا کروا دے کہ اس کے ہاں تو ہدایت کا سبب بھی ایک ہے اور بے ہدایتی کاسبب بھی ایک ہی ہے۔
دل کی سچی طلب کا ہونا ہدائت ہے۔
اور نہ ہونا بے ہدایتی ہے۔
؎
رندِ خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تُو
تجھ کو پرائی کیا پڑی، اپنی نبیڑ تُو
ناخن نہ دے خدا تجھے اے پنجۂ جنوں
دے گا تمام عقل کے بخیے ادھیڑ تُو

نوٹ: اس ہلکی سی نثر نگاری کا تعلق کسی بندے کی گفتگو کے ساتھ ہے جو وہ اپنے رب کے ساتھ، خصوصی تعلق میں کر بیٹھا اوراس بندے کے اور اس کے رب کے درمیان بہت سے لوگ حائل ہوگئے اپنے اپنے ادب سکھانے اور کفر چسپاں کرنےکے اوزاروں کے ساتھ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 0 تبصرے برائے تحریر ”خدا سے گپ شپ ، ادب اور کفر کا چسپاں کرنا

  1. I completely agree with Br Ahsen Qureshi. My own conception of God is very different from other people. I am aware I will be labeled an infidel instantly if I ever found words and revealed it. Anyway I am disgusted at the behavior of these ignorants who try to become God and judge others. Why do not they let God judge us?

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *