عبدالمجید کے دفتر کی فضا میں ایک ایسی مصنوعی تازگی تھی جو صرف مہنگے فلٹریشن سسٹم اور اقتدار کی قربت سے میسر آتی ہے۔ میز پر پھیلے ہوئے رنگین بروشرز اور ’اردو کتب میلے‘ کے نقشے کسی جنگی حکمت عملی کی طرح ترتیب دیے گئے تھے۔ مجید نے اپنی انگلیوں کے پوروں سے ایک دبیز فائل کو چھوا، جس پر جلی حروف میں ’بجٹ ایلوکیشن‘ درج تھا۔
اس کے سامنے اس کا پرسنل اسسٹنٹ ناصر کھڑا تھا، جس کے ہاتھ میں ان پبلشرز کی لسٹ تھی جو آنے والے میلے میں اسٹال لگانا چاہتے تھے۔
’’سر! ان میں کچھ پرانے اور معتبر مکتبے بھی ہیں جو پچھلے پچاس سالوں سے کلاسک ادب چھاپ رہے ہیں،‘‘ ناصر نے دبی آواز میں کہا۔ ’’وہ احتجاج کر رہے ہیں کہ انھیں ’پرائم لوکیشن‘ کیوں نہیں دی جا رہی؟‘‘
مجید نے ایک گہری سانس لی اور کرسی پر ذرا سا جھک کر ناصر کی آنکھوں میں جھانکا۔ اس کی آواز میں وہی دھیما پن تھا جو اکثر بڑے فیصلوں سے پہلے طاری ہوتا ہے۔
’’ناصر صاحب! ادب کی معتبریت اس کی قدامت میں نہیں، اس کی ’افادیت‘ میں ہوتی ہے۔ وہ ادارے جو اَب بھی ہجرت، فسادات اور سماجی اضطراب کے ملبے میں دبے ہوئے ہیں، وہ ہماری نئی نسل کو کیا دیں گے؟ ہمیں وہ ادب چاہیے جو ’وِکست بھارت‘ کے سپنوں سے میل کھائے۔ وہ پرانے پبلشرز اب ’تکنیکی بوجھ‘ بن چکے ہیں۔ انھیں کونے والے اسٹالز دے دیجیے، اور سامنے ان نئے لوگوں کو لائیں جو حب الوطنی اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی تراجم لے کر آئے ہیں۔ لوگ اسے ’فلٹرنگ‘ کہیں گے، میں اسے ’جمالیاتی ترتیب‘ کہتا ہوں۔‘‘
اس نے دراز سے ایک نیا مینوئل نکالا۔ یہ کونسل کی نئی اسکیم تھی جس کے تحت اب صرف ان تحقیقی پروجیکٹس کو فنڈز ملنے تھے جن کا موضوع ’غیر متنازعہ‘ ہو۔
’’اور یہ جو گرانٹ کی فائل ہے…‘‘ مجید نے پنسل کی نوک سے ایک نام کی طرف اشارہ کیا۔ ’’یہ صاحب ’اردو شاعری میں احتجاجی لہر‘ پر کام کرنا چاہتے ہیں۔ انھیں ایک نہایت شائستہ خط لکھیں کہ ادارہ اب صرف ان موضوعات کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے جو اردو کو ’قومی دھارے‘ سے جوڑ سکیں۔ مثلاً، ’اردو لغت میں سنسکرت کے اثرات‘ یا ’اردو اور قومی ہم آہنگی‘ وغیرہ۔ ہمیں وہ چہرے چاہئیں جو میڈیا کے سامنے اردو کا ایک ’خوشگوار‘ اور ’امن پسند‘ چہرہ پیش کر سکیں۔ اردو کو اگر مزید گالیاں نہیں کھانی، تو اسے ان لوگوں سے پیچھا چھڑانا ہوگا جو ہر وقت ’حق‘ کا راگ الاپتے رہتے ہیں۔‘‘
ناصر نے اثبات میں سر ہلایا، اگرچہ اس کی پیشانی پر لرزش واضح تھی۔
مجید اب اسکرین پر ان ناموں کا جائزہ لے رہا تھا جنھیں افتتاح کے دن اسٹیج پر بیٹھنا تھا۔ اس نے نہایت مہارت سے ان تمام نقادوں کو ’مشاورتی بورڈ‘ کے نام پر حاشیے میں دھکیل دیا تھا جن کی زبان سے غیر متوقع ’سچ‘ پھسلنے کا امکان تھا۔
’میں اردو کا دشمن نہیں ہوں، میں تو اس کا ایک ادنیٰ خادم ہوں۔ میں نے اسے اس ’باغیانہ شناخت‘ سے نجات دلائی ہے جو اسے ہمیشہ شک کے کٹہرے میں کھڑا رکھتی تھی۔ میں نے اسے سرکار کے دسترخوان کی زینت بنا یا ہے۔ اب یہاں وہی ادیب آئیں گے جو ’راشٹر واد‘ کے خوابوں کو نستعلیق میں ڈھال سکیں۔ میں وہ ’ عبدل‘ ہوں جو پنچر بناتا نہیں، بلکہ پوری زبان کی ہوا اس رُخ پر موڑ دیتا ہے جہاں سے بجٹ کی مہک آتی ہے۔‘
اچانک مجید کا فون بجا۔ یہ وزیر موصوف کے دفتر سے کال تھی۔
ٍ
’’جی صاحب! بالکل… میلے کی تیاریاں مکمل ہیں۔ میں نے ایسی تمام کتب کو نمائش سے باہر کر دیا ہے جو کسی بھی قسم کا ’فکری انتشار‘ پیدا کر سکتی ہوں۔عموماً جب ہم نئی نسل کی بات کرتے ہیں تو فوراً نوجوان لکھنے والوں یا کسی مخصوص طبقے کی طرف توجہ چلی جاتی ہے، جب کہ اصل نئی نسل وہ ٹین ایجرز ہیں جن کے لیے الگ نوعیت کے لٹریچر کی ضرورت ہے۔ اس بار اسٹیج پر صرف وہی لوگ ہوں گے جنھیں دیکھ کر آپ کو محسوس ہوگا کہ اردو کی نئی نسل آپ کی مداح ہے، اور آپ کی جانب پُر امید نگاہوں سے دیکھ رہی ہے۔‘‘
مجید نے فون رکھا۔ اسے محسوس ہوا کہ ادارے کی عمارت کی دیواریں اب پہلے سے زیادہ بلند ہو گئی ہیں۔ مجید نے فائلوں کی ترتیب درست کرتے ہوئے محسوس کیا کہ کسی بھی شے کی بقا اس کے ’خالص‘ ہونے میں نہیں بلکہ اس کے ’موزوں‘ ہونے میں ہے۔ وہ جن لفظوں اور ناموں کو فہرستوں سے کھرچ رہا تھا، وہ دراصل اس بوجھ کی طرح تھے جو رفتار کو سست کر دیتے ہیں۔ اس نے اردو کے اس کھردرے چہرے کو پالش کر کے اتنا ہموار کر دیا تھا کہ اب اس پر کسی بھی ’شک‘ کا نشان ٹھہر نہیں سکتا تھا۔ اب یہاں وہی لوگ مدعو تھے جن کی سماعتیں وقت کی نئی آوازوں سے ہم آہنگ تھیں اور وہی تحریریں زیر بحث تھیں جو سسٹم کے نئے جغرافیے میں اپنی جگہ بنا چکی تھیں۔ اس کے لیے یہ کوئی بے وفائی نہیں تھی،بلکہ ایک نہایت نفیس ’تکنیکی ایڈجسٹمنٹ‘ تھی جس نے اردو کو مزاحمت کی دھول سے نکال کر سرکاری ایوانوں کی مخملی خاموشی تک پہنچا دیا تھا۔
عبدالمجید کے دفتر کی میز پر دھری ہوئی شیشے کی بھاری سلیب کے نیچے ادارے کا وہ نیا’ لوگو‘ چمک رہا تھا، جس میں اردو کے ایک ’ن‘ کو اس مہارت سے تراشا گیا تھا کہ وہ دور سے کسی نیم دائرے یا شاید کسی شکنجے کی طرح نظر آتا تھا۔ کمرے میں خاموشی اتنی بوجھل تھی کہ فائل کے صفحات پلٹنے کی آواز بھی کسی کے سانس لینے کی آواز سے زیادہ نمایاں تھی۔
میز پر دو فہرستیں پڑی تھیں۔ ایک ’منظور شدہ‘ (Approved) اور دوسری ’زیر غور‘ (Pending)۔
عبدالمجید نے سونے کے ملمع والی فاؤنٹین پین اٹھائی اور ’زیر غور‘ فہرست پر نظر ڈالی۔ پہلا نام ایک ایسے نقاد کا تھا جس کی عمر اردو کی تاریخ لکھتے گزری تھی، لیکن جس کے تازہ ترین مضمون نے ’سرکاری سکون‘ میں ذرا سی ہلچل پیدا کر دی تھی۔ مجید نے اس کے نام کے سامنے نہایت نفاست سے ایک چھوٹا سا ’ایس‘ (S) لکھا؛جس کا مطلب تھا: ’اسٹریٹجک ہولڈ‘۔
’’سر! وہ نیشنل ایوارڈز کے لیے ججوں کا پینل فائنل کرنا ہے۔ وہ جو تین سینئر پروفیسر صاحبان ہیں، ان کی فائل ابھی تک آپ کے دستخط کی منتظر ہے،‘‘ اس کے پی-اے، ناصر نے دبے پاؤں داخل ہوتے ہوئے کہا۔
مجید نے عینک کے اوپر سے ناصر کو دیکھا۔ اس کی نظریں ناصر کے ہاتھ میں موجود فائل پر نہیں، بلکہ اس کے گلے میں بندھی اس ٹائی پر تھیں جو تھوڑی سی ٹیڑھی تھی۔
’’ناصر صاحب! سینیارٹی سے زیادہ ’ہم آہنگی‘ اہم ہوتی ہے۔ ہمیں ایسے جج چاہئیں جو اعزاز دیتے وقت یہ نہ بھولیں کہ اعزاز دینے والا ہاتھ کس کا ہے۔ وہ جو تیسرے نمبر پر ہندی کے وِدوان ہیں، جن کا اردو میں صرف ایک ترجمہ ہے، انھیں کانفرنس کا کنوینر بنا دیجیے۔ ان کا نقطۂ نظر ’وسیع‘ ہے، وہ اردو کو محض ایک زبان نہیں بلکہ ’سب کا ساتھ سب کا وِکاس‘کی عینک سے دیکھتے ہیں۔‘‘
ناصر نے کچھ کہنا چاہا، لیکن مجید نے قلم کی نوک سے دوسری فہرست کی طرف اشارہ کر دیا۔ اس فہرست میں ان نوجوانوں اور گمنام شعراء کے نام تھے جو پچھلے تین سالوں سے ہر سیمینار اور مشاعروں میں صف اول میں نظر آتے تھے۔
’’اور یہ جو تحقیق کے لیے فنڈز الاٹ ہوئے ہیں، ان کا موضوع بدل دیجیے۔ وہ جو ’کلاسیکی غزل میں احتجاج‘ پر کام کرنا چاہتے تھے، انھیں کہیے کہ ’وِکست بھارت میں اردو کے دیش پریم کا سفر‘ پر خاکہ تیار کریں۔ ہمیں وہ ڈیٹا چاہیے جو ہمارے بجٹ کو جسٹیفائی کر سکے۔‘‘
مجید نے دراز سے ایک نئی شائع شدہ کتاب نکالی۔ اس کی جلد ریشمی تھی، یہ کتاب اردو رسم الخط میں ایک ایسی شخصیت کی تعریف پر مبنی تھی جس نے کبھی ’معافی ناموں‘ سے اپنی رہائی کا راستہ ہموار کیا تھا۔اسے تقریب رسم اجرا میں وزیر موصوف کے سامنے اپنی کی گئی تقریر کی بازگشت سنائی دی:
’’اس طرح کی کچھ اور کتابیں شائع ہونے کی ضرورت ہےجو اردو لٹریچر میں گراں قدر اضافہ ہوں۔پوری اردو دنیا کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے، کیوں کہ اب تک اردو زبان میں ایسے’ویروں‘ پر مستند اور غیرجانبدارانہ حقائق پر مبنی کتاب کی شدید کمی محسوس کی جارہی تھی،جسے ہم نے دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ مجھے امید ہے کہ اردو آبادی اس کتاب کا ضرور مطالعہ کرے گی اور آزاد ہندوستان کےغیر جانبدارانہ تاریخی بیانیے اور تحقیق و تفتیش پر مبنی جہت سے آگاہی حاصل کرے گی۔‘‘
مجید نے سکون سے کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی۔ اسے محسوس ہوا کہ ادارے کی بنیادوں میں جو دیمک لگی تھی، وہ اب اس کے اپنے ڈیزائن کا حصہ بن چکی تھی۔ اسے اردو کا مستقبل ایک ایسی ’خالی فائل‘ کی طرح نظر آیا، جس پر وہ جو چاہے تحریر کر سکتا تھا۔
ٍ
باہر راہداری میں اردو کے کسی بوڑھے استاد کے قدموں کی چاپ سنائی دی، جو شاید اپنے کسی واجب الادا بل کے لیے مہینوں سے چکر لگا رہا تھا۔ مجید نے کھڑکی کا بھاری پردہ گرا دیا تاکہ باہر کی دھوپ اور وہ گرد آلود چہرہ اس کی آفس کی چمک کو دھندلا نہ کر سکے۔
ادارے کا کانفرنس رُوم اپنی چمکدار ساگوان کی میز اور چمڑے کی کرسیوں کے ساتھ کسی عدالتی کٹہرے جیسا لگ رہا تھا۔ میز کے وسط میں رکھی ہوئی فائلیں کسی خاموش گواہ کی طرح پڑی تھیں۔ عبدالمجید نے نہایت نفاست سے اپنی ٹائی کی گرہ درست کی اور ایک بھرپور نظر ان پانچ بورڈ ممبران پر ڈالی جو شہر کے مختلف علمی اداروں کی نمائندگی کر رہے تھے۔
’’صاحب صدر! میں نے ایوارڈز کی یہ عبوری فہرست دیکھی ہے،‘‘ پروفیسر ہاشمی نے، جن کی سفید داڑھی اور پُر وقار لہجہ ان کی چالیس سالہ تدریسی زندگی کا ثبوت تھا، فائل بند کرتے ہوئے کہا۔ ’’لیکن مجھے حیرت ہے کہ اس بار ’اردو تنقید‘ کے لیے پروفیسر زیدی کا نام کیوں غائب ہے؟ کیا ہم ان کی پچاس سالہ خدمات کو صرف اس لیے نظر انداز کر رہے ہیں کہ ان کے خیالات ادارے کے حالیہ ’ڈیزائن‘ میں فٹ نہیں بیٹھتے؟ اور یہ صاحب… جنھیں
آپ فکشن کا ایوارڈ دے رہے ہیں، ان کا کُل کام ڈیڑھ سو صفحے کا ایک افسانوی مجموعہ اور اردو میں صرف دو ترجمے ہیں، وہ بھی ہندی سے۔‘‘
کمرے میں ایک بوجھل سناٹا چھا گیا۔ باقی ممبران نے نظریں چرا کر اپنے سامنے رکھے ہوئے پانی کے گلاسوں کو دیکھنا شروع کر دیا۔
عبدالمجید کے چہرے پر کوئی جھرجھری نہیں آئی۔ اس نے نہایت اطمینان سے ایک پنسل اُٹھائی اور اسے اپنی انگلیوں میں اس طرح گھمایا جیسے وہ کسی پیچیدہ مشین کے کل پرزے کو ایڈجسٹ کر رہا ہو۔
ٍ
’’پروفیسر ہاشمی! آپ کی تشویش کا احترام واجب ہے،‘‘ مجید کی آواز میں شہد جیسی مٹھاس اور برف جیسی ٹھنڈک تھی۔ ’’پروفیسر زیدی بلاشبہ ایک قد آور شخصیت ہیں، لیکن ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا وہ آج کے ’بدلتے ہوئے لسانی منظر نامے‘ سے مطابقت رکھتے ہیں؟ ان کی تنقید ماضی کے کھنڈرات میں سانس لیتی ہے، جبکہ ہمارا ادارہ اب اردو کو ایک ’فنکشنل‘ اور ’قومی‘ زبان کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے۔ ہمیں ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو اردو کو دوسری زبانوں کے ساتھ جوڑیں، اسے ہجرت کےپچھتر سالہ پرانے دُکھوں سے نکال کر ’وِکست‘ مستقبل کی لغت عطا کریں۔‘‘
’’لیکن مجید صاحب! ترجمہ تخلیق کا متبادل نہیں ہو سکتا،‘‘ ایک اور ممبر، صابر صاحب نے دبی زبان میں احتجاج کیا۔
مجید نے ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ صابر صاحب کی طرف دیکھا۔
’’صابر صاحب! جس ترجمے کی آپ بات کر رہے ہیں، وہ دراصل ’تہذیبی پُل‘ ہے۔ جن صاحب کو ہم ایوارڈ دے رہے ہیں، انھوں نے ان عظیم ہیروز کی سوانح عمری کو اردو کے قالب میں ڈھالا ہے جنھیں ہماری نئی نسل بھول چکی تھی۔ کیا اردو کا فروغ صرف غزلوں اور افسانوں تک محدود رہنا چاہیے؟ کیا ہمیں ان خیالات کو جگہ نہیں دینی چاہیے جو اس وقت دیش کی شہ رگ میں دوڑ رہے ہیں؟ ہم اگر اردو کو صرف مسلمانوں کی اور مزاحمت کی زبان بنا کر رکھیں گے، تو یہ زبان جلد ہی کسی میوزیم کا حصہ بن جائے گی۔ میں اس زبان کو میوزیم سے نکال کر ’منڈی‘ اور ’پارلیمنٹ‘ تک لے جانا چاہتا ہوں۔ اس کے لیے ہمیں کچھ قربانیاں تو دینی ہوں گی۔‘‘
ٍ
مجید نے ایک لمحے کا توقف کیا، جیسے وہ اپنی منطق کا اثر دیکھ رہا ہو۔ اس نے دیکھا کہ پروفیسر ہاشمی کی پیشانی پر بَل تو ہیں، لیکن ان کے پاس مجید کی اس ’قومی تعبیر‘ کا کوئی توڑ نہیں تھا۔
’’رہی بات پروفیسر زیدی کی… تو انھیں ہم نےنظر انداز نہیں کیا،‘‘ مجید نے بڑے تپاک سے اضافہ کیا۔ ’’بلکہ ہم نے انھیں اپنے ’مشاورتی بورڈ‘ کے لیے ریزرو رکھا ہے۔ ایوارڈز ان لوگوں کے لیے ہیں جنھیں ابھی ’مہمیز‘ کرنے کی ضرورت ہے۔ زیدی صاحب تو ایوارڈز سے بلند ہو چکے ہیں۔ ہمیں اردو کا وہ چہرہ سامنے لانا ہے جو سب کو قبول ہو، جو کسی کو ’مشکوک‘ نہ لگے۔ ہمیں اردو کو ’مشرف بہ ترقی‘ کرنا ہے۔‘‘
ٍ
مجید کی دلیل میں وہ ’تکنیکی توازن‘ تھا جس نے اختلاف کی گنجائش کو اخلاقی طور پر ختم کر دیا تھا۔ اس نے یہ نہیں کہا کہ وہ کسی کا مخالف ہے، بلکہ اس نے اپنی مخالفت کو ’اردو کی بقا‘ کے فلسفے میں لپیٹ کر پیش کر دیا تھا۔
’’اگر آپ سب متفق ہیں، تو ہم اس فہرست کو فائنل مہر کے لیے بھیج دیں؟‘‘ مجید نے قلم اٹھایا اور ان سب کے چہروں کو باری باری دیکھا۔
ایک ایک کر کے سب نے گردنیں جھکا دیں۔ پروفیسر ہاشمی نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور خاموشی سے اپنی ڈائری میں کچھ لکھنے لگے۔ وہ لاجواب ہو چکے تھے، کیونکہ مجید نے ان کی ’تہذیبی انا‘ کو ’حب الوطنی‘ کے ترازو میں تول دیا تھا۔
مجید نے اطمینان سے فائل پر دستخط کیے۔ اس کے قلم کی سیاہی کاغذ کے مساموں میں اتنی گہری اُتر رہی تھی کہ اسے محسوس ہوا وہ صرف نام نہیں لکھ رہا، بلکہ اردو کی پرانی قامت پر ایک نیا ’یونیفارم‘ چڑھا رہا ہے؛ایک ایسا یونیفارم جس میں کوئی ’نقطہ‘ یا ’شوشہ‘ اب سوال اٹھانے کے قابل نہیں رہا تھا۔
کمرے میں دوبارہ ’اے سی‘ کی سائیں سائیں گونجنے لگی، اور مجید نے فاتحانہ انداز میں انٹرکام اٹھا کر ناصر کو چائے بھیجنے کا حکم دیا۔
’اردو کتاب میلے‘ کا پنڈال کسی شاہی خیمے کی طرح ہائی وے کے کنارے ایستادہ تھا۔ رنگ برنگی جھنڈیاں، دودھیا روشنیوں کا ہجوم اور اسپیکروں سے گونجتا ہوا وہ بیانیہ جس میں ’فروغ‘ اور ’تعمیر‘ جیسے الفاظ ایک خاص تسلسل سے دہرائے جا رہے تھے۔ عبدالمجید اسٹیج کے عین وسط میں، وزیر موصوف کے بالکل پہلو میں بیٹھا تھا۔ اس کے چہرے پر وہ مخصوص سپاٹ مسکراہٹ تھی جو اطمینان اور برتری کے عین سنگم پر نمودار ہوتی ہے۔
اسٹیج کے سامنے والی صفوں میں ان خوشامدیوں کا جمگھٹا تھا جنھیں مجید نے بڑی عرق ریزی سے چنا تھا۔ وہ یونیورسٹیوں کے پروفیسر جن کی لغت میں اب صرف ’حکمت عملی‘اور ’مصلحت‘ باقی رہ گئی تھی، اور وہ شعرا جو بحروں سے زیادہ بجٹ کے تناسب سے واقف تھے۔ جب بھی اسٹیج سے کوئی نیم سیاسی جملہ اُچھالا جاتا، مجمع ایک ایسی میکانکی تال پر تالیاں بجاتا جیسے کسی سافٹ ویئر نے انھیں کمانڈ (Command) دی ہو۔
’’مجید صاحب!آپ نے لاج رکھ لی میری سفارش کی جو میں نے ’سی ایم‘ سے کی تھی۔ میں سچ مچ بہت متاثر ہوا کہ آپ نے اردو والوں کو اس قدر منظم کر لیا ہے،‘‘ وزیر صاحب نے مسکراتے ہوئے مجید کے کان میں سرگوشی کی۔ ’’پہلے یہاں صرف شکایتیں سننے کو ملتی تھیں، آج یہاں صرف ’شکریہ‘ سنائی دے رہا ہے۔‘‘
مجید نے عجز سے گردن جھکائی۔ ’’صاحب! یہ صرف سمت درست کرنے کا معاملہ تھا۔ ہم نے اردو کو ان بوجھل جذبوں سے آزاد کر دیا ہے جو اسے شاہراہِ ترقی پر دوڑنے سے روکتے تھے۔ اب یہ زبان صرف وہی بولتی ہے جو دیش سننا چاہتا ہے۔‘‘
میلے کے اسٹالز پر ایک عجیب منظر تھا۔ وہ قدیم پبلشرز، جن کی کتابوں میں تاریخ کی کراہیں اور سوالات قید تھے، انھیں پنڈال کے آخری اندھیرے گوشوں میں جگہ دی گئی تھی۔ سامنے کے روشن اسٹالز پر وہ نئی کتابیں چمک رہی تھیں جن کی فہرست مجید نے خود فائنل کی تھی۔ ان کتابوں کی جِلدیں ریشمی تھیں، کاغذ سفید تھے، لیکن ان کے اندر کا متن اس قدر ’محتاط‘ تھا کہ وہ کسی کے ذہن میں ایک لہر بھی پیدا نہیں کر سکتا تھا۔
تقریب کے اختتام پر، مجید کو ’محسن اردو‘ کا ایوارڈ دیا گیا؛وہی ایوارڈ جس کی جیوری کمیٹی اس نے خود بنائی تھی۔ جب وہ ایوارڈ لینے کے لیے اٹھا، تو اس کے پیچھے ان بونے ادیبوں کی ایک قطار تھی جو اس کے سائے میں اپنی اپنی گرانٹ کی فائلیں چھپائے کھڑے تھے۔
مجید نے ہال کی وسعت پر ایک نظر ڈالی۔ اسے محسوس ہوا کہ اس نے اردو کی پوری عمارت کو ایک ایسے’پیوند‘ (Patch) سے ڈھانپ دیا ہے جس کے نیچے اب کوئی دراڑ نظر نہیں آرہی تھی۔ اس نے زبان کو مٹایا نہیں تھا، اس نے تو اسے ایک ایسی ’پرفیکٹ خاموشی‘ میں بدل دیا تھا جسے اب کسی بھی تقریب میں موسیقی کے طور پر استعمال کیا جا سکتا تھا۔ اس کے لیے یہ غداری نہیں، بلکہ ایک ’کامیاب ریسٹوریشن‘ (Restoration) تھی۔ اس نے پہیے کو پنچر ہونے سے نہیں بچایا تھا، بلکہ اس نے ٹائر کے اندر کنکریٹ بھر دیا تھا تاکہ وہ کبھی پچک نہ سکے؛چاہے اس کی اپنی لچک ہی کیوں نہ ختم ہو جائے۔
گاڑی تک پہنچتے ہوئے ناصر نے ایک فائل مجید کی طرف بڑھائی۔ ’’سر! وہ جو سینئر ادیب باہر کھڑے تھے، وہ اب ایک میمورنڈم دینے پر بضد ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ یہ میلہ ’کفن کی نمائش‘ ہے۔‘‘
مجید نے گاڑی کے ٹھنڈے چمڑے کی سیٹ پر بیٹھتے ہوئے فائل کو نظر انداز کر دیا۔
’’انھیں کہنے دو ناصر میاں۔ جو لوگ تاریخ کے پچھلے صفحات پر اٹکے ہوں، انھیں مستقبل کی لغت سمجھ نہیں آتی۔ انھیں بتا دو کہ اردو اب ’ملاؤں‘ کے حجروں سے نکل کر ’منتریوں‘ کے ڈرائنگ روم تک پہنچ چکی ہے۔ اور یہی اس کا اصل فروغ ہے۔‘‘
گاڑی کا شیشہ اوپر چڑھا تو باہر کا شور یکدم سےدم توڑ گیا۔ مجید نے ’اے سی‘ کی ٹھنڈک میں اپنی آنکھیں موند لیں۔ اسے لگا کہ اب اس جغرافیے میں کوئی بھی آواز اس کے حصار کو توڑ نہیں سکے گی۔ اس نے اپنے ہنر سے اس زبان کی شہ رگ پر ایک ایسا ’سرکاری پیوند‘ لگا دیا تھا جس کی گرفت سے اب کوئی حرف زندہ نہیں نکل سکتا تھا۔
باہر ہائی وے پر رات کی تاریکی پھیل رہی تھی، اور میلے کی روشنیاں دور سے کسی جلتے ہوئے ملبے کی طرح نظر آ رہی تھیں؛ایک ایسا ملبہ جس پر عبدالمجید نے اپنی ’خود نمائی‘ کا کتبہ نصب کر دیا تھا۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں