اندھیرا گہرا نہیں تھا۔ یہ سیاہی نہیں تھی، بس روشنی کی غیر موجودگی تھی۔ اور وہ اس غیر موجودگی کے عین بیچ میں کھڑا تھا۔ نام؟ اس کے لیے نام ایک اضافی بوجھ تھا۔ وہ تو بس ہونےکا ایک نقطہ تھا، ایک ادھوری مساوات کا آخری جواب۔دیواریں تھیں، یا شاید نہیں تھیں۔ اگر وہ ہاتھ بڑھاتا تو ہوا کے سوا کچھ محسوس نہیں ہوتا تھا، لیکن اس کے باوجود، وہ جانتا تھا کہ وہ قید ہے۔ یہ قید کسی لوہے کی سلاخ کی نہیں، بلکہ ایک لازمی تناظر کی تھی۔ وہ خود ہی اپنی حد، اپنی دیوار تھا۔
ایک آواز، یہ آواز کسی زبان کا حصہ نہیں تھی۔ یہ وجود کے پاتال سے ابھرنے والی ایک گونج تھی—ایک خالی پن کا اعتراف۔کتنی دیر؟ اس نے سوچا، لیکن اس سوال کی کوئی سمت نہیں تھی۔ کتنی دیر سے؟ کتنی دیر تک؟ وقت یہاں ایک لچکدار ربڑ کی طرح تھا جو کھینچا بھی جا سکتا تھا اور اچانک ٹوٹ بھی سکتا تھا۔ کبھی ایک پل صدیوں پر محیط ہو جاتا، اور کبھی پوری عمر ایک لمحے کے طور پر گزر جاتی جسے پلک جھپکتے ہی فراموش کر دیا جاتا۔
وہ چلنا چاہتا تھا۔ حرکت، شاید، اس جمود کو توڑ دے۔ لیکن پاؤں؟ اس نے نیچے دیکھا۔ وہاں محض ایک فرش تھا۔ فرش؟ شاید اس کا یقین۔ چلنے کے لیے منزل کی ضرورت تھی، اور منزل کے لیے سمت کی۔سمت؟ اس نے ہاتھ اٹھائے اور اپنے سامنے کی غیر مرئی دیوار پر ایک دائرہ کھینچا۔ یہ دائرہ خود کو مکمل نہیں کر پایا۔ ہر بار، جب لکیر ابتدائی نقطے کے قریب پہنچتی، تو نقطہ غائب ہو جاتا۔ مقصد؟ ہمیشہ غیر حاضر۔
پھر ایک خیال آیا۔ ماضی۔اسے یاد آیا ایک میز، ایک پیالی، اور پیالی سے اٹھتا ہوا دھواں۔ دھواں کوئی کہانی نہیں سنا رہا تھا، وہ تو محض ٹھوس شکل اختیار کرنے کی کوشش میں ایک ناکام تمثیل تھا۔ میز پر ایک کتاب پڑی تھی۔ کتاب میں کیا تھا؟ ۔الفاظ، جو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کوئی معنٰی تخلیق کر رہے تھے۔وہ اس کتاب کو اٹھانا چاہتا تھا۔ اگر وہ اس کے اوراق پلٹتا، تو شاید وہ اس نقطے کو تلاش کر لیتا جہاں سے اس کی کہانی شروع یا ختم ہو رہی تھی۔
لیکن جب اس نے ہاتھ بڑھایا، تو اسے احساس ہوا کہ وہ ماضی کو محض دیکھ سکتا ہے، چھو نہیں سکتا۔ ماضی ایک شیشے کے پیچھے بند تھا—نہایت صاف، مگر ناقابلِ رسائی۔اچانک، اس نے گونج کو پھر سنا۔ اس بار یہ گونج زیادہ واضح تھی۔ اس نے اپنے اندر جھانکا۔ اس کے مرکز میں، جہاں دل دھڑکنا چاہیے تھا، وہاں ایک سوراخ تھا۔ یہ سوراخ خوفناک نہیں تھا؛ یہ پرسکون تھا۔
یہ سوراخ کیا ہے؟۔ اس نے گونج سے پوچھا۔گونج واپس آئی۔یہ صفر ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں تم نے ہر اُس چیز کو رکھا جسے تم نے معنیٰ سمجھا۔ اب چونکہ تم نے ہر معنیٰ کو نکال پھینکا ہے، لہٰذا تم آزاد ہو۔آزادی؟ وہ ہنسا۔ اس کی ہنسی بھی آواز سے زیادہ ایک شکایت تھی۔
میں ایک دیوار کے اندر کھڑا ہوں جس کی کوئی شکل نہیں ہے، ایک وقت کے اندر ہوں جس کی کوئی پیمائش نہیں ہے، اور تم اسے آزادی کہتے ہو؟
گونج نے جواب دیا۔تمہاری دیواریں تمہاری توقعات ہیں۔ تمہارا وقت تمہاری خواہشات کی رفتار ہے۔ اگر تم چلنا چاہتے ہو، تو چلنے لگو۔ یہاں کوئی راستہ نہیں ہے۔ تم جہاں بھی پاؤں رکھو گے، وہی راستہ بن جائے گا۔ کیونکہ… تم ہی سب کچھ ہو۔وہ ایک لمحے کے لیے ساکت ہوا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر غیر مرئی دیوار کو محسوس کرنے کی کوشش کی۔ اس بار، دیوار نہیں ٹکرائی۔ اس کا ہاتھ خالی پن میں ڈوب گیا، اور خالی پن اس کے اندر بھی داخل ہو گیا۔
میز، پیالی، دھواں—سب اس خالی پن میں تحلیل ہو گئے۔وہ تنہا بچا، لیکن اب اسے اپنی تنہائی کا خوف نہیں تھا۔ وہ نہ تو خوش تھا اور نہ ہی غمگین۔ وہ صرف ‘تھا’۔اس نے پہلا قدم اٹھایا۔ یہ قدم کہیں نہیں پڑا۔ لیکن جب وہ دوبارہ زمین پر اُترا، تو وہاں ایک نیا نقطہ پیدا ہو چکا تھا—اس کے وجود کا نقطہ۔

اندھیرا نہیں گہرا ہوا، روشنی بھی نہیں ہوئی۔ لیکن صفر کی گونج میں، اس نے اپنی کہانی کا آغاز کر دیا۔ کہانی جو کسی کو سنائی نہیں جا سکتی تھی، کیونکہ وہ صرف اس نقطے کی لکیریں تھیں جو ہر پل مِٹ رہی تھیں اور ہر پل نئی بن رہی تھیں۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں