• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • ہومی کے بھابھا:”فکر ،عمل اور ثقافتی تشکیل نُو” (مابعد نوآبادیاتی مطالعات) -منصور ساحل

ہومی کے بھابھا:”فکر ،عمل اور ثقافتی تشکیل نُو” (مابعد نوآبادیاتی مطالعات) -منصور ساحل

ہومی کے بھابھا ( Home K. Bhabha) ایک ممتاز ہندوستانی مفکر، تنقیدی نظریہ ساز اور مابعد نوآبادیات مطالعات پر نظر رکھنے والے دانشور ہیں۔ وہ ثقافتی تحقیق، ادبی تجزیہ اور استعماری اثرات کے مطالعہ میں اپنی گہری بصیرت کے لیے شہرت رکھتے ہیں۔ ان کے خیالات نے بین الاقوامی علمی دنیا پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔ ان کی شہرۂ آفاق تصنیف ” (The Location of Culture, 1994) میں انہوں نے نوآبادیاتی تاریخ اور تہذیبی شناخت کے پیچیدہ سوالات کو نئے زاویوں سے پیش کیا ہے۔ ہومی کے بھابھا کے نظریات کو سمجھنے سے پہلے، چند اہم اصطلاحات اور ان کی تصنیف کا تعارف پیش کیا جائے گا تاکہ قاری ان کے فکری پس منظر سے آگاہ ہو سکے۔
ہومی کے بھابھا کی کتاب “The Location of Culture” ایک نئے اندازِ فکر کو پیش کرتی ہے جو طبقے اور جنس جیسی روایتی گروہ بندی سے ہٹ کر ثقافتی اور سماجی نظریات کو دوبارہ تشکیل دینے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ کتاب “مابعد” کے تصورات کی روشنی میں موجودہ نظریاتی حدود کو چیلنج کرتی ہے اور انہیں غیر مستحکم کر کے نئی تعبیرات پیش کرتی ہے۔ اس کتاب میں بھابھا کے استعماریت مخالف مضامین شامل ہیں، جو نوآبادیاتی تسلط، جبر اور ذہنی غلبے کے طریقوں پر تنقید کرتے ہیں۔اس کے علاوہ درجہ ذیل موضوعات ” قوم پرستی، پس نوآبادیاتی ادب، عالمگیریت کے دور میں شہروں کے مسائل ،تحریر اور ترجمہ کے مطالعے ، پس جدیدیت (Postmodernism) ، تاریخ، ثقافت اور فلسفہ کی تحقیق” بھی کتاب کا حصہ ہیں۔ مختصراً، یہ کتاب ثقافتی شناخت اور طاقت کے تعلقات کو نئے زاویوں سے دیکھنے کی دعوت دیتی ہے۔ ہومی کے بھابھا کے کام کو سمجھنے کے لیے سب سے اہم لفظ “مابعد نوآبادیات” (Post colonialism ) ہے۔ ما بعد نوآبادیات (پوسٹ کولونیل ازم) کیا ہے؟ما بعد نوآبادیات سے مراد وہ علمی و نظریاتی مطالعہ ہے جو نوآبادیاتی دور کے بعد کے سماجی، ثقافتی اور سیاسی اثرات کا جائزہ لیتا ہے۔ یہ نظریہ نوآبادیاتی تسلط کے زیرِ اثر تشکیل پانے والی شناختوں، ثقافتوں اور معاشرتی ڈھانچوں کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ نوآبادیاتی نظام ایک ایسی استعماری حکمت عملی تھی جس میں طاقتور اقوام نے کمزور ممالک پر سیاسی، معاشی اور ثقافتی غلبہ حاصل کیا۔ یورپی طاقتوں (جیسے برطانیہ، فرانس) نے ایشیا اور افریقہ کے خطوں پر قبضہ کرکے وہاں کے وسائل پر کنٹرول قائم کیا۔ مقامی حکومتوں کو ختم کرکے انہوں نے نہ صرف قدرتی ذخائر لوٹے بلکہ اپنی زبان، تہذیب اور اقدار کو بھی زبردستی مسلط کیا۔ اس کے نتیجے میں مقامی معیشتیں تباہ ہوئیں، ثقافتی ورثہ مجروح ہوا، اور مقبوضہ اقوام کو نفسیاتی طور پر محکوم بنایا گیا۔ یورپی استعمار کے پیچھے درج ذیل نفسیاتی اور نظریاتی محرکات کارفرما تھے۔
• یورپی اقوام خود کو مذہبی اعتبار سے برتر سمجھتی تھیں اور “وحشی” اقوام کو مہذب بنانے کا بہانہ کرتی تھیں۔
• سفید فام نسل کو دوسری نسلوں پر فوقیت دینا۔
• جدید ایجادات کو اپنی بالادستی کا جواز بنانا۔
• مقامی ثقافتوں کو کمتر اور یورپی اقدار کو اعلیٰ قرار دینا۔
• مقامی زبانوں کو کم تر اور یورپی زبانوں (جیسے انگریزی) کو معیار بنانا۔
• مقامی آبادیوں کو کم عقل اور کمزور سمجھنا۔
• نوآبادیاتی تعلیمی نظام کے ذریعے مقامی لوگوں کو اپنا تابع بنانا۔
اس نظام کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ مقبوضہ اقوام یہ سمجھیں کہ یورپی تسلط ان کی ترقی اور بہبود کے لیے ضروری ہے۔ اس طرح استعمار نے نہ صرف وسائل پر کنٹرول حاصل کیا بلکہ مقامی ذہنوں کو بھی اپنا غلام بنا لیا۔ ما بعد نوآبادیات کا مطالعہ انہی پیچیدہ اثرات کو سمجھنے اور نوآبادیاتی تسلط کے بعد کی دنیا کو نئے سرے سے تعمیر کرنے کی کوشش ہے۔اجمالاًہم کہہ سکتے ہیں کہ مابعد نوآبادیاتی مطالعات کا بنیادی مقصد نوآبادیاتی متون کو ایک نئے تناظر میں دیکھنا ہےجس میں نوآبادیاتی طاقتوں کے ذریعے مسلط کردہ ذہنی اور جسمانی غلامی کی حقیقت کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ہومی کے بھابھا مابعد نو آبادیات کے بارے میں واضح موقف اختیار کرتے ہیں۔وہ لکھتے ہیں کہ نوآبادیاتی دور کے بعد کی تنقید یہ کہتی ہے کہ ہمیں ایسی سوچ اپنانی چاہیے جہاں ہم دوسروں کی الگ پہچان (ان کا اپنا انداز، ثقافت، عقیدہ) کو نظرانداز یا ختم نہ کریں (یہ الگ پہچان ہی ہماری ذہنی اور معاشرتی شناخت بناتی ہے)بلکہ ہر شخص کی ذاتی پسند برقرار رہے۔ مثلاً ہر ثقافت کے اپنے اصول اور اہم چیزیں ہوتی ہیں، جو دوسری ثقافتوں سے بالکل مختلف ہو سکتی ہیں۔ یہ فرق اتنا بڑا ہوتا ہے کہ اسے صرف ” ثقافت برتری” یا “سب متوازی ہیں” کہہ کر حل نہیں کیا جا سکتا۔ مزید آسان الفاظ میں ہومی کے بھابھا اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ نہ تو پوری تیسری دنیا کو مغرب کی نقل سمجھیں۔ نہ ہی صرف یہ کہہ دیں کہ “سب ثقافتیں اعلی ہیں” اور بات ختم کر دیں۔ بلکہ اس کی بجائے، ہمیں اصل فرق کو سمجھنا چاہیے ۔ ہر معاشرہ اپنے طور پر منفرد ہے اسے بدلنے یا نظرانداز کرنے کی بجائے، اس کی خاصیت اور اہمیت کو سمجھنے کی ضرورت ہے”(۱)
مذکورہ بالا بحث کے تناظر میں ہومی کے بھابھا کے نظریات کا جائزہ ان کے اصل متن کی روشنی میں پیش کیا جائے گا، تاکہ ان کے فکری موقف کی گہرائی کو سمجھا جا سکے۔ہومی کے بھا بھا نے تقلید،ثقافتی تضاد،دوہری شناخت ،مخلوطیت جیسے تصورات کے ذریعے استعماری نظام کی تخلیق کردہ پیچیدہ صورتِ حال کو نمایاں کیا ہے۔ ہومی کے بھابھا نے مابعد نوآبادیاتی تناظر میں تقلید کے تصور کو نئے معنوی اور نظریاتی ابعاد دیے جس سے نوآبادیاتی طاقت کے تضادات اور ثقافتی اشتراک کی پیچیدگیوں کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ تقلید کا تصور پہلے ہی نفسیات اور ادب میں موجود تھا لیکن ہومی کے بھابھا نے اسے نوآبادیاتی ڈسکورس میں ایک کلیدی نظریاتی سطح کے طور پر پیش کیا۔ ان کے نزدیک تقلید محض نقل نہیں بلکہ ایک ایسا دوہرا عمل ہے جو استعماری اقتدار کو بے نقاب کرتا ہے۔ نقل (Mimicry) سے مراد کسی دوسری ثقافت، زبان، یا طرز زندگی کی نقالی یا تقلید کرنا ۔ یہ رویہ عام طور پر اس وقت دیکھنے میں آتا ہے جب طاقتور گروہ، کمزور یا محکوم لوگوں کو اپنے رسم و رواج، زبان یا اقدار اپنانے پر مجبور کرتا ہے۔نوآبادیاتی دور میں نقل ایک اہم تصور تھا۔نوآبادیاتی نظام میں مقامی لوگوں کو استعمار کی ثقافت، زبان، اور اقدار کو اپنانے پر مجبور کیا جاتا تھا، لیکن یہ نقل مکمل طور پر اصلی نہیں ہوتی تھی۔ اس میں ایک “شخصی و نفسیاتی فضا” پیدا ہوتی تھی، جہاں مقامی لوگ استعمار کی تقلید تو کرتے تھے، لیکن ساتھ ہی اپنی شناخت کو بھی برقرار رکھتے تھے۔ یہ نقل مختلف رویوں کا مجموعہ تھی، مثلاً ۱۔ مقامی شخص کو انگریزی جیسی زبان سیکھنی پڑتی تھی وہ اس زبان میں اپنا لہجہ یا مقامی الفاظ شامل کرتا تھا ۔جس سے نئی زبان اور نیا لہجہ ” ہندوستانی انگریزی”وجود میں آیا۔۲۔ نوآبادیاتی طاقتیں مقامی لوگوں کو مغربی لباس، رسم و رواج اپنانے پر مجبور کرتی تھیں، لیکن مقامی لوگ انہیں اپنے انداز میں ڈھال لینے کے قائل تھے۔ ۳۔ کرسچین فکر کے زیر اثر مقامی لوگ عیسائیت اپناتے تھے، لیکن ساتھ ہی اپنے روایتی عقائد کو بھی شامل کر لیتے تھے۔ اس عمل کا اثر یہ ہوا کہ یہ استعمار کے تہذیبی مشن کمزور ہوا ، کیونکہ مقامی نقل اور لوگ مکمل طور پر یورپی اقدار کو نہیں اپناتے تھے۔ جس سے ایک ہائبرڈ ثقافت کا جنم ہوا جو نوآبادیاتی طاقت کے خلاف ایک خاموش مزاحمت بھی تھی۔ ہومی کے بھابھا وضاحت کرتے ہیں:
نوآبادیاتی تقلید کا یہ عمل اکثر اصلاح اور تہذیب کے دعوؤں کو ہی مشکوک بنا دیتا ہے۔ کیونکہ تقلید میں ہمیشہ ایک کمی رہ جاتی ہے ۔وہ اصل جیسا تو ہوتا ہے، لیکن بالکل ویسا نہیں۔ یہ کمی استعماری حکومت کے لیے ایک مسئلہ بن جاتی ہے، کیونکہ مقامی لوگ اگرچہ ان کے طور طریقے اپنا لیتے ہیں، لیکن مکمل طور پر نہیں۔ اس طرح استعماری طاقت کا تصور ہی ایک ادھورا یا ناقص تصور بن کر رہ جاتا ہے۔ درحقیقت، استعماری نظام کی کامیابی ہی اس کی ناکامی کا سبب بنتی ہے، کیونکہ تقلید ایک ہی وقت میں مشابہت بھی ہوتی ہے اور خطرہ بھی۔(۲)
وہ مزید وضاحت کرتے ہیں۔
نقل کرنے کا مطلب صرف دوسروں کی اندھا دھند تقلید نہیں، بلکہ ایک چالاکانہ عمل ہے جو نوآبادیاتی طاقت کو کمزور کرتا ہے۔ جب مقبول لوگ اپنے حاکموں کی نقل کرتے ہیں تو وہ نہ صرف ان کے طور طریقے اپناتے ہیں بلکہ ان کی کمزوریاں بھی بے نقاب کر دیتے ہیں۔ یہ “آدھی نقل” دراصل نوآبادیاتی نظام کے جھوٹے غرور کو چیلنج کرتی ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقبول لوگ مکمل طور پر کبھی بھی حاکموں جیسے نہیں بن سکتے ۔اور یہی فرق نوآبادیاتی طاقت کی بنیاد کو ہلا دیتا ہے۔ جیسے ایک مترجم انگریزی بول لے مگر اس کی سوچ مقامی ہی رہے یا ایک سیاستدان انگریزوں کے انداز اپنائے مگر اس کا مقصد الگ ہو، یہ سب صورتیں دکھاتی ہیں کہ نقل دراصل ایک طاقتور ہتھیار بھی ہو سکتی ہے جو نظام کو اندر سے کھوکھلا کر دیں۔(۳)
اسی نقل کے نتیجے میں ثقافتی تضاد وقوع پذیر ہوا جسے مابعد نو آبادیاتی مطالعات میں کلچرل ڈیفرنس کہا جاتا ہے ۔چوں کہ انسانی معاشرے میں ثقافتی امتیاز کی جڑیں عقیدوں، رواجوں، لسانی ساخت اور فکری دھاروں میں پیوست ہوتی ہیں ( جو ہر قوم کو اس کا امتیازی تشخص بخشتی ہیں۔) اس لیے یہ تہذیبی فرق نہ صرف معاشروں کے درمیان واضح تقسیم ہے بلکہ ان کی انفرادیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ادب کے میدان میں بھی یہ ثقافتی تفاوت نوآبادیاتی استحصال، سماجی کشمکش اور تہذیبی تصادم کے تناظر میں خاص اہمیت رکھتا ہے جہاں مختلف النوع معاشروں کے درمیان شناختی بحرانوں پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ اسی تناظر میں ہومی کے بھابھا نے ثقافتی فرق (CULTURAL DIFFIRENCE )کی اصطلاح وضع کی ہے۔مزید آسان الفاظ میں اس اصطلاح کی وضاحت اسی طرح کی جاسکتی ہے کہ کہ جب کوئی طاقتور قوم کسی کمزور ملک پر قبضہ کر کے اسے اپنی نوآبادی بناتی ہے تو وہ صرف سیاسی اور معاشی غلبہ ہی حاصل نہیں کرتی، بلکہ اپنی ثقافت کو بھی مسلط کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس عمل میں مقامی تہذیب بتدریج کمزور پڑتی چلی جاتی ہے، یا پھر اس میں غیر ملکی ثقافت کے عناصر اس طرح شامل ہو جاتے ہیں کہ اصل شناخت دھندلا جاتی ہے۔ یہ ثقافتی تسلط دو طریقوں سے ہوتا ہے: ایک جبری طور پر جب استعمار کار اپنی زبان، رسم و رواج، تعلیمی نظام تمام چیزوں کو مقامی لوگوں پر زبردستی نافذ کرتا ہے۔ ( انگریزوں نےانگریزی زبان کا نفاذ کیا اور تعلیم و تعلیمی ادارے کی ترویج) ۔ دوسرا اپنی مرضی سے اسے قبول کرنا،اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ استعمارگر اپنی ثقافت کو “اعلیٰ” اور “مہذب” ثابت کرنے کے لیے پروپیگنڈا کرتا ہے، جبکہ مقامیت کو ناقص اور جاہل کہہ کرقرار دیتا ہے ۔مقامی آبادی کے لیے یہ صورتحال انتہائی پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ وہ نہ تو اپنی روایات کو مکمل طور پر ترک کر پاتے ہیں اور نہ ہی غیر ملکی ثقافت کو پوری طرح اپنا پاتے ہیں۔ نتیجتاًکلچرل ہائبرڈیٹی”** (ثقافتی ملاپ) پیدا ہوتی ہے، جہاں دونوں ثقافتوں کے درمیان ایک کنفیوژن سی کیفیت جنم لیتی ہے۔ اس کشمکش کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ مقامی لوگوں کی ثقافتی شناخت مجروح ہو جاتی ہے۔ وہ اپنی جڑوں سے کٹ کر ایک ایسے بحران کا شکار ہو جاتے ہیں جہاں نہ وہ پرانی روایات کے ساتھ مکمل وابستہ رہ پاتے ہیں اور نہ ہی نئی تہذیب میں مکمل طور پر ضم ہو پاتے ہیں۔ یہی وہ المیہ ہے جسے ہومی کے بھابھا نے “ثقافتی شناخت کا بحران”کہا ہے۔
یہ نقطہ نظر آج کی ثقافتی شناختوں کی تشکیل کو سمجھنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ تاریخی روایات ان پر اثرانداز ہوتی ہیں اور ماضی کے استعماری دور اور عالمی تعاملات کی وجہ سے مسلسل ارتقا پذیر رہتی ہیں۔ ہومی کے بھابھا کا ثقافتی تنوع اور ثقافتی اختلافات کو سمجھنے میں اہم کردار ہے۔ وہ ثقافتی تنوع کے محض اعتراف سے آگے بڑھ کر اس بات کی وکالت کرتے ہیں کہ ثقافتیں کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ تعامل کرتی ہیں، اثر پذیر ہوتی ہیں اور ایک دوسرے کو تبدیل کرتی ہیں۔(۴)
ہومی کے بھابھا کے وضع کردہ تصورات میں دو جذبیت کا تصور ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔دو جذبیت سے مراد ایک انسان کا بیک وقت دو جذبوں کا شکار ہونا ۔اس کو انگریزی میں Ambivalence کہا جاتا ہے۔ شان الحق حقی لکھتے ہیں:وضاحت، انسانی شخصیت میں ایک ہی وقت میں دو متضاد کیفیات کا پایا جانا، خاص طور پر محبت اور نفرت جیسے متعارض جذبات کا ایک ساتھ موجود رہنا، دو جذبی کیفیت کہلاتا ہے۔”(۵) ہومی کے بھابھا کا تصور “دو جذبیت” بتاتا ہے کہ نوآبادیات کے دور میں مقامی لوگ انگریزوں کی ثقافت کے بارے میں ایک ہی وقت میں دو طرح کے جذبات رکھتے تھے۔ کچھ چیزوں کو وہ اپنانا چاہتے تھے، جبکہ کچھ سے نفرت کرتے تھے۔ یہ رویہ فطری ہے کیونکہ ہر ثقافت کے اچھے اور برے پہلو ہوتے ہیں۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب کوئی پوری غیر ملکی ثقافت کو مکمل طور پر اپنا لے یا بالکل رد کر دیں۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان کے دل میں ایک ہی چیز کے لیے کھچاؤ ہو سکتا ہے ،وہ کسی بات کو پسند بھی کرے اور ناپسند بھی۔ یہی پیچیدہ جذباتی کیفیت نوآبادیاتی دور کے ادب اور تعلقات کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ہومی کے بھابھا فرائیڈ کی تفہیمات کو سامنے رکھ کر وضاحت کرتے ہیں۔
فرائیڈ کہتے ہیں کہ انسان کبھی کبھی کسی تکلیف دہ حقیقت کو ماننے سے انکارکر دیتا ہے، لیکن ساتھ ہی اس کے دل میں اس کے بارے میں دو متضاد جذبات بھی ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، کوئی شخص کسی صدمے کو تو نظر انداز کر دے، مگر پھر بھی اس سے نمٹنے کا کوئی نہ کوئی راستہ ڈھونڈ لیتا ہے۔ اسی طرح، نوآبادیاتی دور میں جب انگریز یا دوسرے حاکم مقامی ثقافت کو کمزور یا ختم کرنے کی کوشش کرتے تھے، تو لوگ اپنی ثقافت کو بظاہر تو بھولنے لگتے، مگر درحقیقت وہ اسے نئے طریقوں سے زندہ رکھتے تھے۔ اس طرح، ثقافت کے اصل معنیٰ تو بگڑ جاتے، لیکن ساتھ ہی لوگوں میں اسے بچانے کی چالاکی اور مزاحمت بھی پیدا ہو جاتی تھی۔ مختصراًانکار کرنے والا شخص یا قوم، حقیقت کو تو جھٹلا دیتی ہے، مگر اس کے اثرات سے چھٹکارا نہیں پا سکتی۔ یہی تضاد کبھی کمزوری تو کبھی طاقت بن جاتا ہے۔(۶)
مجموعی طور پر ہومی بھابھا کے نظریات نے مابعد نوآبادیاتی تنقید کو ایک نئی جہت عطا کی ہے، جہاں دو جذبیت (Ambivalence) نوآبادیاتی طاقت کے اندرونی تضادات کو بے نقاب کرتی ہے، نقالی (Mimicry) استعماری بیانیے کو ادھورا نقل کرکے اس کی کمزوریاں ظاہر کرتی ہے، اور ثقافتی اختلاط/فرق شناخت کے نئے امکانات کا دروازہ کھولتی ہے۔ یہ تصورات ثابت کرتے ہیں کہ نوآبادیاتی تعلقات محض ظلم و جبر تک محدود نہیں، بلکہ ایک پیچیدہ ثقافتی مذاکرہ ہیں جہاں طاقت، مزاحمت اور تخلیقی تبدیلی کے درمیان مسلسل کشمکش جاری رہتی ہے۔ بھابھا کا کام فرینز فینن اور ایڈورڈ سعید کے نظریات کو آگے بڑھاتے ہوئے ثقافتی شناخت کی وسعت، عالمگیریت کے دور میں تارکین وطن کے تجربات، اور جدید سماجی ڈھانچوں میں نوآبادیاتی ورثے کی موجودگی کو سمجھنے کا ایک مؤثر نظریاتی فریم ورک فراہم کرتا ہے جو نہ صرف ماضی بلکہ حال و مستقبل کے ثقافتی و ادبی مطالعے کے لیے بھی ناگزیر ہے۔

حوالہ جات
۱۔ ہومی کے بھابھا،دی لوکیشن آف کلچر، Routledge پبلی کیشنز،لندن: ۱۹۹۴،ص۱۷۳
۲۔ ایضاً،ص۸۶
۳۔ ایضاً،ص۸۸
۴۔ cultural diversity and Cultural Differences, www.spunkynotes.com
۵۔ دی اکسفورڈ انگلش اردو ڈکشنری،مترجم شان الحق حقی،کراچی،۲۰۱۱،ص۴۱
۶۔ ہومی کے بھابھا،دی لوکیشن آف کلچر، Routledge پبلی کیشنز،لندن: ۱۹۹۴،ص۱۳۲

Facebook Comments

منصور ساحل
اردو لیکچرر گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج چارسدہ ایم فل اردو (ادب اور سماجیات) مدیر برگ ادب

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply