ڈاکٹر ستیہ پال آنند کی یاد میں/احمد رضوان

حاضرینِ محفل!

سب سے پہلے تو اربابِ قلم کے تمام معزز دوستوں کا شکریہ کہ انہوں نے آج محترمہ شکیلہ رفیق اور ڈاکٹر ستیہ پال آنند کو خراج عقیدت و محبت پیش کرنے کا اہتمام کیا۔ دوسرا شکریہ آپ سب محبان کا جو آج یہاں جمع ہوئے ہیں باوجود سرد موسم کے مگردل میں گرم جوشی کے جزبات لئے ہوئے۔

میں تقریر کا دھنی نہیں ہوں چند گزارشات بس پیش کروں گا کہ یہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ میرے جذبات کا اظہار شاید پورے طور پر انصاف نہ کر سکیں۔
شکیلہ رفیق صاحبہ سے میری ذاتی ملاقات شاید ایک یا دو ادبی تقریبات تک ہی محدود تھی مگر فیس بک پر فرینڈ شپ کافی عرصہ سے تھی۔ ان کے ساتھ اربابِ قلم کی زوم میٹنگ میں ان کے افسانوں پر بھی بات چیت ہوئی تھی۔ بلا شبہ اردو کے معاصر تانیثی ادب میں شکیلہ رفیق صاحبہ اپنے افسانوں /کہانیوں کی بدولت زندہ و جاوید رہیں گی۔ اللہ تعالی ان کی اگلے منزلیں آسان فرمائے ۔آمین

میں آج بات اپنے مینٹور، مربی، سرپرست اور ممدوح ڈاکٹر ستیہ پال آنند کی کروں گا۔
ستیہ پال آنند جو چورانوےبرس جئے ،انہیں اپنی دھرتی ،اپنی مٹی سے عشق تھا ۔ جوہمیشہ اپنے آپ کو پاکستانی کہتے اور سمجھتے تھے اور اس نسبت سے فخر کرتے تھے۔ہندوستان ہجرت تاریخ کا ایک ایسا جبر تھا جس پر اس معصوم اور خوبصورت انسان کو مجبور ہو کر جانا پڑا اور مگر دل ان گلیوں اور گھروں کی چوکھٹ کی جانب ہمکتا رہا جہاں ان کا بچپن،لڑکپن،نوجوانی کے ابتدائی ایام گزرے تھے۔ان کے پرکھوں کی زمین،کاروبار تھا۔ دیس سے نکلے ضرور مگر دل سے دیس کبھی نہیں نکلا ۔باغ وبہار ، خوش گفتار ،نٹ کھٹ ستیہ پال آنند جس کی معیت میں آپ کبھی بور یت کا شکا ر نہیں ہوسکتے تھے،میر محفل ، جان محفل اور روح محفل ہونا ان کی ذات میں یوں اکٹھا ہوگیا تھا کہ جہاں جاتے رونق لگا لیتے ۔طویل العمری اور صحت کا راز انہوں نے بتایاتھا کہ میں نے کبھی دل میں بغض و حسد کو جگہ نہیں دی،ہمیشہ سب کو معاف کردیا۔ ان کے چہرے پر کھلتی معصوم ، دل موہ لینے والی شرارتی مسکان اس کی غماز تھی ۔

2016 میں جب “مکالمہ ڈاٹ کام” کے پلیٹ فارم کا آغاز ہوا تو میرے جیسے نوواردان اور نوآموزگان کی درخواست پر ڈاکٹر  صاحب نے خصوصی شفقت فرماتے ہوئے اپنی تحریریں مکالمہ پر شائع کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ اپنی وفات تک ڈاکٹر صاحب مکالمہ پر چھپنے والے سب سے زیادہ تحریروں کے حامل ادیب تھے۔مکالمہ ڈاٹ کام کو سچی بات ہے ایک مؤقر اور معتبر آن لائن جریدہ بنانے میں ڈاکٹر صاحب کی سرپرستی کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔
پانچ سو سے زائد آرٹیکل شائع ہونے پر وہ مکالمہ کی فہرست میں سب سے اوپر ہیں۔ ان کی کافی کتابیں پہلے مکالمہ پر پیش ہوئیں اور اس کے بعد زیور طبع سے آراستہ ہوئیں۔ میرا یہ ذاتی اعزاز ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی آخری کتابوں میں سے ایک “نقوش پائے رفتگاں” کی تدوین و ترتیب میرے حصے میں آئی ۔نقوش پائے رفتگاں جو ایک طرح سے ڈاکٹر صاحب کی یادداشتوں پر مشتل کتاب “کتھا چار جنموں کی” توسیعی اضافہ ہے اور ان شخصیات کے بارے اظہار ہے جن کا تذکرہ بالتفصیل خود نوشت میں نہ ہو سکا۔

جبکہ ڈاکٹر صاحب پر لکھی جانے والی آخری کتاب ہندوستان میں وکرم نند کشور کی زیر ادارت شائع ہونے والے جریدہ “ عالمی اردو ادب” میں پروفیسر ستیہ پال آنند نمبر کے طور پر ہے ہوا جسے 2022 میں شائع کیا گیا۔”

ڈاکٹر صاحب کی ادبی شخصیت کئی لحاظ سے اچھوتی ہے۔ عربی ،فارسی ،سنسکرت، ہندی، اردو، انگریزی اور پنجابی پر دسترس انہیں
قادر الکلامی اور لفظ کے اصل مخارج تک رسائی دلاتی ہے کلام کی بلاغت اور فصاحت کے جوہر یوں کھل کر سامنے آتے ہیں کہ تحریر پرت در پرت، معنی در معنی، دھیرے دھیرے اپنا دروں عیاں اور بیاں کرتی ہے۔
ڈاکٹر صاحب اس گنگا جمنی تہذیب کی آخری نشانیوں میں سے ایک تھے جن کے دم سے اردو زبان و ادب کو قوت اور طاقت ملتی تھی ۔اردو زبان کے ان غیر مسلم ادباء اور شاعروں میں ان کا مقام بہت بلند ہے ۔میں یہ بات وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اس ہال میں موجود بیشتر ادباء اور شاعر ڈاکٹر صاحب کے بالواسطہ یا بلاواسطہ کسی نہ کسی شکل میں ممنون احسان ہیں۔ ہم سب کو اپنے اپنے ادبی سفر کے دوران ڈاکٹر صاحب کی رہنمائی ،سرپرستی، حوصلہ افزائی، تعمیری تنقید کا سہارا ملتا رہا ہے ۔ڈاکٹر صاحب خردوں اور ہم عصر ادباء میں یکساں مقبول و معروف تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اردو نظم کی تاریخ میں ڈاکٹر صاحب کا نام بیسویں صدی کے نمایاں لکھنے والوں میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ڈاکٹر صاحب غزل اور نظم کے شاعر تھے مگر نظم کو زیادہ پسند کرتے تھے اور 600 سے زائد نظمیں 70 سے زیادہ کتابیں جن میں افسانوں کی کتابیں، ناول ،نثر نگاری اور شاعری کی کتابیں، اردو ، انگلش ،ہندی، پنجابی زبانوں میں کتابیں یقیناََ ایک ایسا علمی کار کارنامہ ہے جو بہت کم ادباء کو نصیب ہوتا ہے۔ کچھ اعزاز میں سمجھتا ہوں ایسے ہیں کہ جو صرف ڈاکٹر صاحب کی ذات کے ساتھ ہی منسلک تھے جیسے کلام غالب کی تسہیل و تشریح با انداز شاعری جسے فیصل عظیم تخلیقی تنقید یا تنقیدی تخلیق کہا کرتے ہیں ایک ایسا ادبی کارنامہ ہے جو اس سے پہلے غالب کے حوالے سے دیکھنے میں نہیں آتا۔

بقول شمس الرحمن فاروقی جتنے بھی شارحین نے کلام غالب پر کام کیا ہے ان میں سے کسی نے مغربی طریقہ کار کو آزمانے کی کوشش نہیں کی اور اس جدت پر غالب کے کچھ اشعار کو ڈرامائی طرز کے انداز یا بحث و مباحثے کا رنگ دینے کا کام صرف ستیہ پال آنند نے انجام دیا جس میں حضرت غالب خود بھی اپنا مطمع نظر پیش کریں اور ایک تمثیلچہ نما منظوم شرح پیش کی جائے اس بات کا خیال رکھتے ہوئے کہ ہر وہ معنی جو شعر سے برامد ہو سکے وہ صحیح ہو۔
اردو ادب پر طویل ترین انٹرویو جسے بعد ازاں “آئینہ در آئینہ” کے عنوان سے کتابی شکل میں پیش کیا گیا ان کی علامہ ضیاء اللہ ضیا سے سوال و جواب پر مبنی تھا ۔اتنے طویل انٹرویو کا وجود اس کے علاوہ ابھی تک اردو ادب کے پاس نہیں ہے۔

ڈاکٹر صاحب سے رابطہ تقریباً روزانہ کی بنیاد پر ایک بار ضرور قائم ہوتا تھا جب تک ان کی صحت اجازت دیتی رہی ، جس میں وہ اپنی تازہ تخلیقات شائع کرنے کے لیے بھجواتے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی ای میل میں جب وہ شئیر ہوتیں تو ادبا کی ایک فہرست ہوتی تھی جن تک اس تحریر کا ابلاغ ہوتا تھا جس میں تمام بڑے معاصر ادباء اور شاعر شامل ہوتے تھے وہاں سے سیکھنے اور سمجھنے کو اتنی زیادہ چیزیں ملتیں کہ آپ بطور ایک طالب علم اپنے اپ کو خوش نصیب تصور کرتے تھے۔

یہ تعلی نہیں صرف ایک اظہار تشکر ہے کہ ڈاکٹر صاحب مجھے اپنے بیٹوں کی طرح سمجھتے تھے اور رضوان بیٹا کہہ کر مخاطب کیا کرتے تھے۔جب بھی ان کا کینیڈا آنا ہوتا تھا تو مجھے ان کے شیڈول کے بارے میں علم ہوتا تھا اور اگر دورہ کی تشہیر کرنا مقصود نہ ہوتا تھا تو پہلے ہی بتا دیا کرتے تھے کہ یہ میرا خفیہ دورہ ہے اور اس کی خبر کسی کو نہ دی جائے۔ سینکڑوں یادداشتیں ہیں جن پر میں مزید بات کر سکتا ہوں مگر کچھ باتیں ان کے ساتھ جو وقت بیتا اس پر ایک عدد کتاب لکھنے کا ارادہ ہے تو اس کے لیے رکھ چھوڑتا ہوں۔ آخر میں ڈاکٹر صاحب کو ایک چھوٹا سا منظوم ہدیہ عقیدت

اک من موہک پریم رتن
مشک ختن شیریں دہن
مشفق استاد علمِ دریاؤ
سمےپر جس کا نشاں
ثبت بر آسماں
اک گھنیر شجرِ سایہ دار
جس کی چھتر چھایا میں
اپنے بیگانے سب محفوظ
چشمہءِ فیضِ رواں
کوچہ بہ کوچہ،بم بہ بم
قریہ بہ قریہ یم بہ یم

Facebook Comments

احمد رضوان
تیشے بغیر مر نہ سکا کوہکن اسد سرگشتہ خمار رسوم قیود تھا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply