ميں نے پہلے بھی آپ سے پوچھا تھا آج بھی پوچھ رہی ہوں… میں نے بہت بار سنا ہے کہ خوبصورت عورت وفادار نہیں ہوسکتی…. کیا یہ سچ ہے؟
جواب:
خوبصورت عورت وفادار نہیں ہوسکتی اس بات کا کوئی ثبوت نہیں، کئی خوبصورت خواتین یقیناً وفادار بھی ہوتی ہونگی۔ البتہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ خوبصورت خواتین کو زیادہ توجہ ملتی ہے، اور جب کئی افراد سے زیادہ توجہ مل رہی ہو تو بہت ممکن ہے کہ بےوفائی کے امکانات بڑھ جاتے ہوں خاص کر جس کی وجہ سے بےوفائی کی گئی وہ زیادہ امیر اور کامیاب ہو۔ عموماً وہ خواتین بے وفائی کرتی ہیں جن میں خود-آگاہی (Self-awareness) کی کمی ہو، کیونکہ توجہ اور توثیق بھی خواتین کی کمزوری ہے۔
لیکن میں آپ کو فلسفہ اور نفسیات کی بنیاد پر ایک بہت بورنگ اور لمبا لیکچر دینے والی ہوں جواب کی صورت میں۔
کونسی عورت اچھی اور وفادار ہوسکتی ہے یہ معلوم کرنے کا پیمانہ تو موجود نہیں البتہ ہر ثقافت میں عورت کے اچھے کردار کو الگ نظریے سے پرکھا جاتاہے۔ مثال کے طور پر مغرب میں اس عورت کو پراعتماد مانا جاتا ہے جو ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ آنکھوں میں دیکھ (Eye Contact) کر بات کرے لیکن مشرق میں عورت کا مسکرا کر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا غلط مانا جاسکتا ہے۔ چونکہ ہم مشرق میں رہتے ہیں تو مشرق کی بات کریں گے!
میں ان دنوں ہندو فلسفہ پڑھ رہی ہوں اور اگر میں ”چانکیا نیتی“ کو مدِ نظر رکھ کر بات کروں….. چانکیا مشرق میں طاقت، سیاست، معیشیت اور سماجی رویوں کے منجھے ہوئے فلسفی ہیں، آپ بھی کہیں گی کہ خوبصورتی، وفا اور پیار کی باتیں معیشیت اور سیاست پر فلسفہ لکھنے والوں سے سنیں گے ہم!…… پیار، خوبصورتی اور عاشقی وغیرہ بہت سطحی چیزیں ہیں اسکی گہرائی میں سیاست، پیسہ، اقدار، طاقت کا حصول، عقل و دانش ہوتی ہے، دنیا اور گھر اس سب سے چلتا ہے خوبصورتی اور عاشقی سے نہیں! یہ محض بھٹکاؤ اور غفلت ہیں۔ اس لیے خشک فلسفیوں اور نفسیات دان کی باتیں شاعروں کی شاعری سے زیادہ اہم ہوتی ہیں لیکن چونکہ اصل مزہ تو حسن، عاشقی اور شاعری میں ہے تبھی لوگوں کی زندگی میں مزہ تو بہت ہے البتہ مسائل کا حل، ٹھہراؤ، خوشی اور اطمینان نہیں!
میں پیار و محبت پر ایمان رکھتی ہوں، پیار بیشک ہوتا ہے لیکن میرے اور فلسفی ایلن ڈی-بوٹن کے نزدیک پیار ”جذبہ“ نہیں بلکہ ”ہنر“ہے، اس پر ان شاءاللہ پھر کبھی بات کروں گی۔
موضوع پر واپس آتے ہیں….. فلسفی چانکیا ایسی عورت سے شادی کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جو بیشک خوبصورت نہ ہو (یہاں تک کہ خوبصورت نہ ہونے کے ساتھ بیشک مسخ شدہ (deformed) بھی ہو) لیکن ”اچھے گھرانے“ سے تعلق ضرور رکھتی ہو اور آپ کے اسٹیٹس کی ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ کوئی عورت اگر بہت خوبصورت ہے لیکن اچھی فیملی سے تعلق نہیں رکھتی تو اس سے شادی نہیں کی جائے، کیونکہ شکل کی کوئی اہمیت نہیں۔ میں ایک نفسیات دان ہونے کے ناطے فلسفی چانکیا کی باتوں سے متفق ہوں کیونکہ اگر کوئی عورت خواہ کتنی ہی خوبصورت کیوں نہ ہو لیکن اسکی فیملی غیر فعال (Dysfunctional Family) ہے تو اس عورت سے آپ کے گھر میں کبھی سکون نہیں آسکے گا، آپ کی زندگی اور آنے والی نسل برباد ہوجائے گی، بہت ممکن ہے کہ وہ آپ کے ساتھ بے وفائی بھی کرے۔ کیونکہ ہم (سارے نہ سہی لیکن زیادہ تر لوگ) وہی ہوتے ہیں جیسے ہماری فیملی (خاص کر والدین) ہوتی ہے۔
عورت خوبصورت ہو یا اوسط درجے کی، جیسی اسکی فیملی ہوگی، کم و بیش وہ ویسی ہی ہوگی۔ اگر فیملی اقدار (Family Values) اعلیٰ ہونگے تو خوبصورت عورت بھی وفادار ہوگی لیکن اگر فیملی اقدار کم درجے کے ہیں تو بہت ممکن ہے کہ خوبصورت اور بدصورت دونوں ہی بے وفا اور بد کردار ہوسکتی ہیں۔ بچپن بہت معنی رکھتا ہے، جیسا بچپن ایک عورت کا گزرا ہوتا ہے ویسی ہی اسکی شادی چلتی ہے اور اسی طرح کی تربیت وہ اپنے بچوں کو دیتی ہے۔ اگر خاندانی پس منظر اچھا نہیں تو اوسط شکل و صورت کی خواتین بھی بے وفائی اور دھوکہ دے سکتی ہیں۔
اب یہاں اس نئے دور میں ایک اور عجیب منظر دیکھنے میں آرہا ہے، چونکہ اچھا میک اپ، خوبصورت لباس اور مصنوعی خوبصورتی شاید بڑھ چکی ہے، اگر کوئی بہت خوبصورت نہ سہی لیکن اچھا مہنگا لباس اور میک کسی حد تک انسان کو پرکشش بنا ہی دیتا ہے، آج کل اگر کسی خصوصیت کو پسند کیا جارہا ہے (یا پھر یہ ہمیشہ سے ہی اہم خصوصیات تھیں بس اسکی ڈیمانڈ اب زیادہ بڑھ چکی ہے) وہ ”عقل، دانش و شعور“ (intellectual person) ہے۔ اس دور میں جہاں ظاہری خصوصیات اور بھیڑوں کی مانند ٹرینڈ فالو کرنے پر بہت زور ہے، وہاں خود-آگاہی، مضبوط کردار، کھرا پن، ہنر مندی، انفرادیت اور عقل و شعور کی اہمیت، اسکا مول اور بھی بڑھتا جارہاہے۔ جتنا زیادہ شکل و صورت، مصنوعیت، ظاہری اور مادی اشیاء کا رجحان بڑھتا جائے گا اتنا ہی انفرادیت، سادگی، ہنر مندی، روحانیت، سچائی، شعور، کردار اور سمجھداری کی اہمیت بڑھتی جائے گی، لوگ ان خصوصیات کو عورت میں دیکھنے کے لیے ترسیں گے۔ اس لیے عورت خوش شکل ہو یا اوسط درجے کی، اس سے فرق نہیں پڑے گا، کردار کتنا مضبوط، شعور کتنا پختہ اور انفرادیت کتنی کھری ہے بہت معنی رکھے گا آنے والے وقت میں۔
شعور، ہنر، سمجھداری اور کردار کا نہ ہی کوئی نعم البدل کبھی تھا، ہے اور اور نہ ہی ہوگا۔ اور یہ خصوصیات خواہ خوبصورت ہو یا اوسط شکل و صورت والی عورت، دونوں میں پائے جاسکتے ہیں۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں