اسی زمین پر سفر۔۔۔۔۔صادقہ نصیر

اسی زمیں پر سفر

چلو چھوڑتے ہیں
پامال رستوں کاسفر
وہی پرانی ڈگر
وہی آسمان کا سفر
وہی بے قدم سفر
وہی لکیر کا سفر
وہی بے سوال سفر
وہی یقین کا سفر۔
وہی عہد و پیماں کا سفر
وہی خواب دکھاتا سفر۔
صبر دلاتا سفر۔
وہی معمول کا سفر۔ وقت پر گراں بے کار سفر۔
کیوں نہ بدلیں ڈگر۔
کسی پچھلے پہر۔
نئے ولولوں کا سفر۔
نئے آدرشوں کا سفر۔
کسی خیر کا سفر۔
نئی داستاں کا سفر۔
کوئی تازہ شجر۔
نئی فصل کا سفر۔
نئی حیات کا سفر۔
تازہ افکار کا سفر۔
اسی زمین پر زمین بوس سفر
نئے انداز کا سفر۔
نئے ماہ و آفتاب کا سفر۔
نئ جھیل ندیاں سمندر ۔
تہہ آب سےنئے گوہر۔ سکوت میں بولتا سفر۔
تازہ الفتوں کا اثر۔
کاندھے پر نہ رخت سفر۔
ہلکا سا سفر۔
انسان سمت سفر۔
انسان تک پہنچنے کا سفر۔
کوئی بارآور سفر۔
کام کرتا سفر۔
وسیلہ ظفر ؛ سفر۔

اسی زمین پر سفر۔

julia rana solicitors

صادقہ نصیر

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply