ہمارا تھرپارکر/ڈاکٹر محمد عظیم شاہ بخاری

صحرائے تھر یا پھر گریٹ انڈین ڈیزرٹ دنیا کا نواں بڑا گرم اور قدرے خشک صحرا ہے جو لگ بھگ 7 ہزار مربع میل رقبے پر پاکستان و بھارت میں پھیلا ہوا ہے۔ اسے دنیا کا واحد سرسبز صحرا بھی کیا جاتا ہے جہان کچھ مقامات پر فصلوں کی کاشت ممکن ہے۔

بھارت میں یہ راجستھان و گجرات کی ریاستوں جبکہ پاکستان میں پنجاب اور سندھ کے علاقوں میں پھیلا ہے۔

تھر کو سابقہ ریاست بہاولپور کے علاقوں (بہاولنگر، بہاول پور، رحیم یار خان) میں چولستان یا روہی کہا جاتا ہے، جبکہ شمالی سندھ (خیر پور و سانگھڑ کے اضلاع ) میں نارا اور جنوبی علاقوں میں تھر ہی کہا جاتا ہے۔ جبکہ تھر پارکر صوبہ سندھ کے جنوب مشرق میں واقع ڈویژن میرپور خاص اور سندھ کا بلحاظ رقبہ سب سے بڑا ضلع ہے جس کی تحصیلوں میں مٹھی، ڈپلو، اسلام کوٹ، چھاچھرو، کالوہی، ڈھلی اور نگرپارکر شامل ہیں۔

یہ پاکستان کاواحد ہندو اکثریتی علاقہ ہے۔

سال 1860 سے 1901 تک اس خطے کو مشرقی سندھ سرحدی ضلع (ایسٹرن سندھ فرنٹیئر ڈسٹرکٹ) کہا جاتا تھا جبکہ 1901 سے 1947 تک اسے تھر اور پارکر کہا جاتا تھا۔

کچھ دوست اِس صحرا کو تھرپارکر سمجھتے ہیں جوغلط ہے۔ تھرپارکر ایک علاقے کا نام ہے جس میں واقع صحراء تھر کہلاتا ہے۔

لگ بھگ آٹھ یا دس ہزار سال پہلے، دریائے گھاگرہ-ہکڑہ کا ایک ذیلی دریا سرسوتی ، ستلج میں ضم ہونے کے بعد دریائے سندھ کی ڈیلٹا ندی، نارا ندی میں بہہ گیا، لیکن پھر اس نے اپنا راستہ بدل لیا۔ اس کی وجہ سے گھاگرہ ہاکڑہ، مون سون سے چلنے والے دریاؤں کے نظام کے طور پر رہ گئے۔ یہ اب سمندر تک نہیں پہنچتا اور صحرائے تھر میں ہی کہیں ختم ہو جاتا ہے۔

تھرپارکر کیسے جایا جائے۔۔۔۔۔؟

تھرپارکر جانے کے لیئے آپ کو پہلے میرپور خاص پہنچنا ہو گا۔ کراچی، لاہور، کوئٹہ و پشاور سے بذریعہ سڑک بھی آپ میر پور خاص پہنچ سکتے ہیں اور حیدر آباد کے راستے ریل پر بھی پہنچ سکتے ہیں۔

ریل نسبتاً ایک محفوظ اور آرام دہ زریعہ ہے سو میں نے دونوں بار ریل کا سفر کیا۔

ریل آپ کو حید آباد جنکشن اتارے گی جہاں سے بس، گاڑی، ویگن پر آپ آسانی سے تھرپارکر جا سکتے ہیں۔ اپنی سواری ہو تو زیادہ اچھا ہے۔ کراچی والے براستہ گھارو، ٹھٹھہ اور بدین بھی جا سکتے ہیں۔ میرپور خاص سے بزریعہ ٹرین بھی آپ دھوڑو نارو اور پھر بس/ویگن عمرکوٹ جا سکتے ہیں۔

ایک راستہ سانگھڑ، کھپرو اور عمر کوٹ سے ہو کر بھی جاتا ہے لیکن یہ لمبا اور قدرے غیر محفوظ راستہ ہے۔

حیدر آباد سے میرپور اور نوکوٹ والا راستہ مکمل محفوظ اور بہترین ہے۔

میں نے پہلا سفر چونکہ ایک ہی دوست کے ساتھ کیا تھا سو ہم حیدرآباد سے میرپور اور پھر کرائے کی گاڑی پر وہاں سے عمرکوٹ پہنچے تھے۔ بقیہ سفر لوکل پر کیا تھا۔ اس برس ہم چھ دوست گئے تھے اور زیادہ تر سفر ہم نے آٹھ سیٹر ویگن پر کیا تھا جو حیدر آباد سے شروع ہوا تھا۔

تھر میں کیا دیکھیں۔۔۔؟
جیسے میں نے شروع میں بتایا کہ صحرائے تھر سندھ کے کئی اضلاع میں پھیلا ہوا ہے لیکن زیادہ تر دیکھنے کی جگہیں ضلع تھرپارکر اور پھر عمرکوٹ میں ہیں سو تحریر میں انہیں دو اضلاع کے بارے میں آپ کو بتاؤں گا۔

نوکوٹ؛

سب سے پہلے نوکوٹ سے شروع کریں گے جسے تھرپارکر کا گیٹ وے بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں دو سو گیارہ سال پرانا قلعہ نوکوٹ اور آس پاس چند درگاہیں واقع ہیں جن میں سےایک راضی شاہ دربار بھی ہے ۔

مِٹھی؛

اس کے بعد تھر کا صدر مقام اور مرکزی شہر مِٹھی ہے جہاں ایک الگ دنیا آباد ہے۔

مِٹھی کو میں جنوب کا گلگت کہتا ہوں جس کی جگمگاہٹ آنکھوں کو روشن اور حیران کر دیتی ہے۔ تھر کی ریتپر بچھا یہ شہر یہاں کا ثقافتی مرکز بھی ہے۔

یہاں کچھ مشہور مندر، مقامی کھانے، بازار اور گاڈی بھٹ دیکھنے کی جگہیں ہیں۔ مندروں میں شوالیہ مندر کافی بڑا ہے۔ گاڈی بھٹ اونچائی پہ واقع ایک ہوادار مقام ہے جہاں سے پورے شہر کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ اس جگہ کو رات میں دیکھنے کا الگ ہی مزہ ہے۔

اِسلام کوٹ؛

مِٹھی سے آگے مرکزی شاہراہ پر اسلام کوٹ ہے۔

اسلام کوٹ میں مشہور جگہ سنت نینو رام کا آشرم ہے جو ایک مکمل کمپلیکس ہے۔ یہاں کچھ مندر، سمادھیاں،ہال، کھانے کی جگہیں اور پرندوں سےبھرے گھنے پیڑ واقع ہیں۔ اس جگہ کو دیکھنے کے لیئے کم از کم دو گھنٹے درکار ہیں۔ اگر شادی کا موسم ہو تو یہاں کئی روایتی دولہے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔اسی آشرم کے اندر ہی ہنگاج ماتا کا مندر بھی ہے جو ہنگول والے مندر سے الگ ہے۔
گوری و بھالوہ؛

اسلام کوٹ سے اگلی مشہور جگہ سڑک سے کچھ اندر گوری ہے جہاں جین مت کا ایک قدیم مندر واقع ہے۔ گوری ایک گاؤں ہے جہاں مقامی ثقافت بکھری ہوئی ہے۔ یہاں کے کچے گھر اور معصوم بچے ہر سیاح کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔

اس کے قریب ہی بھالوہ میں مشہور داستان عمر ماروی کے کردار، ماروی کا کنواں ہے جہاں وہ پانی بھرنے آیا کرتی تھی۔

یہاں ایک چھوٹاںسا میوزیم بھی بنایا گیا ہے جو بس خانہ پری ہی ہے۔

ویراواہ؛

بھالوہ کے بعد مرکزی سڑک پر ہی ویراواہ ہے۔ جو اپنے قدیم جین مندر کے لیئے مشہور ہے۔ یہ مندر کاجل جھیل کے کنارے واقع ہے جو پینے کے پانی کا بڑا ذخیرہ ہے۔

بھوڈیسر؛

بھالوہ سے چند کلومیٹر آگے بھوڈیسر گاؤں ہے جہاں ایک لائن میں قریب قریب پتھر کی پرانی مسجد اور تین جین مندر واقع ہیں جو سب کے لیئے کھلے ہوئے ہیں۔ یہ مندر پاس پاس واقع ہیں جن میں پہلا مندر قدرے بڑا اور مرکزی ہے جس کی دیواروں پر پرانی مورتیاں بنی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ یہاں بھی پانی کا ایک چھوٹا ڈیم موجود ہے۔

نگرپارکر؛

بھوڈیسر کے بعد تھر کی آخری تحصیل نگرپارکر ہے۔

یہاں ایک قدیم جین مندر، مسکین جہاں خان کھوسو عجائب

گھر، کارونجھر دھام اور مقامی ثقافتی رنگ دیکھے جا سکتے ہیں۔یہاں ایک نیا اسٹیڈیم بھی بنایا جا رہا ہے۔ کارونجھر کے پہاڑوں میں خوبصورت ندی نالے بھی اس کے حسن کو چار چاند لگاتے ہیں۔ کارونجھر دھام میں ایک مندر اور اشنان کے لیئے تالاب موجود ہے۔

کاسبو؛

نگرپارکر کے جنوب میں کاسبو واقع ہے جو ایک چھوٹا سا پرسکون گاؤں ہے۔ اس کی فضا میں کئی مور سانس لیتے اوربھاگتے پھرتے ہیں۔ موروں کے اس گاؤں میں راما پیر کا مندر بھی ہے جسے دیکھنے کئی ہندو دور دور سے آتے ہیں۔

چوڑیو؛

نگرپارکر کے مشرق میں چوڑیو ہے جو تین اطراف سے بھارت میں گھرا ہوا پاکستانی گاؤں ہے۔ یہاں رن آف کچھ واقع ہے۔ ادھر پتھر کی غار میں ماتا کا مندر ہے جہاں صبح شام یاتریوں کا رش لگا رہتا ہے ۔
عمر کوٹ؛

تھرپارکر کے بعد عمر کوٹ کا رُخ کرتے ہیں جہاں کا مرکزی پوائنٹ امرکوٹ کا پرانا قلعہ ہے جس کے اندر عجائب گھر، گورے ڈپٹی کمشنر کی قبر، توپ والا برج، ریسٹ ہاؤس اور کچھ دیگر مانومنٹس واقع ہیں۔ قلعے سے کچھ دور اکبر کی جائے پیدائش کا مقام ہے۔ اسی کے راستے میں شہید عبدالرحیم گرہوڑی لائبریری واقع ہے۔ یہ اس شہر کا سب سے بڑا کتب خانہ ہے جو پڑھنے والوں سے بھرا رہتا ہے۔

julia rana solicitors london

عمر کوٹ کے شمال مشرق میں ایک بڑا شو مندر بھی ہے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply