مجھے وسوسوں کے سانپ ڈستے ہیں۔۔۔۔ ظفر عمران

کیا آپ ایسے خواب دیکھتے ہیں، جن کی ممکنہ تعبیر آپ کو ڈرا دیتی ہو؟ میرے ساتھ ایسا ہوتا ہے۔ ماہر نفسیات کہے گا، یہ خواب نہیں وہم ہوتے ہیں۔ چلیں وسوسے سہی۔ یہ پتنگے عموما ًًً کھلی آنکھوں میں آ بیٹھتے ہیں۔ پھر ایسے بستے ہیں، کہ گاہے بگاہے پھڑپھڑاتے ہیں، چمگادڑ بن کر  چمٹ جاتے ہیں۔ نفسیات دان اس کی تفہیم کسی اور طرح کریں گے، مجھے معلوم ہے وہ کیا کہیں گے، لیکن کیا کیا جائے کہ ایسا ہی ہوتا ہے، جیسا میں تصور کی آنکھ سے دیکھ لیتا ہوں۔ آپ میں سے کچھ ایسے بھی ہوں‌ گے جن کے ساتھ یوں ہوتا ہو گا، کہ کوئی جگہ، کوئی مقام دیکھتے ہی یہ احساس ہوتا ہے، کہ وہ اس موقع پر پہلے بھی آیا ہے۔۔کسی اجنبی شخص سے مل کے ایسا محسوس ہوتا ہے، وہ پہلے سے واقف ہے!

میرے ساتھ ایسا کئی بار ہوا ہے۔ آپ مانیں یا نہ مانیں، مجھے آنے والے پل کی خبر ہوجاتی ہے۔سب واقعات کی نہیں، لیکن قدرت کے کچھ خاص فیصلوں کا پہلے سے اندازہ ہوجاتا ہے۔ یہ بڑی ہولناک صورت احوال ہوتی ہے۔ کچھ باتوں کا اپنے وقت سے پہلے نہیں پتا چلنا چاہیے۔۔۔جیسا کہ موت۔

طالب علمی کا زمانہ ہے،میرا ہوسٹل انڈسٹریل ایریا میں واقع تھا۔ ہوسٹل کے اطراف میں فیکٹریاں تھیں، فیکٹریوں کے احاطے میں سکونتی مکان عام سی بات ہے۔ ایسے ہی ایک مکان میں، ایک سن رسیدہ صنعت کار نے اپنی دوسری بیوی کو رکھا ہوا تھا، جو عمر میں اس سے آدھی رہی ہوگی۔ خدا جانے یہ سچ تھا یا جھوٹ، مشہور تھا کہ یہ دوسری بیوی ”بازار“ سے لائی گئی تھی۔ بازار سے ”رُسوائی“ تبھی گھر لائی جاتی ہے، جب اس سے عشق ہوجائے، ایک نیک نامی نہیں، ورنہ کیا ہے جو بازار میں نہیں ملتا! ایک دن میں نے اسے دیکھا بھی. ”بازار کی عورت“ دیکھنے کا یہ میرا پہلا اتفاق تھا۔ کہنے کو وہ ”بازار“ کی عورت تھی، لیکن اس کے اطوار شریف بیبیوں سے بڑھ کے نیک تھے۔ بڑی سادہ زندگی بسر کرتی تھی، اور اپنے جیون ساتھی کے ساتھ خوش تھی۔ کبھی کسی کو ایسے ویسے کوئی شواہد نہیں ملے، کہ اس عورت کی پاک بازی پر حرف آتا ہو۔ اہل علاقہ گواہی دیتے تھے، کہ اس عورت کے نیک چلن پر کوئی شک و شبہہ نہیں کیا جا سکتا۔ سو! لڑکپن ہی میں ”بازاری عورت“ کا جو تاثر مجھ پر پڑا، وہ اس ”بازاری عورت“ کا ہے۔ بعد میں کئی ”بازاری عورتیں“ دیکھیں، لیکن اس پہلی ”بازاری“ کا تاثر زائل ہو کے نہ دِیا۔

جن دنوں ٹیلی ویژن پروگرام پروڈیوسر مختار, مناہل (فرضی نام) کی زُلفوں کے اسیر ہوئے، ان کے بچے جوان ہو چکے تھے۔ بتایا جاتا ہے، کہ مختار صاحب کو اپنے ہر ڈرامے کی ہر ہیروئن سے ”سچی محبت“ ہو جاتی تھی۔ چنچل چتون، چندن سے بدن والی مناہل سے بھی ”سچی محبت“ ہو گئی۔ مناہل اداکارہ تو معمولی تھی، لیکن شعلہ ساماں تھی۔ عمر میں مختار سے آدھی سے بھی کم تھی، لیکن ”سچی محبت“ ان رکاوٹوں‌ کی پروا نہیں کرتی۔ مناہل کی ماں نِت نئی فرمائشیں کرتی، جنھیں پورا کرتے کرتے مختار صاحب کی سانس پھول جاتی۔ ایک طرف قرض بڑھتا چلا گیا، دوسری طرف مسز مختار کو خبر ہو گئی، کہ سر کا تاج چھننے کو ہے۔ سچی محبت کی یہ خوبی ہے، کہ اسے پہلی بیوی سے چھپایا جاتا ہے، ورنہ محبت میں کھوٹ‌ آجاتا ہے۔ ایک منجھی ہوئی اداکارہ نے کسی سے کہا, کہ مناہل، مختار صاحب کے کسی ایک شعر کی تشریح تو دُور، ان کے ایک شعر کو تحت اللفظ سے پڑھ دے، تو میں‌ اُس کی مرید ہوجاوں‌ گی“۔ لیلیٰ کا کہنا ٹھیک تھا، لیکن مناہل کیوں تحت اللفظ سے پڑھتی، وہ تو خود ایسی غزل تھی، جسے ایک بار نہیں، بار بار اور ترنم سے پڑھا جانا تھا۔ مختار صاحب اس کہانی کا ایک کردار تھے، وہ انجام سے بے پرواہ  اپنا کردار نباہ رہے تھے۔۔جب مختار صاحب کے پاس مناہل کی ماں‌ کو نذر کرنے کے لیے کچھ نہ رہا، تو مناہل کی ”سچی محبت“ دم توڑ گئی۔ حقیقت سامنے آئی تو مختار صاحب کو رونے کے لیے ایک کندھا چاہیے تھا، وہ ان کی پہلی بیوی نے فراہم کیا۔ ایسے میں ایسے عاشق کو کندھا دینے والی بیوی کی لازوال قربانیاں بہت یاد آتی ہیں۔

ناموں میں کیا رکھا ہے، لیکن چلیں اپنی آسانی کے لیے ان کا نام بھی مختار تصور کرلیتے ہیں۔ مختار صاحب ہر میدان میں کام یابی کے جھنڈے گاڑتے، جب بطور سرمایہ کار شو بز کی دُنیا میں داخل ہوئے، تو ایک معروف اداکارہ کی چاہ میں مبتلا ہوگئے۔ گویا پرواز سے پہلے ہی پر کتر لیے گئے۔ ہم اس فرضی کہانی کی فرضی اداکارہ کا نام شہلا تصور کرلیتے ہیں۔ شہلا اتنی کم سنی ہی میں دو امیر شوہروں سے طلاق لے چکی تھی۔ مختار صاحب جو کماتے گئے، اس کی جھولی میں لا ڈالتے رہے۔ جب اس ”سچی محبت“ کی خبر پہلی بیوی کو ہوئی تو طوفان کھڑا ہوگیا ۔اولاد باپ کے سامنے تن گئی۔ یہ ان کی دوسری اور شہلا کی تیسری شادی تھی۔ کاروبار ڈوبا، بنکوں کا قرض چڑھا۔بنگلا فروخت ہو گیا۔ اس دوران شہلا کے نام دو فلیٹ اور ایک کار لگا چکے تھے، ایسے میں نقد اور چھوٹے موٹے تحائف کا کیا حساب! شہلا کو افسوس اس بات کا تھا، کہ اس کے ساتھ تیسری بار بھی دھوکا ہو گیا۔ لوگ بتاتے کروڑوں کا ہیں، لیکن نکلتے کنگال ہیں یا ایک دو ہی برسوں میں دیوالیہ ہوجاتے ہیں۔ لہذا مجبورا ًًً شہلا کو کم سنی ہی میں تیسرے سے بھی طلاق لینا پڑی۔ مختار صاحب کی پہلی بیوی کمال مہربان خاتون نکلیں، سب کچھ بھلا کے اس مفلسی میں مختار صاحب کی ہم قدم رہیں۔

ان قصوں میں اصل بات کہیں کھو نہ جائے۔ میں نے آپ سے کہا تھا، کہ مجھے مستقبل کو لے کرکے کچھ وسوسے ڈراتے ہیں۔ میرا ایک وسوسہ یہ ہے، کہ مجھے عشق ہوجائے گا۔۔ایک نہ ایک دن، کبھی نہ کبھی۔یہ کم بخت ہو جائے گا۔ چھوٹی موٹی محبتیں، ہلکے پھلکے فلرٹ تو بہت ہوئے ہیں، لیکن عشق سے مراد وہ کیفیت ہے، جس میں اپنا آپ گنوا بیٹھتے ہیں۔ یہ منظر میں جامِ جم میں یوں دیکھتا ہوں، کہ میری اولاد جوان ہوچکی ہے، اور مجھے ایک دوشیزہ سے عشق ہو بھی گیا ہے۔ کہنے والے کہہ رہے ہیں، کہ ”دیکھو  ذرا! اسے شرم نہیں آتی، بجائے اس کے کہ اولاد کی شادیاں کرے، خود مجنوں بنا پھرتا ہے“۔ میرا یہ وہم گاہے بگاہے میری آنکھ کے پردوں کے سامنے رقص کرتا ہے، تو مجھ پر گھڑوں پانی پڑجاتا ہے۔ اس منظر میں مجھے اس کردار کے خال و خد نہیں دکھائی دیتے، جس سے عشق ہونا ہے۔ آپ کہیں گے، کہ ہو سکتا ہے یہ میرے پچھلے جنموں میں سے کسی ایک جنم کی بچی کھچی یاد ہو، جو ستاتی ہو۔ چوں کہ آواگون کے نظریے پر میرا اعتقاد نہیں تو مجھے لگتا ہے یہ قدرت کے ان فیصلوں میں سے ایک ہے، جس کی مجھے پہلے سے خبر ہو جاتی ہے۔

صاحب! یہ لکھی پڑھی کہاوت ہے، کہ پچھلی عمر کا عشق بڑا رُسوا کرتا ہے۔ خدا سب کی اولاد کو سلامت رکھے، جوں جوں میرے بچے بڑے ہوتے جا رہے ہیں، توں توں میرے وسوسوں کے سانپ پھن پھیلائے ابھرتے جاتے ہیں۔ جب تصور کرتا ہوں‌ کہ پچھلی عمر میں یہ سب کچھ میرے ساتھ ہونا باقی ہے، تو کبھی یہ دعا کرتا ہوں، کہ ایسا نہ ہو۔۔ خدا نہ کرے ایسا ہو۔ کبھی خدا کے حضور گڑگڑاتا ہوں، کہ عشق نصیب ہے، تو تجھ سے ہو جائے، کہ اس عشق میں جگ ہنسائی نہیں۔ تھک ہار کے جب اس نتیجے پر پہنچوں کہ یہ عشق کسی دوشیزہ ہی سے ہو کے رہے گا، تو فریاد کرتا ہوں، کہ وہ اس ”بازاری عورت“ کی  مانند ہو، جس نے یوں ساتھ نبھایا تھا، کہ زمانہ رشک کرتا تھا۔ غالب کی طرح سوچوں، تو عشق آتش میں پگھل کے یوں فنا ہونا تحریک دیتا ہے۔

پرتوِ خور سے، ہے شبنم کو، فنا کی تعلیم
میں بھی ہوں، ایک عنایت کی نظر ہوتے تک

گرچہ عشق گناہ نہیں، پر باپ بن کے سوچوں، تو یہ مطلوب نہیں، کہ ستم گر زمانہ میری اولاد کا ٹھٹھا اڑائے۔ عاشق بن کے تب تک نہیں سوچ سکتا، جب تک عشق کی وحی نہ اُترے۔ جب وحی اُتری، تو نہ سوچنے کا مقام ہو گا، نہ زمانے کی پروا۔ یہ وسوسے ہیں تو عشق کی وحی اُترتے تک۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *