” ماما ٹیچر نے کہا تھا بلیک جاگرز میں سکول نہیں آنا۔ بلیک بوٹس میں آنا ہے۔ اگر میں آج یہ جاگر پہن گیا تو وہ مجھے کلاس روم میں نہیں جانے دیں گے اور مجھے باہر بھی کھڑا رکھیں گے ،اور فائین بھی کریں گے۔ ”
آٹھ سالہ ننھے عباد نے مجھ سے التجا کی ۔
بیٹا ، آج پہن جاؤ، کل ویک اینڈ ہے ،بابا کے پاس ٹائم ہو گا وہ آپکو نئے شوز دلا دیں گے۔ آپ کو پتا ہے کل بابا مصروف تھے ،ہم نہیں جا سکے۔
” پر ماما اگر انھوں نے مجھے فائین کیا تو مجھے اچھا نہیں لگے گا”
” اچھا تو مجھے بھی نہیں لگے گا۔۔۔ لیکن میرے پاس ایک دعا ہے ، اگر آپ وہ پڑھ لیں گے تو اللہ تعالٰی کی مدد آپکے ساتھ ساتھ رہے گی، پورا دن۔ اور کوئی آپکو تنگ نہیں کرے گا۔ نہ کوئی فائین ہو گا۔۔۔دیکھئیے گا”
” سچ ماما؟ ” عباد نے حیران ہو کے پوچھا۔
” بالکل ایسا ہی ہوگا ”
” تو بتائیں ماما مجھے وہ دعا ”
بیٹا ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص صبح شام 7 مرتبہ
” حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ، وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ» پڑھ لے تو اللہ اس کی پریشانیوں سے اسے کافی ہوگا۔
آپکو پتا ہے آپ کی ماما یہ دعا صبح شام پڑھتی ہیں تو میرے سارے کام اچھے ہو جاتے ہیں ،کوئی مشکل نہیں ہوتی۔
” سچ ماما؟”
عباد نے حیران ہو کے پوچھا۔
” بالکل۔ چلیں آپ میرے ساتھ ساتھ پڑھیں یہ دعا”
اور ہم دونوں ماں بیٹا نے دعا پڑھی اور پھر عباد سکول کا بستہ اٹھا کے سکول کے لئیے گھر سے روانہ
ہو گیا۔
مجھے یقین تھا کہ اسے اسمبلی میں جانے سے نہیں روکیں گے اور نہ ہی کوئی اسکے شوز نوٹس کرے گا۔
میں نے اللہ سے دعا کی۔۔۔
” اے اللہ میرے بچے نے پورے ایمان اور توکل کے ساتھ یہ دعا پڑھی ہے ،اسکی مدد فرمانا اور ہمیشہ زندگی میں اسکے یر معاملے اور مشکل کو آسان فرمانا، اللہ آج اسکا اس دعا پہ ایمان بنا دیجئے ۔ تاکہ یہ ہر مشکل میں صرف آپکو پکارے”
خیر جناب چھٹی ہو گئ۔ ڈھائی
بجے عباد میاں گھر آئے ۔ جیسے ہی میں نے دروازہ کھولا، عباد خوش خوش آکے مجھ سے لپٹ گیا۔۔۔اور کہا:
ماما آپ نے صحیح کہا تھا۔۔۔ کسی کو پتا ہی نہیں چلا۔۔۔ اور مجھے فائین نہیں ہوا۔ ”
میں نے عباد کو پیار کیا۔۔ اور کہا۔۔۔ “دیکھا! اللہ کو سچے دل سے پکاریں تو وہ ضرور مدد کرتے ہیں۔
چلیں اب آپ کپڑے چینج کریں۔ کھانا کھائیں۔
“پھر شام کو بابا کے ساتھ جا کے نیو شوز لیں گے۔
پر ماما اگر میں روز یہ دعا پڑھ لوں تو پھر نئے جوتے نہیں لیتے۔۔۔” عباد نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔
جی نہیں۔۔۔ روز روز نہیں ایسا ہوگا۔۔۔ ”
Rule is rule, discipline is discipline…
آج تو اللہ میاں نے ہیلپ اس لئیے کی کہ آپکی مجبوری تھی۔ آپ نے لینے تھے شوز پر لے نہیں سکے ۔ تو اللہ نے آپکو punishment
سے بچا لیا۔ لیکن اگر آپ سکول کے اصولوں کی خلاف ورزی کریں گے پھر تھوڑی اللہ مدد کریں گے ۔” میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔۔۔
عباد کے زہن میں سوال پہ سوال آ رہے تھے ۔۔
” تو ماما اگر میں یہ دعا پڑھ لوں تو میرا امتحان بھی اچھا ہو جائے گا؟ میرے میتھس میں فل نمبر آ جائیں گے؟ ”
” بالکل آئیں گے بشرط کہ آپ نے ساتھ محنت بھی کی ہو، بغیر پڑھے نہیں نمبر آئیں گے۔
اللہ تعالٰی کہتے ہیں محنت کرو پھر نتیجہ اللہ پہ چھوڑ دو۔ ”
“ہمم ۔۔۔ ” اب عباد کو بات سمجھ آ رہی تھی۔
میں نے دل ہی دل میں کہا : تھینکیو اللہ میاں ۔۔۔ آپ نے میرے بیٹے کی مدد کی ۔۔۔ اللہ ہمیشہ اسکے ساتھ ساتھ رہنا۔۔۔
اس دن عباد بہت خوش تھا۔ اس نے 2،3 دن میں ہی قاری صاحب سے یہ دعا حفظ کر لی تھی۔ اور یہ دعا الحمدللہ اسکے معمولات میں شامل ہو گئ تھی۔
آج صبح میرا دوسرا بیٹا یونیورسٹی کے لئیے نکل رہا تھا ، اسکا maths کا کوئی tournament تھا آج ،
میں نے یاد دلایا بیٹا دعائیں پڑھنی ہیں۔۔۔
“جی ماما یاد ہے”
اور اس نے حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توكلت پڑھنی شروع کر دی۔۔۔
تو مجھے خوشی ہوئی کہ میری ادنی سی کوشش رنگ لے آئی۔ میرے بچے اللہ کو یاد رکھتے ہیں، اسی سے مانگتے ہیں۔ بے شک سب کچھ اسی کے اختیار میں ہے۔
یہ پوسٹ شئیر کرنے کا مطلب صرف اور صرف آجکل کی ماؤں کی توجہ اس امر کی طرف مرکوز کرنے کے لئیے ہے۔ ماں کی گود بچے کی پہلی درس گاہ ہے۔
ماں ہی بچے کے دل میں اللہ کی محبت اور توکل ڈال سکتی ہے۔ اور وہ یہ تب ہی کر سکتی ہے جب اسکا اپنا ایمان مضبوط ہو ۔
وہ ذندگی میں کامیابی کے شارٹ کٹ نہ ڈھونڈتی ہو اور رانگ نمبر سے بچتی ہو ۔
اگر آپ نے اپنے اور اپنے بچوں کے ایمان مضبوط کرنے پہ محنت کر لی تو سمجھیں آپکی دنیا اور آخرت سنور گئ۔
چھوٹی چھوٹی مسنون دعائیں اپنی اور بچوں کی زندگی کا حصہ بنائیں اور گھر میں خیر و برکت
دیکھیں۔
صبح بچوں کو تیار کرتے وقت ان سے باتیں کیا کریں اور انھیں صحابہ اور سیرت النبی کے واقعات سنایا کریں اور باتوں باتوں میں دعائیں یاد کرا دیا کریں۔
چاہے کوئی دنیاوی کام ہو جیسے کہ ٹیلر کو کپڑے دینے
ہیں ،خدا کرے اچھے سل جائیں، ،اللہ کوئی اچھی میڈ مل جائے،اللہ دعوت میں عزت رکھ لینا،اللہ روٹ کینال پروسیجر میں درد نہ ہو۔۔۔۔
یا پھر قبر کے عزاب ،اور جہنم سے پناہ مانگنی ہو
یا کہ جنت کا حصول کی دعا ہو ۔۔۔۔
بس ہر ہر چیز کے لئیے اللہ کے سوا کسی کو نہیں پکارا اور اس ذات نے اس ناچیز کو کبھی بے آسرا
نہیں چھوڑا۔
آپ بھی اپنی زندگی کے کچھ ایسے واقعات کمنٹس میں شئیر کریں جس سے آپکا ایمان مضبوط ہوا ہو۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں