’’دیکھو! وہ سامنے رہا دروازہ فزیو تھیراپی کلینک کا۔ میں تو ساتھ اندر نہ جا سکوں گا ’کووِڈ پروٹوکول‘ جو لاگُو ہے۔ صرف مریض ہی کو اندر داخل ہونے کی اجازت ہے۔ رجسٹریشن کے فارم انھیں پہلے ہی ای میل کر دیے ہیں، انھیں بتا دینا، وہ چیک کر لیں گے خود ہی۔ بس اپنا ہیلتھ کارڈ اور انشورنس کارڈ استقبالیہ پر دکھا دیکھنا۔ کچھ مشکل نہیں ہو گی۔ پھر بھی ضرورت پڑے تو فون کر دینا۔ میں ادھر گاڑی ہی بیٹھا ہوں‘‘۔
اُس نے جلدی جلدی کہا تھاجس کے جواب میں اس کی بیوی نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا تھا اور یہ کہتے ہوئے کار سےاُتر گئی تھی:
’’میں جانتی ہوں بابا۔ کوئی بچی نہیں ہوں۔ آپ کیوں بوڑھے لوگوں کی طرح فکر مند ہوا کرتے ہیں!؟‘‘
بوڑھے لوگوں کی طرح۔۔۔!؟ ایسے کیوں کہا اُس نے؟ ویسے بڑھاپا تو آ ہی رہا ہے اپنی سی رفتار بلکہ تیز رفتاری سے مگر بیگم کو یہ احساس دلانے کی کیا ضرورت تھی، خواہ مخواہ ۔
وہ ڈیش بورڈ پر رکھے ڈاک کے تین لفافے اٹھاتے ہوئے سوچ رہا تھا۔ ڈاک کے یہ لفافے اس نے آتے آتے اپنے میل باکس میں سے نکالے تھے۔ تب بھی اس کی بیوی نے کہا تھا کہ ڈاک وہ واپسی پر بھی نکال سکتا ہے مگر اس کی بات اَن سُنی کرتے ہوئے وہ میل باکس کے لاک میں چابی گھمانے لگا تھا اور اگلے ہی لمحے مقامی دوا خانے کے ہفتہ وار فلائر اور تین لفافوں کے ساتھ گاڑی کی طرف بڑھ رہا تھا۔ فلائر تو اس نے دیکھے بغیر ہی عمارت کے بیرونی دروازے کے ساتھ لگے ری سائیکلنگ بِن میں ڈال دیا تھا اور وہ تین لفافے کار کے ڈیش بورڈ پر رکھ دیے تھے یہ سوچ کر کہ بیوی کو کلینک اتارنے کے بعد آرام سے انھیں پڑھ سکے گا۔ ڈاک کے تینوں لفافے مقامی ہیں یہ وہ دیکھتے ہی جان چکا تھا کیوں کہ بیرونِ ملک سے آئے لفافوں کی رنگت بھی مختلف ہوتی ہے اور ان پر ٹکٹ بھی زیادہ تعداد میں چسپاں ہوتے ہیں۔
فزیو تھیراپی کلینک اس کے اپارٹمنٹ سے زیادہ دور نہ تھا مگر اس کی بیوی آرتھرائٹس کے باعث اتنا بھی پیدل نہ چل سکتی تھی اس لیے کار سے جانا پڑا تھا۔
کیا ابھی کھول کر پڑھ لوں انھیں یا پھر واپس اپارٹمنٹ جا کر؟
لفافے ہاتھ میں تھامے وہ پھر سے سوچنے لگا اور انھیں ایک دوسرے کے اوپر نیچے ترتیب سے رکھنے لگا۔ ترتیب کا اصول کیا تھا؟ یہ تو شاید اسے خود بھی معلوم نہ ہو۔
بہرحال فیصلہ یہی ہوا کہ لفافے ابھی کھولے جائیں اور ایک ایک کر کے پڑھے جائیں۔ اس خود ساختہ فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے اُس نے، کسی غیر شعوری ترتیب سے رکھے، لفافوں میں سے اوپر والا لفافہ جو روغنی سے سفید کاغذ سے بنایا گیا تھا کار کی چابی کی مدد سے کھولا۔ گھر یعنی اپارٹمنٹ میں ہوتا تو پیپر کٹر استعمال کرتا اسے کھولنے کے لیے۔ لفافے کے اندر سے تین تہوں والا ہلکے زرد رنگ کا کاغذ برآمد ہوا۔ اُس نے احتیاط سے اس کی تہیں کھولیں۔ وہ جلدی یا تیزی سے نہیں کھولنا چاہتا تھا کیوں کہ ایسا کرتے ہوئے گذشتہ ہفتے اس کی شہادت والی انگلی پر ننھا سا کٹ لگ گیا تھا۔ کٹ تو واقعی ننھا تھا مگر اس میں سے بہتا خون روکنے میں اسے کوئی آدھ گھنٹا لگا تھا۔ زخم کو اس نے ٹشو پیپر سے خوب دبایا تھا اور ہر دو منٹ بعد اسے دیکھتا کہ خون بند ہوا یا نہیں۔ اس کے فیملی ڈاکٹر نے بعد ازاں اسے بتایا تھا کہ بلڈ تِھنر یا خون پتلا رکھنے والی گولی مسلسل کھانے کے باعث ایساہوا اور یہ کہ آئندہ اسے محتاط رہنا چاہیے۔ چناں چہ تب سے وہ ہر کاغذ کو احتیاط سے پکڑنے لگا تھا۔
ہلکے زرد کاغذ کو کھول کر اس نے اپنے سامنے سٹیئرنگ وِیل پر ٹکا یا بچھا لیا تھا اور سفید لفافے کو اپنے دائیں طرف کپ ہولڈر میں پھنسے کافی کے سرخی مائل خالی کپ پر رکھ دیا تھا۔ کاغذی کپ پر مفت ڈونٹ حاصل کرنے کا اشتہار چھپا ہوا تھا جسے اس نے یک سر نظر انداز کر دیا تھا۔ شاید وہ جانتا تھا کہ دنیا میں کِہیں کچھ بھی مفت نہیں ملتا۔ کچھ مخفی شرائط کپ کے پیندے کے پاس فائن پرنٹ کی صورت درج ہوں گی۔ وہ جانتا تھا۔
اب اس کی آنکھیں خط کی عبارت سے دوچار تھیں:
پیارے سابق طالبِ علم
یہ خط آپ کو یہ یاد دلانے کی دوستانہ کوشش ہے کہ آپ کی مادرِ علمی نے آپ کو فراموش نہیں کیا اور وہ آپ سے رابطے اور زندگی کے مراحل میں آپ کی زندگی کو آسان اور پُر سہولت بنانے میں کوشاں رہتی ہے۔ اس خط کے ساتھ اے بی سی ڈی انشورنس کمپنی کی خصوصی پیش کش آپ کو بھی بھیجی جا رہی ہے۔ آپ اس خصوصی پیش کش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سینکڑوں ڈالر کی بچت کر سکتے ہیں۔ گھر ہو، کار ہو یا زندگی بیمہ کروانے کے لیے اے بی سی ڈی کمپنی ہی کو خدمت کا موقع دیں۔ ان سے رابطہ کرتے ہوئے اپنے ایلومینائی رجسٹریشن نمبر کا حوالہ ضرور دیں۔
شکریہ۔ آپ کی مخلص
صدر ایلومینائی ایسوسی ایشن۔ ڈبلیو ایل یونی ورسٹی
اچھا، تو یہ میرے پرانے تعلیمی ادارے سے آیا خط ہے۔ سال میں کم از کم دو بار ایسی خصوصی پیش کشیں اسے بھیجی جاتی ہیں جو دیگر اداروں سے کہِیں مہنگی ہوتی ہیں۔
’’ہونہہ‘‘ ۔۔۔ اُس کے ہونٹوں سے بے ساختہ نکلا اور اس نے ہلکے زرد کاغذ کو احتیاط سے اُسی طرح تین تہیں لگا کر واپس سفید لفافے میں ڈال دیا۔ ہاتھ بڑھا کر گلو باکس یعنی دستانے رکھنے والے خانے کو کھولا تھا اور لفافے کو اس میں رکھ کر ہاتھ کے ہلکے سے دباؤ سے باکس بند کر دیا تھا۔ اس خانے میں کیا کچھ نہ پڑا تھا، سوائے دستانوں کے۔ ایک چھوٹا سا پیچ کس، کپڑے کا بنا دھاری دار حفاظتی ماسک، نیلا بال پوائنٹ، دواؤں کی پرانی رسیدیں، سُرخ رنگ کا بالوں کا کلِپ اور جانے کیا کیا ایک دوسرے سے الجھا پڑا تھا۔ کیا کچھ تھا اُسے خود بھی معلوم نہ تھا۔
حقیقت یہ تھی کہ پرانے تعلیمی ادارے کے اس خط نے اسے بیوی کی طرح عمر گزرنے کا پھر سے احساس دلا دیا تھا۔
کیا میں واقعی بوڑھا ہوتا جا رہا ہوں۔
اب اسے اپنے ایک پروفیسر صاحب یاد آنے لگے تھے جو کہا کرتے تھے کہ انسان اتنا ہی بوڑھا ہوتا ہے جتنے اس کے خیالات ۔۔۔ تو اب اسے یہ سوچنا تھا کہ اس کے خیالات کی عمر کیا ہے؟ تاکہ عمر رسیدگی کا صحیح تعین ہو سکے۔
ٹِن، ٹِن، ٹن، ٹِن، ٹرِن
ٹِن، ٹِن، ٹن، ٹِن، ٹرِن
سیل فون کی گھنٹی نے اس کو عمر کے خیالی حساب کتاب کے چکر سے باہر نکال لیا تھا۔
’’ہیلو، ہیلو۔‘‘۔۔۔ اُس نے نا مانوس سا فون نمبر دیکھ کر بھی جانے کیوں کال لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ ’’کون۔۔۔؟‘‘
اور دوسری طرف سے ایک نسوانی آواز چینی زبان میں کوئی ریکارڈ شدہ پیغام سنا رہی تھی۔ وہ اندازہ بھی نہیں لگا سکتا تھا کہ وہ کیا کہہ رہی ہے۔ تاہم اس نے تیس سیکنڈ کا وہ پیغام مکمل سنا اور دوسری طرف سے آواز بند ہونے پر فون سکرین پر چمکتا سرخ دائرہ چھو کر کال منقطع کر دی۔
جانے کہاں سے؟ کیسے اتنی دور دور پہنچ جاتے ہیں ہمارے فون نمبر اب۔ دنیا بھر میں گردش کر رہے ہیں۔ ہم اور ہماری دنیا؛ ہمارا گلوبل ولیج ! یہ سوچ کر اس کے سُکڑتے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ کھیل گئی تھی اور یونہی مسکراتے مسکراتے اُس نے دوسرا لفافہ کھولا۔ وہ کینیڈا کی ایک مشہور موبائل فون کمپنی کی طرف سے تھا جس میں اس کا موجودہ معاہدہ قریب الاختتام ہونے کی اطلاع تھی اور معاہدے کی تجدید کی اَن گنت شرائط درج تھیں۔ شرائط جو اسے کبھی سمجھ نہ آئی تھیں۔
انھیں سمجھنے کے لیے اسے اِس بار بھی کمپنی کی کسٹمر سروس کو فون کرنا پڑے گا جس کا نمائندہ اُسے بھارت کے کسی شہر سے مزید ہدایات فراہم کرے گا۔ کال ملنے سے پہلے طویل انتظاری مرحلے میں بجائی جانے والی موسیقی کی اونچی نیچی دُھنوں کا سوچ کر اسے ابھی سے وحشت ہونے لگی تھی۔ شاید انھی کے خیال سے اس نے لفافہ قدرے جلدی سے بند کیا اور پہلے سے بھرے ہوئے گلو باکس میں رکھ دیا۔
کیا اُسے تیسرا لفافہ بھی ابھی کھول کر پڑھ لینا چاہیے یا ۔۔۔ ابھی سامنے والے آرگینک فوڈ سٹور سے ہو آنا چاہیے۔ کبھی کبھار وہاں سے سیل پر اچھی چیزیں مل جاتی ہیں۔ کیمیائی کھاد اور مصنوعی اجزا سے پاک نامیاتی خوراک کی اہمیت اب کافی لوگ جاننے لگے ہیں پھر بھی عام دکانوں کے مقابلے میں یہاں کم ہی لوگ خریداری کرتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ، ظاہر ہے، اشیا کی قیمتیں ہیں جو عام سٹورز سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہیں۔
یہ سوچتے ہوئے اس نے اپنے فون پر وقت دیکھا۔ ابھی پندرہ بیس منٹ اور لگیں گے اس کی بیوی کا کلینک سے باہر آنے میں۔ تو کیوں نہ دوسری نکڑ پر واقع کتابوں کی دکان کا چکر لگا لیا جائے۔ اب اس کے ذہن میں ایک اور آپشن چمک رہی تھی۔ بین الاقوامی ادب کے سیکشن میں اکثر نت نئی کتابیں مل جاتی ہیں وہاں سے۔ اچھی کولیکشن ہے ان کے پاس کتابوں کی۔ اچھی بات یہ بھی ہے کہ پڑھنے کے بعد کتاب آپ واپس بھی کر سکتے ہیں اور اس کی جزوی قیمت کو دوسری کتاب سے ملا کر ایک نئی کتاب خرید کر سکتے ہیں۔ کتاب کے فروغ کا اچھا طریقہ ہے یہ بھی لیکن اس نے اس سہولت سے کبھی فائدہ نہیں اٹھایا کیوں کہ اسے کتابیں اپنے پاس رکھنے کا شوق ہے۔ دو ایک بار تو ایسا بھی ہوا کہ وہ ایک ہی کتاب دو بار خرید لایا مگر ان میں سے کوئی بھی واپس نہیں کی، یہ سوچ کر کہ ان میں سے ایک کسی دوست کو تحفتاً دے دے گا مگر اس نے دی نہیں۔ دونوں کو بُک شیلف میں سجائے رکھا۔ کتاب کسی کو دیتے ہوئے جانے اس کے دل کو کیا ہونے لگتا تھا۔ اس کا بس چلتا تو شاید دنیا کی ساری کتابوں کو اپنی بک شیلف میں سجا لیتا۔ وہ اس شیلف میں پوری کیسے آتیں؟ یہ اس نے نہیں سوچا تھا۔ ساری دنیاکی لائبریریز پر قبضہ کرلے وہ ایسا بھی نہیں سوچتا تھا۔ قبضہ کرنا اسے پسند نہ تھا۔ کتاب کے علاوہ اسے کوئی شے اپنے قریب رکھنے کا بھی شوق نہ تھا۔ ایسا کیوں؟ اس کا بھی کوئی واضح جواب نہیں ملتا۔ شاید اس لیے کہ اس کی ساری عمر کتاب سے محبت میں گزر گئی۔
’’گزر گئی“ ۔۔۔! اس کی سوچ بھی ان دو الفاظ پر رُک سی گئی تھی۔ کیا واقعی عمر گزر گئی ہے اُس کی۔ گزر جانے میں کتنا دکھ اور ایک طرح کااحساسِ زیاں بھی ۔۔۔ ”گزر گئی“ اور ظاہر ہے عمر گزرنے کے ساتھ انسان بوڑھا ہی تو ہوتا ہے ۔۔۔ تو اس کی بیوی کی بات کچھ ایسی غلط اور غیرحقیقی بھی نہیں۔ اگرچہ اسے یقین تھا کہ اس کی بیوی کا مقصد اسے کسی احساسِ زیاں میں مبتلا کرنا بھی نہ تھا۔
اُس نے بُک سٹور جانے کا سوچا ضرور مگر وہ گیا نہیں۔ وہیں پارکنگ لاٹ میں اپنی کار میں بیٹھا یہ سب سوچتا رہا۔ پھر اس نے اپنے ہاتھ میں سہمے ہوئے تیسرے خط کی طرف دیکھا اور سوچا کہ اب کہیں اور جانے کا وقت تو ہے نہیں، کیوں نہ اسے ہی کھول کر پڑھ لیا جائے!
تیسرا خط کچھ اس انداز میں ٹائپ کیا گیا تھا جیسے ہاتھ سے لکھا گیا ہو۔ خط کا مضمون آساں نہ تھا۔ ابتدائی سطور کچھ یوں تھیں:
کیا آپ جانتے ہیں جب کوئی مرجاتا ہے تو اگلے بہتر گھنٹوں میں لواحقین کو ستاسی اہم فیصلے کرنا ہوتے ہیں۔ اگر آپ بچے ہیں تو اپنے والدین کو اس حقیقت سے آگاہ کریں اور اگر آپ والدین ہیں تو اپنے بچوں کی مشکل کا خیال کریں۔ دنیا سے جاتے ہوئے اپنے پس ماندگان کے لیے اچھی یادیں چھوڑ کر جائیں نہ کہ بڑے بڑے بِل۔ اپنی تجہیز و تکفین سے متعلق فیصلے اور انتظامات پیشگی کر کے آپ اپنے پس ماندگان سے اظہارِ محبت کر سکتے ہیں۔ وہ ستاسی اہم فیصلے کیا ہیں؟ یہ جاننے کے لیے ہمیں فون کیجیے یا اس خط کے ساتھ بھیجے گئے جوابی لفافے کو ہمیں پوسٹ کر دیجیے۔ یاد رکھیے: افراطِ زر اور مہنگائی کے باعث تجہیز و تکفین کے اخراجات میں بے انتہا اضافہ ہو گیا ہے اور مسلسل ہو رہا ہے۔ سو، فوری قدم اٹھائیے۔ وقت مت گنوائیے۔
وقت تو گم ہو ہی چکا ہے۔ زیادہ وقت تو گزر ہی گیا۔ وہ کیا کہتے ہیں ۔۔۔ کہ ہاتھی نکل گیا بس دُم باقی ہے۔ تو بس دُم ہی تو باقی ہے۔ یہ بھی نکل جائے گی۔ بیوی بچوں کو وہ واقعی کوئی زحمت نہیں دینا چاہتا تھا مگر یوں مرنے سے پہلے ہی اپنی موت کی تیاریاں کرنے کا خیال بھی اسے بے چین کیے دے رہا تھا۔
تینوں بیٹے اپنی تعلیم مکمل کر کے مختلف شعبوں سے وابستہ ہو کر دوسرے صوبوں میں ملازمتیں کر رہے تھے۔ ان کے جانے کے بعد اب یہ دونوں میاں بیوی ہی یہاں رہ گئے تھے۔ بچے ساتھ چلنے کا کہتے بھی تو شاید یہ نہ جاتے کہ ڈاکٹروں سے یہیں اپائٹمنٹس بنی ہوئی ہیں۔ دکانیں بھی گھر سے زیادہ دور نہیں۔ دو ایک شناسا چہرے بھی ابھی یہاں دکھائی دے ہی جاتے ہیں۔
اتنے میں اس نے فزیو تھیراپی کلینک کے دروازے سے ایک شناسا چہرے کو برآمد ہوتے دیکھا۔ اس کی بیوی باہر آ رہی تھی۔اُس نے خط جلدی سے لفافے میں ڈالا اور گلو باکس میں ٹھونس دیا۔ اِس بار اُس نے کوئی احتیاط نہ کی تھی۔ خیر، کوئی زخم بھی نہ لگا تھا۔
’’السلام علیکم ۔۔۔‘‘ بیوی نے کار میں داخل ہوتے ہوئے اور اس کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
’’آ گئیں آپ؟ ۔۔۔ کیسا رہا سیشن ۔۔۔؟‘‘ اس نے کار سٹارٹ کرتے ہوئے پوچھا
’’ٹھیک تھا بس۔ نئی تھیراپسٹ تھی آج۔ وہ جو پچھلی بار تھی نا، عمر رسیدہ انڈین لیڈی، افسوس، وہ رخصت ہو گئیں۔‘‘
بیوی نے سیٹ بیلٹ لگاتے ہوئے جواب دیا۔
’’رخصت ہو گئیں؟ مطلب ۔۔۔؟‘‘ اس نے استفسار کیا۔
’’مطلب یہ کہ وہ دوسری لوکیشن پر چلی گئی ہیں۔ وہ جو ماؤنٹین پر ہے۔‘‘ بیوی نے وضاحت کی۔ ’’اور آپ کیا سمجھے؟‘‘
اس نے ساتھ ہی پوچھ لیا۔
’’کچھ نہیں۔ میں کچھ اور سوچ رہا تھا ۔۔۔ اس لیے۔۔۔‘‘ وہ ہڑبڑا سا گیا تھا۔
’’وہ پہلے والی تھیراپسٹ زیادہ اچھی تھی۔ انڈین تھی۔ ہندی اردو بھی بول لیتی تھی۔ یہ لڑکی نئی والی جو ہے یہ گوری ہے اور گورے لوگ آپ جانتے ہی ہیں ذرا مختلف ہوتے ہیں ہم ایشیائی باشندوں سے۔‘‘
’’یہ کچھ بھید بھاؤ کی، کچھ نسل پسندی کی بات نہیں ۔۔۔؟‘‘اس نے بیک ویو مرر میں دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔
’’میں تو ثقافتی فرق کی بات کر رہی ہوں۔ وہ تو ہے نا۔ زبان اور تہذیب مختلف تو ہے ہماری۔‘‘ بیوی نے اپنا ہینڈ بیگ سیٹ سے نیچے اپنے پاؤں کے پاس رکھ لیا تھا۔
’’ہاں، یہ فرق تو پاکستان اور ہندوستان میں بھی ہے حال آں کہ ساتھ ساتھ ہی تو ہیں۔‘‘ وہ بولا تھا
’’وہ اور بات ہے ۔۔۔۔‘‘
’’اور بات کیسے ہوئی؟ تم میری ہر بات سے اختلاف کرنے کی ٹھانے رہتی ہو ۔۔۔ میں احتجاج کرتا ہوں تو کہتی ہو کیوں بوڑھوں کی طرح چڑچڑے ہوتے جاتے ہیں آپ ۔۔۔‘‘
’’ ارے، میں نے ایسا کب کہا بھلا ۔۔۔؟‘‘ بیوی سٹپٹائی۔
’’ابھی ۔۔۔ ابھی کلینک جاتے ہوئے کہا نہیں تھا تم نے ۔۔۔ بھول بھی گئیں؟‘‘
’’اف خدایا، آپ بھی نا ۔۔۔ کیا آپ اسی بات پر سوچتے رہے سارا وقت کار میں بیٹھے ۔۔۔ میں تو بابا وہ ۔۔۔‘‘
’’دیکھو، دیکھو ۔۔۔ تم نے پھر بابا کہا مجھے ۔۔۔ اب بتاؤ ۔۔۔‘‘
’’آپ خوب سمجھتے ہیں اِس “بابا” کا مطلب ۔۔۔ خواہ مخواہ بات مت بڑھائیے اور احتیاط سے گاڑی چلائیے۔ دیکھیے آپ نے لیفٹ ٹرن سگنل نہیں دیا اور ہمیں مُڑنا ہے یہاں سے۔‘‘
’’تو بھلکڑ ہونے کا طعنہ دیا جا رہا ہے اب مجھے ۔۔۔ بھئی، مجھے ابھی بائیں مُڑنا ہی نہیں۔ آرگینک سٹور رُکنا ہے۔ شادی کی سال گرہ کا کیک آج یہیں سے خریدنے کا ارادہ ہے۔ ان کے ہاں چیزیں آرٹیفیشل اجزا سے پاک ہوتی ہیں۔ خالص ۔۔۔‘‘ اس نے سٹیئرنگ وِیل گھماتے ہوئے کہا تھا۔ ’’بالکل خالص‘‘۔
’’جیسے آپ کا پیار ۔۔۔ ہے نا۔۔۔!؟ بیوی نے شرارت سے مسکراتے ہوئے کہاـ
’’ہاں، یہ بالکل ٹھیک کہا تم نے۔“
کار آرگینک فوڈ سٹور کے سامنے پارک کرتے ہوئے اس جملہ پر وہ بھی بے ساختہ کھلکھلا دیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں