• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ٹریکٹر ٹرالی حادثات: پنجاب میں خاموش قتلِ عام/حافظ محمد عثمان ایڈووکیٹ

ٹریکٹر ٹرالی حادثات: پنجاب میں خاموش قتلِ عام/حافظ محمد عثمان ایڈووکیٹ

17 جنوری 2026 کو ساہیانوالہ ایکسپریس وے پر پیش آنے والا ٹریکٹر ٹرالی حادثہ محض ایک ٹریفک حادثہ نہیں تھا، بلکہ یہ ریاستی غفلت، ناقص پالیسی اور عدم نفاذِ قانون کا المناک نتیجہ تھا۔
اس حادثے میں ہماری فیملی کے پانچ قیمتی افراد اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ یہ نقصان ناقابلِ تلافی ہے، مگر اس سے زیادہ تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ ایسے حادثات روزانہ پنجاب کی سڑکوں پر ہو    رہے ہیں۔

پنجاب میں ٹریکٹر ٹرالی حادثات: اعداد و شمار کی تلخ حقیقت

دستیاب سرکاری و نیم سرکاری رپورٹس کے مطابق:
• پنجاب میں 2017 سے 2022 کے دوران کم از کم 2,000 سے زائد ٹریکٹر ٹرالی حادثات رپورٹ ہوئے
• ان حادثات میں 1,500 سے زائد شہری اپنی جانیں گنوا بیٹھے
• ٹریکٹر ٹرالیاں سڑک حادثات میں ہونے والی اموات کا تقریباً 5 تا 10 فیصد سبب بنتی ہیں
• ریسکیو 1122 کے مطابق دیہی و نیم شہری علاقوں میں مہلک حادثات کی ایک بڑی وجہ غیر محفوظ ٹرالیاں ہیں

یہ اعداد و شمار صرف رپورٹ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہیں، جبکہ حقیقت میں دیہی علاقوں کے بے شمار حادثات نہ ایف آئی آر بنتے ہیں، نہ کسی ریکارڈ کا حصہ بنتے ہیں۔

مسئلے کی بنیادی وجوہات

ٹریکٹر ٹرالی حادثات کے پیچھے چند واضح اور تسلیم شدہ وجوہات ہیں:
1. ہائی ویز اور ایکسپریس ویز پر ٹریکٹر ٹرالیوں کی بلا روک ٹوک آمد
2. ریئر لائٹس، ریفلیکٹرز اور انڈیکیٹرز کا نہ ہونا
3. اوورلوڈنگ اور مسافروں کی غیر قانونی نقل و حمل
4. کم عمر یا بغیر لائسنس ڈرائیور
5. ٹریفک قوانین کا عدم نفاذ
6. ٹرالیوں کے لیے علیحدہ لین یا اوقات کا تعین نہ ہونا

یہ سب عوامل مل کر سڑکوں کو موت کے جال میں بدل رہے ہیں۔

ساہیانوالہ سانحہ: ایک سوالیہ نشان

ساہیانوالہ ایکسپریس وے جیسے تیز رفتار روڈ پر:
• کیا ٹریکٹر ٹرالی کی اجازت تھی؟
• کیا ٹرالی قانونی معیار پر پوری اترتی تھی؟
• کیا ڈرائیور لائسنس یافتہ تھا؟
• کیا اس سے پہلے کبھی ایسے خطرات کی نشاندہی کی گئی؟

اگر ان سوالات کے جواب پہلے دن سنجیدگی سے لیے جاتے، تو شاید آج پانچ جنازے نہ اٹھتے۔

احکامِ بالا سے پُرزور اپیل

ہم، بحیثیت متاثرہ خاندان اور ذمہ دار شہری، حکومتِ پنجاب، آئی جی پنجاب، ٹریفک پولیس، محکمہ ٹرانسپورٹ اور متعلقہ اداروں سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں:
1. ہائی ویز اور ایکسپریس ویز پر ٹریکٹر ٹرالیوں کے داخلے پر مکمل پابندی
2. ٹرالیوں کے لیے لازمی سیفٹی اسٹینڈرڈز (ریئر لائٹس، ریفلیکٹرز، بریک سسٹم)
3. اوورلوڈنگ اور مسافروں کی غیر قانونی نقل و حمل پر زیرو ٹالرنس
4. بغیر لائسنس اور کم عمر ڈرائیوروں کے خلاف سخت کارروائی
5. ٹرالی مالکان کی رجسٹریشن اور فٹنس سرٹیفکیٹ کو لازمی قرار دینا
6. پنجاب بھر میں ٹریکٹر ٹرالی حادثات سے آگاہی مہم (Awareness Campaign)
7. ہر مہلک حادثے کی شفاف انکوائری اور ذمہ داروں کا تعین

ہم اپنے پیاروں کو واپس نہیں لا سکتے، مگر دوسروں کی جانیں بچانے کے لیے آواز ضرور بلند کر سکتے ہیں۔
یہ تحریر ایک خاندان کا نوحہ نہیں، بلکہ پنجاب کی سڑکوں پر بہتے خون کے خلاف ایک سوال ہے۔

اگر آج اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو کل کوئی اور خاندان اسی کرب سے گزرے گا۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ٹریکٹر ٹرالی حادثات کو “روٹین حادثہ” نہیں بلکہ “قابلِ تدارک قتل” سمجھا جائے
سب دوستوں سے اپیل ہے وہ اس تحریر کو شیئر کریں تا کے حکام با لا تک پہنچ سکے

julia rana solicitors london

حافظ محمد عثمان ایڈووکیٹ مدعی سانحہ ایکسپریس وے پنواں ساہیانوالہ

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply