میڈیکل کالج کا آخری ڈنر۔۔۔محمد شافع صابر

انسان کا سب سے زیادہ قیمتی اثاثہ اس کی یادیں ہوتی ہے۔۔ یہی یادیں احساسات کا مؤجب ہوتی ہیں ۔ اگر حسین یادیں نہ  ہوں تو نہ  ہی احساسات کے لئے جگہ ہوتی ہے اور نہ  ہی کوئی وجہ۔۔۔ یہی یادیں ہی تو  ہیں، جو کہ ہمیں زندہ رکھتی ہیں، ہمیں اپنوں کا احساس دلاتی ہیں، جو تنہائی میں ہم سب کی ساتھی ہوتی ہیں ۔۔جو ہمیں حوصلہ دیتی ہیں   اِک نئی صبح کا۔ یہی خوبصورت یادیں ہی ہوتی ہیں ۔۔جو کہ غم میں بھی ہونٹوں پہ مسکراہٹ بکھیر دیتی ہیں ۔۔۔جو ہمیں چھوڑ جاتے ہیں ۔۔۔انکی یادیں ہی ہمیں سانس لینے میں مدد دیتی ہیں ۔۔۔ کسی کا انتظار کرنا ہو تو۔۔۔اسکی یاد ہی انسان کا سب سے اہم ہتھیار ہوتی ہے۔

میڈیکل کالج کے پانچ سال بھی ایسے ہی ہوتے ہیں ,زندگی سے بھرپور ,خوشی غمی، حسین یادوں سے مزین۔ ان پانچ سالوں میں کچھ ایسے لمحات بھی آتے ہیں،جب انسان ہمت ہار جاتا ہے لیکن یادیں ہی اس کا حوصلہ بندھائے رکھتی ہیں، انہی پانچ سالوں میں کچھ لمحات ایسے بھی ہوتے ہیں جو  آپ کے  چہرے پہ مسکراہٹ لے آتے ہیں ۔

میڈیکل کے انہی پانچ سالوں میں، ہر سال ایک فنکشن ہوتا ہے جسے اینول ڈنر کہتے ہیں، اس فنکشن کی الگ ہی fan base ہے۔۔ کچھ لوگ تو یہ فنکشن بالکل بھی attend نہیں کرتے، کچھ  بہت  شوق سے اس میں شرکت کرتے ہیں ۔ کچھ رنگین باز اس لئے شرکت کرتے ہیں کہ اسی بہانے لڑکیوں کے ساتھ سلفیاں لے لیں گے۔۔۔ کچھ لوگ صرف کھانا کھانے چلے جاتے ہیں ۔کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کہ صرف فرسٹ اور فائنل ائیر میں اینول ڈنر میں شرکت کرتے ہیں کیونکہ یہ ان کا میڈیکل کالج میں پہلا اور آخری ڈنر ہوتا ہے۔اگر آپ فرسٹ ائیر میں ہیں تو اس لئے جاتے ہیں کہ دیکھا تو جائے کہ آخر ڈنر میں ہوتا کیا ہے؟ اور اگر اپ فائنل ائیر میں ہیں تو  آپ اس لئے چلے جاتے ہیں کہ اسکے بعدکون سا کوئی  موقع ملنا ہے۔

اس سال کا اینول ڈنر batch 2014-2019 کا اس میڈیکل کالج میں لاسٹ ڈنر تھا۔۔۔ تو افسردگی لازمی تھی۔

جب ان پانچ سالوں کی یادوں پہ بنی ویڈیو چلائی  گئی تو کچھ نرم دل طلبا کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ شاید اسی لیے یادیں ہوتی ہی ایسی ہیں جو کہ ایک پل میں آپکو ہنسا دیں اور اگلے ہی پل میں رولا بھی دیں۔۔کچھ کی آنکھوں سے آنسو اس لئے رواں  تھے کہ یہ ان کا اس کالج میں آخری ڈنر تھا، کچھ لوگ اس لئے رورہے تھے کہ اس کےبعد پتا نہیں کب کہاں مل سکیں گے۔

یہ کلاس اس لئے بھی اہم ہے کہ یہی کلاس مسلسل تین سالوں سے class of the year بنتی چلی آرہی ہے۔۔ اس batch کی unity اگرقابل تحسین ہے اور لڑائی  بھی دیکھنے کے قابل ہے۔یہ کلاس ماشاء اللہ اتنی اچھی ہے کہ سارا سال لڑیں گے لیکن آخر میں ایسے گھل مِل جائیں گے کہ جیسےکبھی کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔

فائنل ائیر کا اینول ڈنر ہمیشہ emotional ہوتا ہے۔۔کیونکہ کچھ کو جدائی  کا خوف ہوتا ہے۔۔ کچھ کو پراف کا ڈرہوتا ہے، کچھ کو پریکٹیکل لائف کا خوف ،  اس لئے فائنل ائیر کا ہرسٹوڈنٹ اس ڈنر میں لازمی شرکت کرتا ہے۔

اس سال کا ڈنربھی کچھ ایسا ہی تھا، فائنل ائیر کو بیسٹ کلاس کاایوارڈ  دیا گیا، وہی اسی کلاس نے بیسٹ تھیم آف دا ائیر بھی جیتا! تو شاید اسی لئے کچھ طلبا emotional تھے کہ اگلے سال یہ سب کچھ نہیں ہوگا۔۔۔

فائنل ائیر عجیب ہے۔۔ یہ سٹوڈنٹ اور پریکٹیکل لائف کے درمیان ایک آخری پل ہے۔۔ اس پل کو پار تو سبھی کرنا چاہتے ہیں لیکن اس پل کو پار کرنے کے بعد اس طرف کیا ہو گا، اس سے سبھی ڈرتے ہیں ۔ فائنل ائیر کے بعدآپکے کندھوں پہ ذمہ داریوں کے بوجھ آن پڑتے  ہیں، جس سے سبھی گھبراتے ہیں ۔

فائنل ائیر کا اک اک لمحہ یادگار ہوتا ہے۔۔ اسی لیے جو پانچ سال کسی بھی فنکشن میں شرکت نہیں کرتے وہ اس سال لازماً شرکت کرتے ہیں ۔۔ اسکی وجہ پوچھنے پہ بتاتے ہیں کہ ” یارآخری سال ہے، اسکے بعد پتا نہیں کب   ملنا ہو، سو آ گئے ” شاید ان کی بات ٹھیک ہے۔۔
اس ڈنر پہ فائنل ائیر کی شرکت قابل دید تھی، کچھ مسکرا رہے تھے کہ جان چھوٹنے والی ہے، کچھ رو رہے تھے کہ یہ لاسٹ ڈنر ہے، کچھ اک پراسرار خاموشی کے ساتھ چپ تھے۔ کچھ کو جدائی  کا غم تھا تو کچھ کو روشن مستقبل کی خوشی تھی۔۔۔ کچھ نئی  یادیں بنا رہے تھے، تو کچھ پرانی یادوں کو تازہ کر رہے تھے!!
یہ یادوں کا بوجھ اتنا وزنی کیوں ہوتا ہے؟؟ کیوں ان کے بنا گزارا نہیں؟ یہ یادیں ایسی کیوں ہوتی ہیں؟؟ یہ ہمارے ساتھ ہميشہ کیوں نہیں رہ سکتیں۔۔۔۔کیوں ہم کسی کو کھونے سے اتنا ڈرتے ہیں؟؟؟ جدائی  کیوں لازم ہے۔۔۔؟؟ شاید ۔۔۔۔ ان سوالوں کاجواب کسی کے پاس نہیں ۔۔۔
سال 2014 میں جب فرسٹ ائیر میں تھے، تو دعا کرتے تھے کہ 2019 آئےاور فائنل ائیر میں ہوں تاکہ اس کالج سے جان چھوٹے، اب وہ ٹائم آنے والا ہے۔۔تو اتنی اداسی کیوں؟؟ جن کے ساتھ 5 سال گزارے ہیں ان کے بنا چھٹا کیسے گزرے گا؟ یہی سوال سوچوں  تو ایک کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔۔ لیکن ۔۔۔۔ جب ان پانچ سالوں کی یادوں کا سوچوں ۔۔۔تو ایک مسکراہٹ جو چہرے پہ پھیلتی   ہے ۔۔۔تو سب اداسی دور ہو جاتی ہے۔۔

Avatar
محمد شافع صابر
مضمون نگار یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور میں، فائنل ائیر ایم بی بی ایس کے طالب علم ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *