زندگی میں کیے گئے فیصلوں کی اذیتیں۔۔رمشا تبسم

SHOPPING

میں اکثر بیٹھے بیٹھے ایک سوال میں اس قدر کھو جاتی ہوں کے مجھے آس پاس کی روشنی فضا چلتے پھرتے انسان چہکتے پرندے دکھائی اور سنائی دینا بند ہو جاتے ہیں۔میرے دماغ کو تالا لگ جاتا ہے اور سوچیں چیختی ہوئی میرے دماغ سے فرار ہو جاتی ہیں۔اس سوال کے جواب کو لکھنے کی کوشش کرتی ہوں تو الفاظ قلم سے کاغذ پر اترنے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتے ،ہاتھ منجمند ہو جاتے ہیں۔سب کچھ پھر کچھ بھی نہیں رہتا۔یوں کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ زندگی ساکت ہو جاتی ہے۔اور پھر اس ساکت زندگی میں بھی یہی سوال دماغ کو جھنجھوڑنے لگتا ہے سوچ کی دیواروں کو ریزہ ریزہ کرنے لگتا اور روح کے بخیے ادھیڑ دیتا ہے۔

کہ آخر زندگی اتنی تکلیف دہ کیوں ہے؟۔۔۔۔کیوں زندگی میں ہم لمحہ لمحہ اپنوں سے بچھڑتے رہتے ہیں؟کبھی والدین کی جدائی کبھی اولاد کبھی بہن بھائی ،گویا  ہر رشتہ رفتہ رفتہ مر جاتا ہے۔اور ہماری زندگی کی سانسیں جتنی دن بدن کم ہوتی جاتی ہیں ،ہمارے اپنوں کی قبروں میں اتنا ہی اضافہ ہوتا جاتا ہے۔کسی ایک موت پر بمشکل صبر آتا ہے کہ کوئی اور جدائی سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔

ہم تمام عمر موت سے خوف کھاتے ہیں ۔موت سے بھاگنا چاہتے ہیں۔تا قیامت جینا چاہتے ہیں ،موت کو ہر صورت ٹالنا چاہتے ہیں۔کیونکہ ہمیں زندگی پیاری ہے، جو کہ درحقیقت پیاری نہیں ،انتہائی تکلیف دہ ہے۔۔موت کے بعد انسان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں ،اس کو تکلیف نہیں ہوتی۔موت کے بعد انسان کو جلا دیا جائے ،دفنا دیا جائے، یا پانی کے سپرد کر دیا جائے ،اس کو محسوس نہیں ہوتا ۔مگر یہی ٹکڑے چلتی سانسوں میں کر دیئے جائیں؟۔۔زندہ جلا دیا جائے یا زندہ دفنا دیا جائے ،یا پانی میں پھینک دیا جائے تو شدید تکلیف کا باعث ہے۔

انسان موت کی آغوش میں جانے سے پہلے والے سانس میں شدید تڑپتا ہے اذیت سہتا ہے اور پھر موت کے گلے لگ کر یہ اذیتیں تکلیفیں درد سب ختم ہو جاتا ہے۔پھر اس مردہ انسان کی کوئی تکلیف نہیں ۔موت کا کوئی درد موت کے بعد محسوس نہیں ہوتا۔ ہاں بحیثیتِ مسلم قبر کا غذاب اور روز قیامت سزا و جزا ایک الگ حقیقت ہے۔جس سے انکار نہیں۔

مگر جسمانی طور پر موت کے بعد کوئی تکلیف محسوس ہی نہیں ہوتی مگر زندہ رہنے والے شدید اذیت سہتے ہیں۔اپنوں کے لاشے اٹھا کر اپنی سانسوں کے چلنے کو عذاب جانتے ہیں۔
پھر دیکھا جائے تو موت کی تکلیف کچھ لمحے کی ہے مگر موت کے بعد تکلیف کے کوئی معنی نہیں رہتے۔

مگر پل پل تڑپتی سسکتی زندگی کی تکلیف زندگی کے ساتھ ہمیشہ قائم رہتی ہے۔اور زندہ انسانوں کو اکثر زندگی گزارنے کے ساتھ ساتھ کچھ فیصلے کرنے پڑتے ہیں جو انتہائی کھٹن ہوتے ہیں ان فیصلوں کو کرنے سے  زیادہ آسان موت محسوس ہوتی ہے۔ان فیصلوں کی اذیت چلتی سانسوں تک ہمیں تڑپاتی ہے۔

ایک فیصلہ آدم اور حوا کا تھا۔کیا وہ نیکی اور بدی کے سلسلے میں خدا کے معیاروں کو قبول کرینگے یا اپنے قائم‌کردہ معیاروں پر چلیں گے۔ایک فیصلہ حضرت ابراہیم علیہ سلام نے کیا تھا کہ اپنے لاڈلے بیٹے کی گردن پر چھری پھیرنے کو رضامند ہو گئے۔ایک فیصلہ حضرت اسماعیل علیہ اسلام نے کیا تھا کہ باپ کو ملے خدا ئی   حکم پر اپنی جان پیش کرنے کو رضامند ہو گئے۔ایک فیصلہ حضرت محمدﷺ نے کیا تھا، ہر صورت اللہ کے دین کی تبلیغ کرنے کا۔

ایک فیصلہ حضرت  امام حسین علیہ سلام نے کیا کہ حق کی خاطر اپنی اور اپنے اہل خانہ کی جان قربان کرنے کو کربلا پہنچ گئے۔۔

یہ فیصلے انتہائی تکلیف دہ رہے ہونگے ،مگر کیے گئے۔۔ کرنے و الے خدا کے قریب تھے، ان فیصلوں سے ہم رہتی دنیا تک سیکھتے رہیں گے سمجھتے رہیں گے۔خدا کے پیاروں کے کیے گئے فیصلوں میں اذیت چاہے بظاہر نظر آتی ہو مگر در حقیقت وہی اذیت ہماری بقاء بنی۔ہماری نجات کا ذریعہ، پیغمبروں اور ان کے اہل خانہ کی قربانیاں اور فیصلے ہمیں ہر صورت خدا کے قریب کرتے ہیں ۔

مگر ایک عام آدمی خاک کا پتلا، جب مشکل ترین فیصلہ کرتا ہے تو یہی فیصلے اکثر عمر بھر کی اذیت کا سامان ہو جاتے ہیں۔پھر ان فیصلوں کے بعد ساری زندگی مخمل کے بستر یا پھولوں کی  سیج ہی کیوں نہ نصیب ہو، مگر جسم اسی فیصلے کی یاد سے سلگتا رہتا ہے، جسم میں اس فیصلے کے باریک سے کانٹے اس قدر چبھ جاتے ہیں کہ چلتا پھر تا انسان زندگی سے ہر پل اذیت سہتا ہے۔

کسی اپنے کو ہاتھوں میں دم توڑتا دیکھنا اور پھر اسی اپنے کو قبر کے سپرد کرنے کا فیصلہ اذیت ناک ہے۔اکثر ہم قبر میں اتارنے کے بعد چاہے کئی  برس جی رہے ہوں یا  کہیں بھی چلے جائیں ،مگر در حقیقت ہماری سوچ ،ہمارا وجود، اسی قبرستان میں ۔۔اسی قبر کے آس پاس تڑپتا سسکتا رہتا ہے۔کسی اپنے کو وینٹی لیٹر پر پل پل موت کے قریب جاتا دیکھنا اور بالآخر ڈاکٹرز کے فیصلے پر یہ فیصلہ کرنا کہ اب وینٹی لیٹر سے ہٹا دیا جائے، شدید تکلیف دہ ہے ،وہ اپنا چاہے پہلے ہی مصنوعی سانسوں پر زندہ ہو اور موت کے منہ میں ہو مگر اس فیصلے سے ہم تا عمر اپنے تڑپتے وجود کو گھسیٹتے رہتے ہیں اور ہماری اپنی زندگی ایک وینٹی لیٹر پر مصنوعی سانسیں لیتی نظر آتی ہے۔

میں کچھ دن پہلے لاہور ریلوے ورکشاپ میں گراریوں میں پھنس کر اذیت سہتے مرتے انسان کے بارے میں سوچتی ہوں تو لرز جاتی ہوں۔وہ شخص حادثے کا شکار ہوا۔گراریوں نے اسکے خون کا ایک ایک قطرہ نچوڑ دیا۔اسکو باہر نکالنے کی کوئی صورت نظر نہیں آئی۔کوئی بھی فیصلہ کیا جاتا اس سے پہلے اس نوحوان کے بیٹے کو گھر سے بلایا گیا جو تقریباً تیرہ سال کا تھا۔جس نے باپ کے جسم کو بری طرح گراریوں میں پھنسا دیکھا اور وہ لاچار بے بس بچہ چیختا رہا چلاتا رہا۔اسکو بتایا گیا کہ بیٹا کوئی صورت نہیں انکو نکالنے کی ،اگر ہم گراریاں کاٹتے ہیں تو تمہارا باپ اس تپش سے پگھل جائے گا۔لہذا ایک ہی صورت ہے کہ اسکو کاٹ کر نکالا جائے۔اس بچے نے کافی دیر سر پکڑ کر روتے چیختے سینہ پیٹتے، لرزتے ہونٹوں، کانپتے جسم سے یہ فیصلہ سنایا کہ انکل جو آپ کی مرضی جیسے آپ سب بہتر سمجھیں۔ اس شخص کو کاٹ کاٹ کر گراریوں سے نکالا گیا۔اور یہ مجبور بیٹے کا فیصلہ ہمیشہ اسکو اذیت میں مبتلا رکھے گا۔وہ شخص موت کی اذیت سہہ کر مر گیا مگر مرنے کے بعد اسکا ٹکڑے ٹکڑے ہونا اسکو محسوس نہیں ہوا گا۔ موت کے بعد کوئی تکلیف، تکلیف ہی نہیں رہی ہو گی۔مگر وہ زندہ تیرہ سالہ بچہ ہمیشہ اپنا وجود انہی گراریوں میں ہر پل پھنستا اور نوچتا ہوا محسوس کرے گا۔فیصلے کی گھڑی کتنی اذیت ناک رہی ہو گی ،یہ وہی معصوم بتا سکتا ہے۔۔ مگر زندگی کتنی تکلیف دہ ہے یہ ہم سب کسی نہ کسی صورت اب تک محسوس کر چکے ہیں۔دیکھ چکے ہیں اور اسی زندگی میں کئے جانے والے کئی فیصلوں سے  پل پل تڑپتے ہیں۔وجود کو آگ میں محسوس کرتے ہیں اور موت کی آغوش میں جانے تک ہمیشہ سسکتے رہیں گے۔

SHOPPING

درحقیقت موت کے بعد کوئی تکلیف کی اہمیت ہی نہیں۔اور زندگی ایک نا ختم ہونے والی تکلیف کا دوسرا نام نظر آتا ہے۔ہم سب اپنی زندگی میں کسی نہ کسی ایسے فیصلے کا بوجھ ضرور اٹھائیں ہوئے ہیں جو رفتہ رفتہ ہمیں تڑپا رہا ہے ۔پل پل ہماری اذیت کا باعث ہے۔اور ہم اس زندگی کی نا ختم ہونے والی اذیت کو ہمیشہ سہتے رہتے ہیں۔کبھی کچھ دن بھول بھی جائیں تو اچانک یہی فیصلے یہی اذیتیں ہم پر بری طرح حملہ آور ہوتی ہیں اور ہم بے بس ہو کر ٹوٹنا شروع ہوجاتے ہیں پھر کسی بھی طرح خود کو سمیٹتے ہیں اور ایسے ہی اپنے وجود کے بکھرنے اور سمیٹنے کی چکی میں پھنستے رہتے ہیں۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *